جنگل بک: فلم سے فلسفے اور جذبے تک


\"atifسنیما سے باہر نکلتے ہوئے میں کچھ سن رہا تھا۔ اُن چند باتوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ کیا یار کیا بچوں جیسی فلم بنائی ہے! سوال نما خیال گذرا کہ کیا کریں ہم اس حسّیت کا جو موگلی اور جنگل کے اندر چلنے والی چپقلش کو صرف بچوں تک محدود کر دینے پر آمادہ ہے۔ آپ تاریخ کی ہر چوکھٹ پر نہ سہی، معدودے چند پر ہی قدم رکھ کر دیکھیں۔ تمام تہذیبی زوال میں کیا موسم اور ماحول میں ہونے والی مہیب تبدیلیاں ہمیں نہیں دکھتی ہیں؟ لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ ممکن ہے یہ ایک سائنسی پہلو ہو لیکن اسی پہلو کے اندرونی خول میں پوشیدہ اُس سماجیات کو بھی بہرحال دیکھیں جو جان فیورو نے دکھانے کی کوشش کی ہے۔جی ہاں! بات ہو رہی \’دی جنگل بُک\’ کی۔

تمام تر نقائص کے باوجود جنگل بک اگر آپ کی انسانی سرشت پر مہمیز نہیں لگاتی تو جائیے آپ سے اور کیا توقع کریں ہم! آپ سے کیا امید کریں کہ آپ \’دلّی سفاری\’ \’مسٹر اینڈ مسز ایّر\’ یا \’مسان\’ جیسا کچھ دیکھ پائیں گے! دیکھیں گے بھی تو پردہٴ سیمیں سے نظر ہٹاتے ہی دشنام طرازی کریں گے یا اسے وقت کے ضیاع  سے تعبیر کریں گے۔ جنگل میں چلنے والی وہ محض ایک کہانی بھر نہیں ہے، کئی متوازی کہانیاں بھی اس میں مسلسل جاری تھیں۔ لیکن ان متوازی کہانیوں کو احساس کی دہلیز تک لانے کے لئے آپ کو شرط اوّلیں کی حیثیت سے حسیت سے مملو ایک عدد دلِ آشنا درکار ہوگا۔ اس کے لئے مجھے ضرورت پڑی زبان کی اور یوں میں نے فلم انگریزی میں نہ دیکھ کر ہندوستانی زبان میں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ وجہ یہ تھی کہ انگریزی میں دیکھ کر فلم اور سماج سے میں شاید اُس سطح تک خود کو وابستہ نہ کر پاتا جتنے کی مجھے ضرورت تھی۔ اسی لئے میں نے نانا پاٹیکر، اوم پوری، عرفان خان اور پریانکا چوپڑا کی صوتی کھنک کو ترجیح دی۔

\"jungle\"شکر ہے یہ قدرے با ثمر بھی رہا۔ عوام کی بات کیا ہی کرنا، خواص (خواص سے مراد سمجھ رہے نا آپ؟ خواص مطلب وہ طالبین جو ہمہ وقت ادب اور ہیومنیٹیز میں ڈوبے رہتے ہیں) بھی جب \’شیر خان\’ کے کردار میں نانا کی آواز سے گدگدی محسوس کریں تو خواص سے بھی کیا توقع کریں ہم؟ جواز میں کہتے ہیں اصل میں بچپن میں گھر کا ایک مکھیا ہوتا تھا جو ہر قدر کو طے کرتا تھا اور حکم عدولی پر شیر خان کی طرح چراغ پا ہوتا تھا۔ ایسا جواز کم از کم میرے حلق سے تو نیچے اترنے سے رہا، آپ کا پتہ نہیں۔ میرے لئے تو شیر خان دہشت، انتقام اور ذہنی اجارہ جاری کا استعارہ تھا۔ بقیہ کرداروں میں مادہ بھیڑیا \’رَکشا\’ یعنی موگلی کی ماں سراپا ممتا ہے، موگلی کا باپ نر بھیڑیا \’اکیلا\’ سراپا قربانی و ایثار حتٰی کہ جان دینے کی حد تک۔ \’بگیرا\’ سراپا مصلح و مربّی اور سب سے آخر میں \’بلّو\’ نامی بھالو وفا داری کی حد تک ایک وفا شعار دوست۔ ان تمام کرداروں کا اطلاق انسانی سماج پر کئے بغیر کیا یہ کہہ دینا کافی ہے کہ فلم گدگداتی ہے؟ تو خواص جسے گدگدانا کہتے ہیں میرے نزدیک وہ جھکجھورنا ہے۔ خواہ وہ کمپیوٹر گرافکس کی مدد سے جانوروں کے چہرے پر ابھرنے والے جذباتی تاثرات ہوں یا وہ مکالمات جو ہمارے مہذب، ترقی یافتہ سماجی اکائی پر زوردار طنز نما طمانچے کے سوا کچھ نہیں۔

شیر خان کے دہشت انگیز دبدبے کے سامنے اگر ایک بھیڑیا ماں کو یہ کہنا پڑ جائے کہ یہ(موگلی) کہیں نہیں جائے گا، یہ میرا بیٹا ہے، اگر یہ انسانوں میں جائے گا تو انسانوں جیسا ہو جائے گا۔ اس طنز کی چوٹ یا خلش (جو مناسب سمجھیں،کہیں آپ!) میں کئی دنوں تک محسوس کرتا رہا تھا۔ اگر آپ اتنے واضح اور غیر مبہم طنز کو محسوس نہیں کر سکتے تو ادب و ہیومنٹیز کا مطالعہ چھوڑیے اور کسی کارخانے کی مشین بن جائیے۔ \’لوئی\’ (بندروں کا راجہ) کی \’رکت پھول\’ کو کسی بھی صورت میں حاصل کر لینے کی اُس تڑپ اور جلدبازی کو محسوس تو کیجئے۔ مجھے یقین ہے،استعاراتی سطح پر،موجودہ دور میں جوہری ہتھیاروں کو حاصل کر لینے کی بھیڑچال کو بخوبی سمجھ جائیں گے آپ، جو اب اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔ فلم میں اُن چھوٹے چھوٹے ناتواں جانوروں مثلاً مینڈک، گلہری، چوہا، ہرن اور بھینس وغیرہ کی بات بھی غیر معنوی ہرگز نہیں ہے جو انسان کو دیکھ کر چونک جاتے ہیں اور حیرت زدہ استفساری لہجے میں چہ میگوئیاں کرتے ہیں \”انسان کا بچہ،انسان کا بچہ!\”۔ وہ سب ہمارے پورے سماج کے اُس حاشیہ بردار طبقات کے نمائندے ہیں جنہیں کسی نا کسی صورت میں بہت پیچھے دھکیل دیا گیا ہے اور وہ حکمراں طبقے کو دیکھ کر یا سوچ کر استفساری ہو جاتے ہیں۔

\"jungle2\"اگر آپ مقامیت کے مذاق سے آشنائی کے خواہاں ہیں تو اس طبقے کو سماج کا \’رس\’ اور ماحصل سمجھ کر بچانا ہوگا۔ حاشیہ بردار جانوروں کی زبان پر چلنے والا جملہ \”انسان کا بچہ\” محض ایک جملہ نہیں ہے۔ یہ ہر طاقتور معمار اور چھوٹے، بظاہر بے کار، جانور کے تئیں شمولیت پسند، دوستی اور قبولیت کا پیغام ہے ورنہ جنگل میں کس کی مجال تھی کہ ہاتھیوں کے قریب جانے تک کی جرأت کرتا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ناتوانی و بے کاری، عبث اور مہمل نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو \’پہاڑ اور گلہری\’ کے سیاق میں اقؔبال کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں،کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔ فلم اول تا آخر تک کچھ نہ کچھ کہنا چاہتی ہے۔ شیر خان پر ایک جتھے کی شکل میں ٹوٹ پڑنے والی بھیڑیوں اور جانوروں کی بھیڑ میں جب موگلی بھی شیر خان کا قلع قمع کرنے کے لئے دوڑ پڑتا ہے تو بگیرا ایک جست میں اسے اپنے پنجوں کے نیچے دبا کر کہتا ہے\”یہ بھیڑیوں کا طریقہ ہے، تم بھیڑیے نہیں انسان ہو، جاؤ انسانوں کی طرح لڑو\” اور پھر موگلی کا شیر خان کے ساتھ مقابلہ کہ جس میں اختصاص کے ساتھ ہدف متعین ہے موگلی کا۔ کیا خواص نے اس مکالمے کی شدت کو محسوس نہیں کیا؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب وقت آ گیا ہے، اگر ایسا نا ہوا تو ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ تاریخ کا سفر دائروی ہوتا ہے اور اس دائروی سفر میں ہم کولن ولسن کے اس قول کے مصداق بن جائیں گے کہ جب انسان نے پہلی بار کسی تالاب میں اپنی صورت دیکھی تو حیران رہ گیا۔ اچھا! تو یہ \’میں\’ ہوں؟ اور غضب ہو گیا کہ پھر \’میں\’ کی خون آشام تلوار میان میں کبھی واپس نہیں گئی۔

کہانی کے سارے ستون جنگل پر رکھے ہونے کے باوجود یوں جنگل بک کا مجموعی تاثر ہمیں ترقی اور زوال کی صلیب تک لا کر چھوڑ دیتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments