نہ جمتی نہ بجتا ڈھول نہ ہوتی آہ آہ


mujahid mirza

ہمارے ایک ماسٹر جی ہوا کرتے تھے، سلیم الدین صاحب۔ تھے وہ شاید گڑگاؤں وغیرہ کے۔ اچھی اردو بولا کرتے تھے۔ ایک تو ان کے گھر کے ساتھ دو دیواروں پر تنی چھت کے نیچے کی محراب معروف تھی جسے ماسٹر سلیم الدین کی پڑچھتی کہا جاتا تھا۔ اس محرابی راستے کی چھت اور اطراف پر ہندووں کے دیوی دیوتاؤں کی تصویریں کندہ تھیں جو مٹانے کی کوشش کے باوجود پوری طرح نہ مٹ پائی تھیں۔ مشہور تھا کہ رات کو یہاں ’جن‘ ہوتا ہے۔ دوسرا ماسٹر صاحب کا ڈنڈا مشہور تھا، اگر کوئی بچہ سوال کے جواب میں کہتا، ’سئیں میں ڈساں‘ سرائیکی وسیب تھا لیکن سلیم الدین صاحب چاہتے تھے کہ بچے سکول میں اردو بولنا سیکھیں چناچہ وہ اپنا ڈنڈا چلانا شروع ہو جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ’ابے تو ڈسے گا، تو سانپ ہے کیا‘ چھٹی ساتویں آٹھویں کا بچہ چوتڑ بچاتے بچاتے بھی ان کے مولا بخش کی مار سہتا رہتا تھا۔ نالائق بچے سے وہ کہا کرتے تھے، ’نہ جمتی، نہ بجتا ڈھول، نہ ہوتی واہ واہ‘۔ مجھے وہ پیار سے مرزا کی بجائے مرغا کہا کرتے تھے۔ میں ساتویں میں تھا۔ صبح کے وقت بازار سے ڈبل روٹی لاتے ہوئے ان کے گھر کے سامنے سے گذر رہا تھا۔ وہ اپنے گھر سے نکل رہے تھے۔ ہاتھ میں مسواک تھی اور وہ بڑے اچھے موڈ میں تھے۔ انہوں نے ہنس کر پوچھا تھا، ’ابے مرغے کہاں سے آ رہا ہے صبح سویرے؟‘ میں نے ڈبل روٹی سامنے کر دی تھی، بولے ’جیتے رہو، سکول بر وقت پہنچنا‘۔ ’جی‘ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا تھا۔ سکول جانے سے پہلے ہی خبر آ گئی تھی کہ ماسٹر سلیم الدین قضائے الٰہی سے فوت ہو گئے ہیں۔ آدھے گھنٹے بعد ایک ہنستا ہوا صحت مند شخص نہیں تھا۔ میں نے جب ان کی مکفون لاش دیکھی تھی تو بہت رویا تھا، مجھے یہی لگتا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔ ان کے چہرے پر سرخی تھی میں ڈرتا رہا تھا کہ لوگ انہیں زندہ دفن کر دیں گے، اگر وہ قبر میں جی گئے تو کیا ہوگا۔

لیہ کی تحصیل کے مرکز کہروڑ لعل عیسن میں بھی ایک خاتون نے بچہ جنا۔ ڈھول بھی شاید بجا ہو لیکن مٹھائی ضرور بانٹی گئی۔ آدھے پونے گھنٹے بعد ہی واہ واہ، آہ آہ میں بدل گئی جب لوگ یکے بعد دیگرے بستر کے ساتھ لگنے لگے اور ان میں سے کچھ تو جلد ہی جاں سے گذر گئے۔ حلوائی کی دکان سے خریدی گئی مٹھائی مسموم تھی۔ اب تک 27 افراد مر چکے ہیں جن میں بڑے، بچے، عورتیں اور تاحتٰی نومولود کا باپ تک شامل تھے۔

شروع میں تو اس مجرمانہ غفلت کو ذرا نرم کرنے کی خاطر مٹھائی تیار کرنے والے کاریگر نے جھوٹ بولا کہ دودھ میں چھپکلی گر گئی تھی۔ میں نے مالک کے ڈر سے دودھ ضائع نہیں کیا۔ ابلی ہوئی چھپکلی نکال کر پھینک دی اور اس دودھ سے مٹھائی تیار کر دی جس کی وجہ سے اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔

تحقیق پر معلوم ہوا کہ چھپکلی گر کر ابل جانے کا ڈرامہ رچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مالک نے تسلیم کر لیا کہ غلطی سے چینی یوریا کی ایک پڑیا مٹھائی میں شامل ہو گئی تھی۔ اس نے مٹھائی ضائع کرنے میں نقصان جانا اور ذائقہ تبدیل کرنے کی خاطر اس میں ٹاٹری اور دیگر اشیاء کا اضافہ کر دیا تھا۔

نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عاشق علی ملک نے بتایا ہے کہ متعلقہ زہر کا کوئی تریاق نہیں ہے اس لیے ہم متاثرین کو علامات کے مطابق ادویات دینے پر مجبور ہیں۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق زرعی ادویات اور زہریلی کھاد کے ان ڈیلروں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جن کا مٹھائی والے کے نزدیک گودام تھا اور حلوائی اپنی مٹھائیاں ان کے گودام میں رکھا کرتا تھا۔
انسانی زندگیوں سے کیے گئے اس کھلواڑ کی اگر انتہائی سزا بھی دے دی جائے تب بھی جو زندگیاں تلف ہو چکیں وہ واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ ابھی متاثرین میں کتنے اور جانبر نہیں ہو پائیں گے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ پھر پیدا ہونے والا بچہ جس کی ولادت کی خوشی میں والدین نے دوستوں ، رشتے داروں اور محلے والوں میں مٹھائی بانٹی تھی جب بڑا ہوگا اور اسے معلوم ہوتا جائے گا کہ اس کی دنیا میں آمد کتنوں کی دنیا سے رخصت کا سبب بنی تھی تو اس کی نفسیات کیسی ہوگی۔

یہ تجاویز دینا کہ اشیائے خوردو نوش کو انسانوں کے استعمال کے قابل بنائے جانے کی خاطر کیا اقدامات کیے جانے چاہییں، بیکار ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر معیاری اور جعلی اشیائے خوردونوش تیار کرنے اور بیچنے میں باقاعدہ سرکاری، مذہبی اور دیندار لوگ شامل ہیں۔ یا پھر اس پر بھی یہی کہہ دیا جائے کہ جعلی مشروبات، مردار جانوروں کا گوشت، ملاوٹ کردہ اغذیات تیار کرنا اور بیچنا بھی یہود و ہنود کی سازش ہے کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو (بے وجہ) نہیں مارتا، تو ہم جیسے لوگ جو انسانوں کی اور انسانوں کی زندگیوں کی قدر کرنے کے حق میں ہیں کیا کہہ سکتے ہیں۔

کرپشن، کرپشن، بدعنوانی، بدعنوانی کا غلغلہ ہے۔ کیا مالی بدعنوانی ہی بدعنوانی ہے؟ کیا مال بنانے کے لیے کی جانے والی وہ تمام حرکتیں کرنا جن سے انسانی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں اور کہیں کہروڑ لعل عیسن کے سانحے کی مانند ضائع ہو جائیں، کرپشن نہیں ہوتیں؟ البتہ یہ درست بات ہے کہ کرپشن کی ابتدا اوپر سے ہوتی ہے۔ کسی افسر کا اپنے ادارے کی سربراہی سے ملی طاقت کا ناجائز استعمال کر کے ملک پر قابض ہو جانا کرپشن نہیں ہے؟ اگر ہے تو سب سے پہلے ایوب خان، یحیٰی خان اور ضیاءالحق کو بعد از مرگ سزائیں دی جائیں، پرویز اشرف کو ہتھکڑی لگوا کر واپس بلایا جائے اور تا عمر جیل میں ڈالا جائے۔ اسی طرح ارب پتی سیاستدانوں، بڑے چھوٹے سرکاری افسروں، ٹھیکیداروں، ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنانے والوں سب کو جیلوں میں ڈالا جائے۔ سرعام زہریلی ادویات بیچنے والوں، تیزاب کے تاجروں، اسلحہ فروشوں اور منشیات کے تاجروں کو محدود اور پابند کیا جائے۔

فوڈ انسپکٹروں کی تنخواہ بڑھائی جائے۔ اگر وہ چھ ماہ کے عرصے میں اپنی رینج میں کھانے پینے کی اشیاء کی سلامتی اور معیار سے متعلق موجود قوانین پر عمل درآمد نہیں کروا سکتا تو اس کی باز پرس کی جائے اور اگر سال کے بعد بھی کچھ نہیں ہوتا تو نہ صرف برخواست کیا جائے بلکہ سال بھر کی نصف تنخواہ واپس لی جائے۔ فوڈ انسپکٹر پولیس کی مدد کے بنا شاید ہی کچھ کر سکے۔ پولیس والے نئے لائے جائیں جن کی تنخواہیں مناسب ہوں اور وہ صرف فوڈ کے محکمے کے ساتھ مل کر کام کریں۔ تجاویز تو بہت ہو سکتی ہیں لیکن کیا کبھی کسی کے کان پر جوں رینگے گی ایسا لگتا نہیں۔

اس ملک میں کبھی درجنوں انسان زہریلی شراب پینے سے مر جاتے ہیں تو کبھی زہریلی مٹھائی کھانے سے۔ لوگوں کو اس طرح مارنے کی بجائے ’خاندانی منصوبہ بندی‘ کا نظام بہتر بنایا جائے۔ دو بچوں سے زیادہ پیدا ہونے پر سزا دی جائے۔ دو بچوں کی تربیت اور تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری حکومت لے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے، بالکل ہو سکتا ہے ۔ خواہش ہونی چاہیے، راستے کھلتے جاتے ہیں، وسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “نہ جمتی نہ بجتا ڈھول نہ ہوتی آہ آہ

  • 27-04-2016 at 1:50 am
    Permalink

    جناب، موضوعات تو بہت سے ہیں اور ہر موضوع اہم ہے لیکن ایسے سلگتے موضوعات جن میں سماج کے چہرے پر لگی پهپهوند دکهائی دے، انهیں زیادہ زیر بحث لانا چاہیے. ہماری صحافت درباری سیاست پر فوکس کرتی ہے، یہی الم ناک سانحہ ہے.

Comments are closed.