خوابوں کی تجارت کا سواد ہی اور ھے!


mujeeb tahirصاحبو! لیلائے سیاست بڑی با وفا ہے یہ قیس کے علاوہ کسی ایرے غیرے یا سر پھرے (ریفارمر) کے ہاتھ نہیں آتی۔ یہ الگ بات ہے کہ گریباں چاک کرنے سے کوئی دیوانہ نہیں ہوتا، لہٰذا جیسے ہر مہ جمال و پری تمثال لیلیٰ ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی اسی طرح ہر عالی گہر صاحبِ ہنر قیس ہونے کی منادی نہیں کرا سکتا، اسے تو کیدو حضرات کدو بنا کر کھا جاتے ہیں۔ دوستو، وطنِ عزیز میں دائیں بائیں کے مابین مناظرے اور مکالمے اپنی جگہ لیکن یہ ہر کہ ومہ کے بس کا کام نہیں۔ ھم تو یہ دیکھتے ہیں کہ سال ہا سال سے مملکتِ خداداد پاکستان میں خوابوں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں برکت ہی برکت ہے اور اسی کاروبار کی بدولت چند عالی نسب ، صاحب منصب گھرانوں پر حسبِ طلب راحتوں کی ریل پیل ہے۔ عوام کالانعام تو یوں بھی بھیڑ بکریاں ہیں سو ان کا کام ہی یہ ہے کہ نظریاتی چارہ کھائیں اور خیالی جگالی بھی فرمائیں۔

من حیث القوم (اگر ایسی کوئی شے امرِ واقعہ ھے !) ہم وہ قناعت پسند لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی خاطربڑے بڑے خواب انتہائی مہنگے داموں خرید کر ممنون رہتے ہیں اور ایسے غنی کہ لَوٹ کر پوچھتے بھی نہیں کہ سرکار ہمارا مال تو اصلی تھا، آپ کے خواب کیوں نقلی نکلتے چلے آرہے ہیں؟ ہم واقعی ایک بے نیاز اور بے مثال حد تک سعادت مند طبیعت کے حامل لوگ ہیں، یہ کہنے میں حیا دامن گیر ہوتی ہے کہ میاں پانی میں کچھ دودھ تو ڈالا ہوتا، اس جسارت کا تو تصور بھی محال کہ دودھ میں ملے کیمیکلز کا تذکرہ کر بیٹھیں۔ ہمیں تو یہ التجا کرنے سے بھی شرم روک دیتی ہے کہ کیمسٹ بھائی، براہِ کرم زندگی بچانے والی دوا ہی اصل دے دو۔ کس قدر معصوم اور فرشتہ صفت معاشرہ ہیں ہم! ہماری برداشت کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا، ہماری کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا کوئی جواب نہیں۔  ہاں۔ ۔ ۔ کسی پر کوئی لیبل لگا دیا جاۓ جیسے لبرل، سیکولر، ملحد یا اس قبیل کا کوئی اور تو اس پر ہم اپنی برداشت کا دامن چھوڑ کر دوسرے کی عزت کا گریبان نوچ لینا انتہائی لازم گردانتے ہیں۔ اب کیا کریں، یہ ہماری غیرت کا سوال ہے۔ اس سے ہمارے خواب مجروح ہوتے ہیں۔

ہم اپنے خوابوں کے بارے میں از حد حساس ہیں۔ کوئی ہمارے خوابوں کو ٹھیس پہنچائے یہ ہمیں کسی طور بھی گوارا نہیں۔ کیسے گوارا کریں صاحب؟ اس سے آنکھ کُھل جانے کا بہت اندیشہ ہے!

کوئی احباب سے اتنی گذارش کردے کہ ایسی اذیت دینے کی کوشش، خواب چھین لینے کی سازش، اور نیند سے جگانے کی زیاں کارہ و رائیگاں کاوش سے احتراز فرمائیں، یہ قوم کی صحت کے لئے مضر ہے۔ لمبی نیند کا خمار باعثِ راحت جسم و جاں اور وجہ تسکینِ قلب و نظر ہے۔

محبت تو ہے ایک کاغذ کی ناؤ، ادھر بہتی ہے جس طرف ہو بہاؤ

نظر کے بھنور میں نہ تم ڈوب جاؤ، نگاہیں ملانے کی کوشش نہ کرنا

ہنسی آتی ہے اپنی بربادیوں پر، نہ یوں پیار سے دیکھئے بندہ پرور

بناتے رہے ہو ہمیں زندگی بھر، مگر اب بنانے کی کوشش نہ کرنا

ستم گر سے جوروستم کی شکایت، نہ ھم کرسکے ہیں نہ ھم کرسکیں گے

مرے آنسوو تم مرا ساتھ دینا، انہیں کچھ بتانے کی کوشش نہ کرنا

میرے دل کے زخموں کو نیند آگئی ہے، انہیں تم جگانے کی کوشش نہ کرنا

بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے، کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا

اسی لئے ملتمس ہوئے کہ کوئی اشتباہ کوئی التباس نہ رہ جائے، اسی خاطر عرض گزاری کی صلیب شانے پہ لئے چوراہے پر صدا لگا دی ہے۔ یہ کہ خوابوں کی تجارت بڑی نفع بخش سرمایہ کاری ہے، اس کا بازار کبھی مندا نہیں پڑتا، اس دھندے میں سیاہ بھی سفید نظر آتا ہے۔

‘ھم سب ‘کے دوستوں کو کوئی یہ نہ بتائے کہ دل بائیں بازو کے قریب دھڑکتا ہے کیونکہ جواب آئے گا جگر دائیں بازو کے قرب میں قرار نشیں ہے۔ ۔ دل والوں کا جگر والوں سے کیا مقابلہ؟ یہ کوئی نہیں دیکھے گا دماغ تو درمیان (امت وسطیٰ) میں بیٹھا ہے اور خوب حکمراں ہے، دونوں (دل اور جگر) پر اس کا اشارا یکساں طور پر اثر انگیز و نتیجہ خیز رہتا ہے۔ آنکھ دائیں بازو والی ہو کہ بائیں بازو والی تصویر ایک ہی بنتی ہے (اگر دماغ تک پہنچے)، کان دائیں بازو کی طرف والا ہو یا بائیں بازو کی جانب والا، نغمہ و شور دونوں ایک جیسا ہی سناتے ہیں (اگر کچھ طبعی فرق نہ ہو تو)۔ دماغ دونوں بازوؤں، دونوں ہاتھوں، دونوں پیروں سے کام لیتا ہے اگر وہ ایک کو ممتاز اور دوسر ے کو مردود ٹھہرادے تو ہر قدم سفر تو ممکن ہوگا (پھدک پھدک کر) لیکن رفتار ضرور متاثر ہوگی (قوموں کی زندگی میں رفتار کی اگر کوئی وقعت ہے تو!)۔

اور ہاں ہم ژولیدہ مو، شوریدہ سر، سر بہ کفن اور سنگ بدست لوگوں کو کوئی آئینہ بھی نہ دکھائے، ہمارے پتھروں کو آئینوں سے بہت پیار ہے ، لپک لپک کر بوسہ لیتے ہیں اور کرچی کرچی سے دادِ سخن وصول پاتے ہیں۔ یہ آئینے ہماری خوابیدہ نگاہی کا پردہ چاک کرتے ہیں، یہ آئینے ہمارے مراقبۂ منامیہ کے بتِ طناز کے رخِ عنابی اور عارضِ گلنار کو بے نقاب کر کےرسوا کرنے کی جسارت کرتے ہیں، یہ ہمیں ‘کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ’ یعنی” دیکھنے” جیسے موذی اور مہلک عارضے میں مبتلا کرنے کی فکر ِمنحوس میں ہر لحظہ غلطاں و پیچاں رہتے ہیں۔ نہ صاحب نہ۔۔۔۔ یہ ہم کبھی ہونے نہیں دیں گے۔ مال و زر لوٹ لیجیئے، عزتِ نفس سرِ بزم خاک میں ملا دیجیئے، سر قلم کر دیجیئے۔۔۔ سب قبول ہے، جو خواب ہم نے خرید رکھے ہیں اور جو کل بھی خریدیں گے، ان کا سواد ہی اور ہے، یہ ہم خود سے کبھی جدا نہیں کریں گے۔

اور یہ بھی سن رکھئے جنابِ من، کوئی گستاخ اور زبان دراز ہمیں یہ بھی بتانے کی حماقت نہ کرے کہ “لیڈر” وہ ہوتا ہے جو خود ایک خواب دیکھتا ہے اور پوری قوم کو اپنے اس خواب کی تعبیر کیلئے جگا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ اور یہ کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہے، اسے نیند نہیں آتی۔۔۔

اور وہ کبھی اپنے خواب کو بازار کی زینت بنا کر رسوا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کبھی اپنے خواب کا سودا کرتا ہے۔ وہ اپنا خواب نہیں بیچتا بلکہ قوم کے خواب خرید لیتا ہے، صرف وہ خواب جواس کی قوم کُھلی آنکھ اور سوچتے دماغ سے دیکھتی ہے۔۔۔ جبین و ابرو پہ لرزتے محنت کے پسینے کے قطروں والے دن کا خواب۔۔۔ یا نوکِ مژگاں پہ جھلملاتے اشک ہائےحزن و ملال والی نمکین رات کا خواب۔۔۔ یہی خواب ہیں جو مر رہے ہیں۔۔۔

یہ خواب کون خریدے گا قوم سے؟


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “خوابوں کی تجارت کا سواد ہی اور ھے!

  • 29-04-2016 at 1:42 am
    Permalink

    اچھی تحریر

  • 29-04-2016 at 1:44 am
    Permalink

    شکریہ۔ سلمان یونس بھائی

  • 29-04-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر.

  • 29-04-2016 at 3:03 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اسلوب اور خیال افروز تحریر

  • 29-04-2016 at 10:27 pm
    Permalink

    فرحان خالد، حاشر ابن ارشاد
    بھائیو! خادم آپ کے حسنِ نظر کیلئے ازحد ممنون ھے۔۔۔ سدا خوش رہیں
    اب سوچ رہا ہوں کوئی چبھتا ہوا موضوع منتخب کروں۔۔۔۔۔ تاہم

Comments are closed.