کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی


adnan-khan-kakar-mukalima-3

ہماری معاشرتی یادیں سن ستتر کے الیکشن کے دنوں سے شروع ہوتی ہیں جب ہم دوسری تیسری جماعت کے طالب علم تھے۔ لوئر مڈل کلاسیوں کے محلے میں گھر تھا۔ والد صاحب جماعت اسلامی کے رفیق تھے اور ان کی لیاقت بلوچ صاحب بہت عزت کیا کرتے تھے۔ دیوار جس پڑوسی سے ملتی تھی وہ شیعہ تھا اور کوئی خاص پڑھا لکھا نہیں تھا جبکہ ہمارے اپنے گھر کا حال یہ تھا کہ ایک جاننے والے کی رائے میں ہمارے گھر میں دو ہی چیزوں کی افراط تھی، زرعی زمین سے آنے والی چاولوں کی بوریوں اور کتابوں کے ڈھیر کی۔ گھر میں ادب و تاریخ کی کتابوں کے علاوہ سید مودودی کی خلافت و ملوکیت اور سید قطب کی جادہ و منزل جیسی کتابیں بھی موجود تھیں۔ مرکزی اردو بورڈ اور اردو سائنس بورڈ کی کتابوں کا تو خاص طور پر ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ایک ناقابل فہم سی کتاب آواز دوست نام کی بھی تھی اور علامہ دہشتناک نامی ایک عجیب و غریب سی کتاب بھی وہیں رکھی ہوئی تھی جو کہ انسپکٹر جمشید پڑھنے والے ایک ذی شعور بچے کی سمجھ سے بالاتر تھی۔

ہمارے پڑوسی نے دوسری شادی کی ہوئی تھِی اور دوسری بیوی کے ساتھ کہیں اور رہتا تھا۔ لیکن محلے میں کوئی بھی ان کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ان سے متعصبانہ سلوک نہیں کرتا تھا۔ جیسے محلے کے دوسرے لوگ تھے، ویسے ہی وہ بھی تھے۔

اسی گھر میں ایک دن ان کے سارے بچوں کو مل کر ایک کالا اور سرخ سا کپڑا استری کرتے دیکھا۔ ان کے بچوں نے جوش بھرے لہجے میں پوچھا کہ تم پیپلز پارٹی کے ساتھ ہو یا نو ستاروں کے۔ یہ دونوں اصطلاحات ہمارے لیے نئی تھیں۔ انہوں نے دونوں چیزوں کے بارے میں فرق بتایا کہ ہم لوگ پیپلز پارٹی کے ہیں اور تمہارے سارے بہن بھائی نو ستاروں کے ساتھ ہیں۔ اب معاملہ آسان ہو گیا تھا۔ ہم نے نو ستاروں کی حمایت کا اعلان کر دیا اور ان کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کا جھنڈا ان کی چھت پر لگوایا۔

وہ ہمارے جیسے سے ہی تھے۔ کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ بس ایک معمولی سا فرق ہوتا تھا کہ سال میں کوئی محرم نامی مہینہ آتا تھا جس کی آمد کا پتہ اس چیز سے چلتا تھا کہ وہ لوگ کالے کپڑے پہن کر شام کو کہیں جاتے تھے جبکہ ہمارے گھر نو دس محرم کو خاص اہتمام کے ساتھ حلیم پکایا جاتا تھا اور محلے میں بانٹا جاتا تھا۔ محلے والے بھی اپنا اپنا پکایا ہوا حلیم انہی برتنوں میں واپس کیا کرتے تھے۔ نو محرم کو شام گزارنے کے لیے ہم بچے راج گڑھ جاتے تھے۔ وہاں ایک بڑے سے گھوڑے اور تعزیے کے ساتھ ایک جلوس نکلتا تھا جو کہ ہم بچوں کے لیے دیکھنا لازم ہوتا تھا۔ فضا میں خوب جوش و خروش ہوتا تھا۔ راج گڑھ کے سنی بھی خاص اہتمام کے ساتھ جلوس کے راستے میں دودھ اور شربت کی سبیلیں لگاتے تھے اور اہل بیت کے غم میں شامل ہوتے تھے۔ اس غم نے سب مسالک کے مسلمانوں کو جوڑ رکھتا تھا کہ اس زمانے میں حسین تو سب کے ہوا کرتے تھے۔

celebration2

والد صاحب کے ایک دوست اس زمانے میں ایک مشہور نیورو سرجن تھے۔ وہ دوسری شادی کر کے انگلینڈ میں منتقل ہو گئے تھے اور اچھا کھا کما رہے تھے۔ پاکستان میں ان کے دو بیٹے ہی بچے تھے۔ ان میں سے ایک نے شادی کر کے گھر بسا لیا تھا اور دوسرا ہر شے سے ہی باغی ہو چکا تھا۔ کتابیں پڑھنے کا شوقین تھا۔ سیاسی فکر میں وہ انارکسٹ تھا۔ ایک دن اچانک وہ گلے میں صلیب پہنے نظر آنے لگا۔ معلوم ہوا کہ وہ مسیحی تو نہیں ہوا ہے، لیکن کیونکہ اسے یہ لاکٹ پسند ہے اس لیے پہننا شروع کر دیا ہے۔ اب درست یاد نہیں ہے لیکن وہ شاید ملحد تھا۔ رشتوں کے کھو جانے نے اس کا خدا پر سے یقین ختم کر دیا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی اسے اس کی صلیب سمیت یا اس کے بغیر بھی عزت اور احترام ملتا تھا اور اس کے اپنے محلے میں بھی۔ اسے بس ایک کھسکا ہوا لیکن دل کا اچھا انسان سمجھ کر برداشت کیا جاتا تھا۔ ایک دن اچانک اس کے گھر پر چھاپہ پڑا اور ضیا الحق کی پولیس اسے بھٹو کی حمایت میں بم پھاڑنے کا الزام لگا کر اٹھا کر لے گئی۔ شاید دس برس کی جیل ہوئی تھی۔ حالانکہ وہ لفافہ پھلا کر اس کا دھماکہ کرنے سے زیادہ بڑا
دھماکہ کرنے کا اہل نہیں تھا۔ ویسے بھی ان دنوں پاکستان میں بم دھماکے کہاں ہوا کرتے تھے۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں دفتر میں ہمارا ایک ساتھی احمدی ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہم پاکستانی تھے ویسا ہی وہ بھی تھا، بس ایک فرق تھا۔ وہ معاشرے سے سہما ہوا ہی رہتا تھا۔ ہمدرد دل رکھنے والا انسان تھا جس کا شوق یہی تھا کہ شمال کے پہاڑوں پر چلا جائے اور وہاں مارا مارا پھرتا رہے، اور پھر واپس آ کر سب کو اپنی ٹریکنگ کی تصویریں دکھا دکھا کر جانے کی ترغیب دیتا رہے۔ ہمارے دفتر میں پنج وقتہ نمازی بھی تھے اور عید کی نماز نہ پڑھنے والے بھی، لیکن سب اسے ویسے ہی دیکھتے تھے جیسے کہ باقی افراد کو دیکھا جاتا تھا۔ ایک اور احمدی بھی یاد آتے ہیں۔ وہ کراچی میں ایک ملٹی نیشنل بینک میں اعلی عہدے پر تھے۔ کراچی میں تو لسانی تعصب بھی عام تھا اور دوسری گروہ بندیاں بھی بہت تھیں، لیکن اس کے باوجود ان کا تمام دفتر ان کا احترام کرتا تھا کیونکہ وہ خوشی غمی میں سب کے کام آتے تھے۔ وہ چھوٹوں کی عزت کرنے کے عادی تھے اور چھوٹے ان کا احترام کرنے پر مجبور تھے۔

انہی کی سیکرٹری کراچی میں رہائش پذیر گوا کی مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں۔ وہ بھی ہم سب چھوٹی عمر کے لڑکوں کا ایسے خیال رکھتی تھیں جیسے ہم ان کے برخوردار ہوں اور انہوں نے خود کو ہمارا سرپرست مقرر کیا ہوا تھا جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ وہیں ایک پردیپ نامی ہندو بھی تھے۔ وہ نہایت صدق دل سے ویسے ہی ہمارا ریکارڈ لگاتے تھے جیسا کہ باقی ٹیم لگاتی تھی اور ہم بھی جواب دینے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ نہ کبھی ہماری مسلمانی ان کے اس حسن سلوک کی راہ میں حائل نظر آئی اور نہ ہی ان کا ہندو ہونا ہمیں ان سے محبت کرنے سے روک پایا۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں غیر محسوس طریقے سے تبدیلی اس وقت آنے لگی جب ہمیں یہ علم ہوا کہ المغضوب کا صحیح تلفظ ال مغذوب نہیں بلکہ ال مغدھوب ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اس وقت دماغ سے شدت سے ٹکرائی جب ہمیں ملکوں ملکوں گھومے ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ خدا حافظ کہنا غلط ہے، اور صحیح اسلامی طریقہ اللہ حافظ کہنا ہے۔ ہم اس وقت سے لے کر اب تک حیران ہیں کہ اردو کے تمام تراجم قرآن میں اللہ کی ذات کے لیے خدا کا لفظ کیوں استعمال ہوا کرتا ہے۔ کیا ان بڑے بڑے علما اور مفسرین کو ہم کم علموں کی طرح یہ علم بھی نہیں تھا کہ اللہ کو خدا کہنا غلط ہے؟

اب ہم محرم کے جلوس سے دور رہتے ہیں۔ سنی اس جلوس کے راستے میں سبیل لگانا کفر سمجھتے ہیں۔ محرم میں سنی گھروں میں حلیم نہیں پکتا ہے اور محلے میں کچھ نہیں بانٹا جاتا ہے۔ اب مسلم گھرانے کا کوئی نوجوان صلیب کا لاکٹ پہن لے تو وہ مرتد زندہ نہیں بچے گا۔ احمدی اور مسیحی واقف تو ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، پردیپ کا علم نہیں ہے کہ وہ ابھی پاکستان میں ہی ہے یا چلا گیا ہے۔

اور ساٹھ ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشت گردی میں شہید ہو کر ہمارے ملک سے اس رواداری کے ساتھ ہی چلے گئے ہیں جو کبھی ہماری تہذیب کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھِی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

9 thoughts on “کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی

  • 28-04-2016 at 7:33 pm
    Permalink

    “المغضوب کا صحیح تلفظ ال مغذوب نہیں بلکہ ال مغدھوب ہے۔ لیکن یہ تبدیلی اس وقت دماغ سے شدت سے ٹکرائی جب ہمیں ملکوں ملکوں گھومے ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ خدا حافظ کہنا غلط ہے، اور صحیح اسلامی طریقہ اللہ حافظ کہنا ہے”

    buhat aala
    Al-Bakistan and Bunjab

  • 28-04-2016 at 7:38 pm
    Permalink

    the favorite of liberals, Mush has alot to do with this

      • 28-04-2016 at 8:24 pm
        Permalink

        Agree with your point that it preceded Mush.

        Sometimes, I feel that it is the unintended consequence of Bhutto’s Middle East
        Labor Export policy and intended consequence of Zia’s zealous and hypocritical religiosity.

  • 28-04-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    رواداری سے مجھے ایک واقعہ یاد آگیا

    لمبے عرصے تک اسلام آباد میں ہمارے ہمسائے میں رہنے والے شیعہ خاندان کے ساتھ ایسے محبت کے تعلقات تھے کہ ان کے سربراہ نے اصرار کرکے اپنی بیٹیوں کے نکاح ہمارے والد صاحب مرحوم جو کہ مستند، متدین اور با عمل سنی تھے، سے پڑھوائے تھے ۔

  • 28-04-2016 at 10:47 pm
    Permalink

    تب حسسیں سب کے ہوا کرتے تھے ،،،، اس جملے نے بہت دکھی کر دیا ہے ،،،،

  • 29-04-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    میرے محلے میں اب بھی سنی محرم میں حلیم پکاتے ہیں اور شیعہ محلہ داروں میں بھی حلیم بھیجا جاتا ہے ابھی کچھ عرصہ قبل ایک شیعہ کی وفات پر سب محلہ داروں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور نزدیکی قبرستان میں دفنایا گیا جہاں تمام مسالک کے لوگ دفن ہیں اور ابھی بھی میں ایک شیعہ کے گھر سے آئی گڑ والی میٹھی گندم کھا رہا ہوں عام لوگوں میں حالات اتنے بھی برے نہیں جتنے آپ بتا رہے ہیں

Comments are closed.