لاہور کے گرجا گھر


یوں تو قصے کہانیاں کتابوں میں ہی مقید ہوتی ہیں اور ان کے صفحات پر بکھرے الفاظ کے موتی،گزرے ہوئے زمانوں کی تصاویر نگاہوں کے سامنے لا کھڑی کرتے ہیں مگر بعض اوقات تاریخ اینٹ اور پتھر میں قید ہوتی ہے جوصدیوں پرانے قصے کئی نسلوں کے سامنے دہراتی رہتی ہے۔ ماضی کے دریچوں سے جھانکیں تو ہمیں لاہور جیسے پر ہنگام شہر میں بھی برطانوی نو آبادیاتی دور میں قائم ہونے والے گرجا گھروں کی کچھ ایسی ہی پر شکوہ عمارات ملتی ہیں جو مسیحیت کے پیروکاروں کو نہایت پر سکون گوشہ عبادت مہیا کرتی ہیں۔ اس مضمون میں عہد برطانیہ کے چند ایک نادر نمونوں کا ذکر کیا جائے گا۔

کیتھڈرل چرچ آف ریزیریکشن

لاہور کے تاریخی مال روڈ پر سٹیٹ بنک آف پاکستان کی بلڈنگ کے سامنے، چرچ آف انگلینڈ کے پیروکاروں کے سب سے بڑی عبادت گاہ ،کیتھیڈرل چرچ آف ریزریکشن واقع ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر پھیلے ہوئے اس گرجا گھر میں عالمی معیار کا ایک سکول بھی ہے۔ چونکہ یہاں بشپ کی سیٹ موجود ہے اس لئے اس چرچ کو کیتھڈرل کا درجہ دیا گیا۔ اس کی تعمیر 25 جنوری 1887 کو ایک برطانوی ماہرتعمیرات مسٹر جے آلڈرڈ اسکاٹ کے زیر نگرانی مکمل ہوئی فرنچ گوتھک طرز پر تعمیر کی گئی۔ فرنچ گوتھک سٹائل کے بارے میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ آرکیٹیکٹ کے پروفیسر ڈاکٹر شوکت محمود میکسم کا کہنا ہے کہ اس طرز تعمیر کو کسی ماہر تعمیرات نے ایجاد نہیں کیا بلکہ فرانس کے ایک جیولر (جوہری) نے یہ اسٹائل اپنایا۔
اس عمارت کا بیرونی حصہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے۔ جبکہ محراب، ستون اور پشتے سرمئی پتھر سے بنائے گئے ہیں۔گرجا گھر کے تینوں داخلی راستے پورچ نما ہیں عام طور پر آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والا راستہ عمارت کے مغربی حصے میں واقع ہے اس راستے کے دونوں جانب دو بلند و بالا مینار ہیں شمالی مینار میں گھڑیال نصب کیا گیاہے 1862 میں بننے والا یہ گھڑیال آج بھی وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملائے چل رہا ہے جبکہ ملکہ برطانیہ کی جانب سے بھجوائی گئی چھ گھنٹیاں جنوبی مینار میں نصب ہیں چرچ کے اندرونی حصے کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ صلیب نما ہے
اندرونی حصے میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب بنی خوبصورت بیپٹسٹری ، جہاں بپتسمہ کی رسم ادا کی جاتی ہے جو کہ کلیسا کا حصہ بننے والے ہر فرد کیلیئے لازم و ملزوم ہے، مرکز نگاہ بن جاتی ہے یہ بیپٹسٹری زندگی اور پاکیزگی کے چشمے سے تعبیر کی جاتی ہے۔ نیوو کے دونوں جانب عبادت گزاروں کے بیٹھنے کے لئے نشستیں ہیں گہرے رنگ کی لکڑی سے تیار کی گئی یہ نشستیں عبادت گاہ کے ماحول کو مزید سحر انگیز بنا دیتی ہیں۔ یہاں بیک وقت آٹھ سو لوگ عبادت کر سکتے ہیں کھڑکیوں کو منعکش شیشوں سے آراستہ کیا گیا ہے یہ جوہرات کی طرح جگمگاتے شیشے یونارڈ واکر کے تیار کردہ ہیں سورج کی تیز روشنی ان شیشوں سے گزر کر مدھم کرنوں کی صورت میں عبادت گاہ کو روشن کر دیتی ہیں۔
دائیں کونے میں لیڈیز چیپل واقع ہے چیپل ایک نسبتا” چھوٹے چرچ کو کہا جاتا ہے اور یہ حضرت مریم علیہ السلام سے منسوب ہے اس کے داخلی دروازے کے دائیں جانب ” ٹیلات کراس” آویزاں ہے۔
ٹیکسلا کراس کی موجودگی اس بات کی شاہد ہے کہ اس خطہ زمین پر مسیحیت کا آغاز برطانوی یا دیگر یورپی اقوام کے آنے سے نہیں ہوا بلکہ صدیوں پہلے مسیحی اقوام ان علاقوں میں موجود تھیں۔ اس کیتھڈرل کی ایک اور خاصیت یہاں موجود پائیپ آرگنز ہیں جنہیں چرچ سروسز کے دوران استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ساز کار آمد نہیں رہے۔ منبر نما جگہ پلپٹ کہلاتی ہے جہاں کھڑے ہو کر واعظ و نصیحت کا فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے کیتھڈرل کی چھت پہلے معمولی لکڑی سے تعمیر کی گئی تھی بعد ازاں اسے پتھر اور اینٹوں کی مدد سے موجودہ طرز پہ تیار کیا گیا۔

سیکرڈ ہارٹ کیتھڈل چرچ

خدائے بزرگ و برتر اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور تمام انبیا کرام بھی دنیا میں اسی محبت کا پیغام لیکر آئے۔ سیکرڈ ہارٹ کیتھڈل چرچ کو بھی حضرت عیسی کی اسی لازوال محبت اور پاکیزہ دل سے منسوب کیا گیا ہے اس عطیم الشان کیتھدرل کی بنیاد 1902 میں رکھی گئی ایک بلجیئین ماہر تعمیرات ایم ڈبلیئر نے اس عمارت کا نقشہ تیار کیا جس پر انہیں روم کے بہترین ایوارڈ ”حسن کارکردگی” سے نوازا گیا۔ یہ عمارت رومن بیزنٹائن اور گوتھک طرز تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔
بلندو بال مینار، پر شکوہ گنبد، خوبصورت کنگرے او ر محراب اس گرجا گھر کو اس قدر دلکش بنا دیتے ہیں کہ دیکھنے والے کے دل پر اس کا عکس نقش ہو جاتا ہے اس گرجا گھر کو بھی سرخ اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ہے جبکہ تمام داخلی دروازے ساگوان کی لکڑی سے بنائے گئے ہیں بڑا مینار 165 فٹ بلند ہے یہ دو قابل دید میناروں کے درمیان واقع ہے عمارت کا اندرونی حصہ نہایت دلآویز ہے یہاں بہت سی اقسام کا پتھر استعما ل کیا گیا ہے
فرش کے لئے دہلی کا سنگ مرمر، آگرہ کا سفید پتھر،تکاری پتھر اور اٹلی کا سفید اورسیاہی مائل کرارا ماربل استعمال کیا گیا ہے وسطی حصہ اڑسٹھ فٹ چوڑا ہے جبکہ صلیب نما حصے کی چوڑائی 125 فٹ ہے اس کیتھڈرل کی ایک نمایاں خصوصیت یہاں نصب حضرت عیسی، حضرت مریم اور دیگر مقدس افراد کے مجسمے ہیں جنہیں مسیحیت میں ایک اہم مقام حاصل ہے کھڑکیوں میں لگے شیشے اس حصے کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول کو مزید روح پرور بنا دیتے ہیں مسیحی برادری کی روحانی آبیاری کیساتھ ساتھ اس کیتھڈرل کے پہلو میں قائم ایک سکول تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ننھے پھولوں کی تعلیم و تربیت کا بھی بہترین انتظام کئے ہوئے ہے جہاں رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ یہ بچے ایدں وسرے کیساتھ امن و محبت سے رہنے کا سبق سیکھتے ہیں۔

سینٹ میگڈلنی چرچ کینٹ

لاہور کینٹ کے گرجا چوک کو سینٹ میگڈلنی چرچ کی بدولت شہرت حاصل ہوئی۔ اس عبادت گاہ کی تعمیر میں سفید رنگ کا پتھر استعمال کیا گیا ہے۔ مسیحیت میں سفید رنگ بہت اہمیت کا حامل ہے جو امن و محبت سے عبارت ہے اس چرچ کی عمارت بھی اسی پیغام کی غمازی کرتی نظر آتی ہے 1857 میں مکمل ہونے والا یہ گرجا گھر برطانوی فوج کے لئے مخصوص تھا۔ پھول کی پنکھڑیوں کی شکل کے تمام داخلی راستے سنگ مر مر کے بڑے ٹکروں کو تراش کر بنائے گئے ہیں 150 فٹ بلند ٹاور پر نصب یہ گھڑیال ”گاڈ فادر” کہلاتا ہے 1857 میں تیار ہونے والا یہ گھڑیال آج بھی وقت گزرنے کا بخوبی احساس دلاتا ہے
چرچ کا اندرونی حصہ بھی سفید پتھر سے تعمیر شدہ ہے جبکہ لکڑی سے بنی چھت گوتھک آرٹ کا بہترین نمونہ ہے یہاں ایک گیلری بھی موجود ہے جو شکستہ ہونے کے سبب قابل استعمال نہیں رہی۔ کیونکہ یہ عبادت گاہ افواج برطانیہ کیلئے مخصوص تھی اس لئے نشستوں میں رائفلز رکھنے کی بھی جگہ نظر آتی ہے کھڑکیوں کی آرائش منقش شیشوں سے کی گئی ہے جبکہ دیواریں محراب دار ہیں اور ان محرابوں کے کنارے بادشاہ اور فوجیوں کے چھوٹے چھوٹے مجسموں سے آراستہ ہیں ۔

سینٹ انتھنی چرچ ریلوے روڈ

لاہور کا ایک اور قدیم گرجا گھر سینٹ انتھنی چرچ کے نام سے جانا جاتا ہے اسے پہلے ریلوے چرچ کا نام دیا جاتا تھا جسے بعد ازاں تبدیل کر دیا گیا قریبا دو سو سال پرانے اس چرچ کی بنیاد 1809 میں رکھی گئی ابتدا میں یہ عبادت گاہ ریلویز کے برطانوی افسروں اور اینول انڈینز کے لئے مخصوص تھی لیکن تقسیم ہند کے بعد اسے عام مسیحیوں کے لئے بھی کھول دیا گیا اس کا بلند مینار گوتھک طرز تعمیر کا عکاس ہے جبکہ باقی عمارت کی مرمت اور تو سیع کے بعد اس میں کافی تبدیلی آچکی ہے
گرجا گھر کا اندرونی حصہ بھی نو تعمیر شدہ ہے جس میں جدید طرز تعمیر کا عکس نمایاں دیکھا جا سکتا ہے۔ حضرت عیسی کو پیش آنے والے مصائب و مشکلات اور انہیں مصلوب کئے جانے کے واقعہ کو نہایت خوبصورتی سے مجسم صورت میں ڈھال کر دیواروں پر آویزاں کیا گیا ہے۔ یہاں بھی حضرت عیسی اور حضرت مریم سمیت دیگر مقدس افراد کے مجسمے رکھے گئے ہیں گرجا گھر عبات گزاروں کو خدائے عالم سے رازانیاز کیلئے پاکیزہ جگہ ہی مہاہ نہیں کرتے بلکہ نئی زندگی کے عہدو پیمان باندھنے والے جوڑوں کو بھی اسی جگہ اپنے نئے رشتے کا بھی اقرار کرنا ہوتا ہے۔ شہر لاہور کے دامن میں سموئے یہ عالیشان کلیسا اپنے طرز تعمیر کے لحاظ سے ہی منفرد نہیں بلکہ اس امر کے گواہ بھی ہیں کہ اس ملک خدا داد میں تمام اقلیتوں کو اپنے ورثہ اور عقائد کی حفاظت اور عبادات کی مکمل آزادی ہے۔
وقاص شاہد
(ڈیپارٹمنٹ آف ہسٹری جی سی یونیورسٹی لاہور)

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

وقاص شاہد کی دیگر تحریریں
وقاص شاہد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں