گلوبل وارمنگ سے سبزے میں اضافہ ہو رہا ہے : ماہرین


global warmingماہرین نے محتاط اندازے کے بعد کہا ہے کہ گزشتہ 3 دہائیوں میں زمین پر اتنا سبزہ اگا ہے جو براعظم آسٹریلیا کے دگنے رقبے کے برابر ہے اور اس کی وجہ زمینی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہتات سے ہونے والی گلوبل وارمنگ ہے۔
ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر کلائمٹ چینج میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ہر سال رکازی ایندھن ( فوسل فیول) کے استعمال سے ہر سال 10 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے پودوں اور درختوں پر زیادہ پتے اگ رہے ہیں یعنی وہ سرسبز ہورہے ہیں جب کہ صرف 4 فیصد درخت ’ بھورے‘ ہورہے ہیں یعنی ان پر پتے کم ہورہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کلائمٹ چینج پر اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ’ انٹر گورنمینٹل پینل فار کلائمٹ چینج‘ کے ماڈل کے تحت بھی یہ رحجان درست ہے تاہم میلبرن یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ صرف تھوڑے سے وقفے میں ہی سبزہ اپنی حد تک پہنچ جائے گا کیونکہ فطرت خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اگر فوسل فیول جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ضروری نہیں کہ سبزہ بڑھنے کا سلسلہ یونہی جاری رہے۔
ماہرین کے مطابق پودے سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے شکر اور توانائی بناتے ہیں اور یہ عمل ضیائی تالیف ( فوٹوسنتھے سز) کہلاتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھنے سے یہ عمل بڑھ جاتا ہے اورپودے خوب پھلنے پھولنے لگتے ہیں۔ ناسا اور نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن نے گزشتہ 33 سال سے زمینی سبزہ میں اضافے کو نوٹ کیا ہے اس کے ذریعے سیٹلائٹ سے زمین پر ہریالی کا بغور جائزہ لیا گیا۔
ماہرین کے مطابق ڈیٹا کو 10 مختلف ماڈلز میں رکھا گیا تو معلوم ہوا کہ خصوصاً ٹراپیکل یا خط استوا کے قریب علاقوں میں درخت اور پودے خوب پھلے اور پھولے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق ضروری نہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ کرہِ ارض پر کئی مقامات پر سبزہ کم ہوا ہے اور وہ تیزی سے ریگستان بنتے جارہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments