سیاسی مسکراہٹیں


پاکستان کے سیاسی مسکراہٹوں کی دوڑ میں جناب آصف علی زرداری دل موہ لینے والی مسکراہٹ کےساتھ“اک زرداری سب پہ بھاری ”والی قول پہ صادق اترتےہیں۔ مسکراہٹوں پہ یقینا آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ہوگا۔ مسکراہٹ کیا ہے۔ اک دلکش سیاسی ادا ہے۔ تلخ سے تلخ بات ایسے شیریں انداز میں کر دیتےہیں۔ کہ شک پڑجاتاہے۔ کہیں میڈیا والوں نے ڈبنگ تو نہیں کی ہے؟ ویسےکیا یہ معجزے سے کم ہے، کہ پاکستانی جیلوں میں اتنےسالوں رہنے کے باوجودکوئی اتنی دلکش مسکراہٹ برقراررکھے۔ ہم زرداری صاحب کےسیاسی مسکراہٹوں کے عرصےسےدلدادہ تھےبلکہ ہیں۔ پرپچھلےدنوں جناب کا“بہادربچہ“دیکھنےکےبعدسنجیدگی سے پارٹی بدلنے پرغورکررہے ہیں۔ جناب جب مسکراہٹیں بکھیرتےہیں تو جیالے دھمال ڈالنے میں دیر نہیں لگاتے۔
دمادم مست قلندر علی شہباز قلندر۔ جئے سنڌ جئے۔

دوسرےنمبرپہ یقینادل کو چھولینےوالی مسکراہٹ کےساتھ جناب عمران خان ہیں۔ مسکراہٹ کیاہے۔ پورا“ڈےنائٹ پیکج ”ہے۔ “اس سادگی پہ کون نہ مرجائےاےخدا“ کے مصداق جناب کا سیاست کی طرح یہاں بھی انداز منفرد ہے۔ پہلے باچھیں کھل جاتی ہیں۔ پھرسراٹھاکے نیلگوں آسمان کی سیر کرتے ہیں۔ پھرایسے کھل کھلاکےہنستےہیں۔ کہ بادلوں کی اوٹ میں چھپا چاند بھی شرما کے نازنیں سی ادا سے ایسے سمٹتاھے۔ کہ دل جلوں کے ماتھے کی شکنیں تک غائب ہو جاتی ہیں۔ ہم پر تو اس تحقیق کے دوران کئی گرانقدرمعلومات عیاں ہوئیں۔ ہم صرف دو جوشیلوں کی نذرکرتےہیں۔ خان صاحب ساٹھ کی عمر میں جوان کیوں نظرآتے ہیں۔ کرکٹ بھئ! نہیں جناب مسکراہٹ۔ اورخان صاحب پہ ہزاروں دوشیزائیں کیوں فریفتہ ہیں۔ آپ جان چکے ہیں، عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے۔ خان صاحب کی مسکراہٹوں سے دھرنا کامیاب رہتاہے اور جوشیلے مسکراہٹ کی اک جھلک دیکھنے کے لئے دنیا ومافیہا سے بےخبر آتڼ، بھنگڑا ڈالتے رہتے ہیں۔
کریزی کیا رے۔ جھوم برابر جھوم۔ وایہ وایہ د پښتنو سندری وایہ

تیسرے نمبر پانے والے مولانا فضل الرحمن جیسے سیاست میں یکتا ہیں۔ اسی طرح یکتا قسم کے تبسم فرماتے ہیں۔ مسکراہٹ پیکیج ”ان لمیٹڈ“ ہے، خان صاحب سے دو ہاتھ آگے ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ اس موازنے سے میرا دونوں کی سیاسی رقابت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کیوںکہ یہ ہم فقیر لوگو ں کا شیوہ نہیں۔ نہ یہ سلیم صافی کے“شیرو“والےسوال کی طرح کوئی شرارت ہے۔ غصہ حضرت کےقریب بھی نہیں پھٹکتا۔ اسلام مسکراہٹیں پھیلانےوالادین ہے، وہ غالبا اسی پہ سختی سے عمل پیراہیں۔

جناب میاں محمد نوازشریف کی سیاست اور مسکراہٹ جانچنا یقینا جوئے ‎شیر لانے کے مترادف ہے۔ مسکراہٹ کیا ہے، اک طلسم کدہ ہے۔ اک نظر میں معصوم دوسرے میں سیاسی، اک میں دل آویز دوسرے میں رنگریز۔ بہرحال میاں صاحب اور مولانا صاحب کے درمیان انیس بیس کا فرق ہے۔ یہاں پھر میں یہ الفاظ دہرانےسےباز نہیں آؤں گا کہ خدا گواہ ہےکہ اس موازنے سے۔ پرمیاں صاحب مسکراتےکم ہیں۔ بقول ان کے عوام کی ایسی حالت دیکھ کے کون مسکراتا ہے۔ پران کےعقیدت مند، جن کو دل جلے رقیب الفاظ کی غیر قانونی ہیرپھیر کرکے خوشامدی گردانتے ہیں۔ ان کے اک مسکراہٹ کی جھلک کے لئے بے چین ہو کےحسرت سےگنگاتے ہیں۔
اک بار مسکرا دو۔ میں واری جاواں۔

جناب الطاف حسین صاحب اک پیاری مسکراہٹ کےحامل ہیں۔ “پردےمیں رہنے دو“کےقائل ہونے کی بناء پران کی مسکراہٹ پردے کے پیچھے ہی رہتی ہے۔ وہ ایسےسیاسی جانان ہیں۔ کہ“ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں“۔ پر آواز کی پچ، شدت اور فریکوئنسی کی بدولت ان کی آواز میڈیا پردوردورتک نان سٹاپ سنی جاتی تھی۔ پر آجکل میڈیا سے ان کی آواز ایسی غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اللہ جانے کیا مسئلہ ہے۔ میڈیا کے فریکوئنسی کے آلات خراب ہو گئے ہیں۔ شاید!

جناب محمود خان اچکزئی کی بغیر لگی لپٹی بات کرنے اور سیاست کرنے کے طرز پر ہوبہو مسکراہٹ بھی ہے۔ ان کی مسکراہٹ سے جب گالو ں کا رنگ سرخی مائل ہو جاتاہے۔ تو لگتا ہے کہ صمدخان شہید کا لہو مسکرا کے کہہ رہا ہو۔

پھ جھان دھ ننګیالی دی دا دوھ کارھ       (جہاں میں بہادروں کے ہوتے ہیں دو کام)
یا بھ وخوری ککری یا بھ کامران شی      (جاں گنوا کے شہید ہونا یا کامیابی پانا)

جناب اسفندیار ولی کی تواضع بھری مسکراہٹ میں مرحوم باچا خان کی خاکساری جھلکتی ہے۔ ان کے مسکراہٹ بھرے چہرے کو دیکھ کے لگتا ہے۔ جیسے غنی خان کے شعر کا خمار بول رہا ہو۔ اور دل ہی دل میں اجمل خٹک کا شعر گنگنا رہے ہوں۔

خپل کښکول بھ ګرځوم     (کچکول اپنی اٹھائیں گے)
خپل رباب بہ ټنګوم      (رباب کے تار چھیڑیں گے)
دھ قام خیر بھ ټولوم       (قوم کی بھلائی مانگیں گے)

جناب چوہدری شجاعت حسین کی مسکراہٹ کا بادی النظر میں جانچنا تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز میں ”مٹی پا‎ؤ ”کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں شاید!
مولانامحمدخان شیرانی کی مسکراہٹ ان کے بیان کی طرح جامع اور مختصر ہے۔ ان کی    مسکراہٹ اتنی صوفیانہ ہے کہ لگتا ہے کوئی درویش خواب میں تبسم فرما رہے ہوں۔

جناب شیخ رشید جب سگار کے دھوئیں کے مرغولوں میں اپنی ادا بھری مسکراہٹ بکھیرتے ہیں۔ تو کئی بے ساختہ گنگانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔
۔ جھلک دکھلا جا۔

جناب عبدالقدوس بزنجو آجکل مسکراہٹ کے انبار لگانے میں زونگ کی 4جی رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ جناب کی پانچ سو ووٹوں کے ساتھ وزیراعلی تک معرکتہ الارا ترقی یقینا کسی آٹھویں عجوبے سے کم نہیں۔ اسی لئے تو ہماری انسپریشن بن چکے ہیں۔ کیوں کہ ان کےوزیراعلی بننےکے بعدہمارے اندر لیڈری کےجراثیم خون کےسرخ جسیموں سے بھی کئی گنا بڑھ چکےہیں۔ اور پھرہم نواب اسلم رئیسانی جیسےملنگ وزیراعلی کےسیاسی مریدہیں۔ بقول ان کے“ سیاست میں آ‎ؤ چانس لگ گیا تو وزیرنہیں تو فقیر“۔ اس لئےہم بڑےشدومداورسنجیدگی کےساتھ وزیراعلی شپ کے لئے اپنی پھوٹی قسمت آزمانےکے لئےپرتول رہےہیں۔ کیوںکہ ہمیں قوی امید ہے۔ کہ ہم منت سماجت، دھمکی دھونس، قانونی غیرقانونی، اپنی جمع پونجی لٹا کر اور سبز با غ دکھا کر پانچ سو ووٹ چھین سکتےہیں۔ اس لئےآج کل ہم سارادن عدنان سمیع کےگانےکےبخیےادھیڑنے میں مصروف عمل ہیں۔

یا اللہ پانچ سو ووٹ دلوا دے۔ وزیراعلی بنا دے۔
اک بارہم بھی راہنما بن کے دیکھ لیں
پھر اس کے بعد قوم کا جو کچھ بھی حال ہو    (دلاور فگار)

نواب اسلم رئیسانی کی مسکراہٹ میں ہر غم کا دارو ہے۔ نواب ثناء اللہ زہری کی مسکراہٹ اک بھرپورقہقہہ ہے۔ یہ الگ بات ہےکہ ان حضرات کی مسکراہٹوں کو پنپنےنہ دیا گیا۔ ورنہ پاکستان خوش ترین ممالک میں غالبا ٹاپ ٹین تک رسائی حاصل کر لیتا۔
جناب حافظ حسین احمدکی شریراوردل آویزمسکراہٹ آجکل بکر و زید اور عوام و خواص کو جدائی کا داغ مفارقت دےرہی ہے۔ جناب خادم رضوی کی مسکراہٹ بڑی تمسخریہ ہے اللہ جانے کس کا مذاق اڑارہے ہیں۔

تمارے وعظ میں تاثیر تو ہے حضرت واعظ
اثر لیکن نگاہ ناز کا بھی کم نہیں ہوتا        (اکبرالہ آبادی)

جناب سراج الحق کی بھلی مسکراہٹ ترچھی ٹوپی کےساتھ اوربھلی لگتی ہے۔ جناب مصطفے کمال کی مسکراہٹ طنزو رمزسے بھرپور ہے۔ جناب عبدالمالک بلوچ کی لطیف سی تخیلانہ مسکراہٹ دیکھ کےلگتا ہے۔ جیسےکوئی بلوچ شاعر مہنازکی شاعری پڑھ کےمسکرایاہو۔

(میں انجیر کے ایک بڑے پتے کی طرح)               من ھما انجیراں پتن تاکیں
برز ما کوھانی سرا رستاں  (میری پرورش اونچے کوہساروں پہ ہوئی ہے)

محترمہ بینظیر بھٹو کی مسکراہٹ پہ غنی خان کا اک شعر عرض ہے۔
داپھ سترګودمریم کښی چی زړاوھ کھ خنداوھ(آنکھوں میں(حضرت)مریم کی وہ نمی تھی یاتبسم)

چہ ئےسورپھ صلیب ولیددعیسی دزلفوول(دیکھی صلیب پہ لٹکی جوزلفیں (حضرت) عیسی(ع)کی)

نوٹ: مومن پر فتووں میں دیر نہ لگانے والے بعض مومنوں (عوام وخواص) سے عرض ہے۔ کہ بےنظیر بھٹو سے مراد جناب بلاول بھٹو زرداری کی والدہ مرحومہ اور حضرت مریم سے مراد حضرت عیسی(ع) کی والدہ محترمہ ہے۔ دونوں کارتبہ اورایمان کادرجہ یقینا الگ الگ ہے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں