سب کی حفاظت کا… ایک ہی طریقہ


aamir-rahdari

اجلاس شروع ہونے کو تھا، تمام جانور حاضر ہوچکے تھے گراونڈ فل تھا. کہیں کہیں سے ہلکی ہلکی سرگوشیوں کی آواز بھی آرہی تھی. جنگل کا بادشاہ چلتا ہوا سب سے اونچی جگہ پہ جا کھڑا ہوا جانوروں میں سناٹا چھا گیا شیر تمام جانوروں پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے بولا

’’میں آپ سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آج کا ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں سے کیسے بچا جائے. انسانوں کے ہم پر ظلم کو کیسے روکا جائے آج اس پر مختلف بزرگوں سے مشورے لیے جائیں گے. سب سے پہلے میں اپنے بزرگ ترین ہاتھی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسا کیا کیا جائے کہ انسان ہم سے دور ہو جائے‘‘

ہاتھی میاں پہلے تو تھوڑے گبھرا اٹھے پھر بولے

’’دیکھیں بادشاہ سلامت ہمارے بزرگوں نے نہ تو کبھی انسان سے بچنے کا کوئی طریقہ ہمیں بتایا اور نہ مجھے اس کا کوئی علم ہے. البتہ ہماری نسل ہر دور میں انسان کی غلامی میں رہی ہے پھر بھی ہماری ہاتھی فوج آپ کا ساتھ دے گی آپ جنگ کا اعلان کریں‘‘

بادشاہ سلامت نے ہاتھی کی کتھا سن کر ایک نظر حاضرین پر ڈالی لومڑی بھی موجود تھی فورا اعتراض اٹھاتے ہوئے بولی

’’میرے خیال میں ہم ابھی جنگ نہیں کرسکتے ہم ان سے کم طاقتور ہیں اس لیے ہمیں کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا ہوگا‘‘

بادشاہ سلامت نے لومڑی کی ذہانت کی داد دیتے ہوئے کہا

’’میرے خیال میں بی لومڑی صحیح فرما رہی ہیں ہمیں کچھ اور سوچنا چاہیئے‘‘

01بادشاہ سلامت نے معنی خیز نظروں سے تمام جانوروں پہ نگاہ ڈالی اور گیڈر کو دیکھ کر فرمایا

’’ہاں بھئی میاں گیڈر تم کیا کہتے ہو…؟؟‘‘

’’حضور ویسے تو کوئی بھی طریقہ نہیں لیکن ایک آئیڈیا ہے کیوں نہ جنگل کی دیواریں اونچی کردیں اس سے انسان جنگل میں داخل ہی نہیں ہو پائے گا‘‘

گیڈر نے فخریہ نظروں سے سب جانوروں کو دیکھا لیکن کسی کے منہ پر کوئی خاص خوشی کے تاثرات نہ دیکھ کر مایوس ہوا. لومڑی بی گویا ہوئیں

’’جنگل کی دیواریں جتنی بھی اونچی کردو یا تو انسان دیوار سے لمبی سیڑھی بنا لے گا یا پھر جہازوں سے آجائے گا اس لیے یہ بھی کوئی بہتر حل نہیں ہے‘‘

بادشاہ سلامت کو ایک بار پھر لومڑی کی ذہانت پر فخر ہوا اور بولے

’’لومڑی صاحبہ ٹھیک فرمارہی ہیں میرے خیال میں یہ طریقہ بھی غلط ہے میرے خیال میں ہمیں گدھے سے پوچھنا چاہیئے کیونکہ یہ انسانوں کے بیچ بھی رہا ہے کیوں میاں گدھے؟‘‘

’’دیکھیں جی ہمیں تو انسانوں سے کچھ خاص گلے شکوے نہیں ہیں لیکن اگر جنگل کی عزت کا سوال ہے تو جنگ کی صورت میں ہم تمام گدھے اپنی دولتیوں کی سروس مہیا کرسکتے ہیں لیکن ہم گدھوں کی شرط یہ ہے کہ ہمیں علیحدہ کمانڈ مہیا کی جائے گی‘‘

گدھے کی بات مکمل ہی ہوئی کہ بی لومڑی پھر اپنا اعتراض اٹھا لائیں

03’’میرا خیال ہے گدھوں پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا یہ انسانوں کے سدھائے ہوئے ہیں کسی بھی وقت کمانڈ چھوڑ کر ان کے ساتھ مل سکتے ہیں‘‘

شیر نے ایک نظر گدھے کی طرف اور دوسری نظر لومڑی پر ڈالی

’’لیکن جو بھی ہو جائے ہمیں آج انسانوں سے بچاؤ کا طریقہ ڈھونڈنا ہوگا ورنہ یہ ہم سب کی نسلوں کو برباد کردے گا‘‘

بادشاہ سلامت نے بات مکمل کی تو بھیڑیا صاحب اٹھ کھڑے ہوئے

’’بادشاہ سلامت میں تو کہتا ہوں یہ جنگل ہی چھوڑ کر بھاگ جائیں اور کہیں دور آباد ہو جائیں‘‘

لومڑی تو جیسے اعتراض تیار کرکے بیٹھی ہوئی تھی

’’یہ طریقہ بھی غلط ہے یہ ایک تو بزدلی ہوگی دوسرا ہم کہاں جائیں گے انسانوں نے پوری دنیا پر قبضہ کررکھا ہے‘‘

بھیڑیے نے ایک انتہائی سخت نظر لومڑی پر ڈالی اور خاموشی سے بیٹھ گیا بھیڑیے کی طرح باقی جانور بھی لومڑی سے نالاں نظر آرہے تھے وجہ بھی منطقی تھی ہر بات پہ اعتراض جو اٹھائے جارہی تھی. اسی اثنا میں چیتا جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا

’’میرے خیال میں ہم زرافوں کی جنگل کے بارڈر پر ڈیوٹی لگادیں تاکہ جب انسان اس طرف کا رخ کرے زرافہ ہمیں فورا آگاہ کرے‘‘

تمام جانوروں کی نظریں اب شیر کی بجائے لومڑی کی طرف اٹھنے لگی تھیں اور لومڑی بھی یہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر وہ شیر کے قریب نہ بیٹھی ہوتی تو اس کی ہڈیاں پسلیاں ایک ہو چکی ہوتیں. لومڑی نے ایک دفعہ تمام جانوروں کو دیکھا اور بولی

’’اس میں بھی کئی خرابیاں ہیں، پہلی بات کے زرافوں نے اگر انسان کو آتے ہوئے دیکھ بھی لیا تو اتنی جلدی نہیں دوڑ سکتے سو ہم تک خبر پہنچنے سے پہلے انسان پہنچ جائے گا دوسری بات زرافے بھی انسان دوست ہیں مشکل وقت میں کچھ بھی ہوسکتا ہے‘‘

ایک بار پھر تمام چہروں پر مایوسی چھا گئی. شیر بھی اب لومڑی سے نالاں نالاں سا نظر آرہا تھا. تھوڑی دیر خاموشی رہی پھر دور کسی ٹہنی سے الو نے لقمہ دیا

’’کیوں نا دشمن کے بچوں کو پڑھایا جائے ہم ان تمام انسان دوست جانوروں کو انسانی بستیوں میں بھیج دیں تاکہ یہ ان کے بچوں میں شعور اجاگر کریں کہ جانور بھی خدا کی مخلوق ہوتے ہیں‘‘

04لومڑی نے عجیب سی نظروں سے الو کو دیکھا اور بولی

’’یہ بات بھی ناممکن ہے کیونکہ دشمن کے بچے جس طرح کا علم حاصل کرچکے ہیں انہیں پڑھانا اور شعور دینا انتہائی مشکل ہے ہمیں کوئی اور طریقہ سوچنا چاہیئے‘‘

لومڑی کے بار بار کے اعتراضات پر سب کے چہروں پر مایوسی چھا گئی تھی. شیر بھی اب ذرا ڈھیلا پڑ چکا تھا. سب جانور ہی لومڑی کو غصے سے دیکھ رہے تھے. ہرن سے بھی نہ رہا گیا اور اٹھ کر بولا

’’بادشاہ سلامت ایک آئیڈیا میرے پاس بھی ہے کیوں نہ تمام جانوروں کو ہماری طرح تیز رفتار کردیا جائے تاکہ انسانوں کے ہاتھ ہی نہ آئیں‘‘

بی لومڑی پھر اٹھ کھڑی ہوئی

’’دیکھیں یہ بھی انسانوں سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے تیز رفتاری میں وہ ہم سے بہت آگے ہیں‘‘

لومڑی کا ایک اور اعتراض سن کر بادشاہ سلامت کی برداشت جواب دے گئی اور دھاڑتے ہوئے بولے

’’بی لومڑی یہاں کوے، چوہے گیڈر، ہاتھی ، بھیڑئے، ہرن، کتے، بندر، لگڑ بگڑ سب موجود ہیں کسی نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا لیکن تم نے ہر بات پہ اعتراض اٹھایا ہے اگر خود کو اتنا ہی ذہین سمجھتی ہو تو بتاؤ ہمیں انسانوں سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیئے؟‘‘

لومڑی ہلکے سے مسکرائی اور بولی

’’آپ سب لوگوں کو مجھ پہ غصہ آرہا ہوگا کہ میں نے ہر آئیڈیے کو ناکام کہا لیکن اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ آپ انسانوں سے بچ جائیں تو آپ کو شیر، گیڈر، ہاتھی، لومڑی، کتا، بلا، بھیڑیا نہیں بلکہ ’جانور‘ بن کے سامنا کرنا ہوگا. انسان ہرن کا شکار کرے تو باقی جانور اسے ہرن نہیں بلکہ اپنا ایک جانور سمجھ کر اس کا ساتھ دیں. میں امید کرتی ہوں کہ اگر آپ متحد ہو کر ڈٹ جاو تو کسی انسان کو جرات بھی نہیں ہوگی کہ وہ کسی جانور کو ہاتھ تک لگائے. شکریہ

لومڑی یہ کہ کر اٹھی اور جنگل میں گم ہو گئی لیکن ’واہ واہ‘ کی آوازوں نے اس کا کافی دیر تک پیچھا نہ چھوڑا۔


Comments

FB Login Required - comments