محمد بن قاسم سے نواز شریف تک


hashir_469799211_nتیرگی حسن کیسے بنتی ہے اس کی ترکیب حاکم شہر سے پوچھیے۔ احتساب کا کیا روح افزا راستہ متعین ہوا ہے۔ کمیشن کمیشن کا کھیل دیکھتے عمر ڈھلی پر اب کے جو کمیشن بنانے کی شنید ہے وہ تو بقول ایک وزیر گویا گیم چینجر ہے

کمیشن کی زنبیل سے آخر میں کیا برآمد ہونا ہے وہ تو سب جانتے ہیں پر کمیشن کا دائرہ کار کیا کمال طے ہوا ہے۔ جو فلسفہ اس دائرہ کار کے پیچھے کار فرما ہے وہ کچھ یوں ہے کہ جب تک جیک دی رپر کی شناخت پتہ نہیں لگتی اور اس کو قبر سے نکال کر پھانسی نہیں دی جاتی تب تک قتل کا کوئی نیا مقدمہ درج نہیں ہو گا یا بینک ڈکیتی کی کل مظفرآباد میں ہونے والی واردات پر تفتیش کا آغاز اس وقت ہو گا جب یہ پتہ لگ جائے گا کہ بی ڈی کوپر آخر گیا کہاں اور یہ بھی کہ سلطانہ ڈاکو نے جو ڈاکے ڈالے تھے ان میں استعمال ہونے والے گھوڑے روزانہ کتنا چارہ کھاتے تھے۔ اسی اسپرٹ میں مشرف پر غداری کا مقدمہ اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک یہ سراغ نہیں لگا لیا جاتا کہ میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے قانونی کاغذات کس وثیقہ نویس نے جاری کئے تھے۔

میں تو کہتا ہوں کہ جہاں اتنا کیا ہے وہاں میاں صاحب تھوڑی اور ہمت کر لیں۔ چونکہ ہمارے نظریاتی بریگیڈ کے مطابق پاکستان اس وقت وجود میں آگیا تھا جب محمد بن قاسم نے سندھ میں قدم رکھا تھا اس لئے اس میں قطعًا کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ کمیشن اپنی تحقیقات کا آغاز سنہ 711 عیسوی سے کرے۔ یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ چچ خاندان کا خزانہ ملتان سے آف شور کوفہ کیسے اسمگل کیا گیا اور اس کے لئے قانونی تقاضے پورے کئے گئے یا نہیں۔ یہ بھی پتہ چلنا چاہئے کہ سومنات کے مندر سے لوٹے گئے خزانے کی کل مالیت کتنی تھی اور غزنی لیجانے سے پہلے اس میں سے کتنے کک بیک دئے گئے تھے۔  اس دوران یہ سراغ بھی مل جائے گا کہ نادر شاہ  اور محمد شاہ کے بیچ تخت طاؤس کی ڈیل میں اور کون کون سے سرکاری عمال شامل تھے۔ اس سارے عمل سے ایک دفعہ تاریخ سیدھی ہو جائے گی اور سب بدعنوان لوگوں کو کان ہو جائیں گے۔ کیا ہوا اگر کوئی سو ڈیڑھ سو سال اس کام میں لگ گئے۔

کل سے جو نیا تماشہ  آئی سی آئی جے سے منسوب کر کے چل رہا ہے  وزرا جو بیان داغ رہے ہیں اور پانامہ کے حوالے سے جو نئی تاویلیں گھڑی جا رہی ہیں اور جس شدت سے ان پر اصرار کیا جا رہا ہے  اسے دیکھ کر اقلیم مزاح کے تاجدار شفیق الرحمان کا وہ فلسفی یاد آگیا جس نے کتب فروش کے تقاضے کے جواب میں یہ شاہکار خط تحریر کیا تھا۔

“جناب من

اول تو میں نے یہ بے ہودہ کتاب آپ سے ہر گز نہیں منگوائی۔ اگر منگوائی تھی تو آپ نے ہر گز نہیں بھیجی۔ اگر آپ نے بھیجی تھی تو مجھے بالکل نہیں ملی۔ اگر مجھے ملی تھی تو میں نے قیمت ادا کر دی تھی۔ اور اگر میں نے قیمت ادا نہیں کی تو آپ سے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے کر لیجئے۔ امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔

فقط۔”

آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad