کائنات کا آخری اداس گیت


naseer nasirمجھے دوستوں نے بالکل تنہا کر دیا ہے
وہ میرے لفظوں کو سانس بھی نہیں لینے دیتے
اور ان پر اپنی قبروں کی مٹی ڈال دیتے ہیں
اس کے باوجود ایک لفظ
کبھی کبھی اتنا پھیل جاتا ہے
کہ آنکھیں اُس کا نصف محیط بھی نہیں دیکھ سکتیں

دیکھو، میں ایک بار پھر تمھارے سامنے ہوں
ایک ازلی خواب نامہ رقم کرتے ہوئے
روشنی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں
گرم گرم سیال لاوے کی طرح بہہ رہی ہے
اداسی ایک بار پھر میرے وجود سے گزر رہی ہے
اپنی لاکھوں سال پرانی گمبھیرتا کے ساتھ
لیکن اب میں کوئی نظم نہیں لکھوں گا

یہ جانتے ہوئے بھی
کہ ہر انتہا پر
ایک اور ابتدا جبڑے کھولے منتظر ہے
میں کسی کے نقشِ پا پر اپنی قبر نہیں بنا سکتا
کیا چلنے کے لیے راستہ بہت ضروری ہے؟
روشنی بل دار ہو کہ سیدھی
خلا کی بے لمس تاریکی تو دور نہیں کر سکتی!

دیکھو، میں یہاں لکیریں کھینچتے کھینچتے
دائروں کی ابدیت میں نابود ہو چکا ہوں
اور وہاں، تمھارے جسم کے ساحل پر
وقت کا بہاؤ
آہستہ آہستہ شانت ہوتا ہوا دم توڑ رہا ہے
قدموں کی رفتار تیز کرو
کائناتی کلاک سے باہر
ایک دائمی لمحے کی پکار
تمام بازگشتوں پر غالب آ رہی ہے
ابدی ترتیب سے بھٹکا ہوا وجود
اپنے خلیوں اور سالموں میں چھپا ہوا سچ تلاش کرتا ہے
کیا زندگی صرف اس لیے ہے
کہ ہم ایک بےمہلت رات کے انت پر
آنسوؤں کے چراغ روشن کریں
اور شہابِ ثاقب کی طرح جل بجھ کر
نامتناہی اندھیروں کے غبار میں گم ہو جائیں؟

ایک بےتھاہ کھائی ۔۔۔۔
اور سوالیہ ہُک سے لٹکی ہوئی کائنات
نادیدہ پانیوں پر تیرتی ہوئی
بہت سی لاکلامی، بہت سا کلام
الاپ ۔۔۔ اور معدوم ہو جانے کی اذیت
دُور ۔۔۔ کسی لامکاں کے بےجہت کبودی گوشے میں
کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے
تالمودی راستوں کے اطراف میں
صلیبی پھول کھل رہے ہیں

لفظوں اور خوابوں کی کلوننگ نہیں کی جا سکتی
روشنی، اجازت طلب کرنے کا وقت آ پہنچا ہے
الفراق! الفراق!!
اتنی بڑی عمارت سے
رخصت کرتے وقت
کیا تم مجھے گیٹ تک چھوڑنے بھی نہیں آؤ گی؟


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “کائنات کا آخری اداس گیت

  • 29-04-2016 at 2:00 am
    Permalink

    لفظوں اور خوابوں کی کلوننک نہیں کی جا سکتی

  • 29-04-2016 at 3:00 pm
    Permalink

    ایک بےتھاہ کھائی ۔۔۔۔
    اور سوالیہ ہُک سے لٹکی ہوئی کائنات
    نادیدہ پانیوں پر تیرتی ہوئی
    بہت سی لاکلامی، بہت سا کلام
    الاپ ۔۔۔ اور معدوم ہو جانے کی اذیت
    دُور ۔۔۔

    بہت اعلی۔۔۔۔ کمال الفاظ کا چناؤ

    • 30-04-2016 at 6:46 am
      Permalink

      شکریہ

  • 29-04-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

    • 30-04-2016 at 6:46 am
      Permalink

      شکریہ

  • 29-04-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    نصیر احمد ناصرصاحب ۔ بھئی کمال کا تخیل، الفاظ کی نشست بندی، اظہار کا تسلسل، کہا کہنے! کافی عرصے کے بعد ایسی نظم پڑھنے کو ملی ۔ کسی ایک مصرعے/ سطر کی نشاندہی کرکے خود پر غالب پوری نظم کے نشے کو زائل نہیں کرنا چاہتا ۔ خوش رہیں ۔ اور اسی طرح لکھتے رہیں ۔

    • 30-04-2016 at 6:45 am
      Permalink

      شکریہ نصر ملک صاحب

Comments are closed.