”حرف من و تو“ آپ سے ہم کلام ہوتی ہوئی کتاب


zahid hassanشام کے جھٹ پٹے میں، مکان جہاں میں رہائش پذیر ہوں، اس مکان کی تیسری منزل کی چھت پر ابابیلیں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ آخر اپریل کی شاموں میں ہوتا ہے جب خنکی ذرا سی بڑھتی ہے اور آپ کی طبیعت میں بے نام سی ترنگ بجنے لگتی ہے۔ موٹر وے سے پہلے بجلی گھر کے بڑے بڑے کھمبوں کے اوپر سے اڑتے ہوئے پرندوں، اردگرد موجود گھروں کی چھتوں پر آخری کاموں کو سمیٹتی پھرتی خواتین اور گلیوں میں شور مچاتے بچوں سے ہٹ کر آپ کچھ کر نا چاہتے ہیں، تب کچھ کتابیں آ پ کو آواز دیتی ہیں۔ آپ کے کانوں میں سرگوشی کر تی ہیں۔ اپنے پاس بلاتی ہیں۔ بہت کم ایسی کتابیں ہوتی ہیں ، میں ایسی کتابوں کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ جو بچھڑی ہوئی محبوبہ کی طرح ہوتی ہیں جن سے ملنے پر آپ کی عجیب و غریب کیفیت ہوتی ہے۔ ”حرف من و تو‘ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے جسے میں بار بار پڑھتا ہوں۔ اس میں یہ صفت کیوں ہے۔ ’پیش گفتار‘ کے طور پر اس کے مصنف آصف فرخی، کی گفتگو کا کچھ حصہ دیکھتے ہیں۔ اس میں ، میری گفتار کی گونج بھی سنائی دے گی کہ میں نے انہی سے مستعار لی ہے۔
”بات یہ ہے کہ مجھے کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کتابیں بھی اپنی تقدیر ساتھ لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ بعض کتابیں بڑی اللہ آمین کے بعد درشن دکھاتی ہیں، بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ اپنے لکھنے والوں کی بہت زیادہ خواہش اور منشا کے بغیر یوں ہی چلتے چلاتے عالم موجودات میں آجاتی ہیں۔ بعض جو بے توجہی اور عدم التفات کے باوجود جنم لینے پر اصرار کرتی ہیں اتنی ہٹ دھرم، خود سر اور سخت جان کہ کسی نہ کسی طرح ان تمام مشکلات سے بھی اپنے scan0001آپ کو گزار لیتی ہیں“۔
ادبی انٹرویوز کا یہ سلسلہ خود آصف فرخی کے لفظوں میں 1989 ءتک ان اہم اور پسندیدہ ادیبوں سے ملاقاتوں پر مبنی ہے جن پر باضابطہ طور پر ادب و فن کے حوالے سے سوال کرنے کا موقع ملا۔ اس کی اشاعت محترم مشفق خواجہ کے مرہون منت ہے۔ زیر مطالعہ ایڈیشن پر سن اشاعت 2015 ءدرج ہے۔ کہنا یہ چاہیے کہ کون سا ایسا اہم لکھنے والا ہے جس کے ساتھ اس کتاب میں گفتگو شامل نہیں کی گئی۔ سوالات اور جوابات کا سلسلہ اس قدر مبسوط، مربوط اور پرمغز ہے کہ میرے جیسے کشتگان نظم و نثر کے لیے بہت کچھ سیکھنے کے لیے موجود ہے۔ کتاب کے مندرجات پر بات کرنے سے پہلے ذرا اس فہرست اور ان ناموں پر نظر ڈالتے ہیں جو اس میں موجود ہیں، ہر نام اپنے ساتھ ایک علیحدہ عنوان بھی لیے ہوئے ہے۔ ”کہانی کار کی کہانی۔غلام عباس“۔”چشم طوفاں۔ سلیم احمد“۔ ”کتھا ساگر۔ انتظار حسین“۔ ”دل مسافر کی واپسی۔ فیض احمد فیض“۔ ”بانوئے گفت آشنا۔ کشور ناہید“۔ ”گرد راہ اور گفتگو۔ اختر حسین رائے پوری“۔ ”عشق بن یہ ادب نہیں آتا۔ ممتاز مفتی“۔ ”دنیا کو سمجھانا نہیں آتا۔ جیلانی بانو“۔ ”افسانہ اور افسانے کی تنقید۔ مظفر علی سید“۔”افسانے کی شناخت۔ محمد عمر میمن“۔ ”دیکھنا تقریر کی لذت۔ گوپی چند نارنگ“۔ ”جدیدیت اور افسانہ۔ شمیم حنفی“۔ ”افسانے کی حمایت میں۔ شمس الرحمن فاروقی“۔ ”کتاب عشق کا اگلا ورق۔ امرتا پریتم“۔گفتگو کس سطح اور کس نوعیت کی ہے۔ امرتا پریتم کے ایک اقتباس سے اس کا اندازہ لگا لیجئے۔
”دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک جو اکشروں کو پیار کرتے ہیں اور ایک جو اکشروں کا بیوپار کرتے ہیں، تو ہم اکشروں کو پیار کرنے والوں کی زندگی بڑھاتے چلے جائیں اور مذہب کے نقطہ نظر کو اتنا وسیع کریں کہ وہ روحانیت کی منزل کو چھو جائے۔“
”حرف من و تو“ کا شمار ان کتابوں میں تو ہوتا ہی ہے جنہیں میں اپنی محبوب کتابیں سمجھتا ہوں تاہم اس کے حالیہ مطالعہ کے دوران مجھے اس کے لیے ایک نیا نام سجھا ہے۔”آپ سے ہم کلام ہوتی ہوئی کتاب“۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ آپ اس سے مکالمہ کر سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، کوئی ادبی مسئلہ یا گتھی نہ سلجھ رہی ہو، صفحات پر انگلی دھریں، انگلی کو نگاہ کے زاویے پہ رکھ کے سرکاتے جائیں، آپ کا مسئلہ آپ کی گتھی سلجھ جائے گی۔ یہ کتاب آپ کو بہت کچھ سکھاتی ہے اور بہت کچھ بتاتی ہے۔ یہ بھی کہ ایک بڑا ادیب آپ کے روبرو بیٹھے بغیر آپ کی تربیت کیسے کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سوال کے جواب میں انتظار حسین کا یہ کہنا :
”اور جب کوئی ادبی مسئلہ میری سمجھ میں نہیں آتا پھر میں فوراً رجوع کرتا ہوں لارنس سے کہ اس نے اپنے مضامین میں کیا کہا ہے تو کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی الجھن کے سلسلے میں لارنس میری رہنمائی کرتا نظر آتا ہے ۔ تو میں نے تو کبھی اس بات کو چھپایا نہیں یا یہ کہ فکشن میں ”گریٹ ماسٹرز“ سے میں نے کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات میں نے کبھی نہیں چھپائی کہ چیخوف کا افسانہ مجھے سحر میں لے رہا ہے اور میں نے اس سے کچھ سیکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔سیکھ سکا ہوں یا نہیں سیکھ سکا یہ الگ مسئلہ ہے لیکن کوشش ضرور کی ہے یا جوائس کی کہانیاں ہیں، کافکا ہے، ترگنیف ہے تو میں نے ان ناموں کو کبھی نہیں چھپایا۔ اگر میں الف لیلیٰ پڑھتا ہوں یا مہا بھارت، تو یہ مجھے روکتی نہیں ہیں کہ آپ مغربی ادب نہ پڑھیں بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ بھئی یہ تو وہ تحریریں ہیں جو آپ کو اکساتی ہیں کہ دریافت کرو اگر تم کوئی نئی دریافت کر سکتے ہو۔“
تو یہ ہوتی ہے ایک بڑے لکھنے والے کی عظمت کہ وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے سیکھا۔ وہ سیکھ رہا ہے۔ سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ یہی بات مجھ سمیت بہت سے نئے لکھنے والوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک عظمت اس کتاب کے مصنف کی بھی ہے۔ آصف فرخی، نے سب لوگوں سے ایسے متعلقہ اور برمحل سوالات کیے ہیں کہ اس نے ان کا مافی الضمیر اگلوا لیا ہے۔ حالانکہ یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ بہت زیادہ انٹرویوز کے مطالعہ کے بعد آپ کے دل اور دماغ میں ایک خلش سی باقی رہ جاتی ہے جو اس کتاب کے پڑھنے پر محسوس نہیں ہوتی۔ اسی لیے میں اسے اپنی محبوب، اپنی پسندیدہ کتاب کہتا ہوں۔ ”حرف من و تو“ میں شامل گفتگوﺅں میں سے یوں تو بہت سا حصہ نقل کیے جانے کا تقاضا کرتا ہے تاہم آپ کے پاس وقت اور میرے پاس جگہ کی کمی ہے۔ پھر بھی کتاب میں بے مثل کہانی کار غلام عباس کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے صرف نظر ناممکن ہے۔ بالخصوص اپنے بعض پسندیدہ افسانوں اور ان کی قرا¿ت کے حوالے سے، جس میں وہ کہتے ہیں …. بعض افسانے ایسے ہیں جن کو وہ تیس چالیس سال سے مسلسل پڑھ رہے ہیں اور وہ افسانے ہمہ وقت ان کے ذہن میں موجود رہتے ہیں۔ ان پسندیدہ افسانوں میں مذکورہ بالا افسانوں کے علاوہ جو نام مختلف مواقع پر انہوں نے بتائے ان میں جوزف کانریڈ کا ”ہارٹ آ ف ڈارک نیس“ ژاں پال سارتر کا ”چائلڈ ہڈ آف اے لیڈر“ چیخوف کا ”ڈارلنگ“ اور ”اسٹیپ“ شامل ہیں۔ ایک افسانہ جس کا وہ بار بار خود ذکر کیا کرتے تھے ڈی ایچ لارنس کا طویل افسانہ ”دی مین ہو ڈائیڈ“ ہے۔ عباس صاحب کہتے تھے کہ وہ ان افسانوں کو معیار سمجھتے ہیں اور اپنی کہانیوں کو اسی معیار سے جانچتے ہیں۔ ڈی ایچ لارنس کے افسانوں کو وہ بے حد پسند کرتے تھے حالانکہ انہوں نے کہا تھا کہ انگلستان، افسانہ نگاری میں پھسڈی رہ گیا۔ سمرسٹ ماہم اور کیتھرین مینس فیلڈ کو وہ معمولی افسانہ نگار کہا کرتے تھے“۔
بنیادی طور پر ”حرف من و تو“ ایک عمدہ کتاب ہے۔ آپ سے باتیں کرتی، آپ کو بہت کچھ بتاتی، بہت کچھ سکھاتی ہوئی۔ جن لوگوں سے گفتگو کی گئی ہے انہوں نے نظم و نثر پر گفتگو کو اردو زبان و ادب کے تناظر ہی میں نہیں دیکھا بلکہ بین الاقوامی مطالعات کی بھی جھلک ملتی ہے اس میں۔ امرتا پریتم سے گفتگو پنجابی زبان و ادب کی رفتار کو جانچنے میں مدد دیتی ہے۔ ایسی ہی کچھ اور کتابوں کی ہمیں ضرورت ہے جو ہمارے مطالعے اور لکھنے کے عمل میں ہماری تربیت کر سکیں۔


Comments

FB Login Required - comments