برطانیہ: ستائیس سال بعد انصاف کی فراہمی


khurram niaziآج برطانیہ کے تمام اخبارات کی شہہ سرخیوں کا تعلق ستائیس سال قبل ہلز برو، شیفیلڈ میں فٹ بال کے ایک میچ کے دوران شائقین میں بھگدڑ سے 96 ہلاکتوں پر ہونے والی برطانوی تاریخ کی اس طویل ترین عدالتی تفتیش کے فیصلے سے ہے جس میں پولیس اور ناقص انتظامات کو غیر ارادی قتل (مین سلاٹر) کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ کنزرویٹو وزیرِاعظم سے مرحومین کے ورثاء سے عوام کے سامنے معافی مانگنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

 ترقی یافتہ ممالک میں ان ڈاکٹروں کے لئے جو جراحت یا انتہائی نگہداشت میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں لازمی ہوتا ہے کہ پانچ سال میں ایک دفعہ ایڈوانسڈ ٹراما لائف سپورٹ کا تین روزہ کورس کر کے ایک خاصا مشکل امتحان پاس کریں۔ سو ہمیں بھی دو بار اس مرحلے سے گزرنا پڑا۔ کورس میں ایک اختیاری لیکچر “ہجوم اور بھگدڑ کے متاثرین” بھی ہوتا ہے جس میں بھگدڑ میں لقمہء اجل بننے کی وجوہات سمجھائی جاتی ہیں۔ اور ایسے مریضوں کی  طبی امداد کے بارے میں آگہی دی جاتی ہے۔  مختصرا” یہ کہ انسانی زندگی کا دارومدار مسلسل سانس لینے پر ہوتا ہے تاکہ فضاء میں موجود آکسیجن ہمارے جسم کے انگ انگ تک پہنچ سکے اور وہاں جمع ہونے والی زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر نکالی جاسکے۔ چند منٹ آکسیجن نا ملے تو سب سے پہلے دماغ  کے خلیے ہمیشہ کے لئے مردہ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ذرا دیر اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نہ ہو توبھی نتیجہ ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

hilsbourghانسانی ہجوم جب کسی تنگ مقام پر اس بری طرح کَس کے پھنس جائے کہ پھر محبوس شخص کے سینے میں سانس اندر لینے کے لئے نصف لیٹر کی گنجائش باقی نہ رہے تو دب کر دم گُھٹنے(کمپریسو ایسفکسیا) کی کیفیت ہوتی ہے اچھا بھلا تندرست آدمی چند منٹوں میں راہیء ملکِ عدم ہو جاتا ہے۔ آکسیجن کی بات نکلی تو یہ بھی گوش گزار ہو جائے کہ کرہء ارض پر موجود اس سب سے اہم عنصرجس پر حیات کا انحصار ہے کی دریافت اٹھارویں صدی کے اواخر(1773ء) میں ہوئی۔ قبل ازیں حضرتِ انسان زندگی کی مختلف تاویلات پیش کرتے رہے۔ آج کی طب، انتہائی نگہداشت، بیہوشی، مصنوعی تنفس، دل کا بائی پاس وغیرہ سب آکسیجن کی دریافت اور کرامات کے مرہونِ منت ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کسی سنت، گرو، پیر یا فقیر کو اس سربستہ راز کو منکشف کرنے کا عظیم اعزاز نہیں مل سکا!!

 اپریل 1989ء میں ہلز برو سٹیڈیم میں اس اندوہناک حادثے کی تاریخ جتنی المناک ہے اتنی ہی چشم کشا بھی ہے۔ واقعے کے چار روز بعد دائیں بازو کے اخبار ‘سَن’ کی سرخی کچھ یوں تھی:

سچ یہ ہے۔۔

شائقین میدان میں لاشوں کی جیبیں کاٹتے رہے۔

کچھ مدہوش مداحوں نے پولیس کے بہادر جوانوں پر پیشاب کیا۔

کچھ نے زخمیوں کی جان بچاتے سپاہیوں کی پٹائی کی!

اخبار سَن کو یہ گمراہ کن خبریں جن ‘انتہائی با وثوق ذرائع’ نے فراہم کیں وہ کوئی اور نہیں ایک کنزرویٹو ممبر پارلیمان اور دوسرے پولیس کے سربراہ تھے۔

 23 سال بعد اسی سنَ اخبار کو عوامی احتجاج کے آگے سرنگوں کرنا پڑا اور ‘اصل سچ’ کی سرخی کے تحت ورثاء سے تہہ دل سے معافی صفحہء اول پر شائع کرنی پڑی۔

جدید طب بتاتی ہے کہ بھگدڑ میں جاں بحق یا قریب المرگ ہونے کا سبب دب کر دم گھٹنا ہی ہوتا ہے چاہے یہ سانحہ دورانِ حج پیش آئے یا کمبھ میلے میں رونما ہو۔  چند منٹ دماغ کو آکسیجن کی فراہمی میں تعطل ہٹے کٹے انسان کو بے جان لاشہ بنا دیتی ہے۔ زَد میں گو کراچی کی وہ 30-32 خواتین آجائیں جو رمضان المبارک میں مفت آٹے کی آس میں قطار میں لگی ہوئی تھیں یا جرمنی کے لَو پریڈ  میوزک کنسرٹ سے باہر نکلتے ہوئے 21 خوش حال نفوس۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ اہلِ مغرب کی طرح ہم بھی انسانی جان کی قدر و قیمت سمجھیں اور ان عناصر سے چوکنے رہیں جو ایک طرف ہر حادثہ کو کاتبِ تقدیر کی تحریر قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب غیر ضروری اور قابلِ گریز حادثاتی اموات پر کسی نہ کسی طرح شہادت کا لیبل چسپاں کرکے لواحقین کی صدائے احتجاج کا گلا گھونٹتے ہیں۔ یہ عناصر صرف انسانی جانوں کے اتلاف کے ذمہ داروں کے تعین اور ان کے قرارِ واقعی انجام کی راہ ہی میں رکاوٹ نہیں بلکہ ہرپسماندگی، بد عنوانی اور بد انتظامی کو کوئی جواز دے کر یہ لوگ ہمارے معاشروں کی ترقی کے راستے میں حائل بہت بڑا روڑہ بن چکے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “برطانیہ: ستائیس سال بعد انصاف کی فراہمی

Comments are closed.