کمال کا جلسہ: دو انتہاﺅں کے درمیان


iqbal khurshidوہ 24 اپریل کا دن تھا۔

 ٹوئٹر پر رش رہا۔ فیس بک میدان جنگ بنا ہوا تھا۔ تحریک انصاف کا فکری گرو ہونے کے دعوے دارایک بزرگ کا کالم بھی اِدھر ادھر شیئر ہو رہا تھا۔ ماحول گرم تھا کہ وہ 24 اپریل کا دن تھا۔ مصطفی کمال کراچی میں، اس کراچی میں جو ایم کیو ایم کا گڑھ، جہاں ایم کیو ایم کی مرضی کے بنا ایک پتا بھی نہیں ہلتا تھا، اور اگر ہل جاتا، تو شاخ سے جدا ہو جاتا اس کراچی میں مصطفیٰ کمال جلسہ کرنے والے تھے۔

اس جلسے کے بعد دو طرح کا ردعمل سامنا آیا۔ ایک فریق کا موقف تھا کہ مصطفی کمال نے اپنے سیاسی گرو، الطاف حسین کا، جن سے اب وہ متنفر ہوچکے ہیں، باب بند کر دیا ایم کیو ایم کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ دوسرے گروہ کا موقف تھا کہ یہ ایک ناکام جلسہ تھا۔ کرسیاں خالی، عوام سے زیادہ سیکیورٹی اہل کار، کمال نے اپنے آقاﺅں کو مایوس کیا وغیرہ وغیرہ۔

یہ دونوں موقف انتہائی اور شدید تھے۔ ان میں توازن میں فقدان۔ جنھوں نے یہ موقف اختیار کیے، انھوں نے اپنی وابستگی عیاں کر دی۔

 مصطفی کمال کو فی الحال الطاف حسین کا نعم البدل قرار دینا درست نہیں۔ جلسے میں دیگر راہ نماﺅں کی جانب سے انھیں ”قائد“ کہنا کچھ بناوٹی لگا۔ رینجرز آپریشن نے ایم کیو ایم کو بہ طورپارٹی ضرور کمزور کیا ، مگر عوام کی اکثریت اب بھی الطاف حسین سے انس رکھتی ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کی واضح کامیابی اس کا ثبوت۔ گو پاکستان کے کسی بھی حصے میں ہونے والے انتخابات کے مانند یہ بھی شفاف نہیں تھے، مگر ایم کیو ایم مخالفین دھاندلی کے وہ الزامات نہیں لگا سکتے، جو وہ ماضی میں ایم کیو ایم پر لگایا کرتے تھے۔ اور اس بار یہ ممکن بھی نہ تھا کہ یہ ماضی والی ایم کیو ایم نہیں۔ اپنی بات آگے پہنچانے کے لیے یہ پریس کلب پر دھرنا دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔

پاک سر زمین پارٹی کی آمد کو ایم کیو ایم کے خاتمہ پر منتج کرنا بھی جلد بازی۔ ایم کیو ایم شہر میں جڑیں رکھتی ہے۔ اس کی تنظیم گلی محلوں میں موجود۔ ماضی کی تمام تر ریاستی کوششوں کے باوجود اسے ختم نہیں کیا جا سکا۔ اسے کسی آپریشن سے نہیں، فقط الیکشن اور ووٹوں سے شکست دی جا سکتی ہے۔ اور یہی وہ محاذ ہے، جہاں ایم کیو ایم مخالف قوتوں کو کبھی کامیابی نہیں ملی۔ کیا مصطفی کمال اس جمود کو توڑ سکیں گے؟ جواب جاننے کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔ آقاﺅں کی بات جانے دیں، کون ہے، جس کے دامن پر اس الزام کا داغ نہیں۔

اب دوسرے موقف کا جائزہ لے لیا جائے کہ کمال کا یہ شو یکسر ناکام تھا۔

یہ سچ ہے کہ مصطفی کمال نے جتنا بڑا جلسہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، یہ جلسہ اتنا بڑا اور کام یاب نہیں تھا، مگر ایک پارٹی جس کی تشکیل کو ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے، جو تنظیمی سیٹ اپ نہیں رکھتی، جس نے ابھی رابطہ مہم نہیں چلائی، اس کے لیے اس نوع کا جلسہ کرنا بھی بڑا کامیابی ہے۔ جلسہ ٹھیک ٹھاک تھا۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اس اہم امر کی جانب اشارہ کیا کہ حاضرین کو جلسہ گاہ تک لانے کے لیے، توقع کے برعکس، کسی پارٹی کی جانب بسوں کا انتظام نہیں کیا گیا تھا، لوگ خود باغ جناح پہنچے۔

یہ درست کہ کرسیاں پوری طرح بھری نہیں تھیں، مگر ایک مخصوص زاویے سے لی جانے والی خالی کرسیوں کی تصایر یہ ثابت نہیں کرتیں کہ جلسہ گاہ میں لوگ موجود نہیں تھے۔ (بھلا کیا ٹی وی چینلز تحریک انصاف کی جلسے کی فوٹیج ”ایڈٹ“ کر کے چلا رہے تھے؟) کرسیوں کے درمیانی فاصلے کا مذاق اڑانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے پہلے جناح گراﺅنڈ میں خواتین کا جلسہ کرنے والوں نے بھی اسے ”عظیم الشان جلسہ “ظاہر کرنے کے لیے، کرسیوں کے درمیان خاصے فاصلے کا شعوری اہتمام کیا تھا۔ کراچی والوں کو یہ بھی خبر کہ اس جلسے میں خواتین کو لانے کے لیے کتنی منظم اور ”پراثر“ کوشش کی گئی تھی۔

بے شک مصطفی کمال کو ایم کیو ایم کا نعم البدل قرار دیناجلد بازی ہے، مگر جلسے کو یکسر ناکام ٹھہرانا بھی جانب دارانہ رویہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کمال کا جلسہ: دو انتہاﺅں کے درمیان

  • 27-04-2016 at 6:47 pm
    Permalink

    اچھا لکھا، متوازن تجزیہ۔

Comments are closed.