کرپشن کی پولیٹیکل اکانومی کیا ہے؟


zeeshan hashimابتدا اس بنیادی سوال سے کرتے ہیں کہ آخر کرپشن کہتے کسے ہیں؟ کرپشن کہتے ہیں بے ضابطگی کو، بے اصولی کو، کوئی اصل چیز چھپا کر نقل کو بطور اصل پیش کرنے کو، جھوٹ کو، اور کسی بھی شے کو اس کی اصل قدر سے کمتر یا برتر ثابت کرنے کو کرپشن کہتے ہیں۔ استاد محترم وجاہت مسعود کے الفاظ میں کرپشن کا مطلب ایسی خرابی ہے جس سے پورا نظام اتھل پتھل ہو جائے۔ خاکسار اس تحریر میں کرپشن کی مالی قسم کو زیر بحث لائے گا کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جن سے کرپشن کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے، اس کا ہماری معیشت سے کیا تعلق ہے نیز آخر اس پیچیدہ مسئلہ کو کیسے حل کیا جائے؟

کرپشن کی دو بڑی اقسام ہیں ۔

اول: کرپشن کی وہ قسم جو ریاستی قانون ساز اداروں، عدلیہ، اور انتظامیہ سمیت تمام بیوروکریٹک اداروں میں پائی جاتی ہے، اسے پولیٹیکل اکانومی کی زبان میں سرکاری کرپشن کہتے ہیں جب کہ وہ کرپشن جو عوامی حلقوں، ہمارے سماج، ہمارے روزمرہ کے معاملات، ہمارے نجی کاروباری لین دین وغیرہ میں پائی جاتی ہے اسے “پرائیویٹ کرپشن” کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی سڑک کی تعمیر یا مرمت کا ٹھیکہ کسی بیوروکریٹ یا سیاستدان کو رشوت دے کر اپنے نام کروا لیتے ہیں تو یہ سرکاری کرپشن ہو گی۔ اسی طرح اگر آپ کسی سے کوئی چیز ادھار پر خریدتے ہیں اور ادائیگی کے وقت پیسے دینے سے انکار کر دیتے ہیں تو یہ پرائیویٹ کرپشن ہو گی۔ پولیٹیکل اکانومی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں معاشی ترقی کے لئے سب سے خطرناک پرائیویٹ کرپشن ہے کیونکہ یہ براہ راست ہماری معاشی ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس سے پروڈیوسر کی پیداوار کے لئے ترغیبات و محرکات کا خاتمہ ہو جاتا ہے یا اس میں کمی آ جاتی ہے۔  یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی ملک میں معاشی ترقی کا انحصار کل پیداوار پر ہے۔

دیکھیں معیشت کو سمجھنےکا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ کاروبار (بزنس ) کو سمجھیں کہ کیسے کیا جا تا ہے، ایک سے زیادہ کاروبار ایک دوسرے سے کیسے معاملات طے کرتے ہیں۔ وہ کون سے عوامل ہیں جو کاروبار کو ترقی دیتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جو اس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کو جب ہم ایک کل میں دیکھتے ہیں تو سامنے نظر آنے والی تصویر کو عموماً معیشت کہتے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں کا انحصار دو یا دو سے زیادہ کاروباری فریقین (بیچنے والا اور خریدنے والا) کے درمیان خرید و فروخت کے معاملات میں ایمانداری، اعتماد اور تعاون پر ہے۔ کسی بھی بے ایمان بد اعتماد اور تعاون سے عاری فریق سے کوئی کاروبار کرنا نہیں چاہے گا۔ پرائیویٹ کرپشن اس اعتماد، تعاون، اور ایمانداری کی اساس کو تباہ کر دیتی ہے، یوں مارکیٹ میں ڈیمانڈ (طلب) ہونے کے باوجود بھی پروڈیوسر پیداواری سرگرمیوں سے پرہیز کرتا ہے۔ مثال کے طور پر میں جانتا ہوں کہ اگر میں مارکیٹ میں کوئی چیز بیچنے جاؤں گا، وہ بک تو فوراً جائے گی مگر مجھے یہ ڈر ہے کہ خریدار چیز خرچ کر کے بھی پیسوں کی ادائیگی سے مکر جائے گا یوں اس پرائیویٹ کرپشن کے نتیجے میں، میں باوجود مارکیٹ میں طلب کے پیداواری سرگرمی سے دور رہوں گا، جس کا مجموعی نتیجہ یہ ہو گا کہ معاشی ترقی رک جائے گی۔ اگر میں کاروبار نہیں کروں گا تو یقیناً روزگار پیدا نہیں ہو گا جس کا نتیجہ غربت اور بھوک ہو گی۔ پولیٹیکل اکانومی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ کرپشن سرکاری کرپشن سے بھی عموماً زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ یہ پیداواری سرگرمیوں کو دفن کر دیتی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ معاشی عمل کی اول اور اہم سرگرمی پیداوار ہے۔

اس اعتماد (ٹرسٹ ) ایمانداری اور تعاون کا معیشت میں انتہائی اہم کردار ہے۔ مارکیٹ اس وقت عروج پر ہوتی ہے جب تمام کاروباری فریقین (خریدار و بیچنے والا ) کا مارکیٹ پر اعتماد عروج پر ہوتا ہے اور وہ کاروبار کرتے جاتے ہیں۔ مارکیٹ میں بحران اس وقت آتا ہے جب تمام کاروباری فریقین کا مارکیٹ پر اعتماد اٹھ جاتا ہےاور وہ خرید و فروخت روک دیتے ہیں یا کم کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی ملک کی مارکیٹ بحران سے اس وقت نکلتی ہے جب فریقین کا مارکیٹ پر اعتماد پھر سے بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ عموما ایک فطری عمل ہے جو مارکیٹ میں جاری رہتا ہے۔

پرائیویٹ کرپشن کی ایک اور قسم جرائم ہیں جس کی بدترین مثالیں بھتہ، تاوان، چوری چکاری اور لوٹ مار وغیرہ ہیں۔ یہ ایک کاروبار کو خطرات میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر میں نے ایک چیز اپنی فیکٹری میں تیار کی ہے اور گاہک کا آرڈر موصول ہوتا ہے کہ میں اس تک سامان کی ڈلیوری پہنچاؤں، اگر بالفرض مجھے یہ ڈر ہو کہ راستہ میں کوئی ٹرک روک کر سامان چھین لے گا تو میں ہرگز بھی سامان نہیں بھیجوں گا۔ سامان نہیں بکے گا تو میں فیکٹری بند کر دوں گا جس کا ملک کی معیشت اور روزگار پر بدترین اثر پڑے گا۔ اگر معاملہ محض پیسے تک محدود ہے جیسے بھتہ، تو کاروبار ایسے نقصانات کو اپنے پیداواری اخراجات میں ڈال کر اس کے حساب سے قیمتیں طے کرتے ہیں۔ اگر صارف ان قیمتوں کو قبول کر لے تو کاروبار چلتے جاتے ہیں اور اگر صارف اس مخصوص چیز کو زیادہ قیمت کے سبب خریدنے سے انکار کر دے تو کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں نقصان سوسائٹی کا ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں نے ایک چیز سو روپے کی بنائی ہے، اور بھتہ مافیا مجھ سمیت تمام کاروباری افراد سے 30 روپے بھتہ مانگ رہا ہےتو نتیجہ میں مجھ سمیت تمام کاروباری ادارے اس چیز کی قیمت 130 روپے کی لاگت سے طے کریں گے یوں بھتہ مافیا کی بدمعاشی پر خاموش عوام بھی اس کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہو گی۔

ریاست جتنی کمزور ہو گی پرائیویٹ کرپشن اتنی زیادہ ہو گی۔ یاد رہے کہ ریاست کی کمزوری سے مراد یہاں تمام ریاستی اداروں کی اپنے اپنے دائرہ کار میں پروفیشنل مہارتوں میں کمی اور غیر سنجیدگی ہے۔ اگر مجھے مال کی ڈیلوری دیتے ہوئے ٹرک چھن جانے کا خطرہ ہے تو سڑکوں کو پرامن بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی باوجود ایک لیگل کنٹریکٹ کے مجھے ادائیگی نہیں کر رہا تو قانونی معا ہدوں کی پابندی کروانا عدلیہ و انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔

سرکاری کرپشن 

سرکاری کرپشن کی آگے مزید دو اقسام ہیں

ایک: یہ کرپشن کی وہ قسم ہے جس میں سیاستدان اور سرکاری ملازمین یا بیوروکریسی کسی قانونی کام کو سست رفتاری کے بجائے تیز رفتاری سے سرانجام دینے کے لئے رشوت لیتے یا سفارش کا اثر لیتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں معمولی درجے کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے رشوت لے کر یا سفارش سن کر جو رعایت دی جاتی ہے، یا پھر کوئی ناجائز فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ اس قسم کی کرپشن کے اخراجات کو بھی عموماً ہر کاروبار اپنے پیداواری اخراجات میں ڈال کر صارف سے وصول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر مارکیٹ میں مقابلہ کی ثقافت ہے تو وہ اس کوشش میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ وہ کمپنی جس نے رشوت دیئے بغیر قانونی طور پر تمام سرگرمیاں سرانجام دی ہوتی ہیں ان کی پیداواری لاگت چونکہ کم ہو گی اور وہ صارف کو اشیاء یا خدمات بھی کم قیمت پر پیش کریں گے یوں زیادہ قیمت وصول کرنے والا کاروبار مارکیٹ سے باہر ہو جائے گا یا پھر وہ کوئی اور حربہ سوچنے کی کوشش کرے گا۔ اگر میرے گھر کی گلی میں دو دکانیں ہیں اور دونوں میں کسی شے کی قیمت میں فرق ہے تو میں کم قیمت وصول کرنے والی دکان پر جاؤں گا۔ اسی طرح اگر پورے محلے میں صرف ایک ہی دکان ہے تو میں مجبور ہوں گا کہ اپنی ضرورت کے لئے منہ مانگے دام ادا کروں۔ اس قسم کی کرپشن سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں۔ وہ ممالک جہاں مارکیٹ میں مقابلہ کی ثقافت پائی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات بھی معاشی سرگرمیوں پر محدود ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

سرکاری کرپشن کی دوسری خطرناک قسم وہ ہے جس میں سیاستدان یا بیوروکریسی کسی کاروباری کمپنی سے پیسے لے کر اسے یا تو مارکیٹ میں اجارہ داری (مناپلی) قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں یا کوئی نیا قانون اسمبلیوں سے پاس کروا کے یا کسی نئی ادارہ جاتی پالیسی کی مدد سے کسی کمپنی کو قانوناً رعایت یا سہولت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کی یونین گورنمنٹ پر دباؤ ڈال کر ان سے ٹیکس میں مکمل چھوٹ لیتی ہے اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ الٹا گورنمنٹ سے وصول کرتی ہے۔

اس طرح کی کرپشن پاکستان میں عام ہے اور یہ کرپشن کی بدترین قسم ہے۔ اس کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں کسی ایک کمپنی یا کچھ کمپنیوں کی یونین کی کسی ایک سیکٹر یا انڈسٹری پر اجارہ داری قائم ہوتی ہے۔ اجارہ داری چاہے سیاست میں ہو سماج میں یا معیشت میں ظلم کی بدترین قسم ہے۔ اس میں مقابلہ اور کارکردگی کی بجائے قبضے اور استحصال کی نفسیات کا غلبہ ہوتا ہے۔

پولیٹیکل اکانومی کا اصول ہے کہ ریاست معاشی سرگرمیوں میں جتنا ملوث ہوتی جائے گی اتنا ہی کرپشن کی اس قسم کو فروغ حاصل ہو گا۔ جب کسی ادارے کے بڑے افسر کو (جیسا کہ پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو معلوم ہو گا کہ ٹیکس قانون کی کسی شق میں تھوڑی سی تبدیلی کسی کمپنی کو کروڑوں کا فائدہ دے سکتی ہے تو اس میں کرپشن کی تحریک کے پیدا ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ مثال آپ کے سامنے ہے، پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کے ہاں آزاد تجارت کا چال چلن ہے، پاکستان کی معاشی پالیسی میں یہ ثقافت انتہائی کمزور ہے۔ اب پاکستان میں ٹماٹر کی امپورٹ پر پابندی ہے مگر دلچسپ بات یہ کہ processed ٹماٹر جیسا کہ اس کا “کیچ اپ ” وغیرہ اس کی امپورٹ پر ڈیوٹی انتہائی کم ہے۔ امپورٹ پالیسی میں ایک چھوٹی سی تبدیلی میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے اداروں کو کتنا فائدہ دے سکتی ہے آپ جانتے ہیں۔ اس طرح کی کرپشن عموما نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب تجارت پر پابندیاں لگتی ہیں تو پورٹ افسران کو پیسے دے کر اپنے تجارتی مال کے لیے پرمٹ حاصل کرنے کا رواج بڑھ جاتا ہے، اور جب تجارت آزاد ہوتی ہے تو یہ امکان انتہائی کم ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے آپ دنیا کی تمام بندرگاہوں میں کرپشن کے اعدادوشمار اٹھا لیں۔ جہاں بیرونی تجارت پر سختیاں ہیں وہاں کرپشن زیادہ ہے اور جہاں صرف کوالٹی اور انتظامی امور پر توجہ دی جاتی ہے وہاں آپ کو کرپشن کی شرح بھی کم ملے گا۔ آپ مثال کے طور پر دبئی کی بندرگاہ جبل علی اور ایران کی بندرگاہ بندر عباس پر تجارتی سامان کی نقل و حرکت کی رفتار اور کرپشن کی شرح دیکھ سکتے ہیں۔

کیا کرپشن معاشی ترقی میں رکاوٹ ہے ؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ غریب ممالک کی غربت کا سبب یہ نہیں کہ وہاں مارکیٹ کام نہیں کر سکتی یا امدادی ادارے امداد نہیں دے رہے یا وہاں قدرت ان سے دشمنی کر رہی ہے ؟ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ غریب ممالک کا اصل مسئلہ چاہے وہ سماجی ہے یا معاشی ہے اس کی جڑیں اصل میں سیاسی ہیں جو اجارہ داری کی ثقافت کا تحفظ کرتی ہیں۔ ہمارے پاس افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ سنٹرل ایشیاء جنوبی ایشیاء سمیت ان ممالک کی ان گنت مثالیں ہیں۔ پاکستان میں بھی ہمیں دلچسپ شماریاتی ثبوت حاصل ہیں کہ جب سیاسی استحکام قائم ہوتا ہے تو معاشی ترقی کو راستہ ملتا ہے اور جب سیاست ڈاںواں ڈول ہوتی ہے تو سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں معیشت بھی مضطرب ہو جاتی ہے۔ غریب ممالک کی سیاست پر یا تو فوج کا قبضہ ہے یا بادشاہ کا یا قبائلی سرداروں کا یا بیوروکریسی ہٹ دھرم ہے یا سیاسی استحکام حاصل نہیں اور یا پھر اداروں کو پنپنے کے مواقع محدود و مقید ہیں۔ ایک بھی ایسا ملک دکھا دیجئے جہاں جمہوری استحکام ہو اور سول ادارے مضبوط ہوں مگر وہ ملک معاشی طور پر غریب ہو ؟ آپ کو ایسا کوئی ملک نہیں ملے گا۔

ذیل میں کرپشن کی چند دیگر وجوہات کا ہم مختصرا ذکر کریں گے۔

۔ جب اداروں کی سرگرمیاں زیادہ سے زیادہ آن لائن ہوں گی اور متعلقہ سرکاری ملازمین سے فریقین کا ملنا کم ہو گا تو اتنا ہی کرپشن کے امکانات کم ہو جائیں گے …مینوئل سرکاری سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین کی یا تو مٹھی گرم کی جاتی ہے اور یا پھر سفارش دی جاتی ہے تب جا کر سرکاری سہولیات جلد سے جلد حاصل کی جاتی ہیں۔

۔ ایک معاشرہ جتنا متنوع ہو گا اتنی ہی کرپشن زیادہ ہو گی۔ ایک ذات، زبان، مذہب یا علاقے کا فرد اس آدمی کو زیادہ رعایت یا آسانی دے گا جس کا تعلق اس کی مشترک ذات زبان مذہب یا علاقے سے ہو گا۔

۔ جن جن سرکاری یا نجی ملکیت کے اداروں کو بیرونی ذرائع سے خیراتی فنڈ ملتے ہیں ان میں کرپشن کی شرح بہت زیادہ ہے چاہے وہ مذہبی مدرسے ہوں یا این جی اوز۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو پیسے دے رہا ہوتا ہے وہ کارکردگی کا عینی شاہد نہیں ہوتا، اسے آپ ایک ہنستی مسکراتی رپورٹ دکھا کر مطمئن کر سکتے ہیں۔ کاروباری ادارے اپنی کارکردگی کو مالی نفع و نقصان سے جانچتے ہیں، اس میں کارکردگی کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہوتا۔ سرکاری ادارے عموماً اپنی کارکردگی کا جائزہ رپورٹس سے لیتے ہیں، اچھی لفاظی خزاں کو بھی بہار دکھا سکتی ہے۔

۔ ادارے جتنے کمزور ہوں گے اتنا ہی کرپشن زیادہ اور آسان ہو گی۔ یہاں اہم نقطہ یہ ہے کہ ادارے سیمنٹ و سریے سے مضبوط نہیں ہوتے اور نہ ہی محض قانون لاگو کرنے سے وہ مستحکم ہو جاتے ہیں۔ قانون اور ثقافت میں اگر فرق دیکھا جائے تو چاہے اصولی طور پر قانون کا پلڑا بھاری ہوتا ہے مگر عملاً رواج ثقافت کا ہوتا ہے۔ ثقافت روایات کا تسلسل ہوتا ہے، اس کی جڑیں تاریخ اور اقدار میں دھنسی ہوتی ہیں۔ محض قانون کی شق بدلنے سے ثقافت کا رجحان بدلنا آسان نہیں۔ اسی لئے دنیا میں جہاں بھی ادارے مضبوط ہیں وہاں انہیں ارتقائی قوتوں کی خاص مدد حاصل رہی ہے جو محض ایک دن یا چند سالوں کا واقعہ نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کی منظم کوششوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان میں جب تک اداروں کو وقت نہیں ملتا اس وقت تک ان میں بہتری کا امکان انتہائی کم ہے۔ یہاں فوج اور بیوروکریسی اس لئے بھی مضبوط ہے کہ یہ دو ادارے برطانوی راج میں بھی مضبوط تھے اور مغلوں کے اقتدار میں بھی یہ اپنی قدیم شکل میں موجود تھے۔ سیاسی اداروں کی یہاں تاریخ مختصر اور کمزور ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ سیاسی و سول ادارے وقت کی بھٹی میں پکے بغیر مضبوط ہو جائیں۔

۔ ایک اہم نقطہ انسانی نفسیات کا بھی ہے جو ترغیبات (Incentives) کو رسپانس کرتی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ فائدہ کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور نقصان سے دور ہٹتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہم سے قرض لے کر واپس نہیں کر رہا تو ہم اسے دوبارہ قرض نہیں دیں گے۔ اسی طرح اگر ایک شخص ہزار روپے کماتا ہے اور نتیجے میں اسے تین سو ستر سے چار سو کا ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ دوسرا شخص ہزار روپے کماتا ہے مگر سو روپے ٹیکس آفیسر کو دے کر اپنے دو سو ستر سے تین سو روپے بچا لیتا ہے تو ہو گا یہی کہ باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے کے اندر بھی ٹیکس سے بچنے کی تحریک پیدا ہو گی، یوں بدعنوانی آگے فرد سے فرد پھیلتی جائے گا تب تک کہ ریاست ٹیکس کی ثقافت کو ٹیکس ادائیگی کے مثبت محرکات (incentive ) سے نہیں جوڑ دیتی جن میں سے ایک یہ ہے کہ فرد کو یقین ہو جو ٹیکس اس سے وصول کیا جا رہا ہے وہ اس پر ہی خرچ ہو گا۔

انسانی فطرت ہے کہ ہم جبر کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ آزادی ہماری فطرت کا جوہر ہے۔ قانون جبر کی ہی ایک قسم ہیں، اگر قوانین عوام میں مثبت محرکات اور ترغیبات پیدا نہیں کرتے تو یقینا عوام ان سے انحراف کی ہر ممکن کوشش کریں گے یوں اس سے مالی اخلاقی اور سماجی کرپشن کو راستہ ملے گا۔ اسی طرح اگر قوانین مثبت محرکات اور ترغیبات کو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں تو ہم خود ان کی طرف بڑھیں گے۔ یوں حاصل یہی ہے کہ جب تک قانون سازی و انتظامی اداروں کی ثقافت لوگوں کی آرزوؤں کے عین مطابق نہیں ہو گی اس وقت تک کرپشن کی مختلف اقسام ہمیں نقصان پہنچاتی رہیں گی۔

۔ جتنا زیادہ نظام بیوروکریٹک ہوتا جائے گا اتنا ہی کرپشن بڑھتی جائے گی۔

۔ قانون کی حکمرانی سماج کو مہذب بناتی ہے۔ کوئی بھی ادارہ اگر قانون توڑ کر قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے شیطان کو دنیا میں بھلائی پھیلانے کے لئے اقتدار دے دیا جائے۔ قانون کی حکمرانی قانون کی پابندی میں ہی ہے۔ وہ معاشرے جہاں قانون کی عملداری کمزور ہے وہاں کرپشن کا راج ہے۔

اس تحریر میں نہ تمام وجوہات کا تفصیل سے ذکر ہے اور نہ ہی میں کسی کرپشن مکاؤ سائنس کا کوئی نامی گرامی ماہر ہوں۔ سوشل سائنسز کے مطالعہ سے اب تک جو سمجھ پایا ہوں مختصرا آپ کے سامنے رکھ دیا ہے، آئیے اس موضوع کو سنجیدہ مکالمہ کا موضوع بنائیں جس میں سنجیدہ تجزیاتی و تجرباتی سائنس کا غلبہ ہو تاکہ معاشرہ انتشار کو ختم کرنے کے لئے انتشار کے راستہ کا انتخاب کرنے کے بجائے مخلص و مہذب انتظام کی طرف رجوع کرے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “کرپشن کی پولیٹیکل اکانومی کیا ہے؟

  • 28-04-2016 at 1:57 am
    Permalink

    آپ کی ساری باتیں درست لیکن اگرگھر کی عورت مرد کا ساتھ نہ دے تو مرد کرپشن کر ہی نہیں سکتا۔ مرد کس کے لیے جائز و ناجائز ذرایع سے دولت اکھٹی کرتا ہے، خاندان کے لیے، بیوی بچے یا ماں با پ اور بہن بھائی۔ اگر عورت خواہ وہ ماں ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے یا بہن ہے اگر مرد سے یہ سوال کردے کہ کہاں سے آئے یہ اضافی پیسے ، یا آمدنی اس کا ذریعہ کیا ہے ، کیا یہ حلال پیسے ہیں ، اور اگر نہیں ہیں تو ہمیں نہیں چاہییں ۔۔ مرد کیا کرے گا ان پیسوں کا، اگر عورت انہیں دھتکار دے ۔۔

  • 28-04-2016 at 4:56 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 29-04-2016 at 3:15 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ہے زیشان صاحب. اس پوائنٹ کی وضاحت فرما دیں:
    “ایک معاشرہ جتنا متنوع ہو گا اتنی ہی کرپشن زیادہ ہو گی۔ ایک ذات، زبان، مذہب یا علاقے کا فرد اس آدمی کو زیادہ رعایت یا آسانی دے گا جس کا تعلق اس کی مشترک ذات زبان مذہب یا علاقے سے ہو گا۔”

Comments are closed.