اردو نصاب، ثقافتی اجارہ داری اور بلوچستان کا مقدمہ


abid mir

یادش بخیر، طالب علمی کا زمانہ تھا جب ہر ’آتش‘ جوان ہوتا ہے، مقام تھا جامعہ بلوچستان،شعبہ اردو، پاکستانی معاشرے میں اردو کی دیگر زبانوں پر سبقت اور اجارے کی گفت گو میں ایم اے اردو کی کلاس میں ہماری ایک اہل زبان استاد نے نہایت استہزا کے ساتھ فرمایا، ”کیسی دلچسپ بات ہے، لوگ اردو کو گالی بھی اردو میں ہی دیتے ہیں۔‘ ‘ تفصیل اس اجمال کی یہ تھی کہ جو لوگ اردو سے متعلق بحث تک اپنی زبان میں نہ کر سکیں، وہ بھلا اردو کا کیا مقابلہ کریں گے! اہل زبان کی یہ برتری ان کے عمومی رویوں میں جھلکتی بلکہ چھلکی پڑتی تھی، جب وہ اسی استہزا کے ساتھ فرماتے ، ”ان قدیم اور طویل پہاڑوں کو دیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ انھوں نے یہاں کبھی تہذیب کو آنے ہی نہیں دیا۔“

اردو کے ساتھ بہ طور قاری نصاب کی قرا¿ت کے روزِ اول اور ایک دہائی سے اس کی تدریس کے تجربے سے معلوم ہوا کہ یہ محض انفرادی ردِعمل کا معاملہ نہیں، بلکہ پاکستانی معاشرے کی دیگر قومیتیوں اور ثقافتوں میں پایا جانے والا ناپسندیدگی کا عمل دراصل اردو نصاب کے اسی مجموعی رویے کا ردِ عمل ہے۔ پاکستان میں نصاب کی سطح پر تین مضامین ایسے ہیں جن سے نظری و فکری تربیت کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ تربیت تنقیدی نکتہ نگاہ سے نہیں بلکہ ایک اچھے اور محب وطن شہری کی تشکیل کے لیے ہوتی ہے۔ نیز ’اچھا‘ اور ’محب وطن‘ ہونے کا پیمانہ بھی وہی جو مقتدرہ کے ہاں طے شدہ ہوتا ہے۔ ان تین مضامین میں مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور اردو شامل ہیں۔ اردو ان میں اس لیے سرفہرست ہے کہ اول‘ یہ پہلی سے لے کر بارہوں کلاس تک لازمی مضمون کے بہ طورشامل ہے، دوم یہ کہ اس سے مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کی توسیع(extension)کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ پہلی بار جس کا واضح نقشہ ناصر عباس نیئر صاحب نے حال ہی میں ’ہم سب‘ پہ شایع ہونے والے اپنے ایک تفصیلی مضمون میں کھینچا ہے۔

ناصر عباس نیئر صاحب نے جن پہلووں کی جانب نشان دہی کی ہے، ان پہ ہمارے ہاں عموماً گفت گو حب الوطنی کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ نیز اردو کی تدریس سے وابستہ احباب کی اکثریت بھی اسی پر آمناً وصادقناً ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی مکالمے کا تصور ہی محال ہے۔ نیئر صاحب کے اٹھائے ہوئے نکات یقینا اہم ہیں، لیکن اردو نصاب کا ایک اور پہلو ان کی نظروں سے اوجھل رہا۔ جو اتنا ہی اہم اور قابلِ گفت گو ہے، جتنا کہ ان کا بیان کردہ مرکزی نکتہ؛ اردو نصابات میں تنقیدی بصیرت ابھارنے کا فقدان۔ اور یہ پہلو ہے اردو کی ثقافتی اجارہ داری کا۔

یہ بات دیکھنے کی ہے کہ پاکستان میں اردو کی تدریس محض بہ طور زبان رائج نہیں(جیسے کہ انگریزی یا عربی وغیرہ کی)، بلکہ اس سے بیک وقت دو، چار اہم کام لیے جاتے ہیں۔ان میں سے اردو تدریس کے جو پہلو نمایاں ہیں یا جنھیں واضح طور پر دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے، وہ کچھ یوں ہیں:

۱۔ زبان سے آشنائی

۲۔ اسلامی شعار سے آگاہی

۳۔ محب وطن شہری کی تشکیل

۴۔ وفاقی نظام کی ترویج

یہ چار نکات تو نصاب کا جائزہ لینے سے واضح ہو جاتے ہیں، لیکن ’ثقافتی اجارہ داری‘ کا پانچواں نکتہ پنہاں(Hidden) رہنے کے باعث نہ تو واضح ہے، نہ اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں رائج اردو نصابات کا جائزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں شامل مضامین اور مصنفین نہ صرف یک طرفہ نکتہ نظر کے حامل ہیں بلکہ ان کا انتخاب نصاب کو پاکستان کی موجودہ وحدتوں اور اکائیوں میں ’غیر متعلق‘ بھی بنا دیتا ہے۔ اس کی نکتہ وار واضح کرتے ہیں:

۱۔ اردو کے چھٹی جماعت سے لے کر ایم اے کی سطح تک رائج نصاب میں موجود مصنفین (کم از کم بلوچستان کی حد تک) نوے فی صد یکساں ہیں۔ سرسید احمد خان اینڈ کمپنی اردو کے نوے فیصد نصاب کو گھیرتی ہے۔ رہا سہا حصہ پاکستان کی تشکیل کے بعد ان لکھنے والوں کے لیے مختص ہے جو بالخصوص مقتدرہ کے بیانیے سے قربت رکھتے ہیں۔

۲۔ حالاں کہ اردو کی تشکیل پاکستان کے موجودہ خطے میں بھی ہوتی رہی، یہاں کی تمام وحدتوں میں اردو کی تشکیل اور ترویج میں حصہ ڈالنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ لیکن اردو کے تمام نصابات میں کسی مقامی لکھاری کا بہ طور اردو ادیب تعارف نہیں ملتا۔ بلوچستان میں اردو کے ’باضابطہ‘ اولین شاعر ولی دکنی تک کا ہم عصر اردو شاعر(اور صاحبِ دیوان) شاعر موجود ہے، لیکن اس کا تذکرہ ایم اے کی سطح پر ’بلوچستان میں اردو‘ نامی ایک پرچے میں کہیں جا کرملتا ہے۔

۳۔ اردو کا موجودہ نصاب یہ ثابت کرتا ہے کہ اردو موجودہ ہندوستان میں پلی بڑھی، اس کی تشکیل و ترویج کا تمام تر سہرا سرسیداحمد خان اور ان کے ساتھیوں کے سر ہے(جو کہ ہندوستانی شہری تھے)۔ یعنی یہاں کے مقامی لوگوں کا اردو سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔

۴۔اردو نصاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ہندی، ہندوو¿ں کی۔ بادی النظر میں اردو پہ تنقید کا مطلب مسلمانوں پہ تنقید ، اور ہندوو¿ں کی حمایت کرنا ٹھہرتا ہے۔

اب جو لوگ اس نصاب کے سانچے سے ڈھل کر آئیں گے، وہ کس قسم کے شہری ہوں گے، اور ان سے کس دلیل کے ساتھ مکالمہ ممکن ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حالاں کہ ادب جمالیاتی اقدار کی ترجمانی کے باوصف طلبا کے لیے دلچسپ ترین مضمون ہونا چاہیے، لیکن مذکورہ بالا پہلوو¿ں کے باعث بلوچستان میں اردو کا نصاب غیر دلچسپ اور غیر متعلق ہو کر رہ گیا ہے۔ مقامی طلبا اسے پڑھتے ہوئے دو قسم کے احساسات سے گزرتے ہیں: احساسِ بے گانگی یا احساسِ محرومی۔

بے گانگی اس لیے کہ تمام تر نصاب میں ان کی نمائندگی موجود نہیں ، حالاں کہ ان کے ہاں اردو میں لکھنے والوں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ اور احساسِ محرومی اس لیے کہ ہمارے اردو لکھنے والوں میں کوئی اس قابل نہیں کہ نصاب کا حصہ بن سکے، حالاں کہ ہندوستانی شہری بھی اس کا حصہ ہیں۔

بے گانگی کی ایک وجہ نصاب تو دوسری جانب اس کی تدریس سے وابستہ اساتذہ بھی ہیں۔ بلوچستان میں اردوتدریس سے وابستہ اکثریت ان احباب کی ہے جنھیں فکری طور پر اسلامیات یا مطالعہ پاکستان کا استاد ہونا چاہیے تھا۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ادب جیسے اہم مضمون کی تدریس سے ایسے لوگ بھی وابستہ ہیں جو ادب کی تخلیق کو کارِ زیاں جانتے ہیں۔ اردوادب کی تدریس کے لیے امتحان پاس کرنے کا معیار بھی حتیٰ کہ محض ایم اے کی ڈگری تک رکھا گیا ہے۔ حالاں کہ اس کے لیے اگر ادیب نہیں تو کم از کم ’ادب شناس‘، ادب دوست ہونا لازمی شرط ہونا چاہیے۔ خیر‘ یہاں تو فزکس پڑھانے پہ ایسے لوگ بھی معمور ہیں جو نیوٹن کے بنیادی قوانین اور بگ بینگ کی تھویری کو ہی فاسق قرار دیتے ہیں۔

بہرکیف، اردو کی ثقافتی اجارہ داری کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور بلوچستان کے مابین سیاسی مسائل کی گتھی کے بعض سرے یہاں بھی الجھے ہوئے ہیں۔ یہ ثقافتی اجارہ داری اردو جیسی ’بے ضرر‘ اور عوام دوست زبان کو عوام مخالف بنا رہی ہے۔ اردو کو مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنانے کی تازہ مثال دیکھئے کہ بلوچستان میں انٹر میڈیٹ کی سطح پر رائج سالِ اول کی جو نئی تبدیل شدہ کتاب منظور کی گئی ہے، اس کا اولین مضمون غلام مصطفی خان کا ’نظریہ پاکستان‘ ہے۔

ایسے نصاب کے ساتھ بلوچستان کے سیاسی معاملات میں بہتری کا خواب،احمقوں کی (یا پھر اسٹیبلشمنٹ کی )جنت میں رہنے والے ہی دیکھ سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “اردو نصاب، ثقافتی اجارہ داری اور بلوچستان کا مقدمہ

  • 27-04-2016 at 3:31 am
    Permalink

    Thought provoking. Good post by Abid Sb.

  • 27-04-2016 at 9:16 am
    Permalink

    An eye-opener for me, I didn’t know this aspect before. Keep us aware plz.

  • 27-04-2016 at 11:15 am
    Permalink

    Nice Article Mir sahb..

Comments are closed.