دیما الوو (فلسطینی بچی) کے نام


maaida mahmoodیہ ایک بارہ تیرہ سال کی خوبصورت لڑکی تھی، جس کی آنکھوں کو حد سے زیادہ روشن ہونا چاہیے تھا، مگر وہ ویران تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پورے قبرستان کا اندھیر ا ان آنکھوں میں ہو۔ نہ جانے ان آنکھوں نے ایسا کیا دیکھا تھا کہ آنسو بہ بہ کر اب سوکھ چکے تھے۔ ماتم نے جیسے وہاں بسیرا ڈال دیا ہو۔ جیسے کوئی آسیب جو نظر نہ آنے کے باوجود اپنا وجود ظاہر کررہا ہو۔

کہتے ہیں کہ ایک تصویر 1000 لفظ بولتی ہے ۔ لیکن اس تصویر میں تو ایک کہانی چھپی ہوئی ہے۔ کریدو تو ایک عہد پنہاں ہے۔  جبر، زیادتی، چبھن، مایوسی، زوال، قیامت اور نہ جانے کیا کیا۔

دیما الوویو نامی یہ لڑکی کوئی دہشت گرد نہیں، باغی نہیں لیکن اس کا غصّہ بہر حال کسی خودکش حملہ اور سے کم نہیں ہو گا۔ کون جانے کب بغاوت پر اتر آے۔ یہ ان 400 فلسطینی بچوں میں سے ایک ہے جو اسرئیل کے قید خانوں میں پچھلے دو سال سے بے جرم سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ ان کے والدین فلسطینی ہیں۔

رہائی پانے کے بعد یہ لڑکی اپنے ماں باپ سے ملتی ہے تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سورج مکھی کے پھول زیادہ زرد ہیں یا اس کا چہرہ، اس کے بال زیادہ dema01بکھرے ہے ہیں یا اس کے حوصلے۔ میرا لکھنا آسان، آپ کا پڑھنا آسان، لیکن مشکل تو اس وقت آتی ہے جب اس تصویر کی گہرائی تک پہنچنے پر کچھ سجھائی نہ دے۔ سننے کے لیے ایک داستان ہو اور کچھ سنائی نہ دے۔

ہر سال سینکڑوں بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں اسرئیلی فوج کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں۔ بیچارے بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے نصیب میں یا اسیری ہوتی ہے یا بے بسی۔ شاید ہاتھ میں زندگی کی لکیر بھی نہ ہوتی ہو۔ بس ایک مایوسی کی لکیر ہو۔

بچپن میں پی ٹی وی پر جو رات نو بجے خبریں آتی تھیں، اس میں اسرائیلی قابض فوج، فلسطینی قیدی، انتہا پسند اسرئیلی باشندے ایسے الفاظ تھے جو لازمی خبروں کا حصّہ ہوتے تھے۔ آج تک یہ معاملہ سمجھ نہ آیا، بلکہ سچی بات تو یہ ہے کیہ توجہ نہ دی۔ اب آہستہ آہستہ کچھ کچھ سمجھ آنے لگا ہے۔ جب جنگ صرف ریاست، مذہب اور اقتدار سے بڑھ کر المیے کا روپ دھار لے تو گھن کے ساتھ گیہوں ہی نہیں کبھی کبھی پیسنے والے کا ہاتھ بھی پس جاتا ہے۔

ایسی ہزاروں لڑکیاں اور لڑکے اب بھی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایسے کئی ماں باپ ہیں جو اپنی بچیوں کو بن بیاہے رخصت کر چکے ہیں۔ ایسی بہت سی آنکھیں ہیں جن کے سامنے صحرا بھی آباد لگے۔ ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جو قلم کی نوک پر انے کے لیے بیتاب ہیں۔

اور آخرمیں دیما۔۔۔ فلسطینی بچی۔۔۔ یہ چند سطریں تمھارے نام!

Sabha al-Wawi, right, Palestinian mother of 12-year-old Dima al-Wawi, imprisoned by Israel for allegedly attempting to carry out a stabbing attack, comforts her daughter, after her release from an Israeli prison, at Jabara checkpoint near the West Bank town of Tulkarem, Sunday, April 24, 2016. Al-Wawi who was imprisoned after she confessed to planning a stabbing attack in a West Bank settlement has been released Sunday. (AP Photo/Majdi Mohammed))
(AP Photo/Majdi Mohammed))

مجھے چھوڑ دو

میں ادھوری ہوں

مجھے انجام سے ملنا ہے

ایک چھوٹی، مگر مکمّل۔۔۔

داستان بننا ہے۔۔۔

بھاگ دوڑ کرنی ہے۔۔۔

کفن پھر سے بننا ہے۔۔۔

شمع بھی جلانی ہے۔۔۔

دکھ پھر سے بننا ہے۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “دیما الوو (فلسطینی بچی) کے نام

  • 27-04-2016 at 8:40 pm
    Permalink

    Sana Jawad …. regarding the post you recently shared.

  • 27-04-2016 at 9:30 pm
    Permalink

    Maaida Mahmood you did a brilliant job, my first impression of the pic was her eyes are dead. such a beautiful girl and such a hollow look in her eyes that can’t be described in words all I can do is pray for her ???

  • 27-04-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    Don’t have worlds for her

  • 27-04-2016 at 11:22 pm
    Permalink

    Rip.. yhi enough hogi os k lie.. q k hum m na taqat ha r na gairat… Practcl to kch b ni hota hum c.. baton ka teer chalaty hain r smjhty hn kafii ha.. Shame on us

  • 28-04-2016 at 12:16 am
    Permalink

    mere dil ki baat apne bakhubi apne alfaz main byaan krdi .Very well written maaida

  • 28-04-2016 at 3:03 am
    Permalink

    u r rite..Allah knows wat she went through:(
    Reading ur blog for the first time..good work maida keep it up!!

  • 28-04-2016 at 9:33 am
    Permalink

    Nightingale Florance

Comments are closed.