نوجوان نسل، سیاسی پارٹیاں اور سیاست


\"2\"سیاسی جماعت بنیادی طور ریاست کے اندر سیاسی کارکنان، ماہرین اور دانشوروں کی ایسی تنظیم کا نام ہے جو ایک خاص سوچ اور نظریے کے تحت عوام کی خواہشات اور مطالبات پر مبنی نظام حکومت بناتی ہے۔ سیاسی جماعت کے تنظیمی ڈھانچے ریاست کے ڈھانچوں کے مماثل یا متبادل بنائے جاتے ہیں۔ تنظیمی عہدے دار بالخصوص سیاسی جماعت کی سپریم کونسل ریاست کی متبادل کابینہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ جس میں ریاستی کاروبار چلانے کے لئے مختلف شعبہ جات کے ماہرین تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح سپریم کونسل کے بعد آنے والے اداروں میں بھی اپنی اپنی سطح پر امور مملکت چلانے کے لئے ماہرین اور معاون تیار کئے جاتے ہیں۔ برسر اقتدار آنے سے قبل سیاسی جماعت اپنے تمام اداروں کو منظم اور مضبوط کرتی ہے اور ارکان جماعت کی سیاسی و اخلاقی تربیت سمیت دیگر ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ نئی ممبر شپ اور تنظیم سازی کر کے زیادہ سے زیادہ عوام کی پرتوں کو ساتھ جوڑا جاتا ہے اور سماجی ڈھانچوں میں داخل کر کے ہم آہنگی پیدا کی جاتی ہے۔ صحت اور تعلیم سمیت بنیادی انسانی حقوق، ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کے امور کی نگرانی کی جاتی ہے تا کہ اگر ریاستی ادارے پہلو تہی برتیں یا تساہل سے کام لیں تو سیاسی جماعت کے کارندے اس کی خبر لیں سکیں اور ضرورت کے تحت ریاستی ادارے کو معاونت اور مدد دیں۔ سیاسی جماعت کا کردار ریاست کے اندر ریاست کا ہونا چاہیے، محض اقتدار کی ہوس اور انتخابی پارٹی تک محدود رہنے سے صورتحال موجودہ عہد کی سیاسی جماعتوں کی سی ہوگی۔

آج کی سیاسی پارٹیوں کی اکثریت ایسی ہے جو محض اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں اور جب ان کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو ان کی پارٹی اقتدار کے ایوانوں میں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اقتدار پارٹی کی بجائے چند افراد کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ تعمیر و ترقی اور عوام کے بنیادی حقوق کی بازیابی کی بجائے کرپشن اور ریاستی اداروں کی لوٹ کھسوٹ کی صورت میں نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ دن رات محنت کرنے والے کارکن اقتدار سے باہر ہوتے ہیں اور ان کا ریاستی امور میں بالکل بھی کردار نہیں ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ پارٹی کے تمام ادارے اور چھوٹے سے چھوٹا پارٹی کارکن بھی اقتدار کا حصہ ہو اور ریاستی امور میں حکومت کا ہاتھ بٹائے۔ تب حقیقی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ فلاں پارٹی برسر قتدار ہے۔

پاکستان میں پارٹی اندراج کا کوئی معیار نہیں ہے۔ زیادہ تر پارٹیوں کی رجسٹریشن غلط بیانی کر کے اور رشوت دے کر کرائی جاتی ہے۔ چیئرمین سمیت تمام عہدیدار جعلی بنائے جاتے ہیں۔ آج کی بڑی پارٹیوں کے قائدین اور راہنما پانامہ پیپرز کی زد میں ہیں۔ پاکستان میں سیاست اور سیاسی پارٹیوں کی یہ معمولی جھلک ہے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حقیقی سیاسی کارکنان کو لطف اندوز ہونے کی بجائے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔ عہد تقاضا کر رہا ہے کہ حقیقی قیادت کو ابھارا جائے اور ایک ایسی سیاسی پارٹی کی تعمیر کی جائے جو عوام کی حقیقی نمائندہ ہو۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ ہمیں تقلید کی بجائے تحقیق سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جس سیاسی جماعت یا گروہ کے ساتھ ہم وابستہ ہیں۔ اس سیاسی جماعت کا بنیادی فلسفہ کیا ہے۔ منشور کیا ہے۔ تنظیمی ڈھانچے جمہوری بنیادوں پر تشکیل دیے گئے ہیں۔ محض نعروں اور جذبات کی بنیاد پر کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان کے اس پر فتن دور میں آج بھی کچھ لوگ سچائی کا علم اٹھائے ہوئے ہیں اور انسانی اخلاقیات پرمبنی سیاسی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ، میر حاصل بزنجو کی مثال موجود ہے جو نیشنل پارٹی کی شکل میں مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی دو سال بلوچستان میں برسراقتدار رہی ہے۔ محدود اختیارات کے ہوتے ہوئے بھی نیشنل پارٹی نے عوام کے بنیادی حقوق کے جدوجہد کی ہے۔ پارٹی قیادت آج بھی وہی اثاثے رکھتی ہے جو اقتدار سے پہلے تھے۔ کرپشن، بدعنوانی کا ایک بھی الزام نہیں ہے۔ نیشنل پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے خالص جمہوری بنیادوں اور طریق پر تشکیل دیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایسی ایک پارٹی کی ضرورت ہے جس ہر ایک کارکن اپنا کرادر آزادی سے ادا کر سکے۔ پارٹی میں کردار کیلئے کسی سرمایے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔ کارکن اپنی صلاحیت اور سیاسی کام کی بنیاد پر پارٹی میں اپنا سفر کرے۔ نیشنل پارٹی میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ جس کا تقاضا عہد کر رہا ہے۔

پاکستان میں آج ریاست اور سیاست دونوں کی بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ سچے جذبوں کے حامل نوجوان سیاسی کارکنوں کو جذباتی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر سامنے آنا ہوگا۔ ملک،قوم اور سیاست کو آج سچی اور کھری قیادت کی ضرورت ہے۔ آئیں ایک نئی سچی قیادت کی تعمیر کریں۔ نوجوان نسل پر یہ فرض اور قرض بھی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔