یہ خاموشی آواز نما، کچھ کہتی ہے


razi uddin raziبہت دنوں سے دل بہت بوجھل ہے اوریہ کوئی پہلی مرتبہ تونہیں ہوا۔ ہم جس معاشرے میں سانس لینے پر مجبورہیں وہاں ہمیں بارہا ایسے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ دل اگر بوجھل ہو تو ہم ایسے میں قلم کا سہارا لیتے ہیں، کوئی غزل، نظم یا کالم تحریر کر دیتے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں قلم کے ذریعے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ ہمارا جی دل کی بھڑاس نکال کر اپنا بوجھل پن قارئین کی جانب منتقل کرنے پر بھی آمادہ نہیں ہوتا۔ ایسے میں چپ کی چادر تان لینے کو جی چاہتا ہے۔ چپ کی چادر بھی ہم نے کوئی ایک مرتبہ تو نہیں تانی۔ ہم نے بارہا ایسے لمحات میں خاموشی اختیار کی اور پھر کچھ عرصہ بعد ذہن دوبارہ اظہار پر آمادہ ہو گیا۔ لیکن اس مرتبہ تو چپ کا روزہ ضرورت سے زیادہ ہی طویل ہو گیا ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران بہت سے ایسے موضوعات گرفت میں آئے کہ جن پر رائے زنی کو جی چاہا۔ بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے کہ دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان پر اپنی رائے دی جائے۔ لیکن ہرمرتبہ بات کرنے میں ناکامی کا سامنا کرناپڑا۔ سو خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی کہ جوتلخی اور انتشار ہمارے دل و دماغ میں موجود تھا اسے احاطہ تحریر میں لانا شاید ممکن ہی نہیں تھا۔ ممکن بھی ہوتا تو اس کے نتیجے میں مزید انتشار کی کیفیت پیدا ہوجاتی اور مزید انتشار سے گزرنے کی ہم میں ہمت نہیں تھی۔ خاموشی کے یہ لمحات دراصل اپنے محاسبے اور خود کلامی کا موقع بھی دیتے ہیں۔ سو ایسے میں ہم بہت سے سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھراحساس ہوتا ہے کہ سوالوں کے جواب اگر مل جائیں تو سارا جھگڑا ہی نہ ختم ہوجائے۔ یہ سوالوں کا جواب نہ ملنا ہی تو ہمیں انتشارمیں رکھتا ہے۔ انتظار میں رکھتا ہے۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ کہیں کوئی جواب مل جائے تو انتشار ختم ہو جائے۔ لیکن نہ انتشارختم ہوتا ہے اور نہ ہی انتظار۔

سوال یہ ابھرتا ہے کہ وہ لفظ جو کبھی ہمیں مطمئن کردیتے تھے اب غیرمطمئن کیوں کردیتے ہیں۔ گردوپیش میں اڑنے والی گرد نے سب کچھ اس طرح سے دھندلا دیا کہ ہم جھوٹ سچ اور کھرے کھوٹے کی تمیز ختم کربیٹھے۔ اورتمیز بھی کچھ اس طرح سے ختم ہوئی کہ ہمیں یہ محسوس ہونے لگا کہ جیسے سب کھوٹے ہی کھرے ہیں اور جنہیں ہم کھرا سمجھتے رہے یا سمجھتے ہیں دراصل وہ ہی کھوٹے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تمیز ختم ہونے کے بعد یہ جان لیوا احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ جیسے ہم خود کو جیسا سمجھتے ہیں درحقیقت ویسے نہیں۔ اپنی سچائی کا پرچم بلند کرنے کے باوجود یہ احساس ہوتاہے کہ جیسے ہم نے جھوٹ کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ جب آپ کو سچ کہنے کے باوجود باربار اپنی سچائی ثابت کرنا پڑے تو پھر ایسی ہی کیفیات سے دوچارہونا پڑتا ہے۔ مانا کہ قدریں تبدیل ہو گئیں۔ مانا کہ مفادات کی دوڑ میں سب ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔ مانا کہ اعتماد کے رشتے ٹوٹ گئے اورمانا کہ یہ دور یزیدوں کو شہیدوں کا درجہ دینے کا ہے۔ تو کیا ہم ہار مان لیں؟ تو کیا ہم چپ کی چادر تانے رکھیں؟ ان سوالات کا جواب ہمارے پاس تو نہیں۔ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ خاموشی کا شور اب چہار جانب سنائی دینے لگا ہے ۔ اوریہ شور اب ہماری برداشت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments