اور اگر میرے دونوں بازو سلامت ہوں۔۔۔؟


mustafa malik بچپن میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر آرمی پریڈ دیکھتے تھے اور پھر سب مل کر سارا دن گلی میں لیفٹ رائٹ کرتے رہتے تھے، تب ہمارے ذہن میں لیفٹ اینڈ رائٹ کا تصور فوجیوں کی پریڈ تک ہی محدود تھا۔ سکول پہنچتے تو ماسٹر صاحب نے بتایا کہ لیفٹ کا مطلب ہوتا ہے بائیاں اور رائٹ کا مطلب ہوتا ہے دائیاں اس طرح سکول میں بھی رائٹ اینڈ لیفٹ کا ہمارا تصور سمت کے تعین سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اچھا زمانہ تھا بیشتر وقت تو رائٹ ہی چلتے مگر جب دل اکتا جاتا تو لیفٹ کو ہو لیتے کسی نے کبھی نصیحت نہیں کی کہ میاں یہ کس رستے چل پڑے آپ۔ دائیں بائیں رستے بدلتے ہم کالج جا پہنچے، کالج کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے جس میں انسان تمام مروجہ قوانین اور اقدار سے بغاوت پر مائل ہو جاتا ہے، منہ زور ندی کی مانند اپنا رستہ خود بنانا چاہتا ہے۔ دائیں بائیں اوپر نیچے تمام سمتوں کے مراکز اور منازل کو کھوجنا چاہتا ہے۔

ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، کالج لائبریری سے منٹو کے افسانے کی کتاب مانگی تو لائیبریرین نے عینک کے اوپر سے ایسے گھور کر دیکھا جیسے ہم نے کوئی غلط چیز مانگ لی ہو۔ ہم بھی کچھ نادم سے تھے کیونکہ منٹو صاحب کے افسانوں کی مجموعی شہرت کالج میں کچھ اچھی نہ تھی جو شریف اور پڑھاکو طالبعلم تھے وہ نسیم حجازی کے ناول بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے اور منٹو اور منٹو جیسے لوگوں کو پڑھنے والے لوفر گردانے جاتے تھے۔ طالبعلموں کی اس واضح سوچ اور تفریق سے بھی ہمیں رائٹ اور لیفٹ کو سمجھنے میں کوئی خاص مدد نہ ملی اور اس میں کالج کی کوتاہی کی نسبت ہماری اپنی لاپرواہی کا عمل دخل زیادہ تھا۔

لیفٹ اور رائٹ کی سمجھ ہمیں اس وقت آنا شروع ہوئی جب اس کے ساتھ بازو لگ گیا یعنی دایاں بازو اور بایاں بازو۔ سمجھانے والے اس کی تشریح آسان الفاظ میں اس طرح کرتے تھے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور جن کا مذہب سے برائے نام واسطہ ہے وہ بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ تمام لوگ جنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے قربانیاں دیں اور نیک راستے پر ہیں وہ دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں اور وہی غالب و اکثریت میں ہیں اور رہیں گے۔ ہم بھی بغیر سوچے سمجھے اس اکثریت کی پیروی کرنے لگے، سڑک پہ دائیں ہاتھ چلنا، دائیں کروٹ پہ سونا، سارے کام دائیں ہاتھ سے کرنا اور جب کبھی بائیں بازو والوں کی حرکت پہ غصہ آئے تو دائیں ہاتھ کا مکا بنا کر بائیں ہاتھ پر مارنا ہمارے معمول کا حصہ بن گیا۔

جب یونیورسٹی میں صحافت پڑھنے کا موقع ملا تو وہاں بھی ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر دائیں بازو کے افکار رکھنے والے کالم نگاروں اور مصنفین کی کتابیں پڑھ ڈالیں، سب اچھا تھا۔ لگے بندھے اصول تھے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، بھارت ہمارا بدترین دشمن ہے، سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے اور روس ہمارے گرم پانیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے جس میں بسنے والے لوگ ایک جسم کی مانند ہیں نیز پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ سارا دن میں دائیں بازو والوں کی طرح سوچتا رہتا کیونکہ اس میں کوئی تحقیق اور دلیل کار فرما نہیں ہوتی تھی بس جو کہا اس پر آنکھیں بند کر کے چل پڑو، مگر جب رات کو سوچتا کہ جس طرح میں اپنے بائیں بازو کے بغیر ادھورا ہوں اسی طرح میرا علم اور میری سوچ بھی تو بائیں بازو والے لوگوں کا نقطہ نظر سمجھے بغیر ادھوری ہو گی۔

یہ سوچ کر ہم نے ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا جو اپن بے لاگ قول اور فعل کی وجہ سے مشہور تھے، بلکہ بدنام تھے کہنا درست ہو گا۔ مجھے بڑا تجسس ہوا کہ انہیں بائیں بازو والا کیوں کہتے ہیں کام تو یہ سارے دائیں ہاتھ سے ہی کر رہے ہیں۔ سگریٹ، چائے اور شربت وغیرہ سب دائیں ہاتھ سے ہی پیتے ہیں اور تو اور دلائل بھی دائیں ہاتھ سے دیتے ہیں۔ بائیں بازو کے افراد کا پسندیدہ مشغلہ بحث و مباحثہ کرنا ہے اور مجال ہے جو ایک دوسرے سے کبھی متفق ہو جائیں۔ یہ سگریٹ اور چائے کے رسیا ہوتے ہیں اور عام طور پر چائے کے کسی مقامی ہوٹل پر ٹولیوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ جہاں سیکولر، لبرل اور بغیر سنسر کے کچھ الفاظ ادا ہو رہے ہوں تو سمجھیں یہ وہی ہیں۔ کارل مارکس، ہیگل، روسو اور فرائڈ کے حوالے اپنی گفتگو میں ایسے دیتے ہیں جیسے وہ ان کے لنگوٹیے ہوں اور ابھی ابھی وہاں سے اٹھ کر گئے ہوں۔ ان کے نزدیک سارے فساد کی جڑ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور عورت کو گھر پر بٹھانا ہے۔ ویسے یہ جوڑ مجھے سمجھ نہیں آیا بہرحال یہ گھنٹوں چائے کے تھڑے پر بیٹھ کر گندے کپوں میں چائے پیتے ہوئے مغربی مفکرین کے افکار کی روشنی میں ملکی حالات ٹھیک کرنے کے لئے بحث کرتے رہتے ہیں، جب رات ڈھلتی ہے اور پیسے بھی ختم ہو جاتے ہیں تو سب اٹھ کر گھروں کی راہ لیتے ہیں اور یہ ان کا روز کا معمول ہے۔

ہم کافی عرصہ ان کی محفلوں کا حصہ رہے جہاں چائے پی پی کر معدہ خراب ہو گیا اور لاحاصل بحث نے دماغ فیوز کر دیا ۔ایک دن ہم نے اکتا کر پوچھ ہی لیا “بھائی کیا مارکس، ہیگل اور روسو وغیرہ نے لوڈشیڈنگ کا کوئی حل بتایا ہے؟” ہمارا یہ سوال کرنا تھا کہ سب نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے پانامہ پیپرز ہم نے لیک کیے ہوں، ان کے تیور دیکھ کر ہم اس محفل سے اپنے دائیں اور بائیں بازو سمیت اٹھ کر گھر آگئے۔

ایک محفل میں استاد محترم وجاہت مسعود صاحب سے ملاقات ہوئی، ہم نے ہچکچاتے ہوئے عرض کی کہ جناب لکھنے کی بیماری ہے تریاق آپ کے پاس ہے، وجاہت صاحب اپنی مخصوص دھیمی آواز میں بولے “تو بھئی لکھیئے، ہمارے لیے لکھیئے”، اندھا کیا چاہے۔۔ دو آنکھیں بس اسی وقت بیٹھ گئے لکھنے دائیں اور بائیں بازو والے چکر سے تو پہلے ہی توبہ تائب ہو چکے تھے اس لئے ایک معاشرتی مسئلے پر لکھا۔ تحریر تو عام سی تھی مگر استاد محترم نے شاید دل رکھنے کے لئے چھاپ دی۔ ہم نے اگلے دن ایک اور کالم کا میزائل بنا کر داغ دیا مگر وہ شائع نہ ہو سکا، عین ممکن ہے کہ استاد محترم نے سوچا ہو کہ یہ نامراد تو شوخا ہی ہو گیا ہے۔ اس کے یکے بعد دیگرے تین تحریریں ردی بُرد ہوئی تو ہم نے سوچا کہ کیا ہم اتنا برا لکھ رہے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔ دوسری طرف ویب سائٹ پر لکھنے والوں کی تعداد آئے دن بڑھتی جا رہی تھی۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ہم نے سوچا کیوں نہ دیکھا جائے کہ لوگ ایسا کیا لکھتے ہیں کہ ان کی تحریر روزانہ چھپ جاتی ہے۔ ویب سائٹ پر نظر دوڑائی تو دائیں بازو اور بائیں بازو نے ڈنڈے پکڑے ہوئے ہیں اور ان کے پیچھے موجود انسان انہیں ویڈیو گیم کی طرح لڑا رہے ہیں۔ کوئی کسی کو مغالطے سمجھا رہا ہے تو کوئی معاشقے، کسی کے پاس دس نکات ہیں تو کسی کے پاس پونے بارہ، کوئی سیکولرہونے  کی توجیح پیش کر رہا ہے تو کوئی نظریہ پاکستان کی عظمت کے گن گا رہا ہے اور کہیں کہیں استاد محترم اپنی حکمت کے موتی بکھیر رہے ہیں۔ سب تحریریں اور دلیلیں بہت اچھی ہیں مگر کوئی مجھے بتائے کہ اگر انسان لیفٹ رائٹ کہے بغیر کچھ لکھنا اور کہنا چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟

(بھائی، جو لیفٹ اور رائٹ کے جھگڑے اور ان کی گروہی  تحدیدات سے گریزاں ہو، اسے لکھنا چاہیے اور لکھتے رہنا چاہیے اور اچھا لکھنا چاہیے جیسے آپ نے یہ  تحریر لکھی ہے۔ اور یاد رہے کہ ہم سب پر کوئی تحریر نقطہ نظر کی وجہ سے قبول یا رد نہین کی جاتی۔ غیر معیاری تحریر  کی اشاعت کی ضمانت تو خود برا لکھنے والے بھی نہیں دے سکتے ۔ )


Comments

FB Login Required - comments