’میں ذمہ دار ہو گیا ہوں‘


زندگی کچھ اس طور سے گزری ہے کہ حکمران مجھ سے اکثر ناراض رہے۔ ان کے ناراض ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کے طویل وقفے برداشت کرنا پڑے۔ شادی ہوجانے کے بعد بھی اپنا رویہ نہ بدلا۔ بچیاں بڑی ہونا شروع ہوئیںتو اکثر خیال آتا کہ میری حرکتوں کی بدولت نازل ہوئی مصیبتیں وہ کیوں بھگتیں۔ ویسے بھی جن لوگوں کو کئی برسوں تک سوچ کے اعتبار سے اپنا ساتھی سمجھا تھا خود اقتدار میں حصہ دار ہوئے تو بے تحاشہ کڑے مقامات پر ’’وہ رہے وضو کرتے‘‘ نظر آئے۔ عمر کے آخری حصے میں لہذا خود کو سدھارنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس ضمن میں لیکن اپنی جبلت پر اعتبار نہیں تھا۔ ربّ کا لاکھ لاکھ شکر کہ گزشتہ چند مہینوں سے پے در پے ایسے واقعات ہورہے ہیں جو میرے ’’ذمہ دار‘‘ ہونے کا یقین دلارہے ہیں۔ منگل کی رات بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہوا۔

نیند کی گولی کھا کر سوتا ہوں۔ آنکھ لگ جائے تو بے ہوشی کا عالم ہوتا ہے۔ سمارٹ فون کو بستر کے سرہانے رکھنا مگر مجبوری ہے۔ اسے Silent Modeپر بھی کردو تو مسلسل رابطہ کرنے والے کی جانب سے نازل ہوئی گھوں گھوں جگا دیتی ہے۔ ایسی ہی گھوں گھوں منگل کی رات بھی ہورہی تھی۔ آنکھ کھلی۔ فون دیکھا تو پتہ چلا کہ ایک صحافی دوست رابطے کی کوشش کررہا ہے۔ اسے جوابی فون کیا تو اس نے لاہور میں ہوئے ایک واقعہ کے بارے میں Latestجاننا چاہا۔ میں بے خبر تھا۔ اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس نے کچھ تفصیل بتائی۔ اسے سنا اور فون رکھ کردوبارہ سوگیا۔ فون پر سوشل میڈیا دیکھ کر مذکورہ واقعہ کی تفصیلات جاننے کا تردد ہی نہیں کیا۔ صبح اُٹھنے کے بعد بہت کچھ سوشل میڈیا ہی کی وساطت لاہور میں ہوئے واقعے کے بارے میں جان چکا ہوں۔ تھوڑا افسوس ہوا۔ حیران مگر ہرگز نہیں ہوا۔

اس کالم میں کئی روز سے تواتر کے ساتھ بیان کرتا رہا ہوں کہ ہماری ریاست خود کو Hybrid Warجسے 5th Generationجنگ بھی کہا جاتا ہے کا نشانہ بنی محسوس کررہی ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر اس جنگ کے اہم ترین ہتھیار تصور کئے جاتے ہیں۔ باور کیا جارہا ہے کہ ہمارے دشمن صحافیوں کے ذہن پر اثرانداز ہونے کے لئے جدید ترین نفسیاتی حربے استعمال کررہے ہیں۔ سادہ لوح صحافیوں کی اکثریت ان حربوں کو سمجھ نہیں پاتی۔ جذبات میں آکر گمراہ ہوجاتی ہے۔ ’’باغیانہ‘‘ تصورات گھڑنے اور انہیں ٹویٹ یا ری ٹویٹ کے ذریعے پھیلانے سے حظ اٹھانا شروع ہوجاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں پر لہذا کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔ انہیں ذمہ دار بنانا ہوگا۔

کئی حوالوں سے میں تاعمر ’’بے اُستاد‘‘ رہا ہوں۔ میرا کوئی مرشد بھی نہیں ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات نے مگر Auto Correctکو میراDefault Modeبنادیا ہے۔ ہفتے کے آخری تین دن کتابوں سے محبت اور سکون کی تلاش میں سوشل میڈیا سے دور رہنے کا فیصلہ پہلے ہی کرچکا تھا۔ مزید محتاط ہوگیا۔

منگل کی رات لاہور میں ہوئے ایک واقعہ کی وجہ سے آئے فون کے بعد میری جانب سے برتی بے اعتنائی نے میری محتاط طبیعت کا اثبات فراہم کردیا ہے۔ سنا ہے ارشمیدس نامی کسی فلسفی نے پانی سے بھرے ٹب میں چھلانگ لگانے کے بعد جو دریافت کیا تھا اس کی وجہ سے Eurika-Eurika پکارتا گلیوں میں نکل آیا۔ میرا بھی جی ’’میں ذمہ دار ہوگیا ہوں‘‘ پکارنے کو مچل رہا ہے۔ یہ کالم مگر لکھ کر دفتر بھجوانا ہے تاکہ بروقت چھپ سکے اور میرا رزق چلتا رہے۔

چونکہ میں محتاط اور ذمہ دار ہوگیا ہوں لہذا  Hybrid War کی فکر میں مبتلا ہوئے افراد کو نہایت دیانت داری سے تھوڑی تحقیق کے بعد یہ بتانے کی جسارت کرسکتا ہوں کہ ٹویٹر اتنا بھی مؤثر نہیں جتنا انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔

چند روز قبل اوپر تلے امریکی اخبارات میں چھپے چند مضامین پڑھے تھے۔ ان میں مختلف محققین کی جانب سے تفصیلی سروے کے بعد اخذ کئے نتائج کا ذکر ہوا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اپنے گھر میں تنہا بیٹھا شخص جب فیس بک یا ٹویٹرکے ذریعے اپنے ’’ہم خیال‘‘ بنانے کی کوشش کرے تو زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کے ساتھ ’’سانجھ‘‘ کا رشتہ استوار ہوا محسوس کرسکتا ہے۔ بہت تحقیق کے بعد Weddings and Funeralsوالا کلیہ دریافت ہوا۔

آسان لفظوں میں اس کلیے کی بنیاد یہ ہے کہ فرض کریں آپ کے بیٹے یا بیٹی کی شادی ہو تو آپ کم از کم کتنے افراد کو اس میں مدعو کرنا ہر صورت ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سوال کے بارے میں تحقیق ہوئی تو علم ہوا کہ ایسے افراد کی تعداد 100اور 150کے درمیان ہوتی ہے۔ ان افراد کو آپ شادی کی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ بھیجتے ہیں۔ وہ آپ کی منعقد کردہ تقریب میں شریک نہ ہوں تو آپ کو دُکھ ہوتا ہے۔ آپ اس تقریب میں شرکت نہ کرنے والوں کو اپنا دوست شمار کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

شادی سے زیادہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ فرض کیا میری موت ہوجائے اس موت کی خبر اخبارات وغیرہ میں چھپ بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ کتنے لوگ میرے جنازے میں شریک ہوں گے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک عام شخص کے جنازے میں جو سماجی حوالوں سے کافی دوست نواز بھی شمار ہوتا ہے شریک ہونے والوں کی تعداد بھی 100سے 150کے درمیان ہی رہتی ہے۔

ٹویٹر یا فیس بک پر متحرک افراد کی جانب سے پوسٹ کئے پیغامات کی تحقیق کے بعد دریافت یہ ہوا کہ ان کی پوسٹ کو Like یا Shareکرنے والوں یا ٹویٹس کو Retweetsکرنے والوں کی تعداد بھی  100 سے 150 کے درمیان ہی رہتی ہے۔

Weddings and Funerals والے فارمولے کو ہمیں اپنے سوشل میڈیا  Activistsپر بھی لاگو کرکے مطمئن ہوجانا چاہیے۔ 20کروڑ کی آبادی میں فرض کیا 100سے 150کی تعداد میں چند افراد مسلسل ’’باغیانہ‘‘ خیالات کو فروغ دینا چاہیں تو اپنے اپنے حلقہ اثر میں زیادہ سے زیادہ 22,500افراد تک پہنچ پائیں گے۔ 150کو 150سے ضرب دینے کے بعد یہ تعداد برآمد ہوتی ہے۔ یہ تعداد بھی بیشتر اپنے گھروں تک ہی محدود رہتی ہے۔ کسی ٹویٹ سے متاثر ہوکر راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے فیض آباد چوک میں 22دنوں تک دھرنا دئیے نہیں بیٹھی رہتی۔ اس تعداد کو نظرانداز کرنے میں لہذا کوئی حرج نہیں تاکہ گلشن میں قفس آباد رہیں مگر سو طرح کی آوازوں سے چہکتے بھی محسوس ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں