یہ شبِ زباں بندی، ہے رہِ خداوندی


aqdas sandhilaجارج آرویل کے ایک مشہور زمانہ ناول 1984میں ایک کردار ہے بگ برادر، جو کہ اپنے اقتدار کی خاطر سچ کو چھپاتا ہے پراپیگنڈا کے ذریعے عوام کا شعوری استحصال کرتا ہے۔ حالانکہ1984 ایک ڈسٹوپین ناول ہے مگرمجھے ہمارے وزیر آعظم میاں محمد نواز شریف صاحب نہ جانے کیوں بگ برادر جیسے لگتے ہیں۔ ان کو دیکھتے یا سنتے ہوئے ایک جملہ میرے ذہن میں گونجتا ہے “بگ برادر از واچنگ یو”۔ جس طرح کی سنسرشپ اور پراپیگنڈا ان کے جمہوری دور حکومت میں ہو رہا ہے اگر یہ ڈکٹیٹر ہوتے تو نہ جانے کیا کرتے۔ ایک  میڈیا  گروپ کے اخبارات میں جھوٹی ہیڈ لائنز لگواتے ہیں، پھر اس کی تائید میں اشتہارات کے انبار لگا دیتے ہیں، جو ان کے خلاف بولے اس میڈیا گروپ پر اپنے نمائندوں کو نہیں بھیجتے، پی ٹی وہ جیسے قومی ادارے کواپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، پیمرا کا چیرمین ان کا من پسند ہونا چاہیے، نوازنے پر آئیں تو جن کو کرکٹ کی الف بے بھی نہیں معلوم انہیں کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بنا دیتے ہیں، پاکستانی فلموں میں بلیاں میاؤں کریں تو ٹھیک  مگر کرپشن پر فلم بن جائے تو انفارمیشن منسٹری فلم سینما میں تین ہفتے چلنے کے بعد اس پر بین لگا دیتی ہے، میڈیا پاناما آڈٹ کی بات کرتا ہے آپ عمران اورشوکت خانم آڈٹ کے آڑ میں عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ آپ کو یقین بھی ہے کہ عوام ان سب حرکتوں سے بے وقوف بن جائیں گے۔ آپ بھی والٹر لیپ مین کی طرح ہمیں”بھیڑوں کا ایک جتھا” سمجھتے ہیں۔ آپ اورآپ کے وزرا ہمیں اپنی لاٹھی سے ہانکنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، تاکہ ہم اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں اورآپ سے سوال کرنا نہ شروع کر دیں۔ مگر سوال ہم کریں گے،اور کرتے چلتے آرہے ہیں۔ سوال تو دلیرصحافیوں اور شاعروں نے ضیاء الحق سے بھی کیا تھا اور اب ان کی باقیات سے بھی کیا جائے گا۔ جالب صاحب نے لکھاتھا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں ، باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں
222انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں ، خونخوار درندے ہیں رقصاں
اس ظلم و ستم کو لطف و کرم ، اس دُکھ کو دوا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

کسی کو بھی یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ زورو زبردستی ، دھوکے یا پراپیگنڈا کے ذریعےعوام کو خاموش کروایا جا سکتا ہے ۔ کون سی جمہوریت یہ کہتی ہے کہ آپ پی ٹی وی جیسے عوامی ادارے کو اپنے مفادات کی خاطر استعمال کریں؟ جن دنوں عمران خان کو پی ٹی وی پر خطاب کرنے سے منع کیا گیا تو انہوں نے ایک پریس کانفرس کی، نجی ٹی وی چینلز جب خان صاحب کی تقریر دکھا رہے تھے تو میں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا پی ٹی وی پر یہ تقریر نشر کی جارہی ہے یا نہیں، جب پی ٹی وی لگایا تو  عمران خان تو نظر نہیں آئے البتہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے رہنما برجیس طاہر مسلم لیگ ن کے ورکرز کنوینشن میں بڑے جوش و خروش سے عمران خان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔ اور ہم میاں صاحب کے عزیز اہل وطن سے خطابات کو کیسے بھول سکتے ہیں جن میں انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی پوری رام لیلا سنا دی مگر پاناما لیکز پر کوئی بات نہیں کی۔ میاں صاحب کے خاندان کی اللہ کے فضل و کرم سے بنی ہوئی جائیداد کی کہانی دکھانے کے لیے پی ٹی وی کے پاس وقت تھا، مگر اپوزیشن لیڈر کی اسمبلی میں حکومت مخالف تقریر دکھانے کا یارا کسی میں نہ تھا۔ مجھے رہ رہ کر وہ وقت یاد آتا ہے جب میاں صاحب کے اقتدار کو بچانے اور غریب کی بیٹی کی طرح ہر روز لٹتی جمہوریت کی حفاظت کے لیے جب انہی خورشید شاہ اور اعتزاز احسن نے تقاریر کی تھیں تو انہیں لمحہ بہ لمحہ پی ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا۔ اور آج جب ملک میں ان کے بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں پر اور کرپشن پر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے چیرمین کوئی پریس کانفرس کرتے ہیں یا اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں تقریر کرتے ہیں تو پی ٹی وی  کو برجیس طاہرکا ورکرز کنونشن سے خطاب دکھانا یاد آ جاتا ہے- ان کی حکومت کے کنٹرول اورسٹیٹ سنسرشپ کی وجہ سے 2013 سے اب تک پی ٹی وی کو ایک بلین کا خسارہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

اسی سنسر شپ کی ایک اور مثال ہم نے تب  دیکھی جب اشعر عظیم کی بنائی ہوئی فلم مالک پر پہلے سندھ حکومت اور پھر وفاقی حکومت نے پابندی لگائی۔ سندھ حکومت 111کا یہ موقف ہے کہ اس فلم میں جس کرپٹ وڈیرے کو دکھایا گیا ہے وہ سندھی کیوں ہے؟ اورجو کمانڈو اس کو مارتا ہے وہ پنجابی کیوں ہے؟ نیز یہ کہ اس فلم میں فوج کی تو تعریف کی گئی ہے اور انہیں مسیحا بنا کر پیش کیا گیا ہے، جبکہ سیاستدانوں کو کرپٹ اور ظالم ظاہر کیا ہے۔ اپنے اس موقف کی تائید میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما محترمہ نفیسہ شاہ فرماتی ہیں کہ  مالک جیسی فلمیں ملکی اتحاد کے لیے خطرہ ہیں ۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ بی بی کرپشن پر فلم بنے تو آپ کو ملکی اتحاد خطرے میں نظر آتا ہے اورآپ کی جماعت جو ایک فلم پر بھی سندھ کارڈ کھیل رہی ہے اس کی کوتاہ اندیشی سے کیا ملکی اتحاد کو خطرہ نہیں ہو گا۔ ویسے کسی غریب کی بیٹی کو سر عام تھپڑ مارنے سے نہ تو عام آدمی کو کوئی خطرہ ہے اور نہ انسانیت کو۔ اب مولا بخش چانڈیو صاحب کی منطق سنیے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بی بی کی تصویر کو کیوں دکھایا گیا؟ بی بی کی تصویر دکھا کر فلم ساز یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ سندھ کے اس کرپٹ وڈیرے کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ مولا بخش صاحب کی سادگی پر کون  نہ مر جائے اے خدا!۔

اب بات کریں وفاقی حکومت کی تو وزارت اطلاعات نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر فلم پر پابندی عائد کر دی۔ اب اگر آپ کو یہ مسئلہ ہے کہ یہ فلم آئی ایس پی آر کی مدد سے بنائی گئی ہے، یا اس میں فوج کو مقدس بنا کر کیوں پیش کیا گیا ہے تو آپ سےعرض ہے کہ اسی فوج کو آپ نے ہر معاملے میں آگے کیا ہے، آپ نے ان کو بے جا اختیارات دئیے ہیں۔ میاں صاحب اقتدار میں آنے کے بعد کوئی ایک واقعہ بتا دیں جس میں آپ نے فوج کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ہوں۔ دھرنے کے دوران ایک ملاقات میں راحیل شریف نے آپ سے تھوڑی سی سپیس مانگی تھی اور آپ نے اپنے اقتدار کی خاطر انہیں پوری گلیکسی عطا کر دی تھی۔ ملٹری کورٹس، بھارت کے ساتھ تعلقات، مشرف کی بیرون ملک روانگی جیسے کئی مواقع پر آپ جھک گئے، صرف اپنے اقتدار کی خاطر۔ موجودہ حالات کے تناظر میں اگر آپ نےفوجی قیادت کو کوئی پیغام دینا تھا تو تھوڑی ہمت کرتے اور خود بات کرتے،ایک فلم کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی کیا ضرورت تھی؟ شیر بنیں میاں 333صاحب۔ جنہوں نے اس فلم پر پابندی عائد کی ہے ان سے یہ عرض ہے کہ کہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے اس کی تخلیق ایک بچے کی مانند ہوتی ہے۔ آپ اس بچے کے رنگ، جسم، آواز یا کسی بھی اور چیز کو ناپسند کر سکتے ہیں، اس کا اظہار کر سکتے ہیں مگر اس کو قتل نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح مالک اشعر عظیم کی تخلیق ہے اوران کی سوچ کی عکاس ہے، آپ اس پر تنقید کریں ،مگر اسے قتل نہ کریں۔ رہی بات کہ فوج کے خلاف کیوں فلمیں نہیں بنائی جاتیں تو کس نے روکا ہے بنانے سے۔ اگر کوئی ایسی فلم بنانا چاہتا ہے تو ضرور بنائے، فوج اگر دھمکائے تو حکومت کو چاہیے کہ ہمارے آئینی حق کی حفاظت کرے، جو ہمیں اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے۔ مگر یہاں تو حکومت خود اس آزادی کو سلب کرنے میں محو ہے۔ سیاستدانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ ہمیں یہ بتائیں کہ کہ ہم کیا سوچیں اور کیا لکھیں۔ آپ اپنا کام کریں اورہمیں ہمارا کام کرنے دیں۔ اگر ایسے ہی اظہار رائے پر پابندی برقرار رہی تو   ن میم راشد صاحب کے الفاظ میں یہ کہنا چاہوں گی

پہلے بھی تو گزرے ہیں
444دور نارسائی کے، بے ریا خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزومندی
یہ شبِ زباں بندی ہے رہِ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “یہ شبِ زباں بندی، ہے رہِ خداوندی

  • 29-04-2016 at 10:03 am
    Permalink

    فلم مالک پر پابندی کی تو خیر کوئی بھی آزادئ اظہار کاقائل حمایت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
    لیکن—-
    مصنفہ کا بس نہیں چل رہا کہ جیسے کیسے بھی ہو عمران صاحب کو سنگھاسن پر براجمان کرا دیا جائے
    ورنہ ان کی بلا سے چاہے لولی لنگڑی جمہوریت کا بستر گول ہو کر فوج اقتدار پر آجائے
    عمران یا فوج، تیسرا کوئی نہیں منظور
    انگلش کا لفظ ہے parhetic

  • 29-04-2016 at 10:18 am
    Permalink

    in boxing there are some combinations that come into play. like Jab, Cross and then left hook

    this piece reminds me of them. some jabs of poetry, a cross punch of humour and left hook of logic

  • 29-04-2016 at 11:40 am
    Permalink

    Good one. But I think it could have been bit more detailed.

  • 29-04-2016 at 10:09 pm
    Permalink

    اقدس طلحہ سندھیلا صاحبہ، سیاہ کاریوں پر آپ کا یہ ’’ وائٹ پیپر‘‘ ڈر ہے کہیں آپ کے ’’ بلیک ورنٹ‘‘ کے اجرا کا سبب نہ بن جائے ۔ رب تہانوں سلامت رکھے!

  • 30-04-2016 at 1:07 pm
    Permalink

    May be Mian sb still living in 1984 but it’s 2016

Comments are closed.