مردانگی کا بوجھ


اس کی قمیص پر جگہ جگہ خون کے دھبے تھے۔ ہتھکڑی اور بیڑیاں ڈالے بھاری سَنگل سے بندھا وہ قدم گھسیٹ گھسیٹ کے چل رہا تھا۔ اس کا تیلے جیسا جسم وزنی سَنگل کو بڑی مشکل سے کھینچ رہا تھا۔ کندھے وزن سے جھکے اور سرنیچے جیسے مٹی میں کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈ رہا ہو۔ تین سپاہی اس کے ساتھ ساتھ سست رفتار میں چل رہے تھے۔ جولائی کا مہینا تھا اور جنوبی پنجاب کے اس چھوٹے سے قصبے میں ابھی تک بارش نہیں ہوئی تھی۔ چاروں طرف تپتی ہوئی ریت پھیلی تھی اور لو کے لال جھکڑ آگ برسا رہے تھے۔ وہ بڑی مشکل سے دو سو گز ہی چلے ہوں گے مگر اس کے جسم سے پسینا ایسے بہہ رہا تھا جیسے میلوں کی دوڑ لگا کر آرہا ہو۔

گلی میں کھڑے دو لڑکوں میں سے چھوٹے نے پوچھا کیا یہ ہے وہ آدمی جس نے قتل کیا ہے؟
”ہاں!“ اس کا بھائی بولا۔ ”بہادر بندہ ہے۔“

اس کا بوڑھا باپ، ماں اور خاندان کے دیگر لوگ کوئی پچاس گز پیچھے نظریں جھکائے بغیرکوئی بات کیے چلے آ رہے تھے۔ پچپن درجے کی تپتی دھوپ کے باوجود محلے کی عورتیں اور مرد دروازوں اور کھڑکیوں سے سر نکالے اس کو جاتے دیکھ رہے تھے اور معنی خیز انداز میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کی گھوں گھوں کرتی آوازوں سے ایسے لگ رہا تھا جیسے مکھیوں کا کوئی بہت بڑا غول ہوا میں گھوم رہا ہو۔

جب پولیس والے اسے لیے ہوے عدالت میں پہنچے تو جج صاحب شاید منتظر ہی بیٹھے تھے۔
”تو آپ  تسلیم کرتے ہیں کہ آپ نے ہی ملزمہ کو قتل کیا؟“
”جی ہاں۔“
”کیسے؟“
”وہ سورہی تھی۔ میں نے گنڈاسے کے وار کرکے اسے جہنم بھیج دیا۔“
”مالک اس کے گناہ معاف فرمائے۔“ جج صاحب بولے۔

جج صاحب نے اسے پندرہ سال قید با مشقت سنائی۔ جج کی بات ختم ہوتے ہی ساتھ آنے والے رشتہ داروں نے اس پر پھول برسانا شروع کردیے۔ بوڑھے باپ نے روتے ہوئے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا۔ بابا جی حوصلہ رکھیں۔ اور آپ اسے معاف بھی کر سکتے ہیں۔ جج صاحب نے کہا تو بوڑھے باپ کے آنسو پہلے سے بھی تیز ہوگئے۔ جج صاحب نے عدالت برخاست کی اور کچھ بڑبڑاتے ہوئے پچھلے کمرے میں چلے گئے۔

جب پولیس اسے عدالت سے لے کر جیل جارہی تھی تو محلے کی عورتیں اآدھے آدھے چہرے چادروں میں لپیٹے اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔ اور مرد ستایش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

جب جیل پہنچا تو بہت سے قیدیوں نے اس پر پھول برسائے اوراس کے حق میں نعرے لگائے، مگر وہ ان واقعات سے لاتعلق کسی اور ہی دنیا میں گم تھا۔ پولیس والے نے اسے کوٹھڑی میں بند کرکے باہر سے تالا لگاتے ہوے پوچھا، اسے کھانا یا کچھ اور چاہیے۔ مگر وہ کچھ نہ بولا۔

کوٹھڑی ٹوٹی پھوٹی ہوی تھی۔ فرش جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا اور اندر مکمل اندھیرا تھا۔ سورج کھڑا ہونے کی وجہ سے  سلاخوں والے دروازے سے ذرا سی روشنی اندر آرہی تھی۔ پندرہ سال اس کوٹھڑی میں گزارنے کا سوچ کر اسے جھرجھری سی آگئی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ جیل بھی جانا پڑے گا اور جیل کی حالت ایسی ہوگی۔ حالاں کہ گھر کی حالت بھی اس سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ مگر پھر بھی وہ گھر تو تھا۔

سورج ڈوبنے پر جب رات کو کوٹھڑی میں گھپ اندھیرا چھایا تو وہ گبھرا گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ پھر آہستہ آہستہ دیوار ٹٹولتے ہوئے ایک کونے میں جا بیٹھا اور موبائل فون کی لائٹ جلا کر کوٹھڑی کا جائزہ لینے لگا۔ فرش پر مختلف ٹوٹی پھوٹی چیزیں بکھری پڑی تھیں شاید پہلے والے قیدیوں کی تھیں۔ ایک زنگ آلود چاقو، بکرے کا ایک سینگ، ایک کونے میں کچھ انسانی ہڈیاں، مرحوم ضیا الحق کی ایک تصویر، اس کے اوپر پیشاب سے بھری بوتل، ٹوٹی ہوئی چوڑیاں، کچھ ادھورے خواب، سگریٹ کے ٹوٹے، ایک خون آلود بَلا، چلی ہوئی گولیوں کے خول، ٹوٹے ہوے دلوں کی آہیں اور ایک برسوں پرانے برانڈ کی ٹافیاں۔ تھوڑی دیر میں باہر زور کی آندھی آگئی اور ریت کے جھکڑ چلنے لگے۔ اڑتی ہوئی مٹی دھڑا دھڑ سلاخوں والے دروازے سے اندر آنے لگی اور جلد ہی کوٹھڑی کے فرش پر مٹی ہی مٹی جمع ہوچکی تھی۔ خاصا اندھیرا ہوچکنے کے باوجود گرمی کی شدت ویسے ہی تھی۔

ایک پل کو دل میں خیال آیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ جلد ہی اندھیرے میں بیٹھے بیٹھے اسے نیند آ گئی اور رات کے کسی پہر نیند ہی میں سیدھا ہو کے اندر آنے والی ریت پر سو گیا۔

رات خواب میں اُس کو دیکھا۔ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھی، وہ خود اس سے بھی کئی سال چھوٹا تھا۔ وہ اسے اُٹھاے بہت دیر گلیوں میں گھماتی رہی اور جھولے دیتی رہی۔ پھر ایک دکان پر لے گئی اور وہاں سے اسے ٹافیاں لے کر دیں، جو اسے بہت پسند تھیں۔ بلکہ بہت ہی زیادہ پسند تھیں۔ وہ بھی شاید یہ بات جانتی تھی۔ اسی لیے روزانہ اسے لے کر دکان پر جاتی تھی اور ٹافیاں خرید کے دیتی ۔ خواب دیکھتے دیکھتے رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل گی اور بیٹھ کر دیر تک روتا رہا۔ روتے روتے دوبارہ سوگیا۔ صبح جاگا تو باہر دو قیدی کھڑے تھے جو اس کے لیے، نان، کباب اور نہاری کا ناشتا لے کر آئے تھے۔ کوٹھڑی کے ایک کونے میں جیل کا کھانا بھی پڑا تھا۔ قیدیوں نے اسرار کیا کہ وہ ان کا لایا ہوا کھانا کھائے۔ قیدی خود سلاخوں والے دروازے کے باہر بیٹھ گئے اور مبارک دی کہ اس نے خاندانی کام کیا ہے۔

تم کس کیس میں آئے ہو؟ اس نے پوچھا تو وہ بولے کیس تو تمھارا ہے۔ ہمارے کون سے کیس ہیں ایسے ہی چوری وغیرہ کی تھی۔ پھر ایک قیدی بولا اچھا تو لگا ہوگا، جب تم نے مارا اس کو؟  بے دھیانی میں اس نے پوچھا۔ کیا بولا؟ قیدی بولا کچھ نہیں۔

ذرا دن چڑھا تو محلے کے کئی مرد حضرات اسے ملنے کے لیے آگیے۔ عام لوگوں کو تو آنے کی اجازت نہیں تھی مگر محلے کے ایک معروف سماجی کارکن ایک سیاسی شخصیت کے توسط سے آئے تھے، اپنے ساتھ دوسرے محلے والوں کو لے کر۔

دیکھو میاں تم نے ہم سب کا دل خوش کردیا۔ ورنہ محلے میں حالات خراب ہو سکتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ چلے گئے۔ وہ دن بھر کوٹھڑی میں بیٹھا رہا۔ بیڑیوں اور ہتھکڑی کے ساتھ کھڑا ہونا یا چلنا مشکل تھا اور کوٹھڑی ویسے بھی مٹی سے بھری پڑی تھی۔ شدید دوھوپ کی وجہ سے سب قیدی اپنی اپنی کوٹھڑی میں چھپے بیٹھے تھے۔ دن بھر لو کے بگولے چلتے رہے اور وہ انجانی سوچوں میں گم رہا۔

شام ہورہی تھی جب اسے کسی وجہ سے راشدہ کی یاد آگئی۔ کیسی ہوگی وہ۔ کہاں ہوگی۔ پہلے ہی اس نے کتنا انتظار ہے۔ اب تو وہ اپنے گھر والوں کے سامنے بے بس ہوجائے گی۔ آج کل تو پندرہ منٹ بھی کسی کا انتظار کرنا مشکل ہے، تو پھر پندرہ سال کون کسی کا انتظار کر سکتا ہے۔

پہلا دن جیل میں گزارنا بہت مشکل تھا۔ لمحے گن گن کر شام ہوئی تو پھر ایک ان جانے خوف نے گھیر لیا۔ وہ سونا نہیں چاہ رہا تھا اور بڑی دیر تک کوشش کرکے جاگتا رہا۔ مگر پھر تھک ہار کر رات کے کسی پہر آنکھ لگ گئی۔ خواب میں وہ پھر آگئی۔ اس وقت وہ آٹھویں پاس کرکے ہائی اسکول جانے لگی تھی۔ اسکول سے واپس آتے ہوئے، اس کے لیے ایک گھڑی خرید کر لائی تھی۔ جو پہن کر وہ بہت خوش ہوا۔ پھر وہ دونوں کھیلنے لگے اور کتنی ہی دیر تک کھیلتے رہے۔ جب وہ بولا کہ بھوک لگی ہے تو وہ بھاگی بھاگی اس کے لیے کچھ کھانے کو لینے گئی اور آم کاٹتے ہوئے اپنا ہاتھ زخمی کر لیا۔ بہت ہی خون بہہ رہا تھا مگر پٹی باندھ کر ہنستے ہنستے اس کے ساتھ کھیلتی رہی، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اگلے دن  وہ اسکول میں چہک چہک کے اپنے دوستوں کو اپنی نئی گھڑی دکھاتا رہا۔ تو وہ بولے، کاش ہمیں بھی کوئی ایسی چیزیں لے کر دینے والا ہوتا۔

صبح اُٹھا تو دو دوسرے قیدی ناشتا لے کر آئے ہوے تھے۔ اس کا کھانے کو دل نہیں تھا، مگر قیدیوں کے اصرار پر تھوڑا سا کھایا۔ کچھ ہی دیر بعد محلے کے مولوی صاحب کچھ نیک لوگوں کے ہم راہ اسے ملنے آگئے اور بشارت دی کہ وہ جنت میں جائے گا۔ یہ سن کر اس کی کچھ ڈھارس بندھی حالاں کہ ویسے مولوی صاحب اسے اس دن سے بالکل بھی پسند نہیں تھے، جب انھوں نے ایک شام کو اسے مدرسے میں زبردستی روک لیا تھا۔ اگلے دن جب گھر واپس پہنچا تو ماں کا رو رو کر برا حال تھا۔ ماں نے پوچھا کہ اس کی نکر پر خون کے دھبے کہاں سے آئے تھے تو اس کے پاس کچھ جواب نہیں تھا۔

رات ہوئی تو پھر وہی تنہائی، اندھیرا اور خوف۔ یوں روزانہ سورج نکلنے پر کوئی نہ کوئی مبارک باد دینے والا آجاتا اور رات کو سوتا تو وہ خوابوں میں آجاتی، جیسے اسے گھاوٴ لگانے آتی ہو۔ وہ رات بھر کوٹھڑی میں پھرتا رہتا اور خود سے باتیں کرتا رہتا۔ ساتھ والی کوٹھڑیوں کے کئی قیدیوں نے پہرے دار کو شکایت کی کہ اس کی بیڑیوں کے سنگل کا شور انھیں سونے نہیں دیتا۔ مسلسل بے خوابی کی وجہ سے جلد ہی اس کے لیے دن اور رات کا فرق مٹ گیا۔ کبھی نیند آجاتی تو دوچار منٹ کے لیے لیٹ جاتا اور ڈراونے خواب دیکھ کر اُٹھتا تو کوٹھڑی میں چلنا شروع کر دیتا، تاکہ نیند کو بھگا سکے۔ نیند پوری نہ ہونے کا دماغ پر اثر ہونے لگا اور خواب اور حقیقت میں فرق کرنے کی صلاحیت  کھو بیٹھا۔

کبھی خود کو فیکٹری میں کام کرنے والے ساتھیوں کے درمیان پاتا۔ کبھی محلے کے دوستوں کے ساتھ، اور کبھی پارک میں راشدہ کے ساتھ۔ وہ پچھلی کئی راتوں سے اس کے خواب میں نہیں آئی تھی، پھر ایک دن جب وہ آدھا سویا آدھا جاگ رہا تھا، تو وہ آگئی، لیکن اکیلی نہیں۔ اس کے ساتھ راشدہ بھی تھی۔ وہ اس سے کچھ کہے بغیر تھوڑا پرے بیٹھ گی اور راشدہ اس کے پاس آکر بولی کہ کچھ بات کرنی ہے۔
کیا بات کرنی ہے تم نے۔
وہ بلاوجہ روکھے انداز میں بولا جس پر اسے خود بھی حیرت ہوئی۔ راشدہ نے کہا کہ نادیہ کو ایک لڑکا پسند ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات سن کر اس کا سر گھوم گیا۔ یہ نہیں ہوسکتا وہ فورا بولا۔
”ہم دونوں بھی تو ایسا کرنا چاہتے ہیں۔“
”ہماری بات اور ہے۔“ وہ نظریں نیچی رکھتے ہوے بولا۔
”اس لیے کہ میں کسی اور کی بیٹی ہوں؟“
”نہیں یہ بات نہیں ہے۔“ وہ بولا۔ ”اچھا یہ بتاو، وہ اس سے ملتی تو نہیں ہے؟“
”دو چار بار ملی ہے۔“
”میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا تم اس کو سمجھا دو ورنہ۔“ اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”میں اس کو نہیں سمجھا سکتی۔“ راشدہ بولی اور غصے میں اس کو ساتھ لے کر چلی گئی۔

وہ جاگا تو پسینے میں شرابور تھا اور زور زور سے ہاتھ پاوں چلا رہا تھا۔ ہتھ کڑی اور بیڑیوں کے لوہے نے بازو اور ٹانگیں زخمی کر دیے تھے۔ پہرے دار بھاگتا ہوا آیا اور بولا خیریت ہے؟ تو اس سے کوئی جواب نہ بن پایا۔

اگلے دو دن تک وہ بالکل نہیں سویا۔ اتنا ڈر گیا تھا کہ ہر حربے سے خود کو جگائے رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ کوٹھڑی میں چلتا رہتا، زور زور سے ہاتھ پاوں چلاتا رہتا، کبھی فرش پہ پڑی مٹی میں لیٹنا شروع کردیتا اور کبھی کبھار تو کوٹھڑی کی دیوار میں ٹکریں مارتا۔ آخر تھک ہار کر نیند آ ہی جاتی اور پھر وہی خواب اور ان کا عذاب۔

آج کل وہ آتی تو پہلے کی طرح نظریں جھکائے نہیں آتی تھی۔ اچھے اچھے کپڑے پہن رکھے ہوتے اور خوب بن سنور کے آتی۔ جیسے اسے جان بوجھ کر تنگ کرنا چاہتی ہو۔ ایک دن وہ آئی تو اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا۔ اسے اس لڑکے کو دیکھ کر بہت غصہ آیا۔ کیا عجیب وغریب شکل تھی، اس کی۔ جسے پنجابی میں کہتے ہیں نہ ”منہ نہ متھا، تے جن پہاڑوں لتھا۔“ یہ سوچ کر کہ اگر اس نے واقعی اس لڑکے سے شادی کرلی تو پھر کیا ہوگا۔ غصے میں اتنا برا حال ہوگیا کہ سوتے میں بھی زور سے انکھیں بند کررکھی تھیں اور ”نہیں نہیں“ چلا رہا تھا۔

کوٹھڑی کا پہرے دار کئی دنوں سے اس کی بدلتی حالت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ اس نے آخر کار جیلر کو اطلاع کردی۔ جیلر نے ڈاکٹر بھیجا، جس نے اسے چیک کرکے کچھ دوا دیں۔ مگر اس کی حالت ذرا بہتر نہ ہوئی۔

اسے لاکھ کوشش کے باوجود نیند آجاتی اور نیند کےساتھ ہی، وہ۔ اب اور لوگ بھی آنا شروع ہوگئے تھے۔ ایک دن اس کے دو دوست آئے اور بتایا کہ انھوں نے نادیہ کو ایک لڑکے کے ساتھ، دوسرے  محلے کے پارک میں دیکھا تھا۔ ثبوت کے طور پر وہ فوٹو بھی بنا لائے تھے۔ وہی منحوس تھا۔ اس میں اپنے دوستوں سے آنکھ ملانے کی ہمت نہ تھی۔ دوست بھی سمجھ گئے اور بولے ہمارا فرض تھا، تمھیں بتانا۔ یہ کہہ کر وہ چل دیے۔ جب اس کی انکھ کھلی تو غصے میں کسی کو للکار رہا تھا۔
”اگر تم نے ایسا کیا تو مجھ سے بُرا کوی نہیں ہوگا۔“

نیند دشمن بن گئی تھی۔ جب بھی آتی ساتھ خوف اور وحشت لیے اَتی۔ اگلے دنوں میں بہت سے لوگ خواب میں آئے۔ ان گنت چہرے، جانے ان جانے، دیکھے ان دیکھے۔ ایک دن گلی میں سے گزر رہا تھا، کہ پیچھے سے آواز آئی، یہ بے غیرت اُس کا چھوٹا بھائی ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو کچھ لڑکے جن کو وہ جانتا نہیں تھا اونچی اونچی قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک دن فیکڑی میں کام کر رہا تھا تو ایک لڑکا اس کے پاس آیا اور بولا میری بات کا غصہ مت کرنا، مگر اپنے گھر کا خیال کرو۔ فیس بک پر ان دونوں کی تصویریں ہیں۔

خوابوں اور بے خوابی نے اس کی حالت بہت خراب کردی تھی۔ بہت ہی کم زور ہوگیا تھا۔ کئی قیدی اس سے بات چیت کرنے کے خواہاں تھے، جو اس کی کوٹھڑی کے باہر بیٹھے رہتے، مگر وہ سارا دن مٹی ہی میں پڑا رہتا۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ دن بھر آنکھوں کے پپوٹے ہاتھوں سے پکڑ کر کھلے رکھنے میں لگا رہتا۔ یا ان میں مٹی ڈالتا تا کہ جلن اور درد سے نیند نہ آئے۔ جیلر کی ہدایت پر ڈاکٹر ہر روز آکر اسے گلوکوز کی ایک بوتل لگا جاتا۔ مگر اس کی حالت دن بدن بد سے بد تر ہوتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر نے جیلر کو مشورہ دیا کہ اسے دماغی امراض کے اسپتال میں منتقل کر دینا چاہیے۔

ایک دن بے ہوش ہوکر کوٹھڑی میں گر گیا اور بڑی گہری نیند سوگیا۔ کچھ ہی دیر سویا ہوگا جب وہ آگئی۔ اس نے سوہا جوڑا پہن رکھا تھا۔ وہ فیکٹری سے گھر آیا ہی تھا۔ وہ آ کے اس کے پاس بیٹھ گئی اور بولی، ”ماں اور بابا نہیں مان رہے۔ تم میرا ساتھ دو گے ناں۔ قسم سے وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ ہم لوگ اس ہفتے شادی کرلیں گے۔“ وہ آدھی بات سنتے ہی اُٹھ کر بھاگا۔ پیچھے سے وہ بولی، ”بھائی؟“ مگر وہ کب کا جا چکا تھا۔

گلی میں اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے جارہا تھا، تو دیکھا کہ محلے کے معروف سماجی کارکن اور مولوی صاحب کھڑے کچھ لوگوں سے بحث کررہے تھے۔ اسے دیکھا تو سماجی کارکن بولا ”او میاں تم کچھ کرو گے اس گندگی کا یا ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا؟ ہم خاندانی لوگ ہیں ایسے گندے کام کی محلے میں اجازت نہیں دے سکتے۔“ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ ان کی بات سن کر وہاں سے چلا ہی تھا کہ پیچھے سے آواز آئی، ”اس بے غیرت کے بس کی بات نہیں ہے صاحب ہمیں خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔“

بے بسی اور غصے سے اس کا پورا بدن جل رہا تھا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا، کہ کیا کرے۔ شام میں دیر تک اپنے دوستوں کو ڈھونڈتا رہا، مگر وہ نہ ملے۔ اندھیرا ہو چکا تھا مگر اس میں گھر لوٹنے کی ہمت نہ تھی۔ پھر ایک لڑکا یاد آ گیا جو اس کے اسکول میں ہوتا تھا، اور بعد میں ایک گروہ بنا کر بسیں وغیرہ لوٹنے لگا تھا۔ محلے کے کئی اور لڑکے بھی اس کے گروہ میں شامل ہوگئے تھے، جن میں معروف سماجی کارکن کا چھوٹا بیٹا بھی تھا۔ وہ گروہ کے سرغنہ کے گھر کی طرف چل دیا۔

وہاں پہنچا تو دیکھا کہ بہت سارے لڑکے بیٹھے ہیں۔ اس کا خیال تھا کہ وہ گروہ کے سرغنہ سے پستول ادھار مانگے گا، مگر ابھی تھوڑا دور ہی تھا، کہ کسی نے کہا ”وہ آگیا بے غیرت۔“ اسے کچھ یاد نہیں کہ وہ کیسے وہاں سے نکلا اور کب گھر پہنچا۔ رات کافی ہوچکی تھی جب وہ گھر آیا۔ ماں اور بابا سو چکے تھے۔

وہ اس کے کمرے میں گیا اور دیکھا کہ وہ بھی سو رہی تھی۔ واپس آ کر دوسرے کمرے سے لکڑیاں کاٹنے والا گنڈاسا اُٹھایا اور پھر اس کے کمرے میں پہنچ گیا۔ وہ بڑے سکون سے سو رہی تھی۔ سوتے میں بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ پچپن سے وہ اس مسکراہٹ کو دیکھتا آیا تھا، مگر آج اسے سوتے میں مسکراتے دیکھ کر اس کے بدن میں جیسے زہر بھر گیا ہو۔ اس نے گنڈاسا اوپر اُٹھایا اور ایک، دو، تین۔ پتا تب چلا جب خون کا ایک فوارہ اس کی گردن سے پھوٹا اور اس کے بھی کپڑے لہو لہان کر گیا۔ اس کا سر جسم سے جدا ہو کر پرے جا پڑا، مگر لبوں کی مسکراہٹ اب بھی ویسے ہی تھی۔

وہ گھر سے نکل کر ایک طرف کو بھاگنا شروع ہوگیا۔ رات ایک چبوترے پر بیٹھ کر گزاری۔ صبح ہوئی تو کسی نے اسے دیکھ کر پولیس کو اطلاع کردی۔ تین پولیس والے نزدیکی تھانے سے بھاگم بھاگ پہنچے اور گنڈاسے سمیت اسے گرفتار کرلیا۔ ماں صبح نادیہ کو جگانے گئی تو اسے خون میں لت پت پڑے دیکھ کر روتے روتے اس کے باپ کے پاس گئی۔ وہ دونوں بیٹے کو گھر نہ پا کر پاگلوں کی طرح گلیوں میں اسے ڈھونڈنے لگے۔ زار قطار روتے ہوئے جارہے تھے، جب انھیں کسی نے بتایا کہ ان کا بیٹا آلہ قتل کے ساتھ پکڑا گیا ہے اور پولیس اسے لے کر عدالت جارہی ہے۔ ابھی وہ وہیں کھڑے تھے کہ پولیس والے اسے ہتھ کڑی اور بیڑیاں پہنائے آ گئے۔ سارا محلہ اکٹھا ہوچکا تھا۔ مرد، عورتیں اور بچے پورے زور و شور سے سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ جو پورے محلے میں سنی جا سکتی تھیں۔

جب آنکھ کھلی تو اس کا بدن بخار سے جل رہا تھا۔ بخار کی شدت سے اسے لگا کہ وہ مر چکا ہے اور جہنم میں ہے، جہاں چاروں طرف آگ لگی ہے، اور انسانوں کا ایندھن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ ساتھ والے قیدی، اس کی چیخوں اور آہ و پکار کی وجہ سے ساری رات نہ سو سکے تھے اور صبح ہی صبح انھوں نے پہرے دار سے شکایت کی کہ یا تو اس ذہنی بیمار کو کسی دوسری کوٹھڑی میں بھیج دیا جائے، یا انھیں کہیں اور منتقل کر دیا جائے۔

پہرے دار نے اس کا بخار دیکھ کر جیلر صاحب کو اطلاع دی، جس نے اس کے ماں باپ کو پیغام بھجوایا کہ آپ کے بیٹے کی حالت نازک ہے، آ کر اسے مل لیں۔ باپ نے جج صاحب کے پاس جاکر بیان دیا کہ میں نے قاتل کو معاف کیا۔ اور پھر ایمبولینس لے کر جیل کے رخ چل دیا۔

مولوی صاحب جنھیں رات کو جیلر صاحب کے گھر سے نکلتے دیکھا گیا تھا، صبح ہی صبح اُٹھ کر محلے کے پارک میں مسجد کے پیچھے ایک قبر کھدوا چکے تھے اور اب وہ اور معروف سماجی کارکن کوئی دو درجن محلے والوں اور سیکڑوں اسلحے سے لیس اجنبیوں کو گاڑیوں کے ایک جلوس میں لے کر اور شہر بھر کے سارے پھول، پھولوں والوں کی منتوں کے باوجود کہ کچھ پھول تو شادیوں، پیدایشوں، انتخابات، اور مرنے والوں کے لیے چھوڑ جاو، زبردستی خرید کر جیل کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ سب سے اگلی گاڑی میں عرب سے آئی ہوئی دیودار کی لکڑی کا بہت ہی خوبصورت صندوق رکھا تھا۔ جسے بڑی احتیاط سے سبز پرچم میں لپیٹا ہوا تھا۔ گاڑی کے باہر کھڑا جیلر فدویانہ انداز میں متمنی التفات تھا۔ آپ کے درجات بہت بلند ہیں جیلر صاحب مولوی صاحب نے کہا اور پھر دفن کرنے والے صندوق کو دیکھ کر دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائیور سے بولے چلو میاں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں