کیا واقعی پرسکون نیند جنسی عمل میں بہتری کا سبب بنتی ہے؟


 پرسکون نیند کے انسانی دماغ اور جسم پر مثبت اثرات سے تو ہم آگاہ ہیں۔ اب سائنسدانوں نے اس کا ایک اورحیران کن فائدہ بتا دیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق نئی تحقیق کے نتائج میں یونیورسٹی آف فلوریڈا کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ 8گھنٹے کی پرسکون نیند اور مردوخواتین کی جنسی طاقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو خاتون آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند لیتی ہے سے اگلے روزجنسی عمل کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔ مردوں کو پوری نیند نہ لینے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ان میں ذہنی پریشانی کا سبب بننے والے ہارمون ’کورٹیسول‘ (Cortisol)کا لیول بہت زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ جنسی ہارمون ٹیسٹاسٹرون کی مقدار بہت کم ہو جاتی ہے جس سے اس کی جنسی طاقت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ، جنسی امراض کی ماہر اور سائیکالوجی کی پروفیسر ڈاکٹر لوری منز کا کہنا تھا کہ ’’اگر ہم اس عمل کو الٹ کریں تو جنسی عمل مردوخواتین میں اچھی، پرسکون نیند کا سبب بنتا ہے، کیونکہ جنسی عمل سے جسم میں آکسی ٹوسن پیدا ہوتا ہے جو ذہنی پریشانی سے منسلک ہارمون کورٹیسول کے اثرات کو کم کرکے پرسکون نیند میں مدد دیتا ہے۔چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنسی عمل اور پرسکون نیند کا باہم گہرا ربط ہے۔ ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ آٹھ گھنٹے کی نیند لیتے ہیں وہ جنسی عمل بھی زیادہ کرتے ہیں اور جو لوگ جنسی عمل زیادہ کرتے ہیں انہیں نیند بھی زیادہ اور بہتر آتی ہے۔جو مردوخواتین بہتر نیند نہیں لیتے وہ ازدواجی تعلقات میں بھی رغبت کھو دیتے ہیں۔‘‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں