پولیس، سیاست دان اور عوام


waqar gilani 27مارچ کو گلشن اقبال پارک میں ہونے والی اندوہناک دہشت گردی میں کم ازکم 75 افراد شہید ہوئے اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں مجموعی طور پر بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ حملہ کا خدشہ کئی دن پہلے ایک سکیورٹی الرٹ میں بھی کر دیا گیا تھا پھر بھی لاہور پولیس اور پارکوں کی انتظامیہ حفاظتی اقدام نہ کر سکی۔ اور بقول وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوئی ترکیب ہے ہی نہیں اوراس نے کہیں نے کہیں پھٹنا ہے۔ اس خوفناک دھماکے کی تحقیقات ابھی تک بغیر خاطر خواہ نتیجہ آئے بغیرجاری ہیں۔ حملے کے ایک دن بعد پریس کانفرنس میں وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا کہ صوبے بھر میں کریک ڈاﺅن کا آغاز کیا جا رہا ہے اور دریاﺅں کے گرد کچے کے علاقے میں بھی آپریشن کر کے مجرموں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کیا جائے گا۔ اس کے بعد یکم اپریل کو راجن پور اور رحیم یار خان کے اضلاع میں دریائے سندھ پر واقع کچے کی مشہور جرائم گاہ میں آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔ پولیس نے اس آپریشن میں 1500 سے زیادہ فورس کو شامل کیا۔ یہ آپریشن 15 اپریل تک بغیر کسی خاطر خواہ مثبت نتیجہ کے جاری رہا۔ بلکہ الٹا چھوٹو گینگ نے پولیس کے 7 جوان شہید اور24 کو اغوا کر لیا۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان اور انٹر نیشنل ذرائع ابلاغ نے پولیس کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ نتیجتاً پاک فوج کو مدد کے لئے بلا لیا گیا۔ فوج چار روز کے آپریشن کے بعد اغوا شدہ پولیس والوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب ہو گئی۔ اور چھوٹو گینگ نے بھی ہتھیار ڈالتے ہوئے خود کو فوج کے حوالے کردیا۔ چھوٹو پولیس سے جیت گیا اور پولیس اپنا منہ چھپاتی رہی۔ آئی جی پنجاب خود اس آپریشن کی براہ راست نگرانی کرتے رہے لیکن پھر بھی کامیابی نہ ہو سکی۔ اس کے بعد پولیس میڈیا سے سخت نالاں ہے کیوں کہ میڈیا نے پولیس کی اس ناکامی کو کافی بڑ ھ چڑ ھ کر پیش کیا۔ عوامی سطح پر تقریباً ہر طرف سے پولیس پر طعنہ زنی جاری ہے۔ ہر شخص کہہ رہا ہے کہ پولیس ناکارہ ہے، ناکام ہے اور اس طرح کے آزمائشوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں سے کافی حد تک محروم ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ پولیس فوج کی طرح اسلحہ اور ساز و سامان سے لیس نہیں اس کی تربیت اور استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری طرف پولیس کے فرض شناس افسران اپنی نجی گفتگو اورسوشل میڈیا پر پولیس کے خلاف اس طعنہ زنی کی مہم کو فورس کا مورال گرانے کے برابر گردانتے ہیں اور چھوٹو گینگ ہاتھوں مارے جانے والے پولیس کے ان شہیدوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کشتی پر بیٹھ کر دریا پار کرکے چھوٹو گینگ کے خلاف مقابلہ کی ہمت پیدا کی۔ لیکن اس بحث کی توجہ چند اہم نکات کی طرف ابھی بھی مبذول نظر نہیں آتی ہے۔ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ چھوٹو گینگ نے اس مقابلے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر فوج آجائے تو وہ ہتھیار ڈال دے گا اور خود کو اس کٹھ پتلی اور جرائم کی سرپرست پولیس کے حوالے نہیں کرے گا۔ بلکہ اس نے پولیس کو دھمکی دی کہ اگر آگے بڑھے تواغوا شدہ جوان مار دئیے جائیں گے۔ یہ امربہت قابل فکر ہے کہ اس طرح کے بڑے مجرم پولیس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے بڑے اعتماد کے ساتھ صوبے کی پولیس پر عدم اعتماد کا اظہا ر کررہے ہیں۔ بہت سے ٹی وی چینل اور کالم بعد میں یہ بھی کہتے رہے کہ پولیس تربیت یافتہ نہیں ہے ان کے پاس ساز و سامان (Logictsics) کی کمی ہے۔ ٹی وی پر پولیس والوں کوبغیر اسلحہ ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر بھی دکھایا گیا اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ پولیس کے لئے خطیر رقم مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ساری بحث میں پولیس کی بطور ادارہ خامیوں، کمزوریوں اور کمیوں کے ساتھ اس بنیادی نقطے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ پولیس آج اس صورت حال تک کیسے پہنچی۔ ٹی وی چینلوں پر پولیس کی خستہ حال،سازوسامان اور ٹوٹی پھوٹی گاڑیوں کو دکھانے والوں کو یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ اس فورس جو بنیادی طور پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے بنی ہے کس طرح سیاسی اشرافیہ کے سیاسی اور ذاتی استعمال میں جا چکی ہے۔ کیا کسی وزیریا وزیراعلیٰ کے سکواڈ میں شامل پولیس کے پاس بھی ایسا ہی ناکارہ اسلحہ، سازو سامان اور ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں ہیں۔ ہرگز نہیں۔ پولیس کا بہترین حصہ خود پولیس کے اعلیٰ افسران اور سیاسی اشرافیہ کی حفاظت پر مامور ہے۔ پولیس کی سیاسی تعیناتیاں پولیس کو کبھی بھی آزاد فورس نہیں بنا سکیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایلیٹ فورس پنجاب کے 70 فیصد جوان تو صرف سیاسی و انتظامی اشرافیہ کی ذاتی حفاظت پر مامور ہیں اور ایسا ہی دوسرے صوبوں میں لگتا ہے۔ ایسی صورت حال میں پولیس کا سیاسی اشرافیہ کے سامنے “با ادب باملا حظہ ہوشیار” کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے رہنا اور سیاسی مصلحتوں کو سمجھتے ہوئے اپنے فرائض کو آزادانہ نبھانے کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کرنے پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ بگڑتے بگڑتے صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ واضح دکھائی دیتا ہے کہ جب تک پولیس ایک مکمل طور پر آزاد با اختیار با احتساب بلا تفریق کارروائی نہیں کرتی یہ آنے والے دونوں میں بھی کسی اہم مقابلے اور انتشار سے نمٹ نہیں سکتی ہے۔ اس طرح کے ہر بڑے چیلنج میں پولیس ہمیشہ سیاسی اشرافیہ کی طرف دیکھتی نظر اتی ہے اور میدان میں ناکام ہوتی ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جب تک پولیس سیاسی اشرافیہ کے چنگل سے آزا د نہیں ہوتی یہ کبھی بھی ایک مثالی فورس نہیں بن سکتی۔ اور نہ ہی یہ پولیس عوام میں پذیرائی حاصل کرسکتی ہے۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس میں بہت ایمان دار، بہادر اور فرض شناس افسران بھی موجو د ہیں۔ مثال کے طورپر تقریباً دو سال پہلے ہی اسی کچے

 کے علاقے میں سہیل ظفر چٹھہ جیسے بہادر پولیس افسر نے یہ علاقے جرائم پیشہ لوگوں سے خالی کرائے اور خصوصی اقدامات کئے لیکن بعد میں سیاسی اشرافیہ اور نئے افسران نے حالات دوبارہ اسی سطح پر پہنچا دیئے۔ پولیس کے معیار اور وقار کو بلند کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سب سے پہلا کام یہ کرنا چاہیے کہ اسمبلیوں میں قانون لائیں کہ آئندہ کروڑوں کے اثاثے رکھنے والوں پر عوامی نمائندے اپنے اور اپنے قریبی رشتے داروں کے لئے پرائیویٹ گارڈز رکھیں گے۔ اور پولیس مکمل طور پر عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے گی اور جوابدہ ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کی با اختیار اور با مثال بنانے کے لئے اس کی مزید تربیت، اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ پولیس کی ناکامی کی ذمہ دار صرف خود پولیس نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ سیاسی اشرافیہ ہے۔ جب تک پولیس خود سیاسی اشرافیہ کی “چھوٹو گینگ ” بن کر کام کرتی رہے گی جرائم کی دنیا کے “چھوٹو گینگ” ا س سے بڑے ہوتے رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments