فوجی نقشے اور پانچویں نسل

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار


آپ نے کبھی کسی اخبار میں سنگل کالم کی خبر پڑھی ہو گی کہ کسی دشمن ملک کا کوئی جاسوس پکڑا گیا اور اس سے حساس نوعیت کے نقشے برآمد ہوئے۔ ایسی خبر میں حساس نوعیت کی دفاعی تنصیبات کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ پرانی جنگی فلموں میں بھی وار روم کے سین ہوتے تھے۔

جس میں جنرل ایک نقشے کے گرد سر جوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اور کھلونوں جیسے ٹینکوں اور توپوں کے ساتھ دشمن فوج کے پرخچے اڑانے کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں۔

روایتی جنگوں میں یہ فوجی نقشے ایک انتہائی حساس اثاثہ سمجھے جاتے تھے اور ان کو ایک قومی راز سمجھا جاتا تھا اور ان کو دشمن کے حوالے کرنا غداری کا قبیح ترین درجہ مانا جاتا تھا۔ کسی بھی معاشرے اور ملک میں غداری کی سزا موت تھی۔

اب جبکہ پوری دنیا کا نقشہ ہر دس ہزار روپے کا فون رکھنے والے کے ہاتھ میں ہے تو ہمیں معلوم نہیں کہ نئے جنگی نقشے کیسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے اور ان کو دشمن کے حوالے کیسے کیا جاتا ہے اور اس کی سزا کیا ہے۔

جنگی نقشوں کا خیال مجھے وہ نقشہ دیکھ کر یاد آیا جو فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ نے ایک پریس کانفرنس میں دکھایا جس میں کچھ صحافی اور سوشل میڈیا کے جنگجوؤں کے نام اور تصویریں شامل ہیں۔ ان ناموں اور تصویروں کے بیچ میں لکیر کھینچ کر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ایک نیٹ ورک ہے جو ملک دشمنی پر تلا ہوا ہے۔ ایک دوسری کی کہانیوں اور ٹویٹوں کو ری ٹویٹ کر کے اور لائیک کا بٹن دبا دبا کر اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

پہلے تو مجھے یہ نقشہ کسی جنگی نقشے سے زیادہ زائچے کا ہی لگا اور تسلی ہوئی کہ ہماری آئی ایس پی آر نے گانے اور فلمیں بنانے سے وقت نکال کر سوشل میڈیا کے تخریب کاروں کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کاُ مکو ٹھپنے کے انتظامات مکمل ہیں۔

تھوڑا غور کرنے پر پتہ چلا کہ بات اتنی سیدھی نہیں ہے اور پہلی دفعہ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کی بھی کچھ کچھ سمجھ آئی جس کا ذکر سارے دفاعی مبصرین اس تواتر سے کرتے ہیں کہ بغیر کچھ سمجھے بھی پوری قوم کو یقین آ چکا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور کون سی جنگ ہائبرڈ؟ کیسی جنگ، کہاں ہو رہی ہے؟ آپ کی ٹوئٹر کی تھکی ہوئی جگتوں میں، آپ کے فیس بک پر ڈالے ہوئے سیاپے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی تصاویر پر مشتمل ایک سلائیڈ دکھائی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ ٹوئٹر پر غیر ریاستی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں

آئی ایس پی آر کے جاری کیے گئے نقشے سے پہلے میں سمجھتا تھا کہ ہائبرڈ وار بھی اس ہائبرڈ گاڑی کی طرح ہو گی جو بظاہر پٹرول اور بجلی سے مل کر چلتی ہے اور ماحول کو کم آلودہ کرتی ہے۔

میں نے بھی ایک دفعہ خریدی تھی اس سے نہ تو کراچی کی آلودگی کم ہوئی اور نہ ہی پیٹرول کا خرچ کم ہوا۔ ففتھ جنریشن وار سے میں سمجھا کہ اس سے پہلے ہماری چار نسلیں چار جنگیں لڑ کر جیت چکی ہیں۔ شمال جنوب میں اپنی دھاک جما چکے ہیں۔ اس لیے اب پانچویں نسل کو پانچویں جنگ لڑنی ہے اور اب آئی ایس پی آر کے جنرل صاحب نے اس ففتھ جنریشن ہائبرڈ وار کا نقشہ پوری قوم کو دکھا دیا ہے۔ ٹارگٹ بتا دیے ہیں اور ان کے آپس میں رابطے لکیریں کھینچ کر واضح کر دیے ہیں۔

جیسا کہ کراچی کی بازاری زبان میں کہتے ہیں کہ اب کوئی نقشہ کرا کے دکھائے۔

اگر آپ واقعی سوچ رہے ہیں کہ اگر یہ واقعی جنگی نقشہ ہے تو اسے تو راز رکھنا چاہیے تھا۔ اس پر بنے ہر ٹارگٹ کو چن چن کر ختم کرنا چاہیے تھا۔ یہ پورا جنگی منصوبہ ٹوئٹر پر کیوں گردش کر رہا ہے؟

وہ اس لیے کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے؟ ٹوئٹر پر اور جنگ اب چونکہ ملک کی سرحدوں کے اندر ہو رہی ہے تو ٹارگٹ کے نام کا ڈھنڈورا پیٹ دیں، باقی کام یار لوگ خود ہی کر لیں گے۔ یا پھر ویگو میں بیٹھ کر کچھ لوگ آئیں گے ساتھ لے جائیں گے، سمجھا بجھا دیں گے۔

اب اگر کوئی پوچھے کہ یہ ویگو میں لے جانے والے لوگ کون ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ ہم ففتھ جنریشن ہائبرڈ میں ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا نقشہ بھی بنے گا اور زیادہ حساس سوال پوچھنے سے آپ کے جسم اور روح کے حساس حصوں پر اس نئی جنگ کے برے اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں