پاکستان کے لیے بہتری کا راستہ کون سا ہے؟


adnan-khan-kakar-mukalima-3

ملک کے حالات سے شاید ہی کوئی مطمئن ہو گا۔ کسی کو بے روزگاری تنگ کر رہی ہے، کسی کو شکوہ ہے کہ اس کی فصل کا معاوضہ نہیں مل رہا ہے، کسی کے لیے ایک وقت کی روٹی بھی خواب و خیال ہو چکی ہے، کسی کے پاس روپے پیسے کی تنگی نہیں ہے مگر اسے جان و مال کا خطرہ ہے، اور کوئی کرپشن اور لاقانونیت کے ہاتھوں ستایا ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بہتری کا راستہ کیا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ملک میں ایک خونی انقلاب لایا جائے اور تمام برے حکمرانوں اور کرپٹ افراد کو پھانسی دے کر مسئلہ ختم کر دیا جائے اور ملک میں صرف اجلے لوگ ہی بچیں۔ لیکن اگر آپ صرف کسی امیر وزیر کو کرپٹ سمجھتے ہیں، تو یہ بھی غور کر لیں کہ آپ کو دودھ کے نام پر دودھیا کیمیکل پلانے والا، چوک پر رشوت لینے والا، کھانے میں ملاوٹ کرنے والا، بجلی چوری کرنے والا، پیٹرول میں ملاوٹ کرنے والا، جعلی ادویات بنانے والا، ٹیکس نہ دینے والا، اور جہاں بھی داؤ لگے وہاں اپنا کھانچا فٹ کرنے والا، سب ہی کرپٹ ہیں۔ یہ صرف حکمران کا معاملہ نہیں ہے، قوم کا ایک بڑا حصہ اسی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ ان سب کرپٹ لوگوں کو پھانسیاں دینے نکلے تو اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں سے ایک ڈیڑھ کروڑ ہی سزائے موت سے بچیں گے۔

حکمران کو ٹھیک کر دیا جائے تو وہ قانون کی حکمرانی قائم کر کے قوم کو ایسے ہی ٹھیک کر سکتا ہے جیسا کہ موٹر وے پولیس نے اپنے حلقہ اختیار میں کیا ہوا ہے۔ جب سب کو پتہ ہوتا ہے کہ قانون شکنی کرتے ہوئے پکڑے جائیں گے تو پھر ایک کروڑ پتی شخص کو پانچ سو روپیے کا حقیر جرمانہ بھی قانون کی پیروی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ قوم کو درست کرنے کے لیے صرف تعلیم کافی نہیں ہے، کیونکہ بہت سے غلط کام کرتے ہوئے وہ لوگ نظر آتے ہیں جو دینی یا دنیاوی تعلیم کے استاد کہے جانے کے قابل ہیں۔

لیکن حکمران کیسے ٹھیک ہوں گے؟ کیا خونی انقلاب اور توڑ پھوڑ ہی حل ہے؟ جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو جو جو قومیں خونی انقلاب سے معاملات ٹھیک کرنے نکلیں، ان کے حالات پہلے سے بدتر ہی ہوئے۔ آج ایران، لیبیا، عراق، شام اور افغانستان کے عوام اس دور کو ترستے ہیں جب وہ ایک آمر کی حکومت میں اپنے پرامن ملک میں رہتے تھے۔ جن ملکوں میں بتدریج تبدیلی آتی ہے، وہی پرامن انداز میں حالات کو بہتر کر پاتے ہیں۔ انقلاب زدہ ممالک کے عوام خوشحال شہری کی بجائے بھوکے ننگے مہاجر ہی بنتے ہیں۔

اس وقت ملکی حالات ایسے ہیں کہ ہم جمہوریت کے نام پر شخصی آمریتوں کا شکار ہیں۔ کہنے کو یہ جمہوریت ہے لیکن ملک کی چاروں بڑی جماعتوں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں شخصیت پرستی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ان کا ووٹر کسی منشور یا نظریے کو ووٹ دینے کی بجائے اپنے لیڈر کو ہی اپنا آقا سمجھتا ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے کہ وہاں جمہوریت کے ذریعے افراد بادشاہ بن جائیں؟

پاکستانی اور مغربی جمہوریت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وہاں افراد کو زیادہ عرصے تک ملک یا پارٹی کا مالک بننے سے روکا جاتا ہے۔ اس طرح افراد کو اداروں سے زیادہ اہم نہیں ہونے دیا جاتا۔ عموماً نہ تو کوئی حکمران ایک خاص مدت سے زیادہ حکومت کر سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی سیاسی لیڈر ایک خاص مدت سے زیادہ کسی پارٹی پر مسلط رہ پاتا ہے۔

5520

وہاں جمہوریت کونسلر لیول سے شروع ہوتی ہے۔ لیڈر اپنا سفر اس سطح سے شروع کرتا کرتا ملک یا کسی پارٹی کی سربراہی تک پہنچتا ہے۔ عام طور پر سیاسی پارٹی کی قیادت حکومت کی سربراہ نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حال یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات صرف ڈکٹیٹر کو اچھے لگتے ہیں اور سیاسی حکومتیں ان سے بھاگتی ہیں۔ ہم جمہوریت کا بیج لگاتے نہیں ہیں اور آرزو یہ کرتے ہیں کہ درخت اگ جائے۔ سیاسی جماعت کے اندرونی انتخابات میں ووٹر کو اتنی ہی آزادی ہوتی ہے جتنی کہ سوویت یونین کے انتخابات کے ایک مشہور لطیفے میں بیان کی گئی تھی۔ روایت ہے کہ ایک ووٹر کو لفافے میں بند بیلٹ پیپر دیا گیا کہ وہ اسے بیلٹ باکس میں ڈال دے۔ اس نے لفافہ کھولنے کی کوشش کی تو وہاں موجود کے جی بی کے نمائندے نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ’قانون شکنی مت کرو، کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ یہ خفیہ رائے شماری ہے؟‘۔ یہی حال ہماری سیاسی پارٹیوں میں ووٹنگ کا ہوتا ہے، کہ ووٹر کو صرف نامزد امیدوار کے نام پر ہی ٹھپہ لگانے کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن ٹھپہ بھی کہاں؟ عام طور پر کچھ کیے بغیر بس الیکشن کمیشن کو یہی رپورٹ بھیجی جاتی ہے کہ پارٹی میں الیکشن کروائے تھے اور ہماری وہی قیادت منتخب ہوئی ہے جو کہ کئی دہائیوں سے منتخب ہوتی آ رہی ہے۔

حالات اسی وقت بدلیں گے جب سیاسی جماعتیں، شخصی جاگیروں کی بجائے منتخب اداروں کی شکل اختیار کریں گی۔ جب مسلم لیگ ن کا صدر اور نامزد وزیراعظم شریف خاندان کی بجائے کوئی اور کارکن منتخب ہو پائے گا، پیپلز پارٹی سے زرداری بھٹو کے علاوہ کوئی اور شخص ابھرے گا، ایم کیو ایم کا قائد چار یا آٹھ برس بعد الطاف حسین کی بجائے کوئی اور بننا لازم ہو گا، عمران خان بیس سال تک اپنی پارٹی کے سربراہ نہیں رہیں گے، تو پھر ہی یہ ممکن ہو پائے گا کہ پاکستان کا نظام بہتری کی طرف گامزن ہو۔

اس وقت امریکی انتخابات کو دیکھیے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی کی طرف سے کئی امیدوار مہم چلا رہے ہیں کہ ان کو اپنی اپنی پارٹی کے اراکین کی طرف سے امریکی صدر کے منصب کے لیے الیکشن لڑنے کی اجازت مل جائے۔ پہلے مرحلے میں پارٹی کے اندر انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اور پارٹیوں کے اراکین یہ فیصلہ کریں گے کہ صدر کے لیے کون سا امیدوار مناسب ہے۔ ہر امیدوار اپنی پارٹی کے منشور کے علاوہ اپنا منشور بھی دیتا ہے اور اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ حکمران بن کر کیا اصلاحات لائے گا۔ پارٹی کا سربراہ اس معاملے میں اتنی طاقت نہیں رکھتا ہے کہ وہ کسی صدارتی امیدوار کو اپنے اراکین پر تھوپ سکے۔ جب اگلے الیکشن ہوں گے تو پھر اگلے امیدواروں کی مہم چلے گی۔ اور کوئی شخص اگر صدر بن بھی گیا، تو وہ زیادہ سے زیادہ چار چار سال کی دو ٹرمز کے لیے صدر بن سکتا ہے۔ پھر اسے صدارت کو خدا حافظ کہنا ہی ہو گا۔

پارٹی کے اندر چھوٹے لیول سے لیڈر ابھرنے کے اس نظام کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لیڈران کرام کو اپنی سربراہی کے لیے ج چ ن ق نامی بہت ساری مسلم لیگیں یا دوسری پارٹیاں نہیں بنانی پڑتی ہیں۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے اراکین میں مقبولیت پا کر پارٹی یا مملکت کے سربراہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح افراد کی بجائے ادارے اہم بن جاتے ہیں اور شخصی و خاندانی حکمرانی کی بجائے نظام کی حکمرانی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے پارٹی کے اندر ایسی جمہوریت پر صرف جماعت اسلامی ہی چل رہی ہے۔ باقی تمام پارٹیاں ذاتی جاگیروں کے انداز میں ہی چلائی جا رہی ہیں۔ لیکن جماعت اسلامی کے بارے میں ملک کے بیشتر افراد کا تاثر یہ ہے کہ وہ ایک تنگ نظر اور انتہا پسند پارٹی ہے، اور ووٹر اسی وجہ اسے 1970 کے الیکشن سے ہی مسترد کرتے آئے ہیں۔ تحریک انصاف میں پارٹی کے اندرونی الیکشن کی روایت جنم پکڑنے لگی ہے لیکن پارٹی بہرحال صرف عمران خان کی شخصیت ہی کے گرد گھومتی ہے اور وہ بیس سال بعد بھی چیئرمینی کر رہے ہیں۔

prosperitysansgrowth

اگر ملک کے نظام میں بہتری لانی ہے تو پھر ہمیں سیاسی پارٹیوں کے بارے میں قوانین بنانے ہوں گے اور ان پر عمل کرانا ہو گا۔ الیکشن کمیشن کو بااختیار اور شفاف بنایا جائے۔ باقاعدہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت ان سیاسی پارٹیوں کے داخلی انتخابات کرائے جائیں۔ طاقتور بلدیاتی اداروں کے حق میں قانون سازی کی جائے۔ سیاسی کارکن کی تربیت کرنے پر توجہ مرکوز ہو اور اسے کسی بھی سطح سے اوپر آنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پھر ہی نظام میں بہتری ممکن ہے۔ موقع پرست اور کرپٹ سیاستدان خود بخود ختم ہوتے جائیں گے اور عوام کے ساتھ تعلق جوڑنے والی صاف قیادت ابھرتی جائے گی۔

صرف نواز شریف کی حکومت گرا دینے سے مزید انتشار اور بے یقینی ہی پھیلے گی۔ تبدیلی لانے کے خواہش مند اپنی توجہ حکومت کی بجائے نظام کی تبدیلی پر مرکوز کریں تو پھر ہی بہتری آئے گی۔

مگر حال یہ ہے کہ جنرل مشرف کی آمریت ختم ہونے کے آٹھ سال بعد بھی ہم نظام کی تبدیلی کے لیے متحرک نہیں ہو رہے ہیں۔ نہ ہم الیکشن اصلاحات کو تیزی سے لانے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں، اور نہ ہی پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کو جمہوری بنانے کی بات سوچ رہے ہیں۔ تبدیلی لانے کی بات تو سب کرتے ہیں مگر اس مقصد کے لیے پارلیمان میں آواز کوئی نہیں اٹھاتا ہے۔ تبدیلی کے لیے سپورٹ خواہ چوک میں جلسے سے ملے، لیکن تبدیلی پارلیمان کے اندر سے ہی آتی ہے۔ ورنہ چوک چوک کے جلسے کے بعد کوئی ڈکٹیٹر ہی نمودار ہوتا ہے۔

اس صورت میں اگر نواز شریف کی حکومت گر بھی جاتی ہے، اور عمران خان یا شیخ الاسلام طاہر القادری صاحب کی حکومت بن بھی جاتی ہے، تو اسے کچھ کام کرنے سے پہلے ہی گرنے سے کون روکے گا؟ جیسے طاہر القادری اور عمران خان صاحب کے دھرنوں کے بعد اب ہم نے ہر ایرے غیرے کے دھرنوں کی روایت دیکھ لی ہے کہ جس شخص کا دل مغلظات پر مبنی تقریر کرنے کو چاہتا ہے وہ منہ اٹھا کر ریڈ زون پہنچنے لگا ہے، تو یہی حال پھر حکومتیں گرانے کی روایت کے بعد بھی ہو گا۔ ہر مہینے دو مہینے بعد حکومت گرانے کوئی پہنچا ہو گا اور پاکستان کسی مستحکم حکومت سے محروم رہے گا جس سے مزید خرابی پھیلے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “پاکستان کے لیے بہتری کا راستہ کون سا ہے؟

  • 26-04-2016 at 12:42 pm
    Permalink

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گوالا دودھ میں پانی کیوں ملاتا ہے؟ اسکی غالب وجہ یہ ہے کہ پانی ملائے بغیر وہ اپنے اخراجات پورے نہیں کر پاتا.. دوسری وجہ یہ ہےکہ ریاست اشیاء کو ملاوٹ سے پاک بنانے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درآمد میں ناکام ہوئی ہے. اسکی وجہ حکومت کی نا اہلی اور بد نیتی ہے.. کیونکہ یہ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے.. دشمنوں کو دیکھائی تو دے رہا ہےکہ آپکا قلم اہل اقتدار کا دم بھرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا. لیکن ایسی تحریریں لکھ کردشمنوں کو برملا اس الزام تراشی کا موقع فراہم کرنا دشمنوں کے ساتھ زیادتی ہے…

    • 26-04-2016 at 2:13 pm
      Permalink

      محترمہ آپ نے غور نہیں کیا شاید۔ یہاں دودھ میں پانی ملانے والے کا ذکر نہیں ہے۔

      “تو یہ بھی غور کر لیں کہ آپ کو دودھ کے نام پر دودھیا کیمیکل پلانے والا،”

      آپ اس کے بارے میں تحقیق کر لیں تو ممکن ہے کہ آپ اعتراض نہ کریں۔

  • 26-04-2016 at 2:57 pm
    Permalink

    میرے دل کی ہے آواز………
    بہت اچھی تجاویز ہیں۔ ضرورت صرف عمل کی ہے۔
    اور عمل کی گھتلی ہماری ویسے ہی خالی ہے۔
    تو پھر کیا کیا جائے. ؟؟؟؟؟؟؟

  • 26-04-2016 at 9:20 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر،اگر سیاسی جماعتوں میں جمہوریت قایم ہوجائے تب ہی ملک میں حقیقی جمہورت کا سورج طلوع ہوسکتا ہے۔ یہاں معاملہ قانون پر عملدرامد کا بھی ہے،یہی کرپٹ،بدعنوان،ٹیکس چور اور ملاوٹ کرنے والے جیسے ہی یورپ یا امریکہ کے ائرپورٹس سے باہر نکلتے ہیں قانون کے ڈر کی وجہ سے ایماندار اور نیک بن جاتے ہیں۔

Comments are closed.