حماقتیں اور مزید حماقتیں


bakht muhammad barshori

کلاس میں سبق جاری تھا، طلبہ پورے انہماک سے استاد کا سبق سن رہے تھے، استاد بھی مختلف زاویوں سے سبق آسان سے آسان تر کرکے سمجھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ طلبہ پر خاموشی طاری تھی، کلاس میں استاد ہی کی آواز گونج رہی تھی ۔ ان طلبہ میں ایک طالب علم ایسا بھی تھا جو رومال سرپر ڈالے کانوں پر لپیٹے پوری توجہ سے کتاب کی عبارت کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کی نظریں کتاب پرجمی ہوئی تھیں ۔ ایسے میں ایک دم وہ کھڑا ہوگیا اور جوش سے نعرہ لگایا آووووووٹ! ۔ اِدھر اُدھر دیکھا اور جھینپ کر واپس بیٹھ گیا ۔ مگر ایسی آسانی سے خلاصی کہاں ہوسکتی تھی سو کلاس سے اٹھا دیا گیا اور واپس بیٹھنے کی اجازت اس شرط پر ملی کہ وہ سر گنجا کرے ۔

ہوا یہ تھا کہ یہ صاحب کانوں میں ہینڈ فری ڈالے کرکٹ میچ سن رہے تھے ۔ نظریں تو ان کی ویسے ہی حسب عادت کتاب پر مرکوز تھیں ۔ ذہنی طورپر اپنے ارد گرد کے ماحول سے پوری طرح بے خبر تھے، میچ ایک سنسنی خیز مرحلے میں تھا، ایسے میں وکٹ اڑ جائے تو جذبات میں ہوش کھوبیٹھنا فطری امر ہے ۔ یہ واقعہ ہم سے چند درجے چھوٹے کلاس میں پیش آیا تھا۔

مدرسے کے ہاسٹل کے عقبی حصے میں کپڑے دھونے کی جگہ تھی ۔ کپڑے دھونے کے لیے مناسب جگہ بنائی گئی تھی جہاں کپڑے ذرا سہولت سے دھوئے جاسکتے تھے ۔ اوپر کی منزل میں ایک گیلری تھی ۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو ایک مرتبہ ہم کچھ لڑکے کپڑے دھورہے تھے ۔ کپڑے دھونا شاید سٹوڈنٹ لائف کا سب سے مشکل کام ہے ۔ ایسے میں کوئی اچھا سا گپ شپ والا ساتھی ساتھ ہو تو وقت اچھا گذرتا ہے ۔ ژوب بلوچستان کا ایک ساتھی اس وقت ہمارے ساتھ تھا، کچھ اپنے اور کچھ دوسروں کے واقعات سنا سنا کر وہ ہمیں ہنسانے کی خوب کوشش کررہا تھا ۔ اس دوران ایک دوست میرے پاس سے گذرا اور کہا اسے یوں ہی مشغول رکھو ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا اوپر کی گیلری میں وہ ایک بڑا سا شاپر ٹھنڈے پانی سے بھر کے آرہا تھا ۔ میں نے ژوب کے ساتھی سے کہا یار آج کچھ علاقائی لوک ٹپے سنادو، جھٹ سے اس نے تان اٹھائی، آ آ آ آ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی وہ پہلا مصرعہ شروع کرہی پایا تھا کہ اوپر سے ٹھنڈے پانی کا بڑا شاپر آکر اس کی گدی میں لگا، دھڑام کی اونچی آواز کے ساتھ شاپر پھٹا اور وہ ٹھنڈے پانی میں بھیگ گیا ۔ اِدھر ہمارے قہقہے چھوٹے اُدھر شاپر کے دھماکے اور ٹھنڈے پانی سے چند سیکنڈ کے لیے وہ حواس کھو بیٹھا ۔

برسات کی تیز بارشیں ہوتیں تو ہاسٹل کے درمیان میں چاروں طرف کے برآمدوں میں گرے نشیبی فرش میں پانی جمع ہوجاتا ۔ پانی کے اخراج کے سارے راستے مسدود کرکے اسے حوض نما سا بنا لیتے ۔ شریر طلبہ کے گروپ بارش میں خود بھی نہاتے اور ذرا اطراف میں گھومتے پھرتے شریف النفس تبلیغیوں کو بھی کھینچ کانچ کر لے آتے، اس گروپ میں شامل ہر لڑکا اپنے ایک ایک دوست کو ڈھونڈتا اور پورا پلٹن لے کر وہاں پہنچ جاتا، منت سماجت، غصہ، ناراضگی یہ سب چلتے، کوئی ناراض ہو یا برا منائے انہیں اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی ۔ کوئی نہ جاتا تو اسے اٹھا کر پانی کے بیچ میں رکھ دیتے ۔ اس پکڑم پکڑائی میں زور تو لگانا پڑتا تھا سو اس کے لیے بڑے لڑکے ہوتے، اور بچوں کا کام محض پانی پھینک پھینک کر اسے خوب بھگونا ہوتا تھا ۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ہم ایسے وہ طلبہ جنہوں نے اپنے لیے خود ساختہ سا سٹیٹس بنایا ہوتا تھا اور وہ اس سنجیدہ خول سے باہر آنا نہیں چاہتے تھے ، نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں برسات میں بھیگنے کا مزا آجاتا تھا۔ ایک بار ایسی ہی پلٹن خاکسار کے پیچھے پڑی تو بھاگ کر کمرے میں گھسا اور اندر سے کنڈی لگادی ۔ پلٹن آکردروازے پر کھڑی ہوگئی، کھڑکی پر کھڑے کھڑے انہوں نے ہزار جتن کیے اور مذاکرات کے ذریعے بہلا پھسلا کر باہر نکالنے کی کوشش کی مگر ہم نے ہر جواب نہ ہی میں دیا یوں وہ واپس لوٹ گئے او ر جب تک وہ پوری طرح غائب نہ ہوئے میں کمرے سے باہر نہ آیا۔

بارش کے اسی طرح کے ایک دن، اوپر کی منزل میں ایک لڑکا کمرے میں سو رہا تھا، پلٹن کو خیال آیا کہ اسے بھی برسات کے پانی میں غسل دینا چاہیے مگر اسے جگانا اور اوپر سے نیچے تک لانا بہت مشکل تھا ۔ اس دور میں جب موبائل فون اتنا عام نہیں ہوا تھا مدرسے کا ٹیلیفون ہی طلبہ سے رابطہ کا ذریعہ ہوتا تھا ۔ کسی کا فون آتا تو اسے اطلاع کردی جاتی اور وہ آکر فون اٹھالیتا ۔ ایک شریر کو خیال آیا اور اس نے جاکر اسے جلدی جلدی جگایا “اٹھو تمھارا فون آیا ہے”۔ وہ بد حواسی میں نیند سے جاگا، تیز دوڑتا نیچے دفتر کے پاس پہنچا اور ریسیور اٹھا کر ہیلو ہیلو کرنے لگا ۔ فون میں تو مکمل خاموشی تھی ہیلو کا کوئی جواب نہیں آیا مگر تاک میں کھڑا پلٹن ہیلو کا جواب دینے کو منتظر کھڑا تھا ۔ آہستہ آہستہ سے بڑھ کر سب نے اسے گھیرا اور لے آئے اسے بھی اس بہتی گنگا میں اشنان کرانے ۔

سچ پوچھیے تو برسات کے بھیگے موسموں کا مزہ بھی اسی میں ہے ۔ جب شجر و ہجر، چرند پرند، خدا کی ساری کائنات بھیگی ہو تو یہ انسان کیوں پانی سے بیر رکھے۔ قدر ت کی اس نعمت سے لطف اندوز کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی پانی میں خوب نہانے اور تر بتر ہونے کے بعد جب کپڑے بدل کراور خوب فریش ہوکر باہر نکلتے، گرم سوپ، چائے، سموسے، چاٹ اور بریانی کھاتے تو ہر چیز کا ذائقہ اس دن دوبالا سا لگتا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “حماقتیں اور مزید حماقتیں

  • 27-04-2016 at 9:54 am
    Permalink

    محترم بخت محمّد صاحب

    السّلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

    دلکش تحریر

    پڑھ کر بہت لطف آیا۔

    کیا مزے ہیں ، دورِِ طالبعلمی اور ہاسٹل لائف کے!

    شاد رہیے ۔ سلامت رہیے۔ مزید لکھتے رہیے۔

  • 27-04-2016 at 2:20 pm
    Permalink

    م۔ز اسلم آپ کی محبتوں کا شکریہ ۔ اللہ خوش رکھے۔

  • 27-04-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    دلچسپ ، مزے دار تحریر۔ برشوری صاحب آپ اس طرح کے کالم لکھتے رہیے گا، یہ ایک نیا فلیور ہے۔ مدرسوں کے اندر کی زندگی کی جھلک ہم نہیں دیکھ پاتے، ہم مین سے اکثر مدرسوں کے بارے میں عجیب وغریب مفروضوں کا شکار ہیں۔ آپ کی یہ جھلکیاں مدارس کے اندر کی صورتحال دکھاتی ہے۔ اپنے مدرسے کی وضاحت بھی کر دیا کریں، ساتھ یہ بھی کہ ہاسٹلز کس قسم کے ہیں، کتنے طالب علم ہوتے ہیں، ان کا کھانا پینا، رہن سہن، ڈسپلن کی پابندیاں وغیرہ۔ یہ سب لکھیں، اسی ہلکے پھلکے انداز میں ۔

  • 27-04-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب حوصلہ افزائی فرماتے رہیے گا۔ کوشش کروں گا یکسانیت کا شکار ہوئے بغیر سلسلہ جاری رہے ۔

Comments are closed.