کیا ہم آہستہ آہستہ مر رہے ہیں؟


aamir hashimکبھی وقت ملے اور اپنی زندگی کا تجزیہ کریں تو احساس ہوتا ہے کہ قدرت کس قدر مہربان رہی ہے۔ ایک چھوٹے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان نے لاہور جیسے بڑ ے شہر میں قدم رکھا تو کیسی فراخ دلی ، محبت کے ساتھ زندگی نے باہیں وا کیں اور وقت کے تھپیڑوں سے بچایا۔ کٹھن وقت کم آئے ، ان میں بھی سانس لینے ، سروائیو کر نے کی گنجائش باقی رہی۔قدرت کی ایسی نوازشیں کہ انہیں گننا بھی ممکن نہیں۔ ان سب کے لئے جتنا شکرگزارہوا جائے، کم ہے۔قدرت سے شکوہ نہیں، مگر بہرحال حقیقت ہے کہ شاعری میرے حصے کا گلاب نہیں ہے۔ اس کے رنگوں کی تحسین تو کر سکتا ہوں، مگر یہ کبھی میرے اوپر اتری نہیں۔ ان بدذوق لوگوں میں سے ایک ہوں، جن پر سرُاورلے مہربان نہیں ہوئے۔ لڑکپن میں کبھی گانے کی کوشش بھی کی تو فوری احساس ہوگیا کہ ہماری گائیگی لوگوں کو موسیقی سے نفرت دلانے کے لئے تو کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، اس کااور کوئی مصرف نہیں۔ اسی طرح شعر کہنے کی کوشش میں جلد اندازہ ہوگیا کہ انگریزی محاورے کے مطابق یہ میرا چائے کا کپ نہیں۔ نثر ہی میں پناہ لی ، رب تعالیٰ نے ذریعہ رزق بھی اسے ہی بنا دیا۔ لکھنے لکھانے کے عمل میں کچھ عرصے کے بعد احساس ہوا کہ خیال زیادہ طاقتور چیز ہے۔لفظ خوبصورت ہیں، مسحور کر دینے والی بلاخیز قوت ان میں پوشید ہ ہے، مگر یہ جلد اپنا رنگ روپ کھو بیٹھتے ہیں،دیرپا چیز خیال ہے۔ الفاظ خیالات کے ابلاغ کا ایک ذریعہ ہی رہنے چاہئیں،اس پر حاکم نہ بن جائیں۔ مباحث میں استدلال کو اپنی تمام تر خوبصورتیوں اور جذئیات کے ساتھ واضح کرنے کا کام لفظوںنے کرنا ہے، مگریہ کام انہیں پس پردہ رہ کر کرنا چاہیے۔ اگلے روز معروف سینئر شاعرہ زہرہ نگاہ کی کہی ایک خوبصورت بات پڑھی۔ زہرہ آپا کہتی ہیں، موسیقی کے بعض بڑے گویے جیسے فیاض خان صاحب جب مرثیہ پڑھتے تو راگوں کو کسی قدر بگاڑ دیتے کہ راگ کہیں مرثیہ پرحاوی نہ آ جائیں، توجہ راگوں کی خوب صورتی کے بجائے کلام کی طرف جائے۔

بات شاعری کی ہو رہی تھی، نثر والا جملہ معترضہ بیچ میں آ گیا۔ شاعروں کو ایک بڑا ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ ایک یا دو مصرعے جو سحر پھونک سکتے ہیں، نثر کو اس کے لئے زیادہ محنت اور جگہ کی ضرورت پڑتی ہے۔گزرا ویک اینڈایک نظم کے حصار میں رہا۔ دو دن پہلے کسی نے فیس بک پر کسی ہسپانوی شاعر کی ایک نظم شئیر کی، تب سے اس کے فسوں میں گرفتار ہوں۔ حوالہ تو چلی کے سحر انگیز شاعر پابلونرودا کاتھا، مگر انٹرنیٹ پر بعض حوالوں کے مطابق یہ نظم ایک برازیلین شاعر نے تخلیق کی۔ میں نے جو نظم پڑھی وہ انگریزی میں تھی، ترجمہ در ترجمہ ہونے کے باوجود کلام کی سادگی، معنویت اور گہرائی تھی، جس نے دل کو چھو لیا اور گویا ایک شاک سے دوچار کیا۔ یہ نظم (You start dying slowly) معلوم نہیں کب شائع ہوئی ،مگریوں لگتا ہے جیسے آج کے زمانے کے لئے لکھی گئی ہو۔ کنزیومر ازم کے شکار ہمارے معاشرے اور ہمارا لائف سٹائل کو دیکھتے ہوئے اس نظم کی معنویت اور اہمیت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انگریزی میں موجود اصل نظم بہت زیادہ طاقتور ہے، اس کا ترجمہ در ترجمہ ویسا موثر نہیں رہتا، مگر اس کے چونکا دینے والے خیال سے آپ لطف اندوز ہوسکیں گے۔اس کا آزاد سا نثری ترجمہ دنیا
میگزین کے سینئر ساتھی عبدالحفیظ ظفر نے کیا ہے۔

’تم آہستہ آہستہ مر رہے ہو‘

تم آہستہ آہستہ مر رہے ہو، اگر تم مطالعہ نہیں کرتے، اگر تم زندگی کی آوازوں کو نہیں سنتے اور اگر تم اپنے آپ کی تحسین نہیں کرتے تو( اس کا لامحالہ مفہوم ہے)تم آہستہ آہستہ موت کی وادی میں اتر رہے ہو۔جب تم اپنی عزت نفس کو قتل کرتے ہو، جب تم دوسروں کو اپنی مدد نہیں کرنے دیتے تو تم آہستہ آہستہ موت کی طرف جا رہے ہو۔

جب تم اپنی عادتوں کے غلام بن جاتے ہو اور روزانہ ایک جیسے راستوں پر چلتے ہو، اگر تم اپنا معمول نہیں توڑتے، اگر تم اپنی حیات کو مختلف رنگوں سے آراستہ نہیں کرتے، اگر تم ان لوگوں سے نہیں بولتے جنہیں نہیں جانتے ، تو پھر اس کا مطلب ہے کہ تم آہستہ آہستہ موت کی بانہوں میں جا رہے ہو۔

جب تم جذبوں کو محسوس کرنے سے گریز کرتے ہو، ان کے تکلیف دہ پہلوﺅں سے بھی اجتناب کرتے ہو، وہ پہلو جن سے تمہاری آنکھیں نمناک ہو کر چمکنے لگتی ہیںاور تمہارا دل تیزی سے دھڑکنا شروع کر دیتا ہے،تو بس سمجھ لو کہ تم آہستہ آہستہ موت کے دروازے کو دستک دے رہے ہو۔

جب تم اپنے پیشے اور اپنی محبت سے مطمئن نہیں ہو اور اس کے باوجود اپنی زندگی کا چلن تبدیل نہیں کرتے، جب تم اس چیز کا خطرہ مول نہیں لیتے جو بے یقینی کے لئے محفوظ خیال کی جاتی ہے، جب تم ایک خواب کے پیچھے نہیں جاتے، جب تم عمر بھر کم از کم ایک دفعہ اپنے آپ کو بھاگ جانے کی اجازت نہیں دیتے ، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تم آہستگی سے موت کا ذائقہ چکھنے جا رہے ہو۔ “

نہایت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ یہ نظم پڑھ چکے ہیں، تو اسے ایک بار پھر پڑھیے ، کچھ وقت ہو تو انٹرنیٹ سے اس کا انگریزی متن نکال کربھی پڑھ لیں۔اگر ممکن ہو تو چند منٹوں کے لئے اپنی مصروفیت کو سائیڈ پر کر دیں۔ موبائل فون بند یا اسے خاموشی اوڑھا دیں، آنکھیں موندکر چند لمحوں کے لئے اپنی زندگی کا تصور کیجئے ۔ سوچئے کہ پچھلے چھ ماہ یا ایک سال کے دوران کتنی بار ایسا ہوا کہ آپ نے اپنی معمول کی مصروفیات، مکینیکل انداز میں نمٹاتے ،صبح شام کے کاموں کے تیزی سے گھومتے دائرے کو توڑنے کی کوشش کی ہے؟ اپنے دل کی آواز سنی، اس پر کان دھرے ہیں؟مطالعہ کے لئے وقت نکالا ہے؟ اپنے کسی دوست کے مجبور کرنے پر کتاب میلے سے جو کتاب خریدی تھی، اسے اٹھا کر دوبارہ دیکھا ؟اپنے آپ کی تحسین کے لئے کبھی چند منٹ صرف کئے؟ کہیں سفرکیا یا کم از کم اس کا ارادہ ہی باندھا؟اپنی عادتوں کی غلامی صرف ایک دن کے لئے ترک کی؟ روز انڈہ بریڈ کھاتے یا پراٹھا چنے کے ساتھ ناشتہ کرتے کرتے صرف ایک دن کے لئے کوئی نیا تجربہ کیا؟ ایک جیسے سیٹ پیٹرن پر، ایک جیسے طے شدہ راستوں پر چلتے چلتے کبھی کچھ مختلف کرنے کا من چاہا؟اپنی زندگی میں کبھی نئے خوبصورت رنگ شامل کئے؟ا یسا کرنے کا سوچا؟

چلیں اتنا ہی بتا دیں کہ اپنے ملبوسات میں کبھی وہ رنگ استعمال کئے ، جنہیں پہننے کا جی چاہا ہے، مگر لوگوں کی وجہ سے نہیں پہنتے ؟گھر سے نکلتے، راہ چلتے، سفر کرتے، دفتر میں آنے جانے والے ، محلے میں رہنے والے ان لوگوں سے کبھی کلام کیا، جن کے ساتھ تعارف نہیں ۔ یہ ہی سوچیں کہ پچھلے ایک ماہ میں کتنے نئے لوگوں سے تعارف ہوا؟ جن کے ساتھ کوئی کاروباری ناتا یا مفاد کا رشتہ وابستہ نہیں ، ان نئے لوگوں سے سلام دعا کا رشتہ قائم ہوا یا اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی؟

جذبات، لطیف خیالات، احساسات کبھی آپ پر غلبہ پاتے ہیں؟ کبھی کوئی فلم دیکھتے ہوئے آپ کی آنکھیں نمناک ہوجاتی ہیں؟ اپنی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے کی آپ اجازت دے دیتے ہیں؟ یہ سوچیں کہ آخری مرتبہ آپ کب روئے تھے؟ کسی بڑے ذاتی صدمے، کسی عزیز کی جدائی کے علاوہ کبھی آپ کی آنکھیں آنسوﺅں سے آشنا ہوئیں؟کبھی ایسا ہوا کہ کسی لمحے آپ پر جذبات کا وفور ہو اور دل تیزی سے دھڑکنے لگ جائے؟آپ نے اپنے دل کو بیماری کے علاوہ بھی تیز دھڑکنے کی اجازت دے رکھی ہے؟کبھی احساس ہوا ہو کہ برسوں سے جو آپ کا پروفیشن ہے، وہ آپ کو پسند نہیں؟ اپنے پیشے کو ترک کر کے کوئی اور ذریعہ روزگار بنانا چاہتے ہیں؟ اسے اپنانے کا کبھی سوچا؟اس کے لئے رسک لینے کا سوچا؟آخری بار آپ نے خواب کب دیکھا؟ اپنے خواب کی عملی تعبیر پانے کے لئے کھڑے ہونے کاسوچا؟زندگی بھر میں کم از کم ایک بار سب کچھ چھوڑ کر بھاگ جانے، اپنی مرضی کی زندگی جینے ، تمام طے شدہ پیمانے بدل دینے، لکیریں عبور کرنے کا سوچا؟ “

سوال آپ کے سامنے ہیں، جواب آپ کے اپنے ہوں گے۔ ان کا تجزیہ بھی آپ نے کرنا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس پرچے میں سو فیصد نمبر لئے جائیں۔ پاس ہونے کے لئے کتنے نمبروں کی ضرورت پڑے گی، وہ بھی آپ خود ہی طے کر لیں۔ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ پابلونرودا کی اس نظم کی طرح آپ بھی آہستہ آہستہ مررہے ہیں۔ موت کی وادی میں جانے کا سفر شروع ہے، معلوم ہوئے بغیر موت آپ پر دھیرے دھیرے اتر رہی ہے۔آپ سلو پوائزن کے شکارمریض کی طرح خاموشی سے مر تو نہیں رہے؟ زندگی کے روز وشب جن میں آپ مطمئن وآسودہ ہیں، کیا یہ مردہ آدمی کے روز وشب تو نہیں؟جواب میں بھی کھوج رہا ہوں، جواب آپ بھی ڈھونڈئیے۔ اس کالم نگارنے یہ سب صرف اسی خواہش کے تحت لکھا۔ جواب مل جائے تو پھر زندگی کے پرچے کو نئے انداز سے حل کرنے کی کوشش کیجئے۔

نظم کا انگریزی متن بھی پیش خدمت ہے :

“You start dying slowly”

You start dying slowly ;
if you do not travel,
if you do not read,
If you do not listen to the sounds of life,
If you do not appreciate yourself.

You start dying slowly :
When you kill your self-esteem,
When you do not let others help you.

You start dying slowly ;
If you become a slave of your habits,
Walking everyday on the same paths…
If you do not change your routine,
If you do not wear different colours
Or you do not speak to those you don’t know.

You start dying slowly :
If you avoid to feel passion
And their turbulent emotions;
Those which make your eyes glisten
And your heart beat fast.

You start dying slowly :
If you do not change your life when you are not satisfied with your job, or with your love,
If you do not risk what is safe for the uncertain,
If you do not go after a dream,
If you do not allow yourself,
At least once in your lifetime,
To run away…..

You start dying Slowly !!!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کیا ہم آہستہ آہستہ مر رہے ہیں؟

  • 26-04-2016 at 9:11 am
    Permalink

    Wonderful

Comments are closed.