کھلے دریچے سے جھانکتی خوشبو


Maria Parvez-Writerاس گھر سے جڑی بہت سی یادوں میں سے سرِ فہرست صبح پونے سات بجے ” آل انڈیا ریڈیو“ کا پروگرام ”سورج کے ساتھ ساتھ“ اور ابا کی مصروفیات میں سے ایک گھر میں پالے ہوئے موروں اور پرندوں کو صبح صبح باجرہ اور پانی دینا ہے۔ گھروں اور اس میں رہنے والے مکینوں کا ایک ان کہا، خاموش اور گہرا رشتہ ہوتا ہے جو اس جگہ سے دور جانے کے بعد زیادہ روشن اور مضبوط ہو جاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ ہر تیس برس کے بعد کسی بھی مکان کے مکین بدل جاتے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ بالکل صحیح کہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچے بڑوں میں، بڑے بزرگوں میں اور بزرگ مرحومین میں تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن گھر وہی رہتے ہیں، اپنے کمروں، برآمدوں، دیواروں، چھتوں، اور کھڑکیوں میں ان گنت کہانیاں سمیٹے ہوئے، ایسے ہی ایک گھر کی کہانی سنانے کو میرا قلم بھی بے قرار ہے۔۔۔۔

یہ مکان جو یوں تو کچھ زیادہ بڑا نہ تھا لیکن اس کے آنگن اور بیٹھک میں بیٹھ کر ہم بڑے بڑے خواب ضرور دیکھا کرتے تھے۔ نقشہ کچھ یوں تھا کہ گیٹ سے داخل ہوتے ہی ایک بڑا سا صحن تھا جو پہلے تو لال گول اینٹوں سے مزین تھا۔ بالکل سامنے ہی بوگن ویلیا کی کی دو بیلیں سامنے کی دیوار سے لپٹی نظر آتی تھیں۔ گرمیاں آتے ہی بوگن ویلیا کے کاغذی تیز گلابی اور سفید پھول سرخ اینٹوں پر گر کر عجیب بہار دکھاتے تھے اور اگر اس اثنا میں بارش بھی ہو جاتی تو گویا سرخ اینٹیں نکھر کر پھولوں سے سجی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ انہی بیلوں کے نیچے ایک زمانے میں ا با نے ایک عدد آرام کرسی رکھوا دی تھی جس سے ہمارے مزے ہو گئے،جوں ہی دوپہر کو بجلی جاتی، ہم جھٹ ایک رسالہ سنبھال کر اس کرسی پر براجمان ہو جاتے اور پھر کب دوپہر ڈھلتی کسے معلوم ہوتا۔ صحن کی داہنی جانب انگریزی حرف “L ” کی شکل میں عمارت تھی۔ سب سے پہلے مہمانوں کا کمرا یا ڈرائنگ روم، جس کو ہم بہن بھائی کثیر المقاصد استعمال میں لاتے۔ جس کے امتحان ہونے وہ اسی کمرے میں رات کو پڑھتا ہوا پایا جاتا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ باقی گھر سے ذرا الگ تھلگ تھا تو خا موشی میں جم کر پڑھائی کی جا سکتی تھی۔ اس کمرے سے متصل سیڑھیاں تھیں جو اوپری منزل کو جاتی تھیں۔ پھر ایک عدد سٹور، اور کچن۔ یہ تو ہو گیا صحن کا احوال۔ اس سے آگے کشادہ ستونوں والا لمبا برآمدہ تھا۔ اور بالکل سامنے قطار میں تین مزید کمرے، دو بیڈ رومز اور ایک ڈائنگ روم جو کچن سے منسلک تھا۔ ہر کمرے کی اپنی Father Picخوشبو، اپنا ماحول ہوا کرتا ہے جو آپ کو اس سے بچھڑ جانے پر ہی محسوس ہوتا ہے۔ اپنے ہوش سنبھالتے ہی ہم نے اپنے گھر میں دو چیزوں کی فراوانی دیکھی ایک تو کتابیں، رسائل اور دوسراے اخبار۔ دنیا جہاں کے میگزین ڈائجسٹ وغیرہ۔ کہانی کہیئے یا قصہ یا کتاب ان سب سے تعارف تو بچپن میں ہی ہو چکا تھا بڑے بھائی کی بدولت۔ سب سے ابتدائیCOLLECTION  ہم دونوں بہن بھائیوں کی یقیناً وہ الف لیلوی چھوٹی چھوٹی کہانیاں تھیں جو جن، پری، آدم زاد، خیر اور شرکے بنیادی تصورات کے گرد گھومتی ہیں۔ ذرا بڑے ہوئے تو ابا نے” بچوں کی دنیا“ ”نونہال“ ” تعلیم و تربیت“ اور ”آنکھ مچولی“ لگوا کر دیئے۔ ماہانہ رسائل تھے اور کیا خوب تھے کہ ہر ماہ انتظار رہتا تھا کہ کب رسالہ آئے اور کون سب سے پہلے پڑھے۔ آج بھی یاد ہے مجھے کہ کمپیوٹر اور بہت سی سائنسی اصطلاحات جو آج بہت عام ہیں ہم نے اس زمانے میں ایک رائٹر ”محمد عادل منہاج “ کے قلم کی بدولت آنکھ مچولی میں پڑھی تھیں۔

ادب عالیہ یا اردو ادب سے پہلا تعارف نویں کلاس میں ہوا۔ وہ یوں کہ ابا کی عادت تھی کہ رات کے کھانے کے بعد ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ ضرور بیٹھتے تھے اور اپنی پڑھی ہوئی کسی نہ کسی کتاب کا کوئی دلچسپ قصہ بھی ہمیں سناتے تھے۔ اسی طرح سردیوں کی ایک خنک رات کو انہوں نے ” بملا کماری کی بے چین روح “ کا قصہ سنایا۔ یہ ” شہاب نامہ“ اور”قدرتُ اللہ شہاب صاحب“ سے تعارف کی ایسی ابتدا تھی جس نے ہم سے بعد میں پھر ممتاز مفتی کو بھی پڑھوایا اور ان کی قدرت صاحب پر لکھی ہوئی کتاب ” الکھ نگری “ کو بھی پڑھنے کے لیے مجبور کیا۔ کتاب بینی کے معاملے میں ہم سب بہن بھائی ابا کی وجہ سے بہت خوش نصیب ٹھہرے۔ وہ ایسے کہ لوگ جو کتابیں لائبریریوں میں جا کر ڈھونڈ کر پڑھتے وہ سب ہم نے اپنے گھر پڑھیں اور مزے لے لے کر پڑھیں۔ ” شہاب نامہ “ہم نے میٹرک کے امتحان کے بعد ہونے والی چھٹیوں میں پڑھا تھا اور پھر تو جیسے انگریزی میں کہتے ہیں “پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا”۔ اور دیکھا بھی کیوں جاتا۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے والا پتھر ہو جاتا ہے اور کتاب کسی کو پتھر نہیں ہونے دیتی۔

اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چل نکلا کہ ایک وقت آیا کہ ہم چائے، بغیر کتاب یا رسالے کے پینا محال سمجھتے تھے۔ ویسے بھی ہمارے خیال میں ایک اچھی کتاب اور ایک بہترین چائے کا کپ اس سے بہتر ذہنی عیاشی ممکن نہیں۔ اب ابا کو چونکہ نثر سے زیادہ لگاﺅ تھا اس سلسلے میں دانشور لوگوں کی طرح ان کی پسند و نا پسند بڑی واضح تھی تو شروع میں ان کی ہی چنیدہ اور پسندیدہ چیزیں پڑھنے کا موقع ملا۔ شاعری نہ ہونے کے برابر لیکن پھر بعد میں شاعری کی کتب کی بھی کسر نکالی گئی اور فیض، غالب، ابن انشا، محسن نقوی اور جون ایلیا پر آ کر یہ تشنگی کچھ ختم ہوئی۔

bahawalیہ تو ہوا کتابوں کا ذکر۔۔ دوسری چیز ہمارے بچپن کی یادوں کا بڑا حصہ پرانے میوزک سے گونجتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جی ہاں گیت/ گانے۔ اور یقیناَ یہ بھی ہم نے ورثے میں پایا ہے اور اس شوق کا سہرا بھی ہمارے ابا کے سر ہی بندھتا ہے جنہیں پرانی کلاسیکل موسیقی سے کافی شغف تھا۔ ہمارے ڈرائنگ روم کا ایک کونہ ہمیشہ ریڈیو گرام سے سجا رہا۔ جس پر ایل پی ریکارڈز بجا کرتے تھے۔ ہفتے میں ایک روزخاص طور پر اس ریڈیو گرام کی صفائی کی جاتی اور ریکارڈ بجائے جاتے جو کہ HIS MASTER VOICE کے ہوتے۔ جو لوگ ان LP ریکارڈزسے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان میں گانا سنتے ہوئے پسِ پردہ ایک مخصوص آواز آتی ہے جو اس گانے کو ایک عجیب سا حسن بخشتی ہے۔ اور جو نا واقف ہیں انہیںLP RECORDSکو ضرور Google کرنا چاہیئے۔ پھر کیسٹ اور سی ڈی کا دور آیا اور اب یہ والا موبائل کا دور جس میں آپ کا موبائل بیک وقت، ٹی وی ریڈیو، پلے اسٹیشن، ٹیپ ریکارڈ غرضیکہ یر رول نبھا رہا ہے یعنی موبائل فون نہ ہوا۔ الہ دین کا چراغ ہو گیا۔

لیکن ان تمام نئے آلات نے پرانی چیزوں، یادوں اور باتوں کے حسن کو گہنا سا دیا ہے۔ وہ گھر وہ مکین وہ شوق اور وہ یادیں اب دل میں محفوظ ہوچکی ہیں کسی جگنو کی طرح، جو دل کو روشنی اور سکون عطا کرتی ہیں۔ جب بھی دل بوجھل ہو۔ ہر انسان کی شخصیت میں اس کے گھر کے ماحول، والدین، ان کی سوچ،اور ان کا مزاج بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی سے شخصیت نکھرتی ہے، سنورتی ہے اور کچھ بنتی ہے، ہم آج جو کچھ بھی ہیں اور ہم میں اگر کچھ اچھا ہے تو یقیناً یہ ہمارے والدین کی دعا اور عمل ہے اور جو کچھ برا ہے وہ اپنا کمایا ہوا ہے۔ دعا ہے کہ سب بچوں کو بہترین ماحول اوربہترین سوچ رکھنے والدین میسر ہوں۔۔


Comments

FB Login Required - comments