دیواریں اٹھانے کی افسوسناک پالیسی


editبھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحد پر لیزر وال یعنی الیکٹرانک ٹیکنالوجی کے ساتھ نقل و حرکت کنٹرول کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کردیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی اطلاع کے مطابق اب تک آٹھ لیزر والز تعمیر کی جا چکی ہیں جبکہ آنے والے دنوں میں مزید دیواریں کھڑی کی جائیں گی۔ اس طرح جو ٹیکنالوجی عام طور سے انسانوں کو ملانے کے کام آرہی ہے، اسے بھارت انسانوں کے درمیان فاصلے گہرے کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے۔

بھارت نے جنوری میں پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملہ کے بعد لیزر دیواریں تعمیر کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کیا تھا۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس حملہ میں ملوث دہشت گرد پاکستان سے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ جبکہ تحقیقات سے ابھی تک اس اندازے کو بھی پوری طرح مسترد نہیں کیا جا سکا ہے کہ یہ حملہ آور بھارت کے اندر سے ہی آئے ہوں۔ پاکستان نے پٹھان کوٹ حملہ کے حوالے سے بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے اور ملزموں کو پکڑنے کے لئے حتی الامکان کوششیں کی جارہی ہیں۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ بھارتی اداروں کے بعض بااثر لوگوں نے بھی اس حملہ میں تعاون کیا تھا۔ اس طرح صرف یہ قیاس کرتے ہوئے کہ حملے پاکستان کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ، دیواریں کھڑی کرنے کی منفی اور انسان دشمن پالیسی اختیار کرنے سے دہشت گردی ختم ہونے کی ضمانت تو نہیں دی جا سکتی لیکن شبہات، تعصب اور دوریاں ضرور بڑھیں گی۔ حالانکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لئے فاصلے کم کرنے ، مواصلت بڑھانے اور پیپل ٹو پیپل People to People رابطوں میں اضافہ کی ضرورت ہے تاکہ اعتماد سازی اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستی میں اضافہ ہو۔

پاکستان اور بھارت نے گزشتہ چھ سات دہائی کے دوران دشمنی کا رشتہ نبھایا ہے اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے ۔ اس بات کا ادراک کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی اور شک کی بنیاد پر رشتے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیزر دیواریں اٹھانے سے عام آدمی کو تو روکا جا سکے گا لیکن مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے عناصر ٹارگٹ تک پہنچنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ اگر مداخلت روکنے کے لئے ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی تو دہشت گرد اس ٹیکنیک کے مقابلے میں کوئی اعلیٰ ٹیکنیکل راستہ نکال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت دہشت گردی الیکٹرانک مواصلت کی وجہ سے ذیادہ مؤثر طریقے سے پھیل رہی ہے۔ دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف ممالک میں وہاں کے شہریوں کو بہلا پھسلا کر تخریبی کارروائیوں پر آمادہ کرلیتے ہیں۔ اس قسم کے مزاج اور طریقہ کار کا مقابلہ کرنے کے لئے نفسیاتی، علمی اور سماجی رابطہ استوار کرنے کے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ لیزر کے ذریعے لوگوں کو ہراساں کرنے اور یہ قرار دینے سے کہ دہشت گرد کسی ایک علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، مسائل میں اضافہ ہی ہوگا۔

بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے خلاف تخریبی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنے ، جاسوسی کا نظام استوار کرنے یا لیزر دیواریں کھڑی کرنے سے تحفظ حاصل کرنا سعی لاحاصل ہے۔ اس طرح فریق مخالف بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال کرے گا اور دشمنی کبھی کم نہیں ہو سکے گی۔ اس کے برعکس دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے اور ذمہ دار ریاستوں کی طرح مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششوں کا فوری آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی ایک واقعہ پر ناراض ہو کر بات چیت سے انکار کرنے سے مشکلات میں اضافہ ہی ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali