میرا وطن میرا جرم نہیں


inam-rana-3قصور نذیر مسیح کا اپنا تھا۔ اچھے گھر میں تو چلو پیدا ہو گیا مگر چاہیے تھا کہ پڑھنے کے بجائے شراب کا پرمٹ بنواتا اور عزت کی روٹی کماتا۔ پڑھ بھی گیا تھا تو پاکستان کے پرچم میں موجود سفید رنگ کو اتنی سنجیدگی سے لینے کی کیا ضرورت تھی۔ بے وقوف نے یہ غور بھی نہیں کیا کہ سفید حصے میں تو ہم نے ڈنڈا دے رکھا ہے۔ تو قصور نذیر مسیح کا اپنا ہی تھا۔

نذیر مجھے لندن میں اچانک ملا اور کافی عرصے تک مجھے تو اندازہ ہی نہہیں ہوا کہ وہ محمد نذیر نہیں بلکہ نذیر مسیح تھا۔ جب بھی فون کرتا انعام بھائی اسلام علیکم کہ کر بات کرتا اور اور کئی بار انشااللہ ماشااللہ بھی کہ لیتا۔ سو جب اس نے ایک دن یہ انکشاف کیا کہ وہ مسیحی ہے تو مجھے حیرت ہوئی۔ نذیر سٹوڈنٹ تھا اور دو ہزار دس کے بعد برطانیہ آنے والے اکثر سٹوڈنٹس کی طرح بے حال تھا۔ کالجوں کے نام پر لندن میں سٹوڈنٹس کے ساتھ جو فراڈ ہوے اور کیسے قصائی، دھوبی اور ٹیکسی ڈرائیور بھی کالج بنا کر پاکستانیوں کو سپنے بیچتے رہے، یہ ایک المناک کہانی ہے۔ نذیر بھی اسی سپنے کی تعبیر دیکھنے لندن آیا تھا اور اب پریشان پھرتا تھا۔ نذیر پاکستان کے ایک مڈل یا لوئر مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوا جو ان روایتی پیشوں میں نہیں تھے جن تک ہم نے اپنی اقلیت کو محدود کر دیا ہے۔ گھرانا کچھ پڑھا لکھا اور محنتی تھا اور ترقی کا خواہش مند۔ سو نذیر بھی بچپن ہی سے علم کے حصول میں لگ گیا۔ سکول جا کر نذیر کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے۔ بچے عموماً اس سے زرا فاصلہ رکھتے تھے اور اس کے ساتھ لنچ شیئر کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اگرچہ دوسرے بچے ایک دوسرے کو گھر بلاتے تھے مگر اس کے گھر نہ کوئی آتا تھا اور نہ اسے بلاتا تھا۔ لے دے کر بس ایک احمد تھا جو اس کا دوست بھی تھا اور اس کا برتاؤ بھی مختلف نہ تھا اگرچہ گھر وہ بھی نہیں بلاتا تھا۔ دوستی کے دو سال بعد جب نذیر ایک دن احمد کے گھر گیا تو اس کی امی نے اسے بہت پیار کیا اور مزے مزے کی چیزیں کھلائیں۔ اتنے میں احمد کے ابو بھی آ گئے اور باتوں باتوں میں اس کے ابو کا نام پطرس سن کر چونک گئے۔ تھوڑی دیر میں احمد کے گھر سے نکلتے ہوے نذیر نے احمد کے ابو کی غصے بھری آواز سنی، “اوئے تجھے دوست بنانے کو یہ چوہڑا ہی ملا تھا؟”۔ نذیر اس کے بعد کبھی کسی دوست کے گھر نہیں گیا۔

شاید یہی واقعہ تھا جس نے نذیر کے اندر ایک تبدیلی پیدا کی۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے خود کو نذیر مسیح کے بجائے نذیر بھٹی کہنا شروع کر دیا۔ اس کی گفتگو میں اسلام و علیکم اور دیگر اسلامی اصطلاحات کا استعمال زیادہ ہو گیا۔ صاحبو کبھی غور کیجیے، پچھلے تیس برس میں ہمارے ملک میں پیدا ہونے والے اکثر اقلیتی بچوں کے نام ایسے ہیں کہ مسلمان مسلمان سے معلوم ہوتے ہیں۔ اب پطرس، جوزف، الزبتھ اور یوحنا کی بجائے عمران، شیراز اور آفتاب جیسے نام رکھے جاتے ہیں۔ گفتگو میں سلام، انشااللہ اور ماشااللہ کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے کہ شاید برابر سمجھ لیا جائے۔ بطور ایک قوم شاید ہمارے لیے اس سے زیادہ شرمندگی کی اور کوئی بات نہ ہو۔ نذیر یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی برابر نہ بن سکا۔ وہ سمجھا کہ سفید رنگ کی علامت اسے اہم بناتی ہے مگر بھول گیا کہ ذات پات میں ڈوبی اکثریت تو ایک دوسرے کو برابر نہیں سمجھتی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہم مسیحیوں کو چوہڑا کہ کر اس لیے تحقیر نہیں کرتے کہ ہم مسلمان اور وہ غیر مسلم ہیں۔ بلکہ یہ صدیوں پرانی ذات پات اور چھوت چھات کا نظام ہے۔ اسلام آنے پر جو سابقہ اچھوت مسلمان ہوے وہ کبھی بھی اعلی ذات کے برابر مسلمان نہ تھے۔ اسی طور انگریز کے آنے پر جو لوگ یہ سمجھ کر عیسائی ہوے کہ وہ بادشاہ کی ذات پا کر عزت پائیں گے، کبھی بھی انگریز نہ ہو سکے۔ آج بھی کوئی عیسائی مسلمان ہو جائے تو مصلی ہوتا ہے یا مسلم شیخ۔ ورنہ تو آج بھی عمر کوٹ کے ہندو رانا کی عزت کئی نومسلم مسلمانوں سے زیادہ کی جاتی ہے۔

نذیر کالج میں تھا جب حکومت کے خلاف کسی بات پر ایک کلاس فیلو نے کہا “تم لوگ پاکستان کے سگے ہو ہی نہیں سکتے، تم اپنے سگے انگریزوں کے پاس چلے جاؤ اگر “ہماری حکومت” سے اتنا مسئلہ ہے”۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ نذیر کو کمتر پاکستانی سمجھا گیا۔ فوج اور حکومت کے خلاف وہ بات جو اس کے مسلمان دوست آرام سے کہ دیتے، اگر نذیر کہتا تو غداری تھا۔ تنگ آ کر ایک دن نذیر نے واقعی باہر جانے کا سوچا۔ برطانیہ کے سٹوڈنٹ ویزے آسان تھے اور خواب بیچنے والے ایجنٹ ہر گلی۔ سو اس نے بھی سٹوڈنٹ ویزہ لیا اور لندن آ گیا۔ آتے ہوے نذیر چرچ اور کمیونٹی لیڈر سے اچھا عیسائی ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی لایا تھا۔ لندن میں بھی وہ باعمل عیسائی تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اپنوں میں آ گیا ہے اور زندگی بہتر ہو گی۔ لیکن پہلا جھٹکا اسے تب لگا جب کچھ ملازمتوں پر اسے یہ کہ کر انکار کیا گیا کہ پاکستانی نہیں رکھے جا سکتے۔ نذیر کو ایک لڑکی پسند آئی۔ جب اس نے اظہار محبت کیا تو لڑکی نے ٹکا سا جواب دیا؛” او نو، میں پاکستانی کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ خطرناک لوگ”۔ مگر میں عیسائی ہوں، نذیر نے بیچارگی سے کہا۔ مگر ہو تو پاکستانی، پولش محبوبہ نے جواب دیا۔ جب سٹوڈنٹ رہ کر دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل ہو گیا تو ایک دوست کے مشورے پر نذیر نے اسائلم اپلائی کر دیا۔ ایک لمبے انٹرویو کے بعد اس کی درخواست مسترد کر دی گئی یہ کہ کر کہ ہم نہیں سمجھتے تم پاکستان میں غیر محفوظ ہو۔ کنٹری رپورٹ کے مطابق عیسائی پاکستان میں خوف کے بغیر رہ سکتے ہیں سو تم واپس جاؤ۔ اسی اثنا میں ایک لڑکی نذیر پر ریجھ گئی اور دونوں کی شادی ہو گئی سو ڈی پورٹ ہونے سے تو بچ گیا۔ بیوی بہت پیار کرتی ہے مگر اس کے گھر والے ایک پاکستانی سے اپنی بیٹی کی شادی پر خوش نہیں ہیں۔ نذیر نے بتایا کہ انھوں نے میرے برتن علیحدہ رکھے ہوے ہیں، جیسے پاکستان میں لوگ عیسائی ملازم کے علیحدہ رکھتے ہیں۔

ایک دن شاید سسر نے پاکستانی ہونے پر کچھ کڑوی بات کر دی تو غصے میں بھرا مجھے ملنے آ گیا۔ غصے میں بولتا رہا اور پھر شکستہ سی آواز میں بولا “انعام بھائی پاکستان میں میں اچھوت تھا کہ عیسائی ہوں اور لندن میں اچھوت ہوں کہ پاکستانی ہوں۔ میں تو اپنے وطن میں بھی مہاجر تھا اور یہاں بھی، بتائیں میرا اپنا وطن پھر کون سا ہے”؟ میرے پاس جواب نہیں تھا، میں نے سگریٹ سلگا کر فیس بک پر تائب مرزا کی آپ بیتی کی تازہ قسط پڑھنا شروع کر دی۔


Comments

FB Login Required - comments

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 35 posts and counting.See all posts by inam-rana

10 thoughts on “میرا وطن میرا جرم نہیں

  • 27-04-2016 at 6:36 am
    Permalink

    میرے خیال میں ایسی بدتمیزی دیسی عیسائیوں‌ کے ساتھ خاص طور پر پاکستان میں‌ دو وجوہات کی بنا پر کچھ زیادہ ہوئی۔ ایک تو یہ کہ ریاست کا مذہب اسلام طے کر دیا گیا۔ اس طرح شروع سے ہی ایک مذہب کو دوسروں‌ پر فوقیت دے دی گئی تو لوگ بلاوجہ ہی خود کو دوسروں سے بہتر اور بلند سمجھنے لگے چاہے اصل میں‌ ایسا ہو یا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ عیسائی نہایت کم تعداد میں‌ تھے اس لئیے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا حساب ہوگیا۔

  • 27-04-2016 at 6:44 am
    Permalink

    Yes it was one of the main reasons Lubna

  • 27-04-2016 at 7:56 am
    Permalink

    آپ حد کرتے ہیں صاحب.. عیسائی بچے دعائے قنوت اور دوسری سورتیں رٹ رہے ہوتے ہیں… اکثریت اخلاقیات کے بجائے اسلامیات کا ہی مضمون رکھ لیتی ہے.. مجھے ایک بات بتا دیں رانا صاحب ہمارے سرکاری سکولز کے ماتھے اور دیواریں اسلامی احکامات سے بھری ہوتی ہیں کیا یہ کافی نہیں ہے کہ یہاں کیا پڑھایا جائے گا اور کس قدر فری انکوائری کی اجازت ہو گی… طالب علم عیسائی ہو مسلم ہو یا ہندو ہمارے اسکولز میں جب پہلے دن داخل ہو گا تو ماتھا اور دیواروں اس کو یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ… پتر حتمی سچ یہی ہے باقی دن پورے کرو…. کاش بات اسکول کے درودیوار تک محدود رہتی.. سارا نصاب مبنی بر تعصب ہے..

  • 27-04-2016 at 9:27 am
    Permalink

    Rana sb, tusi aap bohat nikammay te nalaiq choohrray o, saada gand saaday samnay dher kar deinday o, apni bo naal ee damagh sarrda rehnda ey, Berra Gharaq.

  • 27-04-2016 at 10:35 am
    Permalink

    بہت ہی عمدہ انداز میں آپ نے نذیر کا مقدمہ پیش کیا ہے. مجھے یاد ہے جب میں ہاسٹل میں تھی تو کمرے کی صفائی کرنے ایک کرسچن آپا آیا کرتی تھیں. میں ان سے اپنے برتن بھی دھلواتی تھی. یقین مانیں بہت سی لڑکیوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی ان سے بس صفائی کا کام کروایا کروں اور برتن دھلوانے کے لیے کھانا بنانے والی مسلمان آپا کو رکھ لوں. جب پڑھے لکھے لوگوں کا یہ حال ہے تو باقی معاشرے کی سوچ کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں.

  • 27-04-2016 at 10:50 am
    Permalink

    المیہ ہے صاحب۔یہ تو آپ نے ایک کی داستان لکھی ہے۔یہاں تمام اقلیتوں کو ہی ڈنڈا دیا گیا ہے۔سندھ میں بسنے والے ہندوں کی حالت زار۔احمدیوں پر ہونے والے مظالم اور عیسائیوں کی بستیاں جلانا اور بھٹے میں زندہ جلانا جیسے واقعات ہمارے ملک کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
    بات یہ ہے کہ جب ریاست داڑھی رکھ لے اور شلوار ٹخنوں تک کر لے تو پھر یہی کچھ ہوگا۔

  • 27-04-2016 at 12:35 pm
    Permalink

    صورتحال بلاشبہ تشویشناک ہے۔ لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس کی جڑیں اسلام یا قرار داد مقاصد سے زیادہ ہندوستان کے ذات پات کے نظام میں ہیں۔ برصغیر کے مقامی عیسائیوں کی اکثریت کا تعلق “نچلی” ذاتوں یا آؤٹ کاسٹس سے ہے جو کہ دراصل ہندوستان کے قدیم دراوڑی باشندوں پر مشتمل ہیں جنہیں آریاؤں نے محکوم بنایا۔
    یہ ایک دلچسپ مگر ایک ناپسندیدہ صورتحال ہے کہ سفید فام اور عربوں کی طرح اہل ہندوستان بھی ایک نہایت متعصب ہیں

    • 27-04-2016 at 1:13 pm
      Permalink

      I also indicated in the same direction

  • 28-04-2016 at 1:50 am
    Permalink

    عرب تو متعصب ہیں پر اسی لاٹھی سے سفید فام اقوام کو ہانکنا ۔۔۔۔ چہ خوب ?

Comments are closed.