الزامات کی گرج چمک اور غیر شفاف مستقبل


imranملک میں برسراقتدار آنے کی خواہش رکھنے والی دو پارٹیوں اور دو لیڈروں نے کل اسلام آباد اور کراچی میں اپنی قوت کا مظاہرہ کیا اور متبادل قیادت فراہم کرنے کے لئے موجودہ حکمرانوں اور نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان میں سے پاکستان تحریک انصاف نے 20 سال مکمل کر لئے ہیں اور اس کے لیڈر عمران خان ماضی میں کھیل کے میدان اور فلاحی شعبہ میں خدمات کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں جبکہ پاک سرزمین پارٹی کو قائم ہوئے ابھی صرف ایک ماہ ہوا ہے۔ اس کے سربراہ مصطفی کمال کو کراچی کے موثر اور متحرک ناظم کی حیثیت سے شہرت حاصل ہے لیکن ان کی اور ان کا ساتھ دینے والے درجن بھر نمایاں لوگوں کی اصل پہچان الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ساتھ ان کی کئی دہائیوں پر محیط وابستگی ہے۔ لیکن اب وہ متحدہ کی ملک دشمنی اور مہلک پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے میدان عمل میں اترے ہیں۔ البتہ مصطفی کمال نے ایک ماہ میں وہ سبق سیکھ لیا ہے جو عمران خان 20 برس میں سیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ کہ دوسروں کی کردار کشی کے ذریعے آپ خود کو بلند اور عوامی قبولیت کے قابل نہیں بنا سکتے۔

عمران خان کی تقریر اسی جوش و جذبہ اور الزام تراشیوں سے بھرپور تھی جو ان کا شیوہ ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ ایک خاص حلقہ میں بدستور مقبول بھی ہیں۔ کیوں کہ پاکستان جیسے ملک میں جو گوناگوں مسائل کا شکار ہے، وسائل کی کمی اور آبادی میں اضافہ اہم مسئلہ ہے، دہشت گردی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے تو عالمی سطح پر سفارتی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ملک کی حکومت اور سیاسی پارٹیوں کا انتہاپسندی کے بارے میں غیر واضح اور کمزور موقف ہے۔ ان حالات میں جو لیڈر بھی سخت الفاظ میں یہ بتائے گا کہ لوگوں کی محرومیوں اور مشکلات کا سبب نہ تو ملکی پیداوار میں کمی ہے، نہ بے شمار آبادی اور محدود وسائل، خوشحالی اور کامیابی کے لئے دائمی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور نہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی فراہم کرنے کی کوشش کرے گا بلکہ برسراقتدار طبقے کی بدعنوانی اور چور بازاری کو مسئلہ اور ان سے نجات حاصل کرنے کو ہی مسئلہ کا حل قرار دے گا تو ایک طبقہ ضرور ان باتوں پر تالیاں بجائے گا۔ لیکن سیاست و معیشت، سماجی معاملات اور سفارتی تعلقات سے آگاہی رکھنے والے لوگ ضرور اپنا سرپیٹ لیں گے۔ عمران خان نے کل بھی اپنی تقریر میں جو باتیں کی ہیں وہ متعدد ٹاک شوز اور درجنوں کالموں کے لئے تو گرما گرم مسالہ فراہم کر سکتی ہیں لیکن مشکلات میں گھرے اس ملک کی نیا پار لگانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

عمران خان کی تقریر کا فوکس وزیراعظم نواز شریف کی اخلاقی پوزیشن تھی۔ وہ برطانیہ اور یورپ کی مثالیں لا کر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہے کہ کسی سیاست دان کے خاندان پر کرپشن کا الزام عائد ہونے کے بعد اس کے برسراقتدار رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا۔ لیکن جوش خطابت میں جس طرح وہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو کئی برس پہلے برسراقتدار رہنے والے ٹونی بلیئر کے نام سے پکارتے رہے، اسی طرح وہ یہ بھی بھول گئے کہ تعلیم، معاشی ترقی، جمہوری روایت اور شعور کی وہ سطح حاصل کئے بغیر جو مغربی ممالک میں بوجوہ حاصل کی جا چکی ہے۔۔۔ جمہوری روایات کی وہ شکل و صورت پاکستان جیسے معاشرے میں نہ تو موجود ہے اور نہ ہی اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ جمہوری معاشرے میں وزیراعظم اخلاقی ذمہ داری قبول کرتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اپوزیشن بھی اتنی ہی سمجھ بوجھ اور ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرتی ہے۔

برطانیہ یا کسی بھی دوسرے یورپی ملک میں اگر کسی بھی بدعنوانی کا کوئی اسکینڈل سامنے آتا ہے تو اس کی وجہ تسمیہ کسی فوری طور پر وزیراعظم بن کر مسائل حل کرنے کے زعم میں مبتلا اپوزیشن لیڈر کے بے سروپا الزامات نہیں ہوتے بلکہ ایسے الزامات عام طور سے کوئی انویسٹی گیٹو جرنلسٹ طویل تحقیق، دستاویزی شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔ یا اس ملک کے ادارے کسی برسراقتدار شخص کی بدعنوانی کے بارے میں کارروائی کا آغاز کرتے ہیں۔ اس جمہوری روایت میں اپوزیشن لیڈر جلسہ عام میں لوگوں کے سامنے بے بنیاد جھوٹ بول کر برسراقتدار شخص کے بارے میں الزام تراشی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اس نظام کے مروجہ اصولوں، ضابطوں اور اداروں کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں تحقیق کو تسلیم کرے گا اگر ملک کا چیف جسٹس اس کی مرضی سے لائحہ عمل تیار کر کے تحقیقات کا آغاز کرے۔ اور اس کے نتیجے میں الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے منتخب لیڈر کو اقتدار چھوڑنے کا حکم صادر کرے۔ عمران خان اسی طریقے پر عمل کرتے ہیں۔ جب تک اپوزیشن لیڈر کے طور پر وہ خود جمہوری روایت کو راسخ کرنے کے کام کا آغاز نہیں کریں گے تو حکومت سے کس طرح اعلیٰ جمہوری روایت پر عمل کی توقع کر سکتے ہیں۔

عمران خان پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کو خودمختار عالمی صحافیوں کی تحقیق سے سامنے آنے والے حقائق سے تعبیر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ الزام چوںکہ عالمی صحافیوں کے ایک کنسورشیم نے عائد کئے ہیں اس لئے نواز شریف قصوروار ہیں۔ اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس ICIJ نے کسی ایک فرد کےمعاملہ پر کوئی تحقیقاتی کام نہیں کیا۔ اصل کہانی صرف اتنی ہے کہ ایک نامعلوم شخص نے جرمن اخبار سودتشے ذی تنگ کو پاناما کے ماہرین کی ایک کمپنی موساک فونسیکا کے ساڑھے گیارہ ملین کاغذات فراہم کئے جن میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے والے امیر لوگوں کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ اس اخبار کے پاس چوں کہ اس کثیر مواد کو پرکھنے کی گنجائش نہیں تھی اس لئے اس نے واشنگٹن میں قائم جرنلسٹوں کے کنسورشیم سے رابطہ کیا تاکہ ان کاغذات کو پرکھ کر معلومات حاصل کی جا سکیں۔ کنسورشیم نے دنیا کے ایک سو سے زائد میڈیا ہاﺅسز کے تین سو کے لگ بھگ صحافیوں کی مدد سے اس ضخیم مواد کا جائزہ لینا شروع کیا۔ 3اپریل کو 149 دستاویزات کو جاری کیا گیا۔ کچھ معلومات فراہم کی گئیں جن میں 10 سے زائد ملکوں کے سربراہان یا وزرائے اعظم کے نام بھی تھے۔ اس طرح یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ ان لوگوں نے ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی دولت یا ٹیکس بچانے کے لئے اپنے وسائل کو آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپایا ہوا ہے۔ تاہم کسی لیڈر کے بارے میں کوئی براہ راست الزام سامنے نہیں آیا، نہ ہی پاناما پیپرز پر کام کرنے والے صحافی کسی ایک شخص یا معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ وہ ان دستاویزات میں شامل اہم معلومات سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے اس پیچیدہ اور مشکل کام کو عذر بنا کر دشنام طرازی کا سلسلہ ناقابل فہم ہے۔

اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ آئس لینڈ ہو یا برطانیہ، روس ہو یا چین۔ کسی بھی ملک میں کسی اپوزیشن لیڈر نے پاناما پیپرز کو بنیاد بنا کر اس قسم کی سیاسی مہم جوئی شروع نہیں کی جس کا مظاہرہ پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کی قیادت عمران خان اس یقین کے ساتھ کررہے ہیں کہ نواز شریف ”چور“ ثابت ہو چکے ہیں، اس لئے اب وہ حکومت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ آئس لینڈ کے وزیراعظم کی مثال دیتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی ہدایت پر استعفیٰ دیا۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے واضح کیا کہ ان کے والد کی آف شور کمپنی کے وہ ذمے دار نہیں جو اثاثے انہیں وراثت میں ملے، انہوں نے اس پر ٹیکس ادا کرنے کی دستاویز فراہم کر دیں، اس طرح معاملہ ختم ہو گیا۔ لیکن پاکستان میں یہ طوفان رکنے کا نام نہیں لیتا۔ جس جمہوری روایت کا حوالہ عمران خان دیتے ہیں، وہاں عدالتیں صرف اس وقت کسی معاملہ پر غور کرتی ہیں جبکہ متعلقہ حکام کسی شخص کے خلاف مقدمہ تیار کر کے جج کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ ایسے عمل میں اپوزیشن یہ تقاضہ نہیں کرتی کہ معاملہ کس عدالت اور جج کے سامنے پیش کیا جائے۔ عمران خان چار حلقوں کے مطالبے پر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے فیصلہ کی وجہ سے آج تک ان کی کردار کشی کرتے ہیں۔ اعلیٰ جمہوری روایت میں اس قسم کی الزام تراشی ناقابل تصور اور ناقابل قبول ہے۔

ملک میں اعلیٰ جمہوری روایت کو مروج کرنے کے خواہشمند عمران خان جانتے ہوں گے کہ امریکہ میں خاص طور سے صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کے دوران کس طرح سیاستدانوں کے ماضی کی ذاتی زندگی، معاشی اور سماجی معاملات اور کردار کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں۔ متعدد لیڈروں کو ماضی میں کی گئی معمولی سی غلطی کی وجہ سے انتخابی مہم سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس روایت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان نے اپنی ذاتی زندگی میں کی گئی غلطیوں کا نہ کبھی اعتراف کیا اور نہ ان کے بارے میں اصل حقائق عوام کو بتانے کی زحمت گوارا کی۔ بلکہ ایسے الزامات کو مخالفین کی گھٹیا ذہنیت کی اختراع قرار دے کر سرخروہونے کی کوشش کی ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال تحریک انصاف میں انتخاب کروانے اور اسے باقاعدہ ادارہ بنانے کے عزم کا معاملہ ہے۔ کل کے خطاب میں بھی انہوں نے اس دعوے کو دہرایا ہے۔ حالانکہ پی ٹی آئی کے پہلے انتخاب کے بارے میں جسٹس وجیہہ الدین کی رپورٹ اور الزامات ریکارڈ پر ہیں اور وہ لیڈر بھی بدستور عمران خان کی آنکھ کا تارا ہیں جنہیں وجیہہ الدین بدعنوان قرار دیتے رہے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں پارٹی میں جس طرح دھڑے بندی اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوا تھا، اس سے جان چھڑانے کے لئے عمران خان نے پاناما پیپرز کا سہارا لیا اور انتخابات ملتوی کر دیئے۔ دوسروں کو جھوٹا اور بے ایمان قرار دینے سے پہلے عمران خان کو اپنے قول و فعل کے تضاد کا جائزہ لینا ہو گا۔ بصورت دیگر وہ خود اپنے لئے اور دوسروں کے لئے مسائل تو پیدا کرتے رہیں گے لیکن تبدیلی لانے کا نعرہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔  کیوںکہ اس کے لئے نواز شریف کے استعفیٰ کی بجائے عمران خان کو خود اور اپنے ساتھیوں کے طرز عمل کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

کراچی میں پاک سرزمین پارٹی نے ایم کیو ایم مخالفت میں ایک نئے محاذ کا آغاز کیا ہے۔ کل کے جلسے میں مصطفی کمال نے کم از کم الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر الزام تراشی کی بجائے نظام کی خرابیوں کی بات کر کے اس سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے کہ تنقید اسی وقت بھلی لگتی ہے جب آپ خود کسی ٹھوس سیاسی پروگرام کے ساتھ عوام کے سامنے پیش ہوں۔ انہوں نے فی الوقت بلدیاتی نظام کو مضبوط اور موثر بنانے کی بات ہے، جس کی ضرورت کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کل کے سیاسی جلسے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایم کیو ایم کی سیاسی قوت توڑنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر سکے ہیں۔ اس کا فیصلہ تو بہرحال 2018 کے انتخابات میں ہی ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali