شاہ موش: پلاٹ کی معنویت اور کہانی کی تلاش


\"wajahat\"گورنمنٹ کالج لاہور کو آپ یونیورسٹی کہیے، میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکوں گا۔ جن نسلوں نے یکے بعد دیگرے سوا صدی تک علم کے اس معبد کی زیارت کا خواب دیکھا، اپنے دور دراز دیہات اور نیم خوابیدہ قصبوں سے نکل کر علم کی اس روایت سے پیاس بجھانے کشاں کشاں راوی کے کنارے پہنچیں، گورنمنٹ کالج کے برآمدوں میں سرسراتی تاریخ سے لمس پایا، اولڈ پرنسپل آفس بلاک کے کمروں سے دبے پاؤں گزریں، جنہیں داستاں جیسے اساتذہ کو کبھی نظر بھر کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی، وہ گورنمنٹ کالج کے ساتھ یونیورسٹی کا لاحقہ پسند نہیں کریں گی۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کے نام کے ساتھ بی اے بی ٹی لکھا جائے۔ لنڈن سکول آف اکنامکس کے کسی طالب علم سے پوچھیئے گا کہ اس کی مادر علمی کو لنڈن یونیورسٹی آف اکنامکس کا نام دے دیا جائے تو اسے کیسا لگے گا۔ ماں، پیرس اور پھول کا نام نہیں بدلا جاتا۔ تو صاحب، گورنمنٹ کالج لاہور کی استاد صائمہ ارم کی کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا ہے، ”شاہ موش اور دوسری کہانیاں“۔ کل 140 صفحات اور چھ کہانیاں۔ پنجابی روزمرہ میں ایسی کسی ہوئی اردو نثر قاسمی صاحب اور بلونت سنگھ کے بعد کم کسی نے لکھی ہو گی۔ زبان سے قطع نظر، ان کہانیوں کی خوبی ایک مرتب فکر اور ذمہ دار تخلیقی موقف میں ہے۔ ’شاہ موش‘ اس مجموعے کی کلیدی کہانی ہے۔ ’شاہ موش‘ پاکستان کی حالیہ ربع صدی کو اسی طرح بیان کرتی ہے جیسے پچاس برس قبل انتظار حسین نے ’آخری آدمی‘ میں ہمارا بحران رقم کیا تھا۔ ایک بے چہرہ کردار ہے جس کی جسمانی، دماغی اور اخلاقی بیماریاں گڈ مڈ ہو گئی ہیں۔اسے گمان ہے کہ چوہوں کا بادشاہ اس کے تعاقب میں ہے۔ کچھ جملے ملاحظہ فرمایئے…. \”یہ سارا قصہ شاملات کے کیس کی فائل سے شروع ہوا تھا…. مجھے رنگوں کا پتہ نہیں چلتا…. وہ بہت ہوشیار ہے، بس لمحہ بھر کو جھلک دکھاتا ہے…. وہ کئی ہیں، بہت سارے ہیں، پھر بھی ایک ہیں…. آپ کی شکلیں بدل رہی ہیں…. مجھے جانے دیجئے، یہ سب کون ہیں…. یہ کیسی اٹ پٹی سی خاموشی ہے جو سارے میں پھیل گئی ہے….\”

’شاہ موش‘ فرد کے زوال اور اجتماع کے شکست کی کہانی ہے۔ یہ خواب کے مسخ ہو کر خواہش میں محدود ہونے کی کتھا ہے۔ یہ روایت کی اسیری سے پیدا ہونے والی ذلت کی کہانی ہے۔ ’شاہ موش‘ کو پہچاننے میں ناکامی کی کہانی ہے اور…. پلاٹ کی ترتیب بگڑ جانے کی فائل ہے۔ کہانی اور پلاٹ کی یہ بحث یہاں اس لئے چلی آئی کہ ای ایم فورسٹر یاد آگئے تھے۔ بات تو سامنے کی تھی لیکن ہم کم سواد تھے، سمجھنے میں بہت مدت لگی۔ فورسٹر نے بتایا تھا کہ پلاٹ کہانی کے واقعات کو حسب منشا ترتیب دینے کا نام ہے۔ واضح رہے کہ یہاں کہانی لکھنے والے کی منشا مراد ہے۔ تو صاحب اگر منشا معلوم کرنا ہو تو واقعات کی ترتیب پر غور کرنا چاہئے۔ شاہ موش کی پہچان کے نشان بھی پلاٹ ہی میں پوشیدہ ہیں۔ واقعات اس ترتیب سے ہوئے کہ لاہور میں ایک مجلس سجی ،جماعت اسلامی کے احباب نے دو رویہ سڑک پر جمع ہو کر تقاریر کیں۔ حالیہ فلمی رجحان کے عین مطابق اسے دھرنے کا نام دیا گیا۔ کبھی اہل مذہب جلسہ کیا کرتے تھے۔ پھر کہیں سے کسی نے عبدالمجید سالک کی وہ حکایت پڑھ لی جس میں انہوں نے تحریک کے ظہور اور جلسہ کے مقام ماؤف میں فرق بیان کیا تھا۔ چنانچہ جلسہ جدید دنیا میں کانفرنس کہلایا۔ خدا حمید گل کو غریق رحمت کرے، حیات تھے تو ریلی کو چلن دینا چاہتے تھے۔ پھر ایک دہائی لانگ مارچ اور پھر ملین مارچ کرتے گزری۔ مارچ کرنے والے تھک گئے تو جہاں چھاؤں ملی بیٹھ رہے اور اسے دھرنا قرار دے دیا۔ بیٹھے ہیں راہ گزر میں ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں؟ لیکن 25 اپریل کو جماعت اسلامی کا دھرنا تو ایسا رہا کہ آ کے بیٹھے بھی نہیں اور اٹھ بھی گئے۔ اٹھ اس لئے گئے کہ اسلام آباد میں اگلا منظر کھلنے کا وقت ہورہا تھا۔ عمران خان صاحب بولے اور کیا خوب بولے۔ دیکھنا تقریر کی خوبی کہ بیان پر ایسا اختیار…. شب موم کر لیا، سحر آہن بنا دیا۔ دلوں کو گوندھ کے رکھ دیا، آم اچھی طرح پولا ہو گیا تو ایک خاص لمحے پر گیند مصطفی کمال کی طرف اچھال کے کہا، مصطفی کمال وے، تیریاں دور بلاواں! کپتانی کی خوبی تو یہی ہے کہ فیلڈ کیسے کھڑی کرنا ہے، گیند کسے دینا ہے اور کب دینا ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے…. حاسدین مگر سوال اٹھاتے ہیں۔

صاحب ! ہمارے آزاد میڈیا کو کب خبر ہوتی ہے کہ دیوار کے کس بل سے شاہ موش جھانک رہا ہے کہ اسے ٹیلی ویژن کی سکرین پر بے روک رسائی دی جائے۔ 2002 سے 2012 تک، دس برس میں محترم عمران خان صاحب کے پاس قومی اسمبلی کی ایک نشست پانچ برس کے لئے رہی۔ دس برس میں انھیں میڈیا پر جو وقت دیا گیا اس کا جواز والٹر لپ مین کی کتاب ’رائے عامہ‘ میں تو نہیں ہے۔ یہ کیسے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ رشید صاحب پر سلوک کی راہیں آسان ہوگئیں ہیں۔ ان کے فرق عالیہ پر تدبر کے انوار برس رہے ہیں۔ پاکستان کے رہنے والوں کو ذوالفقار مرزا کی خوش بیانی سے مستفید کرنے کا وقت کب آتا ہے۔ الطاف حسین کی خوش گفتاری کے لئے میڈیا پر پردہ کب اٹھتا ہے اور کب گرتا ہے۔ پارسا صحافت کی عروس صد بہار اور نگار ہزار شب کو کب خبر ہوتی ہے کہ موتیے کے پھولوں کی خوشبو کس بالا خانے کی روشنیوں کا پتہ دیتی ہیں۔ تقدیس کا وہی بیان کب عمران خان صاحب کے لئے ارزاں ہوتا ہے۔ کب پوٹھو ہار کے مطلع تاباں پر خورشید کا نور ظہور ہوتا ہے۔ کب مصطفیٰ کمال کے خد و خال سے تقوی کے قطرے گرتے ہیں اور کب پڑھنے والوں کا خون پسینہ عرق انفعال کیا جاتا ہے۔ یہ سب قائدین محترم ہیں مگر یہ کہ حاسدین سوال اٹھاتے ہیں۔

کہنا چاہئے کہ ’شاہ موش‘ کا پلاٹ عرق ریزی سے لکھا گیا ہے۔ یہ معلوم کرنا البتہ باقی ہے کہ ’وہ کئی ہیں، بہت سارے ہیں یا ایک ہی ہے‘۔ کہانی میں صرف واقعات تو نہیں ہوتے ہیں، کردار کو بھی دخل ہوتا ہے۔ واقعہ تو کردار ہی کے گرد ہی بنا جاتا ہے۔ تو صاحبو کردار کے بلند اور شفاف نمونے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ایک ویڈیو محترم الطاف حسین کی ان دنوں گردش میں ہے جس میں ماضی کے پیر صاحب اور حال کے روادار سیکولر رہنما نے مخالفین کو صرف جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی، بے اماں تشدد، بے پناہ اذیت اور عذاب شدید کی وعید بھی سنائی ہے۔ کسی کو کوئی شک ہے کہ دوسروں کے بھیجے ہتھوڑے سے کھولنے کی دھمکی دینے والا اور ہڈیوں میں کیلیں ٹھونکنے کا منظر مزے لے لے کر بیان کرنے والا محض بڑے شہر کا جرائم پیشہ سیاسی لیڈر نہیں، ایک مکمل سادیت پسند فسطائی ہے۔ تاہم کردار کی تحلیل نفسی تب مکمل ہوگی جب یہ معلوم کیا جائے کہ 1989 سے 1992 تک کون کون نیکی کے اس پتلے کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا کرتا تھا؟ پیر صاحب کے پلنگ سے چڑیاں اڑنے کا نام کیوں نہیں لیتی تھیں؟ چڑیاں اب کہاں سدھار گئی ہیں؟ تالاب میں چپ کیوں اتر آئی ہے۔ پوچھنا تو یہ بھی چاہئے کہ پاکستان کا پرچم لے بھاگنے والی نئی جماعت کے رہنما پچیس برس تک اس چہرے کو کیوں نہیں پہچان سکے جو لندن کے ایک کمرے میں نمرود کی زبان بولتا ہے؟ فرعون کا یہ لہجہ انہیں کیوں سنائی نہیں دیا جو الطاف بھائی کے ہاتھ کی پکی حلیم اور طبیعت کی حلیمی بیان کرتے رہے۔ خواب خواہش کے روپ میں مسخ کیسے ہوتا ہے؟ جسمانی بیماری اور دماغی اختلال کی حدیں کہاں ملتی ہیں؟ اخلاق کیسے بگڑتے ہیں؟ اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عشرہ در عشرہ ایک ہی آواز کیوں سنائی دیتی ہے؟ ’اس جمہوریت کو نہیں مانتے‘۔ بجا کہتے ہو، صرف یہ ارشاد فرمائیے کہ آپ کس جمہوریت کو مانتے ہیں، آپ کی جمہوریت ایوان کو مسترد کر کے بلدیہ کا طواف کیوں کرتی ہے۔ آپ محرومی کا جاپ کرتے ہوئے پالیسی کا ذکر کیوں نہیں کرتے؟ آپ رہنما کی منقبت لکھتے ہوئے منزل کی نشاندہی کیوں نہیں کرتے؟ آپ دہشت گردوں کے خلاف جو گیت لکھتے ہیں وہ اس نئی جماعت کی تحویل میں کیسے پہنچ جاتا ہے جسے میڈیا کے پردے پر رونمائی دینا ہوتی ہے۔ اس پلاٹ کا معنی تو ٹکڑوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ تلاش کہانی کی معنویت کی ہے۔ اس کہانی میں وقت اور مقام کا تال میل قابل تحسین ہے مگر لکھنے والے کا منشا واضح نہیں ہو سکا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ’شاہ موش‘ ہمارے عہد کا پرنس ہیملٹ ہے یا کوئی پانچواں سوار جو کہانی میں عظمت کے رنگ بھر نا چاہتا ہے ۔ چنانچہ پوچھتے رہنا چاہئے کہ کیا شاہ موش پکڑنے پر بھی خیبر پختونخوا حکومت نے کوئی انعام رکھا ہے؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

5 thoughts on “شاہ موش: پلاٹ کی معنویت اور کہانی کی تلاش

  • 26-04-2016 at 1:09 am
    Permalink

    نگینوں کا خریدار کون؟… گل کا تمنائی کون؟ … آئنہ تو شفاف ہے، پر کوئی اپنی صورت کیوں تکے؟

  • 26-04-2016 at 5:57 am
    Permalink

    بہت خوب لکھا ہے

  • 26-04-2016 at 11:30 am
    Permalink

    پہلی دفعہ وجاہت صاحب کی تحریر سے لطف اندوز ہو رہا ہوں….اگرچہ جماعت اسلامی کو بےجا رگید لیا ہے ……اسی کو نکال کر باقی تحریر کمال کی ہے…..

  • 27-04-2016 at 2:07 pm
    Permalink

    واہ ،، اور اعلیٰ ،،

  • 27-04-2016 at 2:38 pm
    Permalink

    واہ! جناب وجاہت مسعود صاحب، ’’کتنے دیوان اکٹھے کیے اوراِک کالم بنا‘‘، خوب تجزیہ کاری ہے ۔ ’شاہ موش‘ ہمارے عہد کا پرنس ہیملٹ‘‘ ،آپ نے پرنس ہیملٹ کو’’ شاہ موش‘‘ سے تشبیہ دے دی، اچھا نہیں لگا کہ ہیملٹ ڈنمارک کی شہرت کا سبب ہے اور ڈنمارک ہمارا وطن ثانی!،ہاں ’’ وہ ’’باقی سارے جو ہیں‘‘ انہیں جماعت اسلامی کے صف بندوں میں تلاش کرتے توآپ یہ بھی جان جاتے کہ ’’ موتیے کے پھولوں کی خوشبو کس بالا خانے کی روشنیوں کا پتہ دیتی ہیں۔‘‘
    خوش رہیں، آباد رہیں اور اسی طرح لکھتے رہیں ۔

Comments are closed.