ملک ریاض کی بطور نگران وزیر اعلی پنجاب تقرری


آپ گزشتہ چند دنوں سے دیکھ رہے ہوں گے کہ پنجاب کے نگران وزیر اعلی کا انتخاب نہیں ہو پا رہا ہے۔ سب سے پہلے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے ناصر محمود کھوسہ اور گوہر اعجاز کے نام تجویز کیے گئے تھے، جبکہ میاں شہباز شریف نے طارق سلیم ڈوگر اور جسٹس ساحر علی کے نام دیے تھے۔ اب خلاف توقع شہباز شریف نے اچانک اپنے تجویز کردہ نام ایک طرف رکھ کر جس جوش و جذبے سے ناصر محمود کھوسہ کے نام کو قبول کر لیا اس سے تحریک انصاف بجا طور پر کھٹک گئی کہ یہ ضرور ان کا اپنا بندہ ہو گا۔

اس کے بعد شہباز شریف نے چار نام پیش کیے جن میں پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) ذکاء اللہ، سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان، جسٹس (ر) سائر علی اور سابق آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر کے نام شامل ہیں۔ لیکن انٹیلی بیورو (آئی بی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان نے نگران وزیراعلیٰ بننے سےمعذرت کرلی ہے۔

تحریک انصاف والے بھی پریشان ہیں۔ انہوں نے اس مرتبہ اوریا مقبول جان، یعقوب طاہر اظہار، حسن عسکری، ایاز امیر اور ناصر درانی کے نام دیے۔ اس کے بعد شور مچا تو اوریا مقبول جان کا نام واپس لے لیا گیا۔ میاں محمود الرشید نے بتایا کہ جب وہ نام دے کر باہر آئے تو اس وقت پارٹی کی طرف سے ان کو ایاز امیر کا نام دیا گیا۔

حاصل کلام یہ کہ دونوں پارٹیاں یہ فیصلہ ہی نہیں کر پا رہی ہیں کہ کس نام پر متفق ہوا جائے۔ جس نام کو تحریک انصاف غیر جانبدار شخص سمجھ کر دیتی ہے اس کی یا تو میاں برادران تعریف کر کے اسے ناقابل اعتبار بنا دیتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا اس کے بارے میں بری بری باتیں کرنے لگتا ہے اور تحریک انصاف کو نام واپس لینا پڑ جاتا ہے۔

اس موقعے پر ہمارا یہ فرض ہے کہ ایک ایسے شخص کا نام ان جماعتوں کو دے دیں جسے نہ تو خریدا جا سکتا ہو اور نہ اس کی کسی بھی پارٹی سے برابر کی دوستی میں کسی کو کوئی شک ہو۔ وہ یکساں طور پر مسلم لیگ نون، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کا دوست ہو۔ جسے پیسے کا لالچ دے کر خریدا نہ جا سکے بلکہ الٹا اس کے پاس اپنا اتنا پیسہ ہو کہ اس کے سر پر ہر قسم کے ملکی ادارے اور پارٹیاں چلتے ہوں۔ وہ دوستوں کا دوست ہو۔ حاجت مندوں کے کام آتا ہو۔ تمام محب وطن حلقے اس پر بھروسہ کرتے ہوں۔ ایسا شخص ملک ریاض کے علاوہ دوسرا کون ہے؟

پاکستان کے لئے ملک ریاض کی خدمات بھی بے شمار ہیں۔ کسی کو قزاق پکڑ کر لے جائیں یا کوئی بیمار ہو جائے تو ملک ریاض ہی بڑھ کر اس کی مدد کرتے ہیں۔ یعنی وہ غریبوں مسکینوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور انہی غریبوں مسکینوں بیواؤں کے وسیلے سے ان کے کاروبار میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے۔ تو مناسب یہی ہے کہ ملک ریاض کو نگران وزیر اعلی پنجاب لگا دیا جائے۔

ان کے نام سے اختلاف کی جرات بھی کوئی نہیں کرے گا مبادا ملک صاحب خفا نہ ہو جائیں۔ ان کی ملک و قوم کے لئے خدمات دیکھتے ہوئے بنانا تو ان کو وزیراعظم چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے وہ سلاٹ پہلے ہی فل ہو چکی ہے۔ لیکن تحریک انصاف یہ سوچ لے کہ ملک صاحب کا نام دے کر واپس لیا یا مسلم لیگ نون کی طرف سے ان کا نام دینے پر اسے ٹھکرایا تو اسے اپنی خطا بخشوانے کے لئے بہت کچھ دینا پڑے گا، ورنہ وہ بخشی نہیں جائے گی۔ اس کے چاہنے والے ہی اس کے مخالف بن جائیں گے۔ نیک لوگوں کا دل دکھا کر کون خوش رہ سکتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1040 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar