کتاب پڑھیئے۔۔۔ اور اپنی کتاب لکھیئے 


lubna mirzaانسان دنیا میں تقریباً 200 ہزار سال پہلے نمودار ہوئے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ بولنا، چلنا، ہتھیار اور آلات بنانا اور پھر لکھنا پڑھنا سیکھا۔ جب انسان نے اپنے خیالات اور معلومات کو لکھ کراگلی نسلوں تک منتقل کرنا سیکھ لیا تو اس سے انسانی ترقی میں کہیں زیادہ تیزی واقع ہوئی۔ سدھارتا مکھرجی نے “ایمپیرر آف آل ملاڈیز” کے نام سے نہایت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ یہ کتاب کینسر کی بائیوگرافی کے بارے میں ہے۔ دنیا میں کینسر کی تاریخ اور اس فیلڈ میں کی گئی ترقی کو مصنف نے بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب لکھنے پر ڈاکٹر مکھرجی کو 2011 کا پولیٹزر ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

امریکہ میں ہر سال تقریباً تین لاکھ سے زیادہ کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ یہ تعداد انڈیا میں تقریباً 83 ہزار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 2010 میں تقریباً 45 ہزار کتابیں چھاپی گئیں۔ پاکستان میں جب کتابیں چھاپی جاتی ہیں تو ان کی تعداد کافی کم ہوتی ہے۔ جیسے کہ ایک ملین نہیں بلکہ ایک ہزار یا دس ہزار وغیرہ۔ 50 فیصد افراد لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں۔ جو لوگ لکھتے بھی ہیں وہ بھی پہلے سے لکھا ہوا اور پرانے خیالات ہی کاپی کرکے آگے بتاتے ہیں۔ نئی تھیوری یا آئیڈیاز وغیرہ سامنے لانے کا تصور ابھی زیادہ عام نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ ای بکس، آڈیو بکس اور انٹرنیٹ نے چھپی ہوئی کتابوں کی جگہ معلومات کو پھیلانے میں ایک اہم حصہ ادا کیا ہے، لیکن یہ راستے کتابوں کا نعم البدل نہیں ہیں۔ کتاب پڑھنے اور لکھنے کے کئی فائدے ہیں۔ لفظ اتھارٹی  (سند)، لفظ آتھر یعنی کہ لکھاری سے نکلا ہے۔ اگر آپ ایک تعلیم یافتہ انسان ہیں اور اپنی فیلڈ میں ماہر ہیں تو آپ کو اپنے مضمون میں کتابیں لکھ کر ان معلومات کو آگے ضرور بڑھانا چاہئیے۔ دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کا ایک اہم طریقہ علم کو آسان کرکے عام انسانوں تک پہنچانا ہے۔ اردو میں موجود کتابوں میں مذہبی ، ثقافتی اور فکشن پر مبنی تحاریر کی بہتات ہے اور جدید سائنسی موضوعات کا فقدان ہے۔ اگر ہمارے بچے نان فکشن، میتھ، میڈیسن، فزکس اور کیمسٹری نہیں پڑھیں گے تو ہم کیسے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ ان کو سائنس میں دلچسپی پیدا ہوگی؟ ایک سال میں جرمن زبان میں جتنی emperor-of-all-maladies-9781439170915_lgکتابیں چھپتی ہیں ان کی تعداد ان سب کتابوں کو ملا کر ان سے زیادہ ہے جو آج تک عربی زبان میں لکھی گئ ہیں۔ ہم سب کے گھروں میں جرمن سائنسدانوں کی بنائی ہوئی اشیاء استعمال کی جا رہی ہیں۔ ہم سب بیماری میں جرمن ڈاکٹروں کی ایجاد کی ہوئی دوائیں کھاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم انسانی ترقی کے لئے کتنی اہمیت کی حامل ہے۔ اور یہ بھی کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے تعلیم یافتہ لوگوں کی عزت کریں اور ان کے پیغام کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد کریں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اخبار اور کتابیں خریدنے اور ان کو پڑھنے کی شرح ترقی پزیر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اگر لوگ پڑھ نہیں سکتے تو جو پڑھ سکتے ہیں وہ ان کو پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ جب طاقت کا توازن بالکل بگڑا ہوا ہو تو انسان معلومات کو بھی طاقت کے غلط استعمال کے لئے استعمال کرنے لگتے ہیں۔

کتاب لکھنے کے کئی فائدے ہیں۔ جب آپ کتاب لکھنا شروع کرتے ہیں تو اپنی فیلڈ میں کی ہوئی ریسرچ کو پڑھنے سے آپ کی اپنی معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کی آواز لوگوں تک پہنچتی ہے، جو پیغام آپ لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ ان تک پہنچتا ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہیں ، بڑے ہوتے ہیں اور پھر اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔ لیکن انہوں نے جو ریسرچ کی ہوتی ہے اور جومعلومات اگلے انسانوں تک پہنچائی ہوتی ہیں ان سے دنیا میں لوگوں کا بھلا ہوتا رہتا ہے۔ اور مستقبل میں آنے والے لوگ اس کو بنیاد بنا کر اس سے بڑا مینار بنانے کے قابل بنتے ہیں۔

پاکستان میں خواتین میں تعلیم کی شرح افسوسناک حد تک کم ہے۔ جو خواتین پڑھی لکھی نہیں ہوتیں ان کے بچے بڑے ہو کر کم پڑھے لکھے اور غریب بنتے ہیں۔ ہمارے ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ حالات کو خواتین اور بچوں کے لئے محفوظ بنایا جائے ۔ اسکول، راستے، دفتر بند کرنے سے ملک کیسے ترقی کرے گا؟

ایک صاحب نے “وہ سب کچھ جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے” کتاب کے اشتہار کے نیچے کافی منفی تبصرہ کیا کہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد پیسے بنانے کا کچھ چکر ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مصنفہ کا روز گار کافی اچھا ہے اس سے مصنفہ کو ٹھیک ٹھاک پیسے ملتے ہیں۔ اور کتاب اس نے اپنے پیسے دے کر چھپوائی ہے۔ اردو میں تو بیچارے بڑے بڑے نام کچھ پیسے نہیں بنا سکتے۔ ان کی شاعری، کتابیں سب چوری چکاری کے ہاتھ لگ کر سب ملیا میٹ ہے۔ یہاں تک کہ پبلشر تک مسودے چوری کرکے دوسرے ناموں سے چھاپ دیتے ہیں۔ اندھیر ہے۔ آپ ان لوگوں کو پکڑ نہیں سکتے۔ اتنا فالتو ٹائم کس کے پاس ہے متھا ماری کورٹ کچہری کرنے کے لئے؟ سارے سفید پوش ہیں۔ بس واہ واہ سننے کے لئے کتابیں لکھتے ہیں۔ مگر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے۔ اس سے کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی مصنف کی کتاب بہت کامیاب ہوتی ہے اسے بہت سے لوگ خریدتے ہیں، پڑھتے ہیں اور ان کو تقریر کرنے کے لئے دعوت دیتے ہیں تو ان سب باتوں میں کیا برائی ہے؟ یہاں یونیورسٹی میں ہر ہفتے آتے ہیں لوگ لیکچر دینے، ہم ان کی کتابیں نصنف سے سائن کرواتے ہیں۔ سدھارتا richمکھرجی بھی آئے تھے یہاں۔ دنیا میں ساری چیزیں ہم صرف پیسوں کے لئے نہیں کرتے۔ اور لوگوں کو ان کے وقت اور کاوش کے لئے معاوضہ حاصل کرنے کا پورا حق ہے۔ چاہے وہ کسی بھی قسم کی خدمت سرانجام دیتے ہوں۔ پولیس، ڈاکٹر، ٹیچر، مزدور، انجینئر یا اور کوئی بھی کام کرنا اور اس کی تنخواہ وصول کرنا ایک نارمل بات ہے۔ تو اگر مجھے کتاب سے فائدہ ہوبھی جائے گا تو یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اگر کوئی لکھاری صرف کتابیں لکھتا ہے اور اس سے اپنا گھر چلاتا ہے تو اس میں بھی کیا برائی ہے؟ ایب نارمل بات تو یہ ہے کتابیں چرائی جائیں، وڈیو کی نقلیں بنائی جائیں، 40 سال سے بجلی کا بل نہ دیا جائے اور ٹیکس کی چوری کی جائے۔

دنیا میں پیسوں کے بارے میں یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کتاب میں لکھاری نے بہت اچھے طریقے سے اس بات کو بیان کیا ہے کہ دنیا میں محنت کرنا، آگے بڑھنا، دولت کمانا اور اس دولت سے انسانوں کے کام آ سکنے میں کوئی قباحت نہیں۔

سارے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں باقاعدہ ریسرچ کے لئے بجٹ بناتی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ہر سال ان گنت گرانٹس دیتا ہے جس سے لوگ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ریسرچ کرتے ہیں اور کتابیں لکھتے ہیں۔ یہاں تو ریسرچ کرنے والوں کو تنخواہ وصول کرنے پر کوئی منفی تبصرے نہیں دیتا۔ ان سے کوئی نہیں کہتا کہ ساری ریسرچ تو ہوچکی ہے تم اور کیا کرلو گے؟ تبھی یہ لوگ چیزیں ایجاد کرتے ہیں اور ہم صر ف ان سے لئے ہوئے قرضے کے پیسے سے وہ چیزیں خریدتے ہیں۔

اردو میں لکھے بلاگ پڑھتے رہیئے، اردو کتابیں بھی ضرور خریدیے اور پڑھیے۔ اپنے عزیزوں کو کتابیں تحفے میں دیجئے، اپنے شعبے میں ترقی کیجئے۔ آپ بھی ہمت نہ ہاریے اور اپنی کتاب لکھیے۔ دنیا کو آگے بڑھائیے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کتاب پڑھیئے۔۔۔ اور اپنی کتاب لکھیئے 

  • 27-04-2016 at 11:43 am
    Permalink

    بہت خوب! یقین جانئیے آپ کی یہ خوبصورت تحریر پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ، ’’کاش کہ ہم سب کے دل میں اتر جائے یہ بات‘‘ اور ہمارے معاشرے میں کتاب سے محبت اور تحقیقی زاویہ نگاہ سے کتب لکھنے کا شعور بیدار ہو جائے، اور نئی سوچ کو آگے منتقل کرنے کی روش عام ہو جائے۔

  • 27-04-2016 at 1:15 pm
    Permalink

    بہت جاندار تحریر ہے۔ پڑھ کر تحریک ملتی ہے کہ ابھی کے ابھی ایم ایس آفس کی فائل کھولی جائے اور اس میں اپنی ’’کتاب لکھنا‘‘ شروع کر دیا جائے۔ مگر۔۔۔ لیکن،،، پر،،، تو،،،
    یہ وہ تمام راکاوٹیں ہیں جو ایک لکھاری تبھی عبور کر سکتا ہے جب اسے کم از کم ایک قاری میسر ہو۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ۔۔۔

    جلدوں کے زندانوں میں
    لفظ قاری ڈهونڈتے ہیں

  • 27-04-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    کتنی اچھی تحریر ہے۔ کاش اس میں رچ ڈیڈ پور ڈیڈ کا ذکر نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.