کیا بدسلوکی کی ذمہ داری خواتین پر ہے؟


adnan-khan-kakar-mukalima-3

عمران خان کے اسلام آباد کے جلسے میں چند خواتین کے ساتھ انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ شرپسند نوجوانوں کے ایک گروہ کی طرف سے خواتین کے انکلوزر میں گھس کر ان سے انتہا درجے کی بدتمیزی کی گئی۔ تحریک انصاف کی خواتین عہدے داروں کی طرف سے بھی اس پر احتجاج کیا گیا، اور عمران خان نے اس پر معذرت کی اور مستقبل میں جلسے میں شامل خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس بدسلوکی پر تحریک انصاف کے جلسے میں جانے والی خواتین کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے حالانکہ عمران خان کو اس بات پر داد دی جانی چاہیے کہ وہ سیاست سے لاتعلق نوجوان لڑکے لڑکیوں کی ایک پوری نسل کو سیاست میں لے کر آئے ہیں۔ اور یہ نوجوان اپنے گھر والوں کو سیاست سے جوڑنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ آپ عمران خان کے مخالف ہیں، لیکن یہ سوچیں کہ یہ نوجوان اگر عمران سے مایوس ہوتے ہیں تو سیاست سے دلچسپی انہیں کسی دوسری جماعت کی طرف لے کر آئے گی۔ ملکی معاملات میں ان کی شمولیت ایک اچھی خبر ہے۔

334045_97927946

خواتین کی سیاست میں شمولیت کے مخالفین کی طرف سے اس طرح کی دلیلیں سننے میں آ رہی ہیں کہ وہ جلسوں میں جاتی ہی کیوں ہیں؟ وہ گھر سے باہر نکلتی ہی کیوں ہیں؟ وہ خود اس بدسلوکی کی موجب ہیں۔ کیا ان سب معترضین کو تحریک پاکستان میں خواتین کا کردار یاد کرانا پڑے گا جب پنجاب سیکرٹریٹ کی عمارت پر پاکستانی جھنڈا لہرا کر ایک خاتون فاطمہ صغریٰ نے تحریک پاکستان میں ایک نئی روح پھونک دی تھی؟ کیا تحریک پاکستان کے دوران بیگم شاہنواز، بیگم سلمیٰ تصدق حسین سمیت بہت سی خواتین کے بغیر یہ تحریک کامیاب ہو سکتی تھی؟ اب اگر آج کی یہ عورتیں بھی ملک بدلنے کی آرزو مند ہیں اور کسی ستائش یا صلے کی تمنا کے بغیر جلسے میں جا رہی ہیں، تو ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

یہ سوچ انتہائی غلط ہے کہ خواتین سے بدسلوکی کی ذمہ داری انہیں پر ہے۔ کبھی یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلیں گی تو وہ مردوں کی طرف سے تنگ کیے جانے کی خود ذمہ دار ہیں۔ کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا پردہ نہ کرنا ان کی طرف سے خود کو چھیڑے جانے کی دعوت ہے۔ کیا کسی کو وہ وقت یاد ہے جب مصر میں اخوان کی حکومت بنی تھی اور نقاب پوش خواتین بھی نشانہ بنائی جاتی تھیں؟ نقاب کے کس کر یا ڈھیلے باندھے جانے سے خواتین کے کردار کے اچھے یا ڈھیلے ہونے کا حکم لگایا جاتا تھا۔ کیا سعودی عرب میں پردے کی نہایت سختی نہیں ہے؟ کیا وہاں خواتین کے خلاف جرائم نہیں ہوتے ہیں؟ کیا حج اور عمرے کے دوران آپ کو وہ ہدایت یاد ہے جو اپنے محرم کے ساتھ بھی کسی ٹیکسی میں بیٹھنے اترنے کے معاملے میں خواتین کو دی جاتی ہے؟

l_104673_045706_updates

نہیں جناب، یہ لباس کا یا سزا کی سختی نرمی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بہت حد تک تربیت اور قانون کی پکڑ کا معاملہ ہے۔ جنس مخالف میں کشش ایک فطری بات ہے۔ آپ لاکھ پردوں میں چھپائیں، یہ کشش ختم نہیں ہو گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ مردوں کو کیسے یہ سکھایا جائے کہ کسی خاتون کو چھِیڑنا بری بات ہے، اور اگر وہ ایسا کریں گے تو پھر وہ سزا بھی پائیں گے۔ آپ اور ہم اگر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو ظالم خود ہی کمزور پڑے گا اور ظلم کرنا ترک کرے گا۔ کیا آج کے دور میں یہ ممکن ہے کہ خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا جائے؟ غریب اور مڈل کلاس گھرانوں میں تو معاشی مجبوری ہی خواتین کو گھر سے باہر آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھی انہیں گھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ ایسے میں خواتین کو گھروں تک محدود کر دینا ایک خواب ہی ہے۔

ایسے ہی ایک رویے پر گزشتہ دنوں بھارت سے موصول ہونے والی ایک خبر یاد آ گئی ہے۔ وہاں چند مندروں میں خواتین کا داخلہ ممنوع رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ہائی کورٹ میں اس پابندی کے خلاف اپیل کا فیصلہ آیا اور تمام مندروں کو خواتین کے لیے کھولنے کا حکم دیا گیا۔ مہاراشٹر میں شانی (زحل) دیوتا کے مندر شانی شنگناپور میں خواتین کے داخلے پر پچھلے چار سو سال سے پابندی تھی۔ یہ پابندی بھی ختم کر دی گئی۔ خواتین کو مندر کے مرکز میں عبادت کرنے کی اجازت مل گئی۔

اس پر چورانوے سالہ مہاشے شنکر اچاریہ سوامی سواروپ آنند سرسوتی غصے سے تلملا اٹھے۔ کہنے لگے کہ ‘عورتیں شانی کی مندر میں پوجا کر رہی ہیں۔ ایسا کرنے سے شانی دیوتا کی نظریں عورتوں پر پڑیں گی اور اس کا نتیجہ ریپ کے واقعات میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گا’۔

بھارت میں سوامی جی کے شانی بھگوان عورتوں کو دیکھ کر بے قابو ہوئے جا رہے ہیں اور ادھر پاکستان میں بہت سے نوجوان کنٹرول میں نہیں ہیں۔ نہ سوامی جی اپنے بھگوان کو سمجھانے کو تیار ہیں اور نہ ہم اپنے نوجوانوں کو۔ لیکن دونوں قومیں ایک چیز پر متفق ہیں، غلطی عورتوں ہی کی ہے، بگڑے ہوئے بھگوانوں یا نوجوانوں کی نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

7 thoughts on “کیا بدسلوکی کی ذمہ داری خواتین پر ہے؟

  • 28-04-2016 at 12:06 am
    Permalink

    well done

  • 28-04-2016 at 1:40 am
    Permalink

    بہت اچھا لکھا عدنان کاکڑ۔ عمران خان نے کبھی مردانہ بالادستی کے بنیادی اصولوں کو چیلنج ہی نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کھڑے ذات پات اور خاندان کے فرسودہ تصورات میں غرق نمونوں میں اتنی ہمت ہے۔ بھارت میں تو شنکر اچاریہ سوامی سواروپ آنند کا بیڑہ اس لئے ڈوب جائے گا کہ اس کے شبدوں، منتروں اور اشلوک میں ریپ کا لفظ ہی نہیں ہے۔ منڈی کی معیشت کو قبول کرنے والے بھارت میں ذات پات کی پسماندگی کا کوئی مستقبل نہیں۔ پنڈت جی کو بدلتے دیر نہیں لگے گی۔ پنڈت جی اپنا نفع اور گھاٹا جانتے بھی ہیں اور بدلنے میں دیر بھی نہیں کرتے۔ پاکستان میں ہمیں ایک ایسے معاشرے میں یہ لڑائی لڑنا ہے جہاں ابھی تک کسی سیاسی جماعت اور رہنما میں ہمت نہیں کہ جنس، صنف، نسل، قبیلہ اور ذات پات کی جہالت سے متعلق معاملات پر کھل کر بات کر سکے۔ ہماری لڑائی لمبی ہے۔

  • 29-04-2016 at 8:31 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔ تاہم ان لوگوں کو یہ سمجھانا ناممکن ہے کہ عورت بھی انسان ہے۔ ایک بہت بڑے صوفی بزرگ نے صوفیا کے لیے تجرد کو پسند کیا ہے کیونکہ عورتیں خدا کی راہ سے بھٹکا دیتی ہیں۔ خود اپنےبارے میں کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کچھ دوستوں نے ان کے سامنے کسی خاتون کا ان سے شادی کے لیے تذکرہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اس قدر فتنے میں مبتلا ہوئے کہ سال بھر عبادات میں لطف نہ رہا تھا۔ تصور کیجیے کہ اگر وہ سچ مچ کسی زندہ خاتون سے مل لیتے تو دنیا کتنے بڑے صوفی کے فیض سے محروم ہو جاتی۔

Comments are closed.