معاشرے کی تعمیر میں فرد کیا کر سکتا ہے؟


ناصر محمود

nasir mahmoodامن، سکون، اعتماد کی فضا، انصاف کا یقین، سچائی کا بول بالا اور محفوظ ہونے کا احساس۔ یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی انسانی معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ اور اس کے حسن کو بامِ عروج تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور وقار میں بھی ایک غیر متناہی اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وہ عناصر بھی ہیں جو کسی بھی معاشرے کے افراد پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے معاصرین کو دور کہیں بے آب و گیاہ صحرا میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے اور پگڑیاں اچھالتے ہوئے چھوڑ آتے ہیں۔ اس کے بالمقابل جو معاشرے بھی ان صفات یا ان میں سے کچھ سے عاری ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیا اور آخرت میں اپنی عزت تو گنواتے ہی ہیں ان کے افراد کا اخلاقی اور علمی ارتقاء بھی رک جاتا ہے۔ اور جس معاشرے کا علمی اور اخلاقی ارتقاء رک جائے، وہ اپنی اہمیت تو کھوتا ہی ہے مادی ناکامیاں بھی اس کا مقدر ہو جایا کرتی ہے۔ آپ کسی بھی ترقی یافتہ قوم کے حال اور ماضی کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، اس کی ترقی اور عروج کے بنیادی محرکات میں آپ کو یہی عناصر کارفرما نطر آئیں گے۔ اور بشمول پاکستان کسی بھی غیر ترقی یافتہ قوم میں آپ کو ان عناصر کا انتہا کا فقدان دیکھنے کو ملے گا جو ترقی اور انصاف کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ انصاف کسی بھی معاشرے کی بقا اور نشونما کے لئے بنیاد کا درجہ رکھتا ہے اور بنیاد کے بنا، چاہے کتنا ہی زور کیوں ناں لگا لیا جائے، عمارت کسی بھی صورت کھڑی نہیں ہو سکتی چہ جائے کہ ترقی کی منازل طے کرے۔ اور انصاف صرف وہی نہیں ہوتا جس کی توقع کسی مخصوص عدالت سے وکیلوں کے ذریعے کی جاتی ہے اور جس کی اکثر و بیشتر خرید و فروخت بھی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے، بلکہ ہر فرد اپنی ذات میں بہت ساری چیزوں کا امین ہوتا ہے جن میں خیانت بے انصافی اور امانت انصاف کہلاتی ہے۔ جیسے کوئی استاذ ہے تو انصاف یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کرے اور اگر کہیں کوئی ہلکی سی بھی کوتاہی کرے گا تو یہ ناانصافی ہو گی۔ طلبہ کا یہ حق ہے کہ استاذ متعلقہ مضمون کا سیرِحاصل مطالعہ کر کے آئے تاکہ ان کو عصری، ثقافتی اور دینی تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور ہمیشہ اپنے ” سابقہ” علم اور تجربہ پر اکتفا کرتا ہے تو یہ بھی نا انصافی، طلبہ کی حق تلفی اور ظلم ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آپ کو ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا شخص، گروہ، طبقہ یا جماعت نہیں ملے گی جو مذکورہ بالا عناصر میں میں سے کسی ایک کی بھی مخالف ہو، اس کی افادیت کی منکر ہو یا کم از کم اس پر کوئی سوالیہ نشان ہی لگا دے۔ اس کے باوجود عملا ہمارا معاشرہ ان تمام عناصر سے یکسر عاری اور بلکل خالی ایک ایسا معاشرہ ہے جس میں نہ تو کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی جان۔ رشوت ستانی ایک معمول کا کام ہے جس میں لینے والا سمجھتا ہے کہ اپنا “حق” وصول کر رہا ہوں اور دینے والا سوچتا ہے کہ میں نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو “جھنجھٹ” سے بچا لیا۔ اقرباء پروری خون میں دوڑتی ہے۔ فلاحی ادارے ذاتی جاگیر کی منظر کشی کرتے ہوئے موروثی اداروں میں بدلتے جا رہے ہیں۔ بھکاری سے لے کر مملکت کے اعلیٰ مناصب تک ہر کوئی اپنے اختیارات کے ناجائز اور نامناسب استعمال کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ عزت ڈنکے کی چوٹ پر بیچی اور خریدی جاتی ہے۔ دجل و فریب کا بازار گرم ہے اور شریف النفس لوگوں سے جینے کا حق تک چھین لیا جاتا ہے۔ ہر پیسے والا قابلِ عزت اور ستائش ہے قطع نظر اس سے کہ وہ کہاں سے آیا اور کیسے کمایا۔ حد تو یہ ہے کہ اس معاشرے میں وہ ڈاکٹر بھی قابلِ احترام ٹھہرا جو صرف اس لئے آپریشن کے نام پر اچھی بھلی عورت کو چیر پھاڑ کر رکھ دیتا ہے کہ معقول معاوضے کا حق دار ٹہر سکے۔ جس کا مطالبہ فطری طریقہٗ پیدائش کی صورت میں ممکن نہیں۔ اور سرکاری ہسپتالوں میں یہ قدم نہایت آسانی سے صرف اس بنیاد پر اٹھا لیا جاتا ہے کہ انتظار کی “زحمت” سے بچا جا سکے۔ نوجوان صرف اس بنیاد پر “علمی” میدان کا چناؤ کرتے ہیں کہ کونسی سند جلد اور موٹی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اور کچھ علماء صرف اس وجہ سے، خم ٹھونک کر، قرآن و حدیث کی تأويل میں جت جاتے ہیں کہ ان کے کسی نام نہاد شیخ کا قول قرآن و حدیث سے مطابقت نہیں کھا رہا اور اب بجائے اس کہ کے اس قول سے برأت کا اظہار کیا جائے موصوفین قرآن و حدیث کے مطالب نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ چند مثالیں ان تلخ حقائق کی لڑی کا حصہ ہیں جس کی لمبائی لامحدود ہے۔ انفرادی طور پر ہمارے معاشرے کا کوئی بھی فرد ان چیزوں کو اچھا نہیں سمجھتا اور نہ ہی ان کے حق میں کبھی کسی بھی طرح کی کوئی دلیل تراشنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود، مجموعی طور پر، یہ تمام حقائق اپنی تمام تر خباثتوں کے ساتھ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئے ہیں۔ اور اس کی وجہ تربیت کے فقدان کے ساتھ ساتھ وہ معاشرتی رویہ بھی ہے جس میں ہم پروان چڑھتے ہیں اور وہ ایک تدریجی عمل کے تحت ہمیں اپنے رنگ و مزاج کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیتا۔ وہ معاشرہ جو بحیثیت مجموعی ہمیں نے تخلیق کیا ہے اور ہم ہی اس کی خباثتوں کا محور و مرکز بھی ہیں۔ عملی طور پر ہم ایک ایسا معاشرہ تخلیق کر چکے ہیں جو ثقافت اور روشن خیالی کے نام پر ہماری اعلی اخلاقی اقدار کا جنازہ نکالنے پر تلا ہوا ہے اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جس کے زیرِ اثر، پیغمبرِ حقﷺ کی واضح ہدایت کے باوجود، ہم اپنے ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ صرف اس لئے نہیں اٹھاتے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

اب المیہ یہ ہے کہ کہ اس معاشرے کا ہر فرد یہ تو چاہتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی فضا قائم ہو لیکن اس کے ساتھ وہ یہ خواہش بھی رکھتا ہے کہ جب اس کی باری آئے تو، جذبات کے نام پر، اسے تھوڑا بہت فساد کرنے، شارع عام پر دھرنا دینے، ملکی اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور عام راہگیروں کو تکلیف دینے کی اجازت ہونی چاہیئے۔ ہر شخص کی یہ تمنا ہے کہ پولیس رشوت خوری بند کر کے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال چھوڑتے ہوئے صحیح طریقے سے اپنے فرائض کی انجام دہی کرے۔ لیکن جب بات اس تک پہنچے تو وہی پولیس رشوت لے کر اسے آزاد کر دے یا اس کی خواہش پر، اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے، کسی بھی بے گناہ کو اٹھا کر لے آئے۔ ہر فرد یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی دھوکہ نہ کرے لیکن جب اس کی باری آئے تو اس کو اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ ایک کلو فروٹ میں کم از کم ایک دانہ تو گندا ڈال ہی دے۔ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہونی چاہیئے لیکن جب وہ خود سٹرک پر اترے تو اس کو اپنا ” قیمتی” وقت بچانے کے لئے قوانین سے تھوڑی بہت روگردانی کی اجازت ہونی چاہیئے۔ ہر فرد جانتا ہے کہ پیلی بتی پر رکنے کی کوشش کرنی چاہیئے مگر اس کا اطلاق تو گویا پیچھے والے پر ہوتا ہے۔ ہر شخص یہ سعی کرتا ہے کہ اس کو کم از کم غذا تو خالص ملنی ہی چاہیئے لیکن اگر وہ خود غذائی سوداگر ہے تو اسے بہرحال تھوڑی بہت ملاوٹ کی اجازت دی جانی چاہیئے تاکہ وہ “بیچارہ” اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔ بیماری کی صورت میں ایک اچھا ڈاکٹر اس کا بنیادی حق ہے لیکن اگر وہ بیروزگار ہے تو اسکو چھوٹی موٹی طبیب کی دکان یا کلینک کھولنے کی اجازت ہونی چاہیئے پھر چاہے کوئی معصوم اس کو مسیحا سمجھتے ہوئے زندگی سے ہی کیوں ناں ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہر فرد کہتا ہے کہ دوائی تو بہرصورت خالص ہی ملنی چاہیئے لیکن کارخانہ اگر اس کا اپنا ہے تو اس مہنگائی کے دور میں کم ازکم تھوڑی سی ملاوٹ کی اجازت تو ہونی ہی چاہیئے کہ آخر کو کاروبار تو کیا ہی منافع کے لیئے جاتا ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جو ہمارا اپنا تخلیق کردہ معاشرہ بڑی صفائی سے، آہستہ آہستہ، ہمارے اندر انڈیل رہا ہے اور ہم کمال معصومیت سے اس کو ہضم کرتے چلے جا رہے ہیں اور جب تک ہم اپنے حلق میں انگلی ڈال کر اس غلیظ مواد کو باہر نکال نہیں پھینکیں گے اس وقت تک نہ تو یہ معاشرہ ٹھیک ہو گا، نہ ملک میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی ادارے ٹھیک ہوں گے پھر چاہے وہ حکومتی ہوں یا نجی، دینی ہوں یا دنیوی، تعلیمی ہوں یا تجارتی۔ ہم میں سے ہر نفس “کلکم راع و کلکم مسؤول” (تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال ہو گا) کا مصداق ہے اور جب تک ہم اس کا عملی مظاہرہ نہیں کریں گے اسی طرح ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے کیونکہ ترقی خوشحالی اور امن و سلامتی کے جو اصول اللہ اور اس کے رسول نے وضع کر دیئے ہیں وہ حتمی اور حرفِ آخر کا درجہ رکھتے ہیں اور اب یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی فرد یا معاشرہ ان کو پسِ پشت ڈال کر عروج کی منازل طے کر سکے۔ عملی میدان میں زبان سے اقرار یا انکار کی کوئی اہمیت نہیں، اہمیت ہے تو صرف اس بات کی کہ عمل کتنا کیا جا رہا ہے۔ جن معاشروں نے زبان سے اقرار نہیں کیا لیکن عملاً تمام فطری قوانین کو، جو عین اسلام بھی ہیں، اپنا لیا، آج وہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جنہوں نے صرف زبان سے اقرار کو کافی سمجھا اور عملا مخالفت پر مصر ہیں، ان کا حال کسی سے بھی مخفی نہیں۔ آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے مقام، اہمیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ایک مثبت معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیجیئے، منزل آسان ہو جائے گی۔ وگرنہ اسی طرح نامراد لوٹنا پڑے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments