ٹیوشن کلچر تعلیمی نظام کو نگل گیا.


موجودہ دور میں جہاں حکومتی بے اعتنائی کے سبب تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکارہے وہیں ٹیوشن کلچر نے شعبہ تعلیم کو ایک کارپوریٹ سیکٹر بنادیا ہے جس کا مقصد بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی نہیں بلکہ صرف بینک  بیلنس بڑھانا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا اسٹرکچر اور غیر معیاری تعلیم کی وجہ سےوالدین پرائیوٹ اسکول و کالجوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ امیر طبقہ اور حکمرانوں کے بچے اعلی اسکول و کالجز کے بعد بیرون ملک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں متوسط طبقے کے بچے نجی اسکولوں میں  پڑھتے ہیں جن کے باہر انگلش میڈیم اسکولوں کی تختیاں لگاکر بھاری فیسیں وصول کرکے سادہ لوح والدین کو بےوقوف بنایا جارہا ہے۔

ان نجی اسکولوں میں غیر تربیت یافتہ اسکول ٹیچرز تدریسی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ جہاں روایتی طریقہ تدریس اختیار کرتے ہوئےبچوں کو رٹو طوطا بنایا جا رہا ہیں۔ جدید طریقہ تدریس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بچوں کو پریکٹیکل اور متحرک کیے بغیر پڑھایا جاتا ہے۔ اسکول انتظامیہ اسکول ٹیچرز کو کم تنخواہ دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیچرزشام۔ کے اوقات میں ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ جہاں محلے کے بچوں کے علاوہ اسکول کے طالب علموں کو بھی ٹیوشن پڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہیں۔ اس طرح اساتذہ اسکول  سے زیادہ گھر بیٹھےکمالیتے ہیں۔

کچھ ٹیچرز اسکولوں میں دیگر طالب علموں کے مقابلے میں ٹیوشن اسٹوڈینٹس کو منظور نظر رکھتے ہیں۔ امتحانی پرچہ جات  ٹیوشن میں امتحان سے قبل ہی آؤٹ کرادیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی امتحانات میں پوزیشنز آئیں دوسری جانب دوسرے مضامین کے اساتذہ بھی امتحانی کاپی کی جانچ پڑتال میں امتیازی سلوک رواں رکھتے ہیں۔ اسکول میں ٹیوشن کلچر فروغ کے باعث اساتذہ کے مابین رسہ کشی کا مقابلہ رہتا ہے اور گھر کے ٹیوشن میں اسٹوڈینٹس کی فیسیں اور تعداد کے حواے سے مخبریاں بھی ہوتی ہیں۔

اسی طرح نویں، دسویں اور کالجز کے اساتذہ نے بھی باقاعدہ کوچنگ سینٹرز کھولے ہوئے ہیں جہاں بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور ٹیچرز اسکول و کالجز کے مقابلے میں پرکشش لیکچر کوچنگ کلاسز میں دیتے ہیں ہر مضمون کے تیار کردہ نوٹس اور گیس پیپرز اپنے لاڈلے طالب علموں میں تقسیم کرتے ہیں اور اپنے اسکول و کالجز کے طالب علموں کو بھی اپنے کوچنگ میں بھرتی ہونے کے لئے اکساتے ہیں۔

اسی طرح کا حال یونیورسٹیوں میں کچھ مخصوص مضامین کے سسٹم میں بھی رائج ہیں۔ ان تما م زمینی حقائق کے تناظر میں بالخصوص اسکول انتظامیہ بھی ٹیوشن کلچر سے مستفید ہونے کے لئے متحرک ہوگئی ہیں اب بیشتر اسکولوں میں شام کے اوقات میں ٹیوشن سینٹرز کھل چکے ہیں جہاں پرنسپل اور ان کی فیملی اپنے ہی اسکول کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور والدین کو اسکول ٹیچرز سے ٹیوشن لینے کے لئے منع کیا جاتا ہے اس طرح اسکول انتظامیہ  بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہیں اور بھاری فیسیں وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیوشن فیسز بھی بٹورہی ہیں۔ اور دور مہنگائی کے آشوب میں بےچارے والدین کو بےوقوف بناکر خوب لوٹا جارہا ہیں۔ اس ضمن میں حکومت کو سخت ایکشن لینا ہوگا اور نجی اسکولوں کے اساتذہ کے لئے پرکشش تنخواہوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ اساتذہ اپنے پیشہ سے مخلص ہوں اور ٹیوشن کلچر کا خاتمہ ہو۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ثنا سیف کی دیگر تحریریں
ثنا سیف کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں