ممبئی حملے اور نواز شریف


حال ہی میں ملک کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے شخص میاں محمد نواز شریف صاحب نے ایک انٹرویو دیا جس پر بھارت میں بہت ”بھارت ناٹیٹم‘‘ اور ”ڈانڈیا‘‘ ہوا اور پاکستان میں بھی سارے ہی ذرائع ابلاغ ”خٹک ڈانس‘‘ میں مصروف رہے۔ میاں صاحب اپنے اس انٹرویو میں پوچھتے ہیں کہ کیا ہم انتہا پسند گروہوں کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ بھارت میں جا کر 150 لوگوں کوہلاک کر دیں؟ میاں صاحب کا سوال معصومانہ ہے۔ یہ سوال جنرل جیلانی کا ”ملک کافور‘‘ ہی اتنی معصومیت سے پوچھ سکتا ہے۔ یہ سوال جنرل ضیاء الحق کا روحانی بیٹا ہی اتنی معصومیت سے پوچھ سکتا ہے۔

مگر میں جو کہ ایک عام پاکستانی ہوں، نواز شریف صاحب سے بھی کچھ سوالات پوچھنا چاہوں گا۔ مگر پہلے بچکانہ سوالات: تو جناب ممبئی حملے کا مبینہ ملزم اجمل قصاب بھارتی میڈیا پر نشر ہونے والی اپنی وڈیوز میں خدا کو ”بھگوان‘‘ کیوں کہتا تھا؟ اور یہ کہ پاکستان میں کون سا مسلمان خدا کو بھگوان کہتا ہے۔ خاص طور پر اگر وہ جہادی بھی ہو؟ دوسرا سوال: اس قدر بہاری یا اترپردیش کے دیہاتی لہجے میں پنجاب کے فرید پور کا کون سا باشندہ بات کرتا ہے؟ تیسرا سوال: اتنے سارے حملہ آوروں کے دعوے کے باوجود بھارتی میڈیا پرصرف ایک ہی شخص اجمل قصاب ہی کی بات کیوں بار بار کی جاتی رہی؟ باقی حملہ آوروں کا ذکر کیوں میڈیا سے غائب ہیں؟

اب آتے ہیں کچھ معصومانہ سوالات کی طرف اور یہ سوالات آپ کو غور سے سننے ہوں گے۔ میاں محمد نواز شریف صاحب! کہ اگر یہ افراد پاکستانی بھی تھے تو کیا آپ خود پاکستانی نہیں ہیں؟ اگر ہیں تو اس مقدمے میں آپ استغاثہ کا کردار کیوں ادا کر رہے ہیں، وکیل صفائی کا کیوں نہیں؟ فرض کریں کہ سارے جہادی پاکستان سے گئے تھے اور بھارت میں انہوں نے یہ کارروائی کی تو سوال یہ ہے کہ کیا سارے جہادی ہر کام پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے این او سی لے کر کرتے ہیں؟ فرض کر لیجیے کہ واقعی سارے جہادی اسٹیبلشمنٹ سے این او سی لے کر بلکہ اس کے حکم پر ہی چلتے ہیں (ویسے آپ کہنا یہی چاہ رہے تھے ناں؟ ) تو کیا بھارت اپنی سرحد سے جلیبیاں اور پھجے کے پائے کے پیکٹ پھینکتا ہے؟ کیا بھارت نے مکتی باہنی کی تربیت کر کے اس سے ہزاروں پاکستانیوں کا قتل عام نہیں کروایا؟ کیا بھارتی را کراچی، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی نہیں کراتی رہی؟

یہ کمانڈر کلبھوشن یادیو کیا بلوچستان میں بابا خرواری ؒ کے دربار پر زیارت کرنے اور فاتحہ پڑھنے آیا تھا؟ کیا سربجیت سنگھ اور اس نوع کے دیگر افراد نے پاکستان میں دہشت گردی نہیں کرائی؟ اور اگر کرائی تو کیا ان میں کبھی کوئی عام شہری ہلاک نہیں ہوا؟ کیا لاکھوں کشمیریوں کا خون بہانا بھی بھارت کے لئے جائز ہے، ہزاروں مسلمانوں کو گجرات میں ذبح کر دینا بھی بھارت کے لئے جائز ہے اور بھارتی مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا دینا بھی بھارت پر جائز ہے؟ میاں صاحب آپ اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم میرے پاناما جیسے کرتوت کھولتے ہو تو میں تمہارا پول کھول دوں گا۔

مگر آپ یہ بھول گئے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اگر بھارت کے ساتھ کچھ کیا بھی ہے تو وہ محض ردعمل سے زیادہ کچھ نہیں۔ بھارت نے کشمیر ہڑپ کر لیا، ہمارا صوبہ مشرقی پاکستان ہم سے چھین لیا، حیدر آباد دکن فوج کشی کر کے چھین لیا، جونا گڑھ اور منوادر پر قابض ہو گیا، ہمارے دریا بند کر رہا ہے، پھر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزی کرتا ہے، آپ بھارت سے کیوں نہیں سوال کرتے کہ تم لوگ آخر چاہتے کیا ہو؟ مگر آپ کا سوال اپنی اسٹیبلشمنٹ سے ہے؟ حضور آپ پاکستان کو بنا کیا دینا چاہتے ہیں؟ گوربا چوف کا سوویت یونین؟ آپ کا اور آپ کے پیارے جیو ٹی وی کا ایجنڈا یہ ہے کہ ہم بھارت سے دوستی کر لیں۔ کشمیر کو بھول جائیں، امریکا کے تلوے چاٹتے رہیں اور آپ کو پاکستان کا راجا بنا کر رکھیں۔ آپ ملک لوٹتے رہیں، کھسوٹتے رہیں، اربوں کھربوں روپے انفرا اسٹرکچرل پراجیکٹس میں سے ہضم کر جائیں، ملک کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس گروی رکھ دیں، پھر یہ سب کرنے کے علاوہ آپ کے پاس اپنے بھارتی اور امریکی آقاؤں کا دیا ہوا ایجنڈا بھی ہے کہ ملک میں سیکیولر گورننس ہو، قرارداد مقاصد سے یہ جملہ نکالا جائے کہ اقتدار اعلیٰ اللہ کے پاس ہے، قادیانیوں کو دوبارہ مسلم قرار دیا جائے، اسلامی دفعات کو آئین سے ہٹایا جائے۔

نواز شریف صاحب! آپ یہ سب ”مسلم‘‘ لیگ کے پلیٹ فارم سے کرنا چاہتے ہیں؟ اس جماعت کے پلیٹ فارم سے جس نے پاکستان بنایا، جس نے یہ نعرہ لگایا کہ پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الٰہ الا اللہ۔ آپ بھارتی یاتریوں سے کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک ہے اور مجھے بھی آپ کی طرح آلو گوشت بہت پسند ہے۔ حضور آپ کو لفظ کلچر کا مطلب بھی معلوم ہے؟ کلچر آلو گوشت ہے، میاں صاحب! آپ کے آلو گوشت میں گوشت حلال ہو گا اور ان یاتریوں کے آلو گوشت میں جھٹکا۔ یہ آپ کا حلال آلو گوشت کھائیں گے اور نہ آپ ان کا جھٹکا آلو گوشت۔ جس جندال کے ساتھ بیٹھ کر آپ آلو گوشت تناول فرماتے ہیں اس کے لوٹے میں ٹونٹی نہیں ہوتی۔

”ہند میں ایک قوم ہندوستانی نہیں بستی، مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، اس لئے ہند کو تقسیم کر کے دو ممالک بنا دیا جانا ضروری ہے، ہندوؤں کا ہندوستان اور مسلم کا پاکستان‘‘ یہ بات ہماری اسٹیبلشمنٹ نے نہیں ہمارے قائد اعظم نے کہی تھی۔ میاں صاحب، انہی قائد نے جن کی مسلم لیگ کی برانڈ آپ استعمال کر کے اس وطن کے تین مرتبہ وزیر اعظم اور دو مرتبہ وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ ممبئی حملے پاکستان نے کرائے ہیں، یہ بھارت کا موقف ہے، آپ بھارت کے موقف کے ساتھ کھڑے ہو کر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ پاکستان سے دشمنی کر رہے ہیں، پاکستان کو لوٹنا کھسوٹنا بھی بہت عظیم جرم تھا مگر یہ اس سے ہزار گنا بڑا جرم ہے۔ مگر بھارت آپ کو بچانے نہیں آئے گا۔ جندال کا پرائیویٹ جہاز نہیں آئے گا آپ کو یہاں سے نکال لے جانے۔

آپ کا منطقی انجام تو ویسے بھی دور نہیں مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ آپ کی سیاسی لاش اس قدر بھاری ہے کہ آپ کا بھائی اور بھتیجا تو دور کی بات ہے آپ کے بیٹے بھی اُس لاش کو نہ اٹھا سکیں گے۔ ویسے بھی اڈیالہ جیل (اگر آپ خوش قسمت ہوئے تو) میں آپ کو بی کلاس تو مل ہی جائے گی۔ آرام سے اپنی کوٹھڑی میں ٹی وی دیکھئے گا اور ملائیشیا کے نجیب رزاق اور جنوبی کوریا کی سابقہ صدر کے ساتھ خط و کتابت کے ذریعے ایک کتاب تحریر کیجئے گا ”مجھے کیوں نکالا؟ ‘‘ اورپھر سوچئے گا کہ ”بھگوان‘‘ آپ کو معاف کبھی کرے گا کہ نہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
ڈاکٹر فرحان کامرانی کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر فرحان کامرانی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں