پاکستان ایک قحط زدہ ملک بننے کی راہ پر ہے


ہمارے لیڈران اور سیاستدان الیکشن کے دنوں میں اپنے جلسے اور جلوسوں میں جن عوامی مسائل پر انتہائی دکھی اور رنجیدہ نظرآتے ہیں وہی عوامی مسائل الیکشن جیتنے کے بعد ان کے لیے غیر سنجیدہ اور غیر ضروری بن جاتے ہیں۔ اقتدار کے نشے میں مست ہو کر وہ عوام اور عوامی مسائل پراسی طرح مٹی ڈال دیتے ہیں جس طرح ان پر مٹی ڈالنے کا حق ہوتاہے۔ اپنے کرم فرماؤں کی مسلسل بے رخی کے باعث یہ مسائل اس قدر پیچیدہ اورلاعلاج صورت اختیار کرلیتے ہیں کہ پھر انہیں حل کرنے کے لیے ہمارے لیڈران کی بے تحاشابصیرت اور صدیاں بھی کم پڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ان مسائل کے حل کی ڈیڈلائنزطے کرتے کرتے دہائیاں گزر جاتیں ہیں اور مسائل حل ہونے میں نہیں آتے۔ بجلی اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو ہی لے لیجیے وطن عزیز میں گزشتہ دو دہائیوں سے بجلی کی قلت کا مسئلہ عوام کی جان کا سب سے بڑا روگ بنا بیٹھا ہے۔ تمام دعووں اور وعدوں کے باجود ابھی تک ہم لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نہیں نکل پائے۔ آج بھی سحری، افطاری، تروایح اور نماز جمعہ میں حسب معمول بجلی اس طرح غائب ہوجاتی ہے جیسے مسجد سے نمازوں کی نئی جوتیاں۔

ہماری نالائقیوں اور نا اہلیوں کا سلسلہ صرف توانائی کے بحران کو سنگین بنانے پر تمام نہیں ہوتا۔ آنے والے دنوں اور سالوں میں قلت آب کا مسئلہ دہشت گردی سے بھی بڑا دردسر بنتا نظرآتا ہے۔ لیکن ہمارے ارباب بستہ و کشادہ میں شاید ہی کوئی با ضمیر اور باکردار ایسا ہو جس کو اس بات کی فکر ہو۔ اپنی غفلتوں اور لاپرواہیوں کی وجہ ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمار ی دھرتی جو کبھی فصلوں، پھولوں، پھلوں اوررنگوں سے سرسبزاور شاداب ہوا کرتی تھی آج قلت آب کی وجہ سے بے حال اور پیاسی نظرآتی ہے۔ ہمارے دریا جو کبھی زندگی اور تہذیب کی شہ رگ ہوا کرتے تھے آج ان میں پانی اور زندگی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔

ہندوستان کی آبی دہشت گردی کے باعث ہمارے دریا مررہے اور مرچکے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح مسلسل زاول پذیر ہے۔ بڑے بڑے ڈیموں جیسا کہ منگلہ اور تربیلا میں مسلسل پانی کی کمی ہورہی ہے۔ پانی کی کمی سے زمینیں بنجر اور کھیت ویران ہورہی ہیں۔ جنگلات ختم ہورہے ہیں۔ چولستانوں اور صحراؤں میں زندگی دم توڑ رہی ہے۔ لوگ زندہ رہنے کے لیے جوہڑوں سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ حتی کہ لوگ پانی پر ہونے والی لڑائیوں میں ایک دوسرے کو قتل کررہے ہیں۔ پانی اب ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکاہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ستر ارب ڈالر کا پانی سمندر میں گرکر ضائع ہو جاتا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی مطلوبہ صلاحیتوں کا نہ ہونا یا ڈیمز کی شدید قلت ہے۔ قلت آب کے مسئلے کا سب سے سنگین اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر مسئلے کی سنگینی کا نہ تو کوئی ادراک ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی۔ قومی خزانے سے اعلی مراعات، اور بڑی بڑی تنخواہیں اور پروٹوکول لینے والے اب تک کوئی جامع اور موثر واٹر پالیسی دینے سے ہی قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ قلت آب کا مسئلہ ہماری قومی مسائل کی ترجیحات میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ اس معاملے میں بے حسی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ ملک کی اعلی عدلیہ کو وطن عزیز میں قلت آب کی کمی کا نوٹس لینا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب کی یہ نشاندہی ہی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کسی بھی پارٹی کے منشور میں پانی کا ذکر نہیں۔

وہ تمام سیاستدان اور لیڈران جو توانائی، بجلی اور پانی کی کمیابی جیسے سنگین مسائل کو حل کیے بغیر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے چکروں میں ہیں ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس قوم پر رحم کھانے کی درخواست ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈران جن کی پالیسی یہ ہے کہ وہ بڑے بڑے ڈیمز بنائے بغیر بھی بجلی اور پانی کے مسائل کو باآسانی حل کرسکتے ہیں انہیں ملک و ملت کی خاطر کم ازکم ایک دفعہ اپنے اس انقلابی منشور پر نظر ثانی ضرور کرلینی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ایسا کرنے سے وسیع پیمانے پر ملک وقوم کی مشکلیں آسان ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ ہم نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو ترک اور نظر انداز کرکے اپنی قومی مشکلوں میں بہت حد تک اضافہ کرلیا ہوا۔ ہماری یہ غفلت اور لاپرواہی ہمارے لیے بھارتی آبی دہشت گردی سے بھی زیادہ مہلک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

حالات اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہمیں ووٹ اور ووٹرز کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کے پانی کو بھی عزت دینی پڑے گی۔ پانی کوعزت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم قومی سطح پر قدرت کی اس عظیم نعمت کو ضائع ہونے بچائیں۔ یہ پانی جسے ہم اندھادھند ضائع کیے جارہے ہیں یہ آب حیات ہی درحقیقت ہماری بقا اور سلامتی کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے گھروں، گلی محلوں، دریاؤں اور ندی نالوں میں بہتی ہوئی اور ناجائز ضائع ہوتی ہوئی اس زندگی کو بچائیں۔ اللہ تعالی ہمیں اپنے پانی کو عزت دینے اور اس کی قدر کرنے کی توقیق عطا فرمائے اور ہمارے حکمرانوں کے ہاتھوں پاکستان کو ریگستان ہونے سے ہمیشہ بچائے۔ امین!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

احمد نواز اسحاق کی دیگر تحریریں
احمد نواز اسحاق کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں