فلم ’’مالک‘‘ کے حقیقی مالک


ibarhim kunbharفلم ‘مالک‘ کے چرچے گلی گلی اور شہر شہر ہیں. جس طرح حکومت مخالف اور اس کے حامی صف آرا ہو چکے ہیں اسی طرح اس ‘مالک‘ فلم کے حامی اور مخالفیں بھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے دکھائی دے رہے ہیں۔

مجھے ‘مالک‘ فلم بڑی اسکرین کی عام فلم سے زیادہ کسی خاص ایجنڈا کاحصہ لگتی ہے، اس فلم پر پابندی کیا لگی،  تحریک انصاف سے لے کر سیاست دانوں کو دنیا کی بدترین مخلوق سمجھنے والے ہمارے ”محب وطن“ اینکر پرسنز تک سب بپھر گئے۔

پہلے سندھ حکومت نے اور اب وفاقی حکومت نے اس فلم پر پابندی عائد کردی ہے، جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن کہا جا رہا ہے کہ سیاست دانوں کے خلاف نفرت، انتہاپسندی اور لسانیت کا تاثر ملنے کی بنیاد پر یہ پابندی لگائی گئی ہے، پر یہ پابندی عارضی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ فلم کا ڈاریکٹربڑا تگڑا ہے۔

اعتراضات اطمینان، پابندی، اجازت، رلیز اور پھر پابندی کے کئی مراحل سے گذرتی اس فلم کو دیکھنے سے پہلے ہی اس کا ایسا چرچا ہوا ہے کہ سب لوگ اس فلم سے استفادہ کر کے سیاست کے خلاف اپنا ایمانی جذبہ گرمانا چاھتے ہیں۔ اور سب لوگ اس فلم کے بن دیکھے شوقین کیسے نہ بنیں، کیونکہ ایک ایک سے اینکر اس فلم کو کامیاب بنانے لئے اور اس پر سے پابندی ہٹانے کے لئے چھوٹی اسکرین کا سہارا لے کر اپنی اپنی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

maalikفلم بننے کے بعداس کی چھان بین کرنے والے سندھ کے سنسر بورڈ نے فلم کے ایک دو جملوں پر اعتراض کیا، بورڈ کو یقین دھانی کروا دی گئی کہ فلم سے وہ ڈائیلاگ حذف کرلئے جائیں گے۔ لیکن کمال کی جرات تھی، فلم میکرز نے نہ تو سنسر بورڈ کی پرواہ کی اور نہ ہی صوبائی حکومت کی، اور فلم ان تمام قابل اعتراض ڈائیلاگ کے ساتھ چلا دی گئی۔

جس پر سندھ حکومت نے رلیز ہونے کے بعد فلم پر پابندی عائد کردی لیکن فلم میکرز کسی بھی صورت میں ان ہی ڈائیلاگ کے ساتھ فلم دکھانے کے موڈ میں تھے، اس لئے سندھ حکومت کی ان کے آگے ایک بھی نہیں چل سکی، اور ان کے پرزور اصرار پر پھر فلم ریلیز کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس ایک فلم رکوانے جتنے اختیار بھی نہیں۔ سندھ سے پابندی اٹھی تو وفاق نے پابندی لگا دی ہے، لیکن فلم بنانے والے بھی وسیع تر قومی مفادات میں ہر حال میں یہ فلم رلیز کرانے کے موڈ میں ہیں۔

ان دنوں دھشتگردی سے زیادہ کرپشن کے خلاف جنگ پر نظر ہے۔ اور فوج ہر صورت میں یہ جنگ بھی جیتنا چاہتی ہے۔ اس لئے تو احتساب سب کا ہونے کے بیان سے لے کر پرانی تاریخوں میں برطرف کئے گئے فوجی افسروں کی خبر ابھی ابھی چلاوائی گئی ہے تاکہ ان خبروں کا پاناما لیکس کے متاثریں اور دوسرے ”کرپٹ سیاست دانوں“ پرخاصا اثر پڑے، یہ فلم بھی سیاست دانوں کی کرپشن کے خلاف ایک اہم پیغام پر مبنی ہے اس لئے روشن امکانات یہ ہی ہیں کہ فلم ایک دو دن کے اندر بڑی اسکرین کی زینت بن ہی جائے۔

Maalik-New-Upcrising-Viewersحالی ہی میں فوت ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل ظفر عباسی غازی کی زندگی پر بننے والا پی ٹی وی کا مشھور ڈرامہ الفا براوو چارلی تھا، جس کی پراڈکشن آئی ایس پی آر کی تھی۔ مئی 1998ءمیں وہ ڈرامہ پی ٹی وی سے چلا تھا اور پورے ملک میں مشھور ہوا تھا اس ڈرامے کا مرکزی کردار کیپٹن عبداللہ نے ادا کیا تھا۔ اس کے بعد عاشر عظیم  کا ڈرامہ “دھواں” دیکھنے کو ملا، یہی عاشر عظیم اس فلم ‘مالک‘ کے ڈائریکٹر ہیں اور فلم کی پیشکش وہ ہی پرانی الفا براوو  چارلی والی ہے۔

‘مالک‘ فلم میں کیا ہے؟ بس ا یک بدعنوان اور جاگیردار بندہ دکھایا گیا ہے جو وزیراعلیٰ بن گیا ہے، وہ بھی سندھ کا وزیراعلیٰ ہے جس کی سندھ سے وابستگی دکھانے کے لئے ” سائیں“ کا لفظ اس فلم کی خصوصی پیشکش ہے۔ ”سائیں“ کے لفظ کی معنیٰ ہر جگہ پنجابی زبان والے سائیں کی لئے جاتے ہیں حالانکہ سندھ میں اللہ پاک کو بھی سائیں کہا جاتا ہے اور زندگی میں پہلا درس دینا والا استاد بھی سائیں ہی کہلاتا ہے، جسے پنجابی سائیں کے معنیٰ دیکھنا ہوں وہ بھلے ڈکشنری کھول کے دیکھ لے۔ اس فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے ممبر قومی اسمبلی نفیسہ شاھ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ” بدنیتی سے یہ فلم بنائی گئی ہے“۔ اور اس میں شک کی گنجائش نہیں۔

اس فلم کا ڈائریکٹر اور پیشکار دونوں سیاست دانوں سے نفرت میں کافی حد تک آگے نکل گئے ہیں، اورفلم میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان ٹائپ ایک شخص منتخب وزیراعلیٰ کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی طالبان ہیں جو سیاسی نظام، جمھوریت، پارلیمنٹ، ملکی آئین و قانون کو کسی صورت میں ماننے کے لئے تیار نہیں، دوسری طرف ان ہی طالبان دھشتگردوں اور انتہا پسندوں کے ہاتھ سیاست دانوں اور ان کے خاندان کے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، دوسری طرف ایسی فلمیں maalik-P20بنا کر منخب نمائندوں تک ایسے کرداروں کو رسائی دے کر کیا یہ پیغام نہیں دیا جا رہا کہ سیاست دان کے خلاف اس طرح کا کوئی بھی عمل ٹھیک ہی ہوتا ہے۔

اس سے بھی خطرناک منظر تو وہ جس میں وزیراعلیٰ کو اس کا سیکیورٹی گارڈ ہی قتل کردیتا ہے۔ باڈی گارڈ کے ہاتھوں وزیراعلیٰ کی موت سلمان تاثیر کے موت کی یاد دلاتی ہے۔ کیا ڈائریکٹر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ممتاز قادری نے جو کیا وہ جائز ہے؟ فلم میں ایک طرف تو ملک کا ‘مالک‘ عام شھری ہونے کا تاثر دیا گیا ہے لیکن اسی عوام کو اکسایا جاتا ہئے کہ اگر چاہو تو آپ کسی بھی منخب نمائندہ کو قتل کردنے میں حق بجانب ہو۔

سیاست سے نفر ت کے تاثرات کے باوجود اس فلم میں وکھر ی ٹائپ کے سیاسی عزائم واضع طور پر جھلکتے ہیں، اور اس فلم کے حامیوں کی صف بندی پہلے ہی ہو چکی ہے، سیدھی بات ہے جو جمہوری حکومتوں کو عمران خان کے فارمولہ کے مطابق گھر بھیجنے کے حامی ہیں یا جن کی یہ خواہش ہے ان کے لئے یہ فلم من پسند اور دل پسند فلم ہے۔

Maalik-1اس لئے تو اس فلم کو بڑے اسکرین پر چلانے کے مطالبات سیاسی تنظیموں کی طرف سے ہو رہے ھیں۔

میں نے اس فلم کا آخری گیت ” سب اپنے نظرئے پاس رکھو ہم اپنا نظریہ رکھتے ہیں،، مصطفی کمال کے جلسے میں بھی سنا تھا، اب مصطفیٰ کمال کا نظریہ، اس فلم میکرز کا نظریہ، اس فلم کی حمایت کرنے والوں کا نظریہ، کیا کہیں؟ بات سمجھ میں آتی بھی ہے اور نہیں بھی آتی۔

اس میں کوئی بھید نہیں کہ اس ملک میں سیاست دانوں سے وہی کچھ  برسوں بلکہ عشروں سے ہوتا آیا ہے جو ‘مالک‘ فلم میں دکھایا گیا ہے، اس ملک کے ایوان صدر میں بیٹھے کسی بھی سویلین صدر کو کوئی بھی جب اور جہاں چاہئیے، بدعنوان، چور، ڈاکو، لٹیرا، نااہل، نالائق، چالاک، مجرم اور اس سے بھی گرے ہوئے لفظوں میں یاد کرنے کی مکمل آزادی ہے، بھرے جلسے میں، کسی ٹی وی چینل پر کسی کالم یا مضمون میں۔

 اسی طرح قائد ایوان یعنی حکومتی سربراہ پر جب چاہیں کوئی بھر الزام لگا دیں، کسی بھی لقب القاب سے نواز دو، پارلیمنٹ میں بیٹھے عام ممبر سے لے کر حکومتی سربراہ تک کوئی بھی مقدس گائے نہیں، اور ہونا بھی نہیں چاہیئے، لیکن جناب پھر کسی کو بھی مقدس گائے نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ آزمائی روایتں اب چھوڑنا ہوں گی کہ کسی حکومتی سربراہ پر الزام لگاو، پہلے اسے گھر بھیج دو پھر الزمات ثابت کرنے کے لئے ملک کے خزانے لٹا دو، سالہا سال مقدمات کی پیروی کرو، اگر نتیجہ فوری چاہیئے تو پھر کسی کو جھوٹے مقدمہ میں پھانسی پر چڑھا دو یا کسی کو عمر قید کی سزا دلوا دو۔

Theatrical-Trailer-Of-Upcoming-Pakistani-Movie-Maalik-Must-Watchپاناما لیکس اور اس کے بعد وزیراعظم کو اخلاقیات کا درس دے کر استعیفیٰ طلب کرنا، فوجی افسران کی برطرفی کی خبرکا لیک ہونا، حکومت مخالف سیاسی صف بندیاں، رائے ونڈ کے گھیرے کی دھمکیاں محض اتفاقیہ نہیں۔ یہ جو آج کل اخلاقی جواز، اخلاقی جرات، اخلاقی مظاہرہ، اخلاقی دباؤ اور ان جیسے کئی ہم معنیٰ لفظوں کا سبق پڑھایا جانے لگا ہے اس کے پیچھے بھی تو کوئی مقصد ہی کارفرما ہے، اس لئے تو  گلی کے نکڑ سے لے کر بڑے بڑے اسٹیج تک، ریڈیو پر مارننگ شو الے میزبانوں سے لے کر شام کو سٹلائٹ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے مختلف پروگراموں میں اینکر پرسن سیاست دانوں کا کچا چٹھا کھول کر یہی گواہی دے رہے ہیں کہ سیاست دانوں سے بری مخلوق نہ پیدا ہوئی نہ ھوگی۔

یہ نوٹ کرنے کی بات ہے کہ یہ اخلاقیات کے تمام اسباق ہمارے سیاست دانوں، سویلین حکمرانوں، وزیروں، مشیروں اور وزیراعظموں کے لئے ہیں، اس ملک میں آمروں، ان کے حمایتی، ان کے وفاداروں اور ان کی آمرانہ سوچ رکھنے والوں نے جو کچھ کیا ان پر اس قسم کی اخلاقیات سے بھرپور کوئی تھیوری فٹ ہی نہیں ہوتی اور سب کے سب طاقتور اس سے مبرا سمجھے جاتے ہیں۔ اور بس کسی فلم سے لے کر کسی تقریر پر نشانے پر بڑے ایوانوں میں بیٹھے کمزور سیاست دان ہی ہوتے ہیں، بیشک ان کی کمزوریوں میں ان کے اعمال کا بڑا حصہ ہوتا ہے پر ان کو لٹکانے والوں کا دامن کتنا داغدار ہے اس کو دکھانا بھی تو ضروری ہے۔

malik1اچھا ہوا کہ ‘مالک‘ فلم بنی، جس میں سیاست دانوں کو خوب نشانہ بناکر ان کو آئینہ بنایا گیا ہے، چلو اب امیدیں لگائیں کہ اس ملک میں بدترین سانحات پر بھی فلمیں بنیں گی اور ان فلموں کے بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔ ان فلموں کے لئے موضوعات کی کوئی کمی نہیں، بس سچ دکھانے کے لئے تھوڑی ہمت اور جرئت چاہیئے۔ کیا جمھوریت کی بساط لپیٹنے کے کئی واقعات، بنگال سانحہ، حمود رحمان کمیشن، ذوالفقار بھٹو کی پھانسی، فرقہ واریت اور انتہا پنسدی کی سرکاری آبیاری، مدارس کا جال بچھانا اورپھر ان سے طالبا ن کی افزائش و پیدائش، دھشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں خود کو دھکیلنا، اور اپنے ہوائی اڈوں کو بیچ کر کھا جانا، ملک میں ججوں کو گرفتار کرنا، ججوں کی طالع آزماؤں کے آگے جھکنے کی روایات اور غیر سیاسی اداروں کی سیاست میں اور حکومت میں مداخلت کے موضوعات فلم بنانے کے لئے موزوں نہیں؟ اگر فلم بنانے کا مقصد عوام کو آگہی دینا ہی ہے تو پورے سچ سے آگہی ملنی چاہئیے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

ابراہیم کنبھر

Ibrahim Kumbhar a working journalist, belong and working for sindhi tv channel KTN NEWS as special Reporter and also bureau chief Daily koshish.. Article writer for Daily kawish ,leading sindhi news paper published from Karachi, Hyderabad and Sukkur.

abrahim-kimbhar has 19 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar

15 thoughts on “فلم ’’مالک‘‘ کے حقیقی مالک

  • 28-04-2016 at 9:01 pm
    Permalink

    مغرب میں اپنی سیاست، حکومت، سماج اور مذہب کے ساتھ ساتھ مذہبی اداروں اور کرداروں کی برائیوں سے بھرے گندے کپڑوں کو سرِ بازار بیچ چوک میں دھویا جاتا ہے جس کی جدید ترین مثال آسکر ایوراڈ یافتہ فلم سپاٹ لائیٹ ہے اور اب نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے منحرف ایڈورڈ سنوڈن کی زندگی پر اسی کے نام ’’سنوڈن‘‘ سے بنائی جانے والی فلم اسی برس ستمبر میں ریلیز ہونے جارہی ہے جس میں اس ادارے کے ساتھ ساتھ سی آئی اے کو بھی رگیدا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں اول تو ایسا کوئی کام ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتا بھی ہے تو تنازعات اور تنقید کا شکار ہوجاتا ہے۔ خود دودھ سے دھلے سیاستدان، صحافی اور دانشور اپنی طرح ہر کام صاف شفاف چاہتے ہیں اور وطن عزیز سے وابستہ کسی ایک چیز پر ایک دھبّہ بھی برداشت نہیں کرتے۔ لگتا ہے اب پاکستان کا نام بدل کر ملائکستان رکھ دینا چاہئے کیونکہ یہاں سب فرشتے ہی تو بستے ہیں

  • 28-04-2016 at 9:21 pm
    Permalink

    فلم کے وزیر اعلی کا کردار اور اس کے حریف کو مقابلے سے باہر کرنے کی ترکیب دونوں حقیقی واقعات پر مبنی ہیں. مگر یہ بھی سچ ہے کہ مذکورہ وزیر اعلی “اصلی تے وڈے” مالکان کا فرستادہ تھا. یہ پہلو یقینا فلم میں نظر انداز کیا گیا ہے. دوسری جانب فلم میں “افغان جہاد” اور نام نہاد “پشتون غیرت” کے غبارے سے ہوا نکالا جانا قابل تعریف ہے. بظاہر فلم کے دو دھارے ہیں. ایک حصہ عاشر عظیم صاحب کے فن کی پیداوار ہے اور دوسرا مالکان کی سوچ کا..

  • 28-04-2016 at 9:31 pm
    Permalink

    لبرلز اور جمہوریئے بلوں سے نکل گئے۔۔
    آخر نکلین بھی کیوں نا فلم پر آئی ایس پی آر کا ٹیگ جو لگا ہے۔۔۔
    بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کوئی این ڈی ایس کی پروڈکشن ہوتی
    را کی پیشکش ہوتی
    تل ابیب میں شوٹ ہوتی
    اور نہیں تو امریکہ کے یو ایس ایڈ کی فنی معاونت تو حاصل ہی ہوتی کم از کم۔۔۔

  • 28-04-2016 at 10:01 pm
    Permalink

    جناب، صرف ایک تصحیح کر لیجیے.. الفا براوو چارلی.. میں عاشر عظیم نہیں تهے، نہ ان کا اس ڈرامے سے کوئی تعلق تها.

  • 28-04-2016 at 10:43 pm
    Permalink

    جی اس کالم میں الفا براؤ چارلی میں عاشر عظیم کے مرکزی کردار کا حوالہ غلطی سے آ گیا ہے جس پر معذرت خواہ ہیں۔۔ابراھیم

  • 28-04-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    غیر جہموری یا پابند سلاسل جمہوریت میں سویلینز کو فوکس کرکے ایسی فلمیں بنانا اچھنبے کی بات نہیں ـ جب پرویز مشرف منتخب اسیمبلی کو فتح کر چکے تھے تو اس قسم کے ڈراموں کا سلسلہ چل نکلا تھا ـ نیب شیب سب اس میں دکھاتے تھے اور آج پرویز مشرف پنامہ لیک کا کردار بنا بیٹھا ھے ـ میڈیا کی لاٹھی فقط میاں صاحب کے سر میں ھے ـ ــ سیاستدانوں کے جنسی اسکینڈلز پر مبنی کتابیں بھی اسی مشرف کے دور میں راتوں رات شایع ھوئی تھیں ـ تو میں سیاستدانوں کی کرپشن کا دفاع تو نہیں کرتا اور کہتا ھوں جو بھی بد عنوان ھے اسے عہدے سے فارغ کرو ـ لیکن ان سیاستدانوں کو نشانہ بناتے وقت ڈائریکٹر کو واقعی پھانسی گھاٹ سے گھسیٹتی ھوئی بھٹو کی لاش نظر آنی چاھیے تھی ـ اور اس ضیاء کا چہرہ بھی نظر آنا چاھیے تھا جس نے کرپشن کا بیج بویا تھا ـ پھر اس کو وہ حمید گل ـاسلم بیگ جیسے “محب وطن ” کیوں نظر نہیں آئے جو بیگوں میں عوام کے پیسے لئے سیاستدانوں میں بانٹتے پھرتے تھے ـ اگر ضیاء پر کوئی فلم بنے تو ایک ٹریک ضرور اس میں ھونا چاھئے وہ ھونا چاھیے شتروگھن سنھا کا صدارتی ھاؤس میں مستقل مہمان کے طور پر رھنا. یہ سویلین تو کمزور شکار ھیں ـجس ملک کی میڈیا میں کوئی چینل آزادی سے کرنٹ افئیر کا ڈئریکٹر بھی نہ رکھ سکے تو اس ملک میں کرپشن ختم بھی نہیں ھوگی اورـایسی فلمیں بھی یہ ھی میسیج دیتی رھیں گی کہ ملک کی تباھی مشروط حکومت کرنے والے سویلین سیاستدانوں نے کی ھے

  • 29-04-2016 at 7:29 am
    Permalink

    کیا کوئی ایک بھی سویلین ادارہ مکمل طور پر ایمانداری سے اپنے فرائض بجا لا رہا ہے؟سیلاب ،زلزلہ ،وباء،پھوٹنے پر فوج کی طرف کیوں دیکھا جاتا ہے؟؟؟؟؟وہ تو صرف سرحدوں کے لیے ہے۔کسی بھی سرکاری ادارے میں بغیر سفارش،رشوت کام کروانا جوۓ شیر لانے کے مترادف ہے۔کسی کو موقع ہی کیوں ملے کہ وہ سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالے؟؟؟؟؟اگر فوج مال بناتی ہے تو وہ ڈلیور بھی کرتی ہے۔۔۔۔۔۔تو ہم بلڈی سویلین کیوں اپنے لوگوں کو ڈلیور نہیں کرتے؟؟؟؟؟

    • 29-04-2016 at 12:50 pm
      Permalink

      آپ نے اپنے ھی سوال جواب دے تو دیا کہ “اگر فوج مال بناتی ھے تو ڈلیور بھی کرتی ھے ” اکہتر میں کیا ڈلیور کیا نیازی نے؟ مشرف نے کارگل میں کیا ڈلیور کیا؟ ضیاء نے بنیادپرستی ڈرگ ـ کلاشن کوف ـ ھی تو ڈلیور کی تھی نا “

      • 29-04-2016 at 4:01 pm
        Permalink

        تو ہم بلڈی سویلین کیوں موقع دیتے ہیں کچھ ڈلیور کرنے کا؟؟؟؟؟اب یہ مت کہیے گا کہ ہمیں ڈلیور کرنے کا موقع نہیں ملتا۔۔۔۔۔۔۔ماشااللّہ پچھلے آٹھ سال سے جمہوریت جمہوریت کھیل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔صاف پانی تو دے نہیں سکے۔۔۔۔۔۔

    • 30-04-2016 at 4:29 am
      Permalink

      بنت آدم ! عرض ہے
      1: کوئی ایک بھی “سویلین ” نہیں بلکہ کوئی ایک بھی ادارہ مکمل طور پر ایمانداری سے اپنے فرائض نہیں بجا لا رہا ہے
      2: سیلاب ،زلزلہ ،وباء،پھوٹنے پر دنیا کے بیشتر ممالک فوج کی طرف ھی دیکھتے ہیں کیونکہ انکو تنخواہ ھی جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی دی جاتی ہے امن ہؤ یا جنگ
      3: ٣٦ سال اس ملک کے باسیوں کو ایک ھی سبق رٹایا گیا ” جس کی لاٹھی اسکی بھینس ” اسی کے تحت سفارش ،رشوت ،خوف اور لالچ کو لاٹھی کے طور پر بھینس کو ہنکانے کےکام لایا گیا
      آج آپ کہہ سکتی ہیں ” شکریہ جرنیلو کر نیلو ”
      4: عوام کے منتخب نمایندؤں پر کیچڑ اچھالنے کا “ڈسپلینڈ ” بندوبست ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کے چھنچھنے سے کیا اور اسمیں یحیی ،ضیا اور مشرف بقدر حکومتی دورانیہ آپنا حصہ ڈالتے رہے
      ایک بدقسمت ملک جس میں 4 حلقو ں سے پاپولر ووٹ لینے والے اور دو بار وزیر اعظم منتخب ہونے والے کو “قاتل ” قرار دلانے کے لیے فوج ،میڈیا ،عدالت ،مولوی ،سرمایہ دار اکھٹے ہوجائیں گے وہاں سیاستدان پر ” کیچڑ ” کیا ایٹم بم اچھالنے کے موقعے بھی مل سکتے ہیں جیسا کہ مالک فلم بنانے اور چلانے والوں کی دلی خواہش ہے
      5: فوج مال بناتی ہے اور خاک ؤ خون ہمارے حوالے کر دیتی ہے جسکی بہترین مثال ضیا اور مشرف کا پاگل پن ہے جن کے ہاتھوں ہم اپنے ٩٠ ہزار معصوم ” بلڈی سویلینز ” کھو چکے اگر آپ انکو فوج کی ڈلیوری کہہ رہی ہیں تو آپکے سویلین ہونے پر مجھے شک ہے

  • 29-04-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    Wastage of time

  • 30-04-2016 at 4:29 am
    Permalink

    بہترین ابرہیم صاحب

    • 30-04-2016 at 10:49 am
      Permalink

      Ap ka shukria Aina

  • 30-04-2016 at 11:40 pm
    Permalink

    مذکورہ مضمون غلطیوں اور بددیانتی کا شاندار امتزاج ہے. مضمون کا انداز بیاں اوریا مقبول جان قبیل کے انشا پروازوں جیسا ہے جس میں ٹیپ کا جملہ آتا ہے کہ مخالف پارٹی کو فلاں چیز نظر نہیں آتی.
    پہلے نظر غلطیوں پر ڈال لیتے ہیں
    اس مضمون ایک غلطی کی نشاندہی تو ظفر عمران نے کردی لیکن دوسری غلطی یہ ہے کہ دھواں الفا براہ چارلی سے پہلے 1993 میں پیش کیا گیا تھا. ظاہر ہے کہ یہ دونوں غلطیاں کتابت کی نہیں بلکہ مصنف کی کم علمی کی ہیں. مضمون لکھنے سے پہلے وکی پیڈیاں پر ایک نظر ڈال لیتے لیکن افسوس کہ تعصب نے فرصت نہ دی.
    اب ذرا بددیانتی کی جراحی کرلیں جائے
    فاضل مصنف نے فلم کی کہانی کے محض وہ حصے اٹھائے ہیں جو صرف ان کے نظریہ کی حمایت کرتے ہیں. انہوں نے لکھا کہ ایک طالبان ٹائپ شخص وزیر اعلی کو قتل کرنے کی کوشش کرتا ہے کیا اس فلم میں بھی دکھایا گیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے خود اس شخص کو مدد فراہم کرتے ہیں اگر ایسا ہوتا تب ہی کہہ سکتے تھے کہ طالبان کو ہیرو بنایا گیا ہے. اور سوال یہ بھی کہ یہ شخص واقعی طالبان کا نمائندہ تھا. یہاں فاضل مصنف نے اسے طالبان نما لکھ کر پڑھنے والوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے. وہ آدمی طالبان نہیں تھا جو کسی مخصوص نظریہ کے تحت قتل کرنے آیا تھا بلکہ کسی عورت سے زیادتی کا بدلہ لینے آیا تھا. وہ سندھی ثقافت پر حملہ کررہا تھا کیونکہ سندھی ثقافت میں اس طرح کے معاملات میں صرف عورت کو قتل کیا جاتا ہے. مرد کو صرف اس صورت میں قتل کرتے ہیں جب اس کا تعلق کسی بڑے قبیلے نہ ہو. یقین نہ آئے تو نفیسہ شاہ سے پوچھ لیں جن کے اپنے حلقے میں کئی خواتین کو کاروبار قرار دے کر قتل کیا گیا ہے.
    آگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں کہ گارڈ اپنے آقا کو گولی مارتا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ اس سے پہلے وہ اسی افغان کو بھی مارتا ہے جو وزیر اعلی کو قتل کرنے آیا تھا. اور وزیر اعلی کو قتل کرکے خود کو قانون کے حوالے بھی کرتا ہے.
    اپنے مضمون کے آجر میں فاضل مضمون نگار مشورہ دیتے ہیں کہ اس موضوع کے علاوہ کسی اور موضوع پر بھی فلم بن سکتی تھی. یہ جملے شائد پہلے بھی کہیں پڑھے ہیں. میرا خیال ہے کہ رجعت پسندوں نے یہ مشورہ شرمین عبید کو سینکڑوں مرتبہ دیا ہے. میرا بھی مضمون نگار صاحب کو مشورہ ہے کہ وہ اگر چاہتے تو تھر میں بچوں ہلاکت یا آج کل سندھ میں ہونے والے امتحانات میں پرچوں کے آؤٹ ہونے کوبھی موضوع سخن بنا سکتے تھے جو زیادہ اہم معاملات ہیں. یا شائد امتحان میں نقل کرنا بھی سندھی کلچر کا ایک حصہ ہے.

  • 01-05-2016 at 12:00 pm
    Permalink

    محمد سلیمان آپ کی مہربانی۔ آپ نے اپنے اندر پلپلتی نفرت کو الفاظ کا روپ دے کر سندھ کی ثقافت پر خوب وار کئے ہیں، ہمیں خوشی ہوتی کہ وہ یہ سب کچھ اپنے اصلی نام سے لکھتے، لیکن ان کی مجبوری ہے، وہ اپنی پہچان اس لئے چھپا رہے ہیں کہ اصل میں ان کی کوئی پہچان ہی نہیں، مجھے یہ صاحب اس ٹولے میں سے لگتے ہیں جن کو اپنی پہچان کے کئی مواقع ملے لیکن وہ سب ہاتھ سے نکال چکے ہیں،یہ اس ٹولے میں سے لگتے ہیں جواب نئے نام اور القاب سے جانے جاتے ہیں۔اب میں نہیں کہنا چاہتا کہ نئی پہچان کیا ہے، کہیں تو وہ بندہ بتا سکتا ہوں جو یہ بات ان کو سمجھا سکتا ہے۔
    اگر مضمون نگار نے اپنے لیکھ میں تعصب برتا ہے تو یہ نقلی سلمان صاحب نے کیا لکھا ہے؟ تھوڑا سا غور کرنے کے ضرورت ہے ۔وہ اس تعصب کے چکر میں کافی حد تک آگے نکل چکے ہیں،لیکن یہ نہیں بتایا کہ مضمون میں تعصب کس کے ساتھ برتا گیا ہے؟ تنقید کی صورت میں جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے وہ اندر کی بھڑاس کے سواء کیا ہے؟ اپنے تبصرے میں ایک قوم کے وجود سے انکاری یاتمام برایوں کو ان کی ثقافت قرار دے کر اپنی مکمل جابنداری کا اظہار کردیا ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو سب کو بانٹ دیتی ہے،تعصب اس کو ہی کہتے ہیں جب آپ ایک قوم کے لئے ایسے الفاظ لکھیں،کاش آپ بھی ملک کی کسی قوم کے حقیقی فرد ہوتے جس پر آپ فخر کر سکتے۔لیکن آپ کی کوئی پہچان نہیں جناب۔۔۔انڈر کور ہو سکتے ہیں آپ۔۔
    اپنی نئی پہچان پر گھبرایا سا میرا دوست اب شاید نئی نوکری کی تنخواہ حلال فرما رہا ہے، میں اکیلا نہیں اس نظام کو بندوق کی نوک پر یرغمال کرنے اور اس پر اکسانے والے نظریات کے مخالف تمام حضرات اس فلم کے نقاد ہیں۔اگر آپ کو اس فلم کی ناکامی کے ڈر کی وجہ سے پیسے ڈوبنے کا خطرہ ہے تو بہائی پرانا دروازہ بند تو نہیں ہوا، اس سے رجوع کر لینا۔۔

Comments are closed.