ایک خواب…. صدر ممنون حسین کے نام


husnain jamal (2)نسیان، نسیان، کہاں ہو تم، یار میں بہت گھبراہٹ کا شکار ہوں۔
جی میں حاضر میرے آقا، میرے مرشد، میں یہیں ہوں۔ آپ کو ذرا اونگھ آ گئی تھی تو بجلی چلی گئی، اس لیے اندھیرا ہے۔ کیا ہو گیا ایسے بولائے ہوئے کیوں اٹھے، خیریت؟ مزاج دشمناں ناساز کیوں ہیں؟
نسیان، میں نے خواب دیکھا ہے یار، بہت برا خواب، بلکہ بہت عجیب و غریب خواب، بس اسی گھبراہٹ میں یہ حال ہو گیا، دیکھو پسینہ کتنا بہہ رہا ہے سارے جسم سے۔
ہذیان بھائی، آرام سے لیٹیے، میں پانی لائے دیتا ہوں۔ تھوڑا سانس برابر کر لیجیے بلکہ دوبارہ سونے کی کوشش کیجیے۔
اب کہاں نیند آئے گی یار، بس وہ خواب ہی دماغ میں گھومے جا رہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور ایک طویل سڑک ہے، نہ ختم ہونے والی، اور اس پر شدید دھند چھائی ہوئی ہے، جدھر نظر دوڑاتا ہوں دھند ہی دھند دکھائی پڑتی ہے۔ بلکہ یوں کہو کہ دو فٹ سے آگے کچھ نظر بھی نہیں آتا۔ تو میں اس دھند میں اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوں اور کہیں پہنچنا چاہ رہا ہوں، لیکن کچھ نظر ہی نہیں آ رہا۔ پھر میں یوں کرتا ہوں کہ گاڑی کی لائٹیں بڑھا دیتا ہوں، اب جو روشنی زیادہ ہوتی ہے تو دھند بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ میں سڑک کے داہنے طرف لگی پیلی لکیر ڈھونڈتا ہوں کہ اسی کے ساتھ ساتھ گاڑی چلاوں، تو وہ بھی بہت مشکل سے نظر آتی ہے۔ تین چار گز ہی بڑھا ہوں گا کہ وہ لکیر نظر آنا بھی بند ہو جاتی ہے۔ یار تم یقین کرو بھرپور روشنی ہے لیکن نظر کچھ نہیں آتا، نظر آتی ہے تو صرف دھند۔
میں گاڑی سے باہر نکل آتا ہوں۔ زور زور سے آوازیں لگانے لگتا ہوں، چیختا ہوں۔ کوئی ہے جو مجھے راستہ دکھائے۔ لیکن کوئی ہو گا تو راستہ دکھائے گا۔ میں تھوڑا آگے جاتا ہوں، پھر چاروں طرف راستہ ڈھونڈتا ہوں، لیکن کچھ سجھائی دیتی ہے تو صرف دھند!
آغا ہذیان، بہت ہو گیا یہ دھند نامہ، بند کیجیے اسے، سونے کی کوشش کیجیے، رات کے دو بجے ہیں۔ ویسے بھی برے خواب سنانے کے نہیں ہوتے۔ تعبیریں الٹ جاتی ہیں۔ برج پلٹ جاتے ہیں، زبان پر نہیں لاتے ایسے یہ سب۔
نسیان، تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں، اے مطمئن ناصح، ذرا صبر کرو، میری بات مکمل ہونے دو، جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں مجھے چین نہیں پڑے گا، اور تم جانتے ہو تمہارے علاوہ میں بات بھی کس سے کرتا ہوں، تو مجھے اپنی بات کہنے دو۔ میں جب تک….
آپ فرمائیے ہذیان بھائی، میں برابر سن رہا ہوں۔ فرمائیے۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں گاڑی سے باہر نکل کر بھی اس دھند میں گرفتار تھا۔ چیخنا چلانا بھی ضائع گیا۔ میں دوبارہ گاڑی میں بیٹھ جاتا ہوں۔ دھند کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن اس نے مزید کیا بڑھنا تھا یار، جب کچھ نظر ہی نہیں آتا تو میری بلا سے بڑھے یا کم ہو۔ خیر میں تھکا ہارا اور خوفزدہ گاڑی میں بیٹھا تھا کہ اچانک مجھے روشنی کی ایک باریک سی لکیر دکھائی دی۔
اب یہ لکیر ایسی تھی جیسے لیزر لائٹ ہوتی ہے۔ تو میں نے ایک لمحہ سوچے بغیر اپنی گاڑی اس لکیر کے پیچھے ڈال دی۔ میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ جہاں سے یہ روشنی آ رہی میں وہاں تک پہنچوں گا کہ آخر وہاں کوئی تو ہو گا جس نے یہ روشنی جلائی ہو گی، بلکہ یوں کہو کہ اس لیزر لائٹ کا بٹن آن کیا ہوگا۔ تو میں اس کی سیدھ میں چل پڑتا ہوں۔ اچانک سامنے سے سڑک ختم ہو جاتی ہے لیکن میری گاڑی خود بہ خود تیرتی چلی جاتی ہے۔ تیر رہی ہے یا اڑ رہی ہے، کچھ سمجھ اس لیے نہیں آ رہا کہ دھند ہی بہت ہے یار۔
آغا، کلام کی طوالت اس کی بلاغت کو نگل جاتی ہے، بات مختصر کیجیے، ویسے بھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے، اور اب تو آپ کی طبیعت بھی کافی بہتر ہے، میں آرام سے دوبارہ سونا چاہتا ہوں۔
نسیان، بس تھوڑا اور رہ گیا ہے میرے یار، سن لو۔ تو میری گاڑی ہے جو تیرتی چلی جا رہی ہے اور میں ہوں جو منزل کے انتظار میں ہوں۔ اچانک مجھے محسوس ہوتا ہے کہ گاڑی اب اسی لیزر لائٹ کے قابو میں ہے۔ اور دائیں بائیں اس کی مرضی کے موڑ مڑتی جا رہی ہے۔ میں کچھ خوف زدہ ہوتا ہوں لیکن بیٹھا رہتا ہوں کہ اور کوئی حل بھی نہیں تھا اور سردی بھی تھی، اندھیرا بھی تھا تو ایک جگہ کھڑے رہنے سے کہیں پہنچنے کا خیال بہتر تھا۔ گاڑی چلتے چلتے لاہور سیکریٹریٹ نما ایک عمارت میں داخل ہوتی ہے، اور سیدھا ایک کمرے میں جا کر رک جاتی ہے۔ میں اترتا ہوں، کمرے میں گھپ اندھیرا ہے۔ اب وہی روشنی ایک روشن دان سے نکلتی نظر آ رہی ہے۔ میں روشن دان تک پہنچنے کے لیے گاڑی کی چھت پر چڑھتا ہوں اور اچک کر روشن دان سے لٹک جاتا ہوں۔ خیر جیسے ہی میں باہر جھانکتا ہوں تو مجھے ایک بڑا سا ہال نما کمرہ نظر آتا ہے جو ایک عظیم الشان لائبریری ہوتی ہے۔ اسے میں دیکھتا ہوں تو پہلے خوش ہوتا ہوں اور پھر پریشان ہوتا ہوں۔
آغا ہذیان، آپ نے بھی قصہ یک درویش شروع کر دیا، خیر اب تو نیند بھی اڑ گئی، تو بتائیے آپ پریشان کیوں ہوئے اور خوش کیوں ہوئے۔
یار خوش تو میں یوں ہوا کہ مجھے اس عظیم الشان کمرے میں دھوپ کی کرنیں پڑتی دکھائی دیں اور تم جانتے ہو میں بچپن سے سوریہ ونش ہوں۔ بغیر سورج کے، بغیر دھوپ کے، مجھے ایک دن گزارنا بھی عذاب ہے، تو میں سورج کے امکان دیکھ رہا تھا اور خوش تھا کہ ایک شدید دھند والی رات کے بعد ایک خوب روشن اور چمکتے دمکتے سورج والی صبح ہو گی۔ پریشان یوں تھا کہ روشن دان سے اس لائبریری میں کودنا ناممکن تھا۔ دوسری طرف اس کا فرش کم و بیش پچاس ساٹھ فٹ دور تھا۔ واحد راستہ یہ تھا کہ میں چھت سے لگے فانوسوں سے جھول جھول کر دوسری طرف بلکہ عین سامنے موجود دروازے تک پہنچوں، وہاں سے نیچے موجود کھڑکیوں کے کواڑ تھاموں، پھر الماریوں کا سہارا لے کر نیچے اتروں، اور دروازہ کھول کر اپنے دل پسند سورج تک پہنچ جاوں۔ تو میں نے بہت ہمت کر کے ایک چھلانگ لگائی اور پہلا فانوس تھام لیا، اپنے کامیاب ہونے پر میں حیران بھی تھا اور بے حد خوش بھی، پھر دوسرے فانوس تک ایسے ہی جھول کر گیا، اسے تھاما اور تیسرے کی طرف لپکنے کو تھا کہ دوسرا فانونس جھولتا ہوا آیا اور میری پشت پر لگا۔ یار میں گر گیا۔ اور ایسے زور سے گرا کہ میری پسلیاں ٹوٹ گئیں اور میں دروازے کو دیکھتا رہا، لیکن میں پہنچ نہیں سکا اور میں مر گیا۔
بس یار وہ پسلیوں کی تکلیف اور مرنے کے ڈر سے میری آنکھ کھل گئی۔
ہذیان بھائی، رات کھانا کیا کھایا تھا۔
یار کچھ کھایا ہی نہیں، وہی شام میں جو تمہارے ساتھ کھائی تھی بریانی، اس کے بعد کچھ نہیں کھایا۔
پھر ایسا خواب کیوں آیا آغا۔ اچھا یہ بتائیے رات پڑھا کیا تھا؟
یار وہ مختلف اخباروں کے کالم دیکھ رہا تھا، ہاں یاد آیا، آخری کالم یاسر پیرزادہ کا تھا جس میں انہوں نے ایک اور فن کار کی موت کے بعد اس کے گھر والوں کی بدحالی دکھائی تھی اور یہ لکھا تھا کہ اس سٹیج فن کار کی بیٹی اعلیٰ تعلیم چھوڑ کر کے گھر کا پہیہ چلانے کے لیے اب رقص سیکھتی ہے۔ وہ اسی سٹیج پر کام کرتی ہے جہاں آج کل رقص کے نام پر سوقیانہ خرمستیاں ہوتی ہیں۔ تو بس یہی تحریر پڑھتے پڑھتے سو گیا تھا شاید۔
آغا ہذیان، لیجیے سارا مسئلہ حل ہو گیا، اب میں سمجھ گیا کہ آپ نے یہ خواب کیوں دیکھا۔
تو پھر بتاو نا یار، جلدی کہو۔
سرکار، یہ جو دھند ہے اور جو اندھیرا ہے یہ وہ حالات ہیں جو آپ کے ہمارے جیسے ہر آدمی کا مقدر ہوتے ہیں۔ آپ باہر نکلنے کے لیے بہت کوشش کرتے ہیں، ہاتھ پیر مارتے ہیں، آخر اپنے آپ کو تقدیر کی گاڑی میں چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ لیزرلائٹ ایک امید کی کرن ہے کہ جس کو تھامے تھامے آپ سب اس مقام پر جا نکلتے ہیں جہاں آپ کو قسمت ایک موقع ضرور دیتی ہے۔ وہ روشن لائبریری اور وہ نکلتا ہوا دن آپ کی منزل ہوتی ہے، لیکن اس تک پہنچنا آپ کو فانوس پھلانگ کر ہی ہوتا ہے۔ یعنی ہمت سے مختلف رکاوٹیں عبور کرنا ہوتی ہیں۔ اب غریب آدمی تو پہلے ہی فانوس تک جب پہنچتے ہیں تو کامیابی کے نشے میں سرشار ہو جاتے ہیں، مست ہو جاتے ہیں، ناچتے ہیں اور ایسے سامان رسوائی کے ساتھ ناچتے ہیں کہ تیسرے فانوس تک پہنچتے پہنچتے اپنی ہی بے احتیاطی سے زمین پر آ رہتے ہیں اور اسی صدمے سے اگر مریں نہ بھی تو بھی زندگی بھر اٹھ بھی نہیں پاتے۔ اور بیوی بچے بے چارے آپ کے مقسوم کا لکھا بھوگتے ہیں۔
اس کا حل کیا ہو سکتا ہے یار نسیان؟
ہذیان بھائی، باتوں باتوں میں صبح کر دی آپ نے۔ یار حل تو یہی ہے کہ اول تو فن کار اچھے وقتوں میں خود ہی سے کچھ پیسے بچا لے، کہیں سرمایہ لگا کر شراکت کر لے کسی کاروبار میں، یا اگر ممکن نہ ہو تو کم از کم اپنی زندگی کا بیمہ ہی کروا لے تاکہ بیوی بچے کسی پریشانی سے بچ جائیں۔
نسیان، فن کار کے پاس اتنے پیسے کہاں، اور ہوں بھی تو ایسا مستقبل اندیش دماغ کہاں کہ وہ بیمہ کروائے؟
تو پھر حکومت کروا دے۔
حکومت تک بات کیسے پہنچے گی یار؟
صدر ممنون حسین کے نام ایک درخواست لکھ دیجیے۔ اس میں تفصیل سے لکھ دیجیے کہ سٹیج فن کار ببو برال کی بیٹی تعبیر اب کن حالوں میں ہے۔ وہ ہم سب کی بیٹی ہے، پوری ذمہ داری سے احوال کہہ دیجیے، اس بد نصیب خاندان کی روداد لکھ دیجیے، پھر دیکھیے، شاید کچھ ہو جائے۔ شاید حکومت تمام فن کاروں کے بیمے کا ہی بندوبست کر دے اور اس میں کچھ خاص رقم بھی نہیں لگے گی۔
بھئی نسیان یہ خط وط لکھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے، کچھ اور بتاو۔
ہذیان بھائی کہیے تو آپ کا خواب اور ہماری یہ سب گفت گو لکھ کر صدر صاحب کے نام معنون کر دوں۔
ہاں یار، یہ بہتر ہے، کر دو، یہ کر دو، شاید ان تک پہنچ جائے۔ ویسے بھی سنا ہے وہ علم دوست آدمی ہیں۔
اچھی بات ہے، صاحب یہ داستان ان تک پہنچ گئی، آپ کا خواب ان کے نام ہوا، تعبیر کی پریشانی ان تک پہنچی، خدا ہماری سب تعبیروں کو اپنی امان میں رکھے، آپ کا فرض ادا ہوا سمجھیے۔ اب آئیے ناشتے کا کچھ سامان کریں۔
ہٹاو یار، ہم پھر سوئیں گے ذرا۔ تم کر آﺅ ناشتہ۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “ایک خواب…. صدر ممنون حسین کے نام

  • 19-01-2016 at 12:21 am
    Permalink

    جناب ِ حسنین اس قدر جمیل احساس پر صد آفرین کہ جس کے بطن سے اس حساس تحریر نے جنم لیا ۔ نفس مضمون کے آخر میں درج دعا کے لئے صد ہا نیک تمنا کہ آپ کی یہ التجا دربار ِ ممنون میں آمین پائے۔ بہت سی داد

  • 19-01-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    بہت نوازش شوذب بھائی۔ امید ہے کہ صدر صاحب تک پیغام پہنچ گیا ہو گا۔ چند احباب نے یقین دہانی کروائی ہے۔

Comments are closed.