گرمی اور گرما گرمی


کراچی میں گرمی کا زور ٹوٹ گیا خدا خدا کرکے۔

لیکن کب تک؟

گرمی گئی اس طرح ہے کہ پلٹ کر پھر آئے گی۔ اور جب دوبارہ آئے گی تب بھی ہم اسی طرح کی باتیں کرتے رہیں گے، گرم موسم میں گرما گرم باتیں۔

ہوش و حواس اڑا دینے والی گرمی تھی۔ کراچی میں ایسی گرمی سُنی اور نہ دیکھی۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ ایک آدھ دن گرم ہوا چل گئی تو بہت تھا، پھر شام گئے سمندر کی ہوا چلنے لگتی اور شہر کا مزاج ٹھنڈانے لگتا۔ مگر اس بار تو حد ہوگئی کہ اپریل نے گرمی کا مزہ چکھا دیا، پھر اس کے بعد گرمی کی یہ لہر گزر گئی۔ مگر موسم کے آثار سمجھنے والے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ چند دن کی بات ہے، پھر آئے گی۔ آتی رہے گی۔ اب کون بتائے کہ ہم کیا کریں؟ یوں ہی بیٹھے ماتھے سے پسینہ پونچھتے رہیں؟

صبح سویرے سے ایسا معلوم ہورہا تھا کہ سورج آگ برسانے پر تُل گیا ہے۔ دفتر کے کمرے سے باہر نکل کر آیا تو جیسے ایک دم سے لُو کا تھپیڑا محسوس ہوا۔ دروازہ کھولنے کے بعد کبوتروں کے پھڑپھڑا کر اُڑنے کی آواز نہیں آئی۔ دیواروں پر سے کبوتر غائب اور لوگ بھی اکا دکّا۔ باہر آیا تو سڑک سنسنان نہیں تھی، اس لیے کہ کراچی میں ہر وقت لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہاں گاڑیاں بہت کم تھیں۔ سڑک دھوپ میں ایسے جل رہی تھی کہ نگاہ ٹہرانا محال تھا۔ ہوا سے گرمی کی لپٹیں آرہی تھیں۔ جیسے بخار میں پُھنکتے ہوئے بدن کا سانس۔ سڑک کے ساتھ کھڑے ہوئے ٹھیلے والے عام دنوں میں آدھی آدھی سڑک روک لیا کرتے تھے، آج دیواروں کےسائے میں سمٹ رہے تھے۔ گلستان جوہر کی چورنگی پر کدال پھاوڑے سنبھالے دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کے جتھے بھی نہیں تھے۔ پیٹ کی آگ سے مجبور ہو کر جو چند ایک گھروں سے نکل آئے تھے، وہ بھی سائے ڈھونڈ رہے تھے۔ مجھے خیال آیا، ابھی کچھ عرصہ پہلےکی بات ہے یہاں بیٹھنے والے مزدور زیادہ تر پٹھان ہوا کرتے تھے۔ اب ان میں صرف سرائیکی بولنے والے موجود ہیں۔ یہ کون سا موسم ہے جو بدل رہا ہے؟ مگر گرمی نے زیادہ سوچنے نہیں دیا۔

سڑک پر ٹریفک اتنا کم تھا کہ فاصلہ آدھے وقت میں طے ہوگیا۔ چٹختی ہوئی دھوپ کے ساتھ ریت اڑ رہی تھی، خاک کا ایک بادل ہوا کے بغیر بھی پھیل رہا تھا۔ کئی دن تک یہی معمول بنا رہا۔

اتنی شدید گرمی کا تجربہ کراچی والوں کے لیے کیسا رہا؟ بہت جلد یہ خبر ملنے لگی کہ فیصل ایدھی نے بیان دیا ہے، ایدھی کے سردخانے میں پینسٹھ لاشیں لائی گئیں جو گرمی لگنے سے ہلاک ہوئیں۔ ایدھی انتظامیہ کے لیے یہ بتانا بھی ممکن تھا کہ یہ لاشیں شہر کے دوچار علاقوں سے زیادہ تعداد میں لائی گئی ہیں، ایسے علاقے جن میں بجلی کی فراہمی مسلسل نہیں رہی۔ پانی کا تو خیر پوچھنا کیا۔ سردخانے میں جمع لاشوں کو جُھٹلانا بھی ممکن ہے، اگلے دن سے سرکاری ردعمل نے یہ ثابت کر دیا۔ حکومت کے عہدے داروں کے بیان آنے لگے کہ ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی، جناح اور سول اسپتال میں کوئی لاش لائی گئی اور نہ ہلاکت درج کروائی گئی۔ سارا زور بیان اسی ایک بات پر رہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ہلاکتوں سے انکار اتنی شدومد سے اس لیے کیا گیا تاکہ کسی بات کی ذمہ داری قبول نہ کرنا پڑے اور بجلی، پانی کی مسلسل فراہمی کا وعدہ نہ کرنا پڑے۔ پچھلے ایسے تمام وعدوں کی طرح جھوٹا وعدہ۔ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ بجلی کے محکمے نے یہ جھوٹ بولنا بھی چھوڑ دیا کہ لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے۔ سیدھی حکمت عملی یہ تھی کہ بالکل چُپ چاپ بیٹھے رہو جیسے پانی کی فراہمی کا ادارہ بیٹھا رہتا ہے، جس کا پورا نام بھی کراچی کے بہت سے شہریوں کو نہیں معلوم۔

حکومت کے افسران نے پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر ہلاکتوں سے انکار تو کردیا لیکن ان کی بے حسی اور سفاکی اسی بات سے ظاہر ہورہی ہے کہ ڈانٹ ڈپٹ سے بھرا بیان دینے کے بعد کچھ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ اوّل تو لاشوں کی تعداد جھوٹ نہیں بول سکتی لیکن اگر یہ تعداد غلط تھی، غلط شماری پر مبنی تھی، تو اس کی تفتیش ہونا چاہیے تھی۔ معاملات کی جانچ پڑتال کی جاتی اور جن علاقوں میں ایسا ہوا تھا، وہاں کی صورت حال کا جائزہ لیا جاتا۔ مگر اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی۔ شہر کا یہ حال ہوگیا ہے کہ ساٹھ پینسٹھ لوگ مر گئے یا نہیں مرے، اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کسی کو ضرورت ہے اور نہ خواہش۔ حکومت کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ شہر کے ٹھیکے داروں کو جو حقوق کا نام لے کر جلد ہی ووٹ مانگنے چل پڑیں گے۔

ایدھی سینٹر سےجاری ہونے والے بیانات کو جھٹلانا آسان نہیں، اس لیے کہ ان میں ہلاک ہونے والوں کے نام، عمر اور گھر کا پتہ شامل تھا۔ لاشوں کی شناخت مکمل تھی۔ ان میں سے زیادہ تر لو گ براہِ راست مُردہ خانے لائے گئے، اسپتال جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مرنے والے کے لواحقین کو پتہ چل جائے کہ اب موت واقع ہوچکی ہے تو پھر ضروری نہیں ہے کہ وہ میّت کو پہلے اسپتال لے کر بھاگیں۔ اس سے اموات کا pattern ظاہر ہوتا ہے مگر حکومت نے اپنے اسپتالوں کی کارکردگی کے لیے چیلنج سمجھ لیا۔ اور بس یہی راگ الاپنا شروع کردیا کہ ہیٹ اسٹروک سے کراچی میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

پھر حکومت کی عمدہ کارکردگی کااس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوگا کہ اگلے دن سے کسی قسم کا بیان آنا بند ہوگیا۔ ایدھی سینٹر والے چُپ ہوگئے یا چُپ کرا دیے گئے۔ آخر چند سال پہلے بھی تو ایسا ہی ہوا تھا۔ رضاکاروں سے چلنے والے اور عوام سے مدد مانگ کر کام کرنے والے ادارے کو خاموش کرنا کس قدر آسان ہے۔

حکومت کتنا سچ بول رہی ہے اور کتنا جھوٹ، اصل میں کتنے آدمی تھے، یہ بعد کی باتیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب ساٹھ پینسٹھ لوگوں کے مرنے کا امکان بھی ہے تو حکومت کی طرف سے کوئی جامع منصوبہ سامنے آئے کہ اس بُحران سے نمٹنے کے لیے کیا کِیا جائے۔ مختلف سرکاری محکمے اپنی ذمہ داری قبول کریں اور اپنی اپنی حکمت عملی سامنے لے کر آئیں۔ اس قسم کے کسی تکلّف کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ جب تک یہ اعلان کیا جاسکتا ہے کہ کراچی میں گرمی سے کوئی نہیں ہلاک ہوا، کسی کوکچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کراچی کے لوگ یہ گرمی بھی سہہ لیں گے اور بعد میں لاشیں تو ایدھی والے اٹھا ہی لیں گے۔

اس کے بعد کیا ہوگا؟ گرمی کی اگلی لہر آئے گی تو پھر دیکھیں گے۔ یعنی جو ہوگا سو دیکھا جائے گا۔

حکومت کے اداروں پر کراچی والوں کا دل نہیں ٹُھنکتا۔ شہریوں کی مدد کرنے کے لیے سماجی تنظیمیں اور رضا کار گروپ بہت ہیں۔ لیکن اس بار وہ بھی میدان میں اتنے سرگرم اور دوڑ دوڑ کر پیاسوں کو پانی پلاتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ اصل میں، اب کی بار کراچی کے لیے دو آتشہ ہوگئی۔ یعنی ایک تو بلا کی گرمی، اوپر سے رمضان کا مہینہ۔ رمضان سے بڑھ کر احترام رمضان کا سرکاری حکم نامہ کہ کوئی کھاتا پیتا نظر آئے تو حوالات کی سیر اور بھاری جُرمانہ۔ عقیدے کا معاملہ ہے تو ہم ایسے لوگ بھی خاموش ہوجاتے ہیں۔ یہ باور کون کرا سکتا ہے کہ احترام میں اور خوف، تادیب میں بہت فرق ہے۔

کراچی کے شہریوں میں ایک سے ایک سیانا اور کارگزار آدمی موجود ہے۔ اس لیے تجاویز تو بہت سامنے آئی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی یلغار ہوگئی ہے۔ ان میں یقیناً کوئی تجاویز معقول او ر قابل عمل بھی ہوں گی۔ مگر تجویز دینا آسان ہے۔ عمل کرنا مشکل۔

یہ بات بارہا سامنے آئی کہ کراچی کے پارک اور باغ ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں۔ ان کے اوپر ناجائز قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ درخت بے دریغ کاٹے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئی شجرکاری نہیں ہوتی۔ پھر پچھلے دس سال میں دیسی اور مقامی درختوں کے بجائے بیرون ملک سے امداد کے طور پر ملنے والے کارنوکوپس کے لاکھوں درخت لگا دیے گئے جو ماحول کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ اب ان درختوں کا کیا ہوگا؟ ظاہر ہے یہ ایک آدھ کی بات نہیں ہے، طویل مدّت کی منصوبہ سازی کا معاملہ ہے مگر اس پر کوئی تیار نہیں ہے۔

گرمی کا شکار ہونے والے دوسرے شہروں سے موازنہ کرتے ہوئے کسی درد مند نے ایک مضمون سوشل میڈیا پر لکھا جس میں اس بات پر اصرار کیا گیا کہ موسم کی تبدیلی آنے والے دنوں میں شدّت اختیار کرے گی اور اس کے لیے شہریوں کے ساتھ ساتھ شہری اداروں کو تیار رہنا چاہیے۔

مضمون کا تجزیہ بہت عمدہ تھا اور بڑا معقول۔ آخر میں کہا گیا کہ کراچی کے ماحول کو موسم سے نمٹنے کے لیے تیار کرناہے تو تمام stake-holders کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے۔ مضمون بہت سنجیدہ تھا مگر مجھے یہ سوچ کر ہنسی آگئی کہ کراچی کے اسٹیک ہولڈرز بھلا کون ہیں؟ اس شہر کا سردھرا شاید کوئی نہیں؟

اس شہر کا پُرسانِ حال ہوتا، دیکھنے سُننے والے لوگ اگر ہوتے تو اس وقت ایسی خاموشی تو نہ ہوتی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں