پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور تعلیم: ایک تجزیہ


پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت اکثر دعویٰ کرتی تھی کہ تعلیم ان کی ترجیح اول ہے۔ چونکہ اس کی میعاد پوری ہوگئی ہے تو اب تعلیم کے شعبے کے حوالے سے اس کی کارکردگی  کے تجزیہ اورجانچ کے لیے یہ ایک موزوں وقت دکھائی دیتا ہے۔

اساتذہ کی غیر تسلی بخش حاضری، دقیانوسی نصاب، سکولوں کی کم تعداد، سکولوں میں ضروری سہولتوں کی کمی، بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت، خدمات اور سہولتوں کی فراہمی میں صنفی اور علاقائی عدم توازن اور سرکاری سکولوں کی نجی سکولوں کے مقابلے میں فروتر کارکردگی صوبے کے تعلیمی شعبے کے بڑے بڑے مسائل ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت نے ان میں سے کچھ پر قابل قدر کام کیا ہے جبکہ بعض پر اس کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے پہلے سال میں تعلیم ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ اس نے تعلیم کے شعبے کے لیے منصوبہ 2015-20 بھی تیار کیا تھا۔ سب سے زیادہ کام اس نے تعلیمی شعبے میں وسائل کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر کیا ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ویب سائٹ  کے مطابق  اس حکومت نے 30 ارب سے سے زائد رقم تعمیر و ترقی اور وسائل کی فراہمی پر خرچ کیےہیں۔

اب تک 14000 نئے کمرہ ہائے جماعت، 16000 چاردیواریاں، 11000 سکولوں میں بجلی کی فراہمی، 16000 سکولوں میں پانی کی فراہمی، 20000 بیت الخلا اور 6000 سکولوں میں شمسی توانائی کے منصوبے لگائے گئے ہیں۔ سکولوں میں پلے ایریاز لگائے گئے ہیں، انٹرایکٹیو بورڈز فراہم کئےگئے ہیں، سکولوں کی سائنس لیبارٹریوں کو سامان فراہم کیا گیا ہے اور سکولوں کو غیر ملکی ڈونرز کے تعاون سے والدین و اساتذہ کی تنظیم کے ذریعے خرچ کرنے کے لیے Autonomy budget فراہم کیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ  تعیناتیوں، ترقیوں اور تبادلوں میں سیاسی مداخلت کم ہوئی ہے۔ سکولوں میں آزاد مانیٹرنگ نظام اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں بائیو میٹرک سسٹم کے بدولت اساتذہ کی حاضری بہتر ہوئی ہے۔ محکمے میں سزا و جزا کے وقانون کے تحت کام چوروں کے خلاف ایکشن لیاگیا ہے تو 145 ملین روپے اچھی کارکردگی اور نتائج دینے پر پرنسپلز، اساتذہ اور طلبا کو بطور انعام بھی دئیے گئے ہیں ۔

 تاہم آبادی کے تناسب سے سکولوں کی کم تعداد، خدمات اور سہولتوں کی فراہمی میں صنفی اور علاقائی عدم توازن اور سرکاری سکولوں کی نجی سکولوں کے مقابلے میں فروتر کارکردگی جیسے مسئلے اب بھی توجہ اور مزید وسائل کے منتظر ہیں۔

 سرکاری، نجی اور دینی مدارس کے مختلف، متناقص اور کٹر نصاب کی وجہ سے ملک میں انتشار فکری اور قومی یک جہتی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور انتہا پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ہی وعدہ کیا تھا کہ وہ پورے صوبے میں مارچ 2014 تک یکساں نصاب نافذ کریں گے۔ لیکن اپنے آخری برس تک بھی پی ٹی آئی یہ نہ کرسکی۔

 پی ٹی آئی کی سرکردگی میں قائم خیبر پختونخوا حکومت نے ان پانچ سالوں کے دوران جب بھی کوئی بجٹ پیش کیا تو پی ٹی آئی سربراہ اور اس کے دیگر زعماء و وزراء نے ہمیشہ اصرار کیا کہ ان کی حکومت نے صوبائی بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا سب سے بڑا حصہ تعلیم کے لیے ہی مختص کیا ہوا ہے۔

اگر تعلیم کے لیے زیادہ پیسے بجٹ میں مختص کرنے کا مطلب سیاسی قیادت اور حکومت کی تعلیم سے زیادہ وابستگی اور اخلاص ہے تو پھر اپنے پیش رووؑں کے مقابلے میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ اور مکمل صوبائی بجٹ میں اس کی شرح میں مسلسل کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف اپنے اس وعدے اور دعوے، کہ تعلیم اس کی ترجیح اول ہے، کے ساتھ انصاف نہیں کرسکی ہے۔

اگرچہ افراط زر کی وجہ سے اور معمول کے مطابق ہر سال بجٹ اور صوبائی ترقیاتی بجٹ (اے ڈی پی) کے حجم میں اضافہ ہوتا رہا ہے تاہم 2013 سے جب سے پی ٹی آئی کی حکومت شروع ہوئی ہے اس کے دعووں کے برعکس تعلیم کے لیے مختص بجٹ کی مقدار اور پورے بجٹ اور اے ڈی پی میں اس کے فیصدی حصے میں مسلسل کمی ہوتی آئی ہے۔

اپنے آخری بجٹ میں اے این پی کی زیرقیادت حکومت نے، جس نے پی ٹی آئی کی طرح تعلیم کو اپنی ترجیح اول قرار دینے پر کبھی اتنا زور نہیں دیا، کل صوبائی بجٹ کا 27 فیصد تعلیم کے تمام اخراجات (ترقیاتی اخراجات و اخراجات جاریہکے لیے مختص کیا۔ جب کہ پی ٹی آئی، جس نے ہمیشہ تعلیم کو اپنا ترجیح اول قرار دیا ہے، کے دور حکومت میں یہ شرح تھوڑے سے اضافے سے 27.9 پر چلی گئ۔ لیکن اگلے دو سالوں میں یہ س شرح 26.4 اور24.5 پر نیچے آگئی۔ 2016 میں یہ شرح پھر تھوڑے سے اضافے سے 26.3 ہو گئی اور سال رواں میں، جو پی ٹی آئی کا آخری بجٹ ہے یہ شرح دوبارہ کم ہوکر 24.5  پر آگئی ہے۔

اپنے پہلے بجٹ میں پی ٹی آئی نے تعلیمی اے ڈی پی کو عوامی نیشنل پارٹی حکومت کے آخری بجٹ2012 کے 22 ارب کے مقابلے میں 29 ارب روپے تک پہنچایا۔ لیکن اپنے بڑے بڑے دعوٶں کے برعکس اگلے تین سالوں میں یہ باالترتیب 26.1 ارب، 22.1 ارب اور 21.7 ارب تک نیچے آگیا۔ اس سال2017-18 کے صوبائی اےڈی پی میں تعلیم کا حصہ 20.3 ارب روپے  ہے جو تعلیم کے شعبے کے 142  منصوبوں، جن میں 98 جاری اور44 نئے ہیں، کے لیے مختص  ہیں۔ یہ رقم اب تک پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے تعلیم کے لیے مختص شدہ رقوم می سب سے کم رقم ہے۔

پورے اے ڈی پی میں تعلیم کے لیے مختص رقم کی فیصد شرح میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

اے این پی حکومت نے 2012 میں اپنے آخری بجٹ میں پورے اے ڈی پی کا 22.7 فیصد تعلیم کو دیا جسے پی ٹی آئی نے اپنے پہلے بجٹ میں 25.2 تک بڑھا دیا۔ تاہم اگلے تین سالوں میں یہ شرح 18.7, 12.7 اور 13.5فیصد ہو گئی جب کہ  پی ٹی آئی حکومت کے آخری اور رواں مالی سال میں یہ شرح 9.8 فیصد کی مایوس کن سطح پر آگئی ہے۔

اور اگر ترقیاتی بجٹ میں غیر ملکی حصہ میں زیادہ اضافہ اس دوران نہ ہوا ہوتا تو  ترقیاتی بجٹ میں تعلیمی بجٹ کی شرح میں کمی اور بھی زیادہ ہوتی۔

اس سال کے اے ڈی پی میں غیر ملکی حصہ 127 فیصد کے اضافے کےساتھ پچھلے سال کے 36 ارب روپے سے بڑھ کر 82 ارب ہوگیا ہے۔ تعلیم کو بھی اس میں سے 6.7 ارب روپے مل چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے قائدین جب کہتے ہیں ان کی حکومت نے تعلیم کے لیے سب شعبوں سے زیادہ فنڈز مختص کیے ہیں تو وہ تعلیم کے پورے بجٹ (جاری و ترقیاتی اخراجات) کے اعداد وشمار دیتے ہیں اور دانستہ اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ تعلیم کا شعبہ تو ابتدا ہی سے ملازمین اور انفراسٹرکچر کے حساب سے سب سے بڑا محکمہ ہے ( صوبے کے تمام پانچ لاکھ ملازمین میں سےآدھے سے زیادہ اس محکمے میں کام کرتے ہیں) جسے قدرتی طور پر ہر حکومت میں اخراجات جاریہ کے لیے زیادہ رقم ملتی رہی ہے۔

اس سال تعلیم کا پورا بجٹ پچھلے سال کے  132 ارب روپے (جن میں سے 11 ارب روپے اخراجات جاریہ اور 21 ارب ترقیاتی بجٹ کے لیے تھے) کے مقابلے میں 148 ارب روپے ہے جن میں 127.9 ارب اخراجات جاریہ کے لیے اور 20.3 ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لے ہے۔

بجٹ میں ہر سال سکیمیں تو رکھی جاتی ہیں لیکن کم ہی  تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ چناچہ سکیموں کو ملتوی کرنے کی وجہ سے تشنۂ تکمیل سکیموں کی تعداد یا throw-forward-liability میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کے پہلے بجٹ 2013-14 میں پورا صوبائی اے ڈی پی 983 اور تعلیم کا اے ڈی پی 97 منصوبوں پر مشتمل تھا  جن میں 609 منصوبے یا 61 فیصد پورے اےڈی پی میں جب کہ 61 منصوبے یا 62 فیصد تعلیم کے شعبے میں جاری منصوبے تھے۔  اس سال پورے صوبائی منصوبے 1632 ہیں جن میں 72 فیصد جاری ہیں جب کہ تعلیم کے شعبے میں کل منصوبے 142 ہیں جن میں 98 جاری منصوبے ہیں یعنی جاری منصوبے اب 69 فیصد پر آگئے ہیں۔

یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ نہ صرف کسی شعبے کو زیادہ فنڈز کی فراہمی بلکہ ان کا صحیح اور بروقت استعمال بھی لازمی ہے ورنہ کام اور مسائل میں اضافہ اور وسائل اور وقت کا ضیاع لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں