کپتان سیاست کا کھیل کیسے جیتے


wisi 2 baba

کپتان کی الیکشن مہم جوبن پر تھی۔ مسلم لیگ نون کے کیمپ میں تشویش کا عالم تھا۔ سوشل میڈیا پر ہر طرف کپتان اور اس کے چاہنے والوں کا راج تھا۔ الیکشن جب بالکل سر پر آ گیا تو کپتان کو اس کے مداحوں نے الٹی قلابازی لگوا کر زخمی کر دیا۔ نتائج آئے تو کپتان اور اس کے مداحوں سمیت کئی بزرگ صحافیوں کے لئے حیران کن تھے۔ کے پی کے میں جیت کر بھی قومی اسمبلی میں تیسری پوزیشن آئی تھی۔

یہ نتائج باقیوں کی طرح شاید ہمارے لئے بھی حیرت کا باعث ہوتے۔ خوش قسمتی سے ہوا یہ ایک جرمن ریسرچر کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل گیا۔ موصوف ایران میں سوشل میڈیا کے سیاسی استعمال پر ڈاکٹریٹ کر چکے تھے۔ فارغ تھے تو انہیں پاکستان میں اسی قسم کی ریسرچ پر لگا دیا گیا۔ عرب سپرنگ نے دنیا کو حیران کر رکھا تھا جس کی بنیاد سوشل میڈیا سے ہی اٹھائی گئی تھی۔

دو ہزار تیرہ میں صورتحال یہ تھی کہ پاکستان میں دو کروڑ لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتئے تھے۔ نیٹ کی کوالٹی کوئی بہت اچھی نہیں تھی۔ نیٹ استعمال کرنے والے آبادی کا گیارہ فیصد تھے۔ جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی اس وقت مختف ملکوں میں نیٹ صارفین کی تعداد کچھ اس طرح تھی ۔ مصر میں کل آبادی کا اکیس فیصد تیونس میں چونتیس فیصد جبکہ ایران میں ترتالیس فیصد حصہ سوشل میڈیا پر سرگرم تھا۔ یہ لوگ پاکستان سے کہیں بہتر کوالٹی کا انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے۔

پاکستان میں نوجوان انٹرنیٹ کے سب سے زیادہ صارفین تھے۔ انٹرنیٹ پر موجود نوجوانوں کا سب سے بڑا گروپ اس ایج گروپ کا تھا جن کا ووٹ ہی ابھی نہیں بنا تھا۔ نوجوانوں کی بھاری اکثریت ایسی تھی جو ووٹر کی عمر کو پہنچ چکی تھی ۔ ووٹر کے لئے اہل ہو جانے کے باوجود ان نوجوانوں نے ووٹ بنانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی تھی۔

نوجوان کپتان کے جلسوں میں تو جا رہے تھے۔ کپتان بڑے اور شاندار جلسے کر رہا تھا۔ لیکن زمینی حقیقت یہ تھی کہ کہ جلسوں میں آنے والی نوجوان اکثریت کی بطور ووٹر اہمیت صفر تھی۔ انگریزی پریس کپتان کی حمایت کر رہا تھا۔ جس نے پاکستانی شہری اشرافیہ کو تو کپتان کی حمایت میں یکسو کر دیا تھا۔ لیکن شہروں کے پوش علاقوں سے باہر کپتان کی حمایت کم اور مخالفت زیادہ تھی۔

کپتان کو الیکٹرانک میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ الیکٹرانک میڈیا کی یہ حمایت اب بھی کپتان کو حاصل ہے ۔ کپتان کی اصل پاور بیس سوشل میڈیا تھا اور اب بھی وہی ہے۔ سوشل میڈیا میں صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ کپتان کی حمایت تو اب بھی سب سے زیادہ ہے لیکن باقی سب پارٹیاں بھی سرگرم ہیں۔ سوشل میڈیا کا ووٹروں پر اثر پچھلے الیکشن میں تین فیصد کے قریب تھا۔ اب بھی یہ دس فیصد سے کم ہے۔ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا کی یہ بڑی واضح حمایت ووٹر پر بہت ہی محدود اثرات رکھتی ہے۔ ووٹر کچھ اور مانگتا ہے وہ کہیں اور رہتا ہے۔

بات سمجھ نہیں آئے گی ، اس کو آسان کرتے ہیں۔ کپتان نے سوشل میڈیا سے جو حمایت حاصل کی اور جس طرح اس کے حامیوں نے سب کو دھویا ہے، اس نے سب پارٹیوں کو مجبور کیا کہ وہ بھی سوشل میڈیا پر سرگرم ہوں۔ اب جماعت اسلامی بھی سوشل میڈیا پر بہت سرگرم ہے۔ آپ سوشل میڈیا پر ایک تجربہ کریں جماعت اسلامی کو ٹارگٹ کر کے دیکھیں۔

جماعت پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کو پسند کرنے والے پڑھے لکھے لگ ہیں۔ وہ اپنی مزہبی فکر سے بھی واقف ہیں۔ انہیں اپنا موقف بھی معلوم ہوتا وہ آپ کو ایک موثر انداز میں جواب بھی دیتے ہیں ۔ انکے دلائیل متوازن ہوںگے انداز بھی مناسب ہی ہو گا۔ آپ انہیں چھیڑ کر دیکھیں آپ کو حیرت ہو گی کہ یہ کس بھاری تعداد میں سوشل میڈیا پر ایکٹو ہیں ۔ یہ اتنے زیادہ ہیں کہ ہر طرف ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں ۔ جماعت ایک بڑی پارٹی دکھائی دیتی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر انکی طاقت دیکھیں اور اسی طاقت کا موازنہ جماعت کی پارلیمانی نمائندگی سے کریں ۔ بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگے گی کہ کپتان کے ساتھ پچھلے الیکشن میں کیا ہوا۔

کپتان کے الیکشن اندازوں کی بنیاد کافی حد تک سوشل میڈیا پر اس کی تین چوتھائی برتری تھی۔ کپتان کی دوسری پاور بیس بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں۔ یہ لوگ رہتے باہر ہیں لیکن پاکستان کو سدھارنا انکا مستقل خواب ہے۔ کپتان انہیں مغربی جمہوریت کی مثالیں دیتا ہے۔ وطن کی محبت میں دیوانے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں کپتان کی ویسی ہی سپورٹ ہے جیسی سوشل میڈیا میں تھی اور ہے ۔ ان لوگوں کو ساری حمایت الیکشن کے حوالے سے ووٹ کے حوالے سے ایک مکمل صفر تھی۔ اب بھی ہے کہ ان کا ووٹ نہیں ہے۔

کپتان کے سب سے بڑے حمایتی گروپ دو تھے۔ بیرون ملک پاکستانی جو ووٹ کے حوالے سے صفر تھے۔ کپتان کو وسائل البتہ انہوں نے ہی فراہم کیے۔ کپتان کا دوسرا حمایتی سوشل میڈیا جس نے گیم تو بنائی لیکن بطور ووٹر اس کی حمایت بھی کچھ خاص مددگار نہ تھی۔ تیسرا حمایتی الیکٹرانک میڈیا تھا۔ یہ ہوا ضرور باندھتا ہے لیکن سٹی سنٹر سے باہر جہاں باقی پاکستان بستا ہے یہ بے اثر ہوتا چلا جاتا ہے۔

کپتان کو سب سے بڑا نقصان جو پہنچا وہ حلقوں میں اس کے پولنگ ایجنٹ پورے نہ ہونے سے ہوا۔ یہ وہاں بھی پورے نہ تھے جہاں اس کو برتری حاصل تھی۔ صرف اس ایک کمی کی وجہ سے کئی سیٹیں تحریک انصاف ہار گئی۔

فیصل آباد ایک ایسا شہر ہے جہاں کپتان ایک مضبوط بیس بنانے کے بعد تقریبا ساری ہی سیٹیں ہار گیا۔ فیصل آباد ایک بہت دلچسپ کیس سٹڈی ہے۔ پچھلے الیکشن سے پہلے کپتان فیصل آباد میں واضح اکثریت لینے کے قابل تھا۔ توانائی کا بحوان تھا بیروزگاری تھی۔ چھوٹا کاروباری طبقہ تباہ حال تھا۔ لاہور کے جلسے کی صورت کپتان ایک اچھا سیاسی چیلنج دے چکا تھا۔ فیصل آباد کی تقریبا ایک درجن سیٹوں میں سے زیادہ تر کپتان کی جھولی میں گرنے کو تیار تھیں۔

مسلم لیگ نون نے ایک دلچسپ حکمت عملی اختیار کی۔ بڑے سرمایہ دار، آپ استعارے کے طور پر میاں منشا کہہ لیں، ان سے بات کی۔ ان بڑے سرمایہ داروں نے مزدور یونینوں کو مسلم لیگ نون کے حق میں رام کیا۔ چوھدری سرور کا اچھا استعمال کیا گیا۔ جیتنے والے امیدواروں کو اکٹھا کیا گیا۔ بڑی براادریوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی گئی۔ جٹ راجپوت ارائیں کشمیری سب کو راضی کر کے متحد کیا گیا۔ مسلسل سیاسی روابط جوڑ توڑ سے اپنا الیکشن بنا لیا گیا۔ کپتان واضح سپورٹ کو فیصلہ کن برتری میں بدلنے میں مکمل ناکام رہا۔

ووٹروں کی ایک واضح حمایت کے باوجود کپتان کی فیصل آباد میں کامیابی ممکن ہی نہیں تھی۔ اس کے پاس ٹیم ہی موجود نہ تھی۔ ایسی ٹیم جو سیاسی رابطے کرتی سیٹ ایڈجسمنٹ کرتی۔ برادریوں کو مطمئن کر کے متحد کرتی۔ یہ ٹیم بدقسمتی سے آج بھی موجود نہیں ہے۔ تب بھی کپتان کے پاس کسی بھی حلقے میں پولنگ ایجنٹ نہ تھے۔ آج بھی نہیں ہیں حالانکہ تحریک انصاف بیس سال کی مٹیار ہو گئی ہے۔

اب کپتان کی طاقت پر بات کرتے ہیں

کپتان کی طاقت یہ ہے کہ اس کے جلسوں میں لوگ بندھے چلے آتے ہیں۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد اس کی حمایت کرتی ہے۔ اس نے کرپشن کو ایک بڑا ایشو بنا دیا ہے۔ لوگ اس کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ دھاندلی کا اتنا شور مچایا ہے کہ واضح برتری سے جیتنے والے امیدوار بھی شرمندہ سے پھرتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کو کپتان کا علاج سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں کیسے کریں۔

پھر بھی کپتان ناکام ہے ۔ اس کی ناکامی مسلسل ہے۔ اگر حکومت بنانی ہے تو الیکشن جیتنا ہو گا۔ ضمنی الیکشن تحریک انصاف مسلسل ہار رہی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں چند ایک سیٹوں کو چھوڑ کر کسی بھی سیٹ سے الیکشن بنایا اور جیتا جا سکتا ہے۔ کپتان کی مسلسل ناکامی کی وجہ الیکشن جیتنے کی حکمت عملی نہ ہونا ہے۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ کہنا ہو گا کہ کپتان کی کوئی سیاسی حکمت عملی ہے ہی نہیں۔ وقتی مسائل اس کی ڈرائیونگ فورس ہیں۔ غلطیوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ دوسرے کی غلطیوں کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں اگر اپنا لانگ ٹرم منصوبہ موجود ہو۔ پر کیا کریں کہ کپتان بندہ ہے جو اگر انگریزی میں سمجھا جائے تو ۔ (he is all tactics no strategy) ۔

کپتان اپنی پارٹی کو ایک منظم سیاسی مشین نہیں بنا سکا۔ اس نے تبدیلی کا ایک اچھا نعرہ تو دیا ہے۔ اس تبدیلی کی تعریف نہیں کر سکا۔ وہ یہ بتانے میں بھی ناکام ہے کہ اس کا پروگرام ہے کیا۔ اب ایسے میں سوال ہے کہ کپتان ایسا کیا کرے کہ اس کی طاقت ووٹ میں ڈھل جائے۔

خواتین پاکستان کی آبادی کا بھی نصف ہیں اور بطور ووٹر بھی انکی تعداد تقریبا آدھی ہے۔ خواتین روایات کو نظرانداز کر کے کپتان کے جلسوں میں آتی ہیں۔ کپتان کو چاہیے کہ گھر سے نکل کر اس کی حمایت کے لئے باہر آنے والی اس طاقت کے لئے اپنا پروگرام دے۔ سب سے آسان یہ بھی ہے کہ تبدیلی کے لئے باہر نکلنے اور ساتھ چلنے پر آمادہ آبادی کے اس حصے کے لئے کچھ اچھے قوانین کا مطالبہ بھی کرے اور کے پی کے میں ان کا اعلان بھی کرے۔ مثال کے طور پر خواتین مستقل عدم تحفظ کا شکار رہتی ہیں جب گھر سے باہر آتی ہیں۔ پولیس کو پابند کر دے کہ خواتین کی شکایت پر فوری جرمانہ کیا جائے انہیں تنگ کرنے والے کو۔

پاکستان میں بہت سارے طاقت کے مراکز ہیں۔ مغربی ممالک ہیں امریکہ ہے۔ یہ سب چین کے پاکستان میں منصوبوں کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ کپتان اس میں ایسا موقف اختیار کر سکتا کہ اسے ان جگہوں سے حمایت ملے۔ یہ فیصلہ اسے خود کرنا ہے۔ کونسی جگہ سے اسے حمایت درکار ہے کونسی جگہ اسے مخالفت کرنی ہے۔

نوازشریف کپتان کے اصل حریف ہیں۔ انکا اداروں سے تصادم مستقل رہتا ہے۔ کپتان اس تصادم کی وجوہات سمجھے اور اداروں کی پسند مطابق پالیسی ترتیب دے لے۔ زیادہ سے زیادہ حمایتی ہی بنانے ہیں۔ طاقت کے جتنے مراکز ہیں ان میں سے جتنے زیادہ کو اپنی سائیڈ پر لائے گا اتنی ہی جیت آسان ہو گی۔

نوازشریف اگر بھارت کے ساتھ تعلقات تیز رفتاری سے بہتر کرنا چاہتے ہیں۔ کپتان کشمیریوں کی مشکلات کا ذکر کرے کہ انکو سہولت دیے بغیر بھارت سے تعلقات میں پھرتی کی ضرورت نہیں۔ مقبوضہ کشمیر سے بھی اسے حمایت ملے گی، پنڈی سے بھی اور بھارت سے مہاجر ہو کر آئے اس ووٹر سے بھی جو پنجاب میں آباد ہوا۔ یہ ووٹر نوازشریف کے پیچھے رہتا ہے اس کے باوجود کہ انکی پالیسی ووٹر کی سوچ سے متصادم ہے۔

نوازشریف کا سپورٹر اگر بڑا سرمایہ دار طبقہ ہے۔ کپتان نہایت سکون سے انہی سرمایہ داروں کے ملازمین کی مراعات میں اضافے کے مطالبے کر سکتا ہے۔ دو فایدے لے گا اپنے حلقہ اثر میں سرمایہ دار کپتان کے محتاج ہونگے۔ انہیں نہ صرف اپنے ملازمین یونین سے معاملات طے کرنے کو کپتان کی ضرورت پیش آئے گی۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ نوازشریف کی حمایت جاری رکھنے میں فایدہ ہے یا پارٹی بدل لی جائے۔

افغانستان کا ایشو بھی اتنا ہی دلچسپ ہے۔ افغان مزاکرات کی حمایت کرنے پر قوم پرست حلقوں میں ووٹ بنک پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ افغان طالبان کو حق پر قرار دیا جائے تو مزہبی ووٹ ملتا ہے۔ افغان مہاجروں کو پاکستان سے نکالنے کی بات کی جائے تو بلوچ بیلٹ کراچی اور سندھ کافی حد تک کے پی کے میں ایک بلاک ووٹ ملتا ہے۔

اگر سیاست پنجاب میں ہی کرنی ہے تو دیہی علاقوں کا ووٹ زیادہ ہے۔ کسانوں کے مسائل ہیں۔ پانی کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ نہائیت شرپسند قسم کا کام تو یہ بھی ہو سکتا کہ کالاباغ ڈیم کی حمایت کا اعلان کر دے۔ ایسا کر کے پنجاب سے تو ووٹ مل جائے گا۔ مسلم لیگ نون بھی حیران پریشان رہ جائے گی۔ لیکن سندھ سے کوئ سیاسی فائدہ لینا ایک لمبے عرصے کو بھولنا ہو گیا۔

سندھ سے یاد آیا۔ آصف زرداری کے لئے مستقل ٹینشن بنانی ہے تو نواب شاہ کو ٹارگٹ کر لیا جائے۔ نواب شاہ میں زرداری سب سے کمزور پارٹی ہیں۔ وہاں بہت کچھ ایسا ہے کہ آصف زرداری تو کپتان کے ہاتھوں انڈرپریشر ہونگے ہی سندھ کے وڈیرے بھی صورتحال انجوائے کریں گے اور تحریک انصاف کی طرف آئیں گے۔ نوازشریف تو سوچ سمجھ کر آصف زرداری کو نواب شاہ میں تنگ نہیں کرتے۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر زرداری کو نواب شاہ میں تنگ کیا گیا تو وہ سندھ میں اس قابل ہی نہیں رہینگے کہ نوازشریف کی سیاسی مدد کر سکیں۔ یہ کام کپتان کر لے اس کو تو ایسی کوئی سیاسی مجبوری نہیں۔ نہ ہی سندھ میں اس کے پاس کھونے کو کچھ ہے۔

عدلیہ کے فیصلوں کے خلاف جلسوں میں بات کر کے کپتان اپنے لئے کام مشکل بنا رہا۔ الیکشن کمیشن کو بھی ٹارگٹ کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ دھاندلی کا زیادہ رونا بھی ووٹر کو بھگاتا ہے کہ جو اپنی سیٹ کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ میرے لئے کیا کرے گا۔ پٹواریوں کے ساتھ دشمنی بھی مہنگی ہی پڑی ہے۔ وہ باجماعت تحریک انصاف کے ووٹ خراب کرتے ہیں۔

طاقت کے مراکز بیرون ملک بھی ہیں اندرون ملک بھی۔ ان مراکز میں سے بس اتنی حمایت ہی حاصل کرنی ہے کہ کپتان اپنی گیم بنا سکے۔ طاقت کے کسی بھی مرکز کو ساتھ لانے سے ڈیڑھ دو فیصد ووٹ کا فرق پڑتا ہے۔

کپتان کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کا تعلق کھیل سے رہا ہے۔ جہاں آپ کارکردگی دکھاتے ہیں۔ میڈیا کی چکا چوند میں رہتے ہیں۔ کپتان کی ساری سیاست اب بھی میڈیا کے کیمرے کے آگے رہنے پر ہی فوکس ہے۔ کوئی بس اسے اتنا سمجھا دے کہ یہ سیاست ہے۔ یہ کھیل ہی الگ ہے ۔ یہاں سٹیج پر صرف اداکاری ہوتی ہے۔ یہاں اصل کھیل پردے کے پیچھے کھیلا جاتا ہے۔ کپتان کو اس اصل کھیل کو کھیلنا سیکھنا ہے۔ اس کے پاس ایسا کرنے کے لئے وقت بھی بہت ہی کم ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کپتان سیاست کا کھیل کیسے جیتے

  • 26-04-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    بہت شاندار تجزیہ۔کاش کوئی یہ مضمون عمران خان کو واٹس ایپ کردے اور موصوف اسے دن رات پڑھیں اور اسے ازبر کرلیں۔

  • 27-04-2016 at 2:33 am
    Permalink

    Wonderful analysis. Good suggestions.

  • 27-04-2016 at 3:05 pm
    Permalink

    دلچسپ مضمون ہے، بعض سے اتفاق ، کچھ سے اختلاف نہیں، مگر وہ اوورسمپلی فکیشن والا معاملہ لگتا ہے۔ بہرحال اس قدر دلچسپ اور اہم مضمون ہے کہ اسے پڑھا لازمی جانا چاہیے۔

Comments are closed.