پی ٹی ایم اور سرخ ٹوپی کا خوف کیوں؟


جب سے منظور پشتین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے پرامن احتجاج کی ایک نئی اور متبادل تحریک کا آغاز کیا ہے، تب سے سیاسی اور غیر سیاسی لوگوں کی جانب سے اس تحریک اور اس کے قائد پر شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس تحریک کا آغاز، پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے والے بے گناہ نوجوان نقیب اللہ محسود کے قاتلوں کو سزا دلوانے کے مطالبے سے ہوا تھا، جس میں ملک کے نمایاں (یا یوں کہیے کہ بڑے شہروں کے نمایاں) سوشل میڈیا ایکٹوسٹس بھی شامل تھے تاہم جب سے پشتین نے اس تحریک کو تمام پشتونوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے اظہار میں تبدیل کیا ہے تو انہیں تنقید اور میڈیا بلیک آوٹ کے ساتھ ساتھ کارکنوں کی گمشدگیوں اور گرفتاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ابتدا میں نقیب اللہ محسود کے لیے انصاف مانگنے والے ’ہیش ٹیگ ایکسپرٹ بچے‘ ایک ایک کر کے خود کو منظور پشتین اور ان کی تحریک سے دور کرنے لگے ہیں۔ طالبانی ظلم کے مارے عوام، حتیٰ کہ خواتین تک کو بڑے بڑے جلسوں میں لانے کے باوجود اس رہنما اور اس کی تحریک کی پاکستان میں حمایت کم ہوئی ہے لیکن پاکستان سے باہر منظور پشتین کو ’پاکستانی چے گوویرا‘ تک کہا گیا۔

 عجیب بات ہے کہ پاکستان میں عزت اور ذلت دونوں کا دارومدار غیر ملکی عناصر کی شمولیت پہ منحصر ہوتا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے پشتین کو یکجہتی کا یقین دلایا جانا تھا کہ بس پشتین کی ملک سے وفاداری شکوک و شبہات میں پڑ گئی اور پاکستانی ڈیجٹل وطن پرست پشتین کا ’اصلی روپ ایکسپوز‘ کرنے پر سرگرم ہو گئے۔

 پتا چلا کہ پشتین ایک فارن ایجنٹ ہے، جو ملک توڑنا چاہتا ہے‘۔ جہاں اور تمام روایتی الزامات عائد کیے گئے وہیں منظور پشتین کی ٹوپی پر بھی سازشی آلہ ہونے کی تہمت لگا دی گئی۔ آن لائن ماہرین نے اس ٹوپی میں ’الیومیناتی‘ کی مثلث سے لیکر مسیحی صلیب تک کی علامات نکال کر اہل وطن کے سامنے رکھ دیں۔

 پاکستانی معاشرے میں ٹوپی یا پگڑی جیسے headgear، عزت، غیرت اور برادری کی پہچان ہیں، اور مختلف علاقائی گروہ اپنی اپنی قومیتی شناخت کے لیے انفرادی قسم کی دستاروکلاہ پہنتے ہیں مگر جب یہ دستار سیاسی میدان میں پہنچ جائے تو اس کی علامتی اہمیت اور بھی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ مثلاً پاکستانیوں کو دو قومی نظریے اور اسلام کی حفاظت کا یقین دلانا ہو تو بس رہنماؤں کا ’جناح کیپ‘ پہننا کافی ہوتا ہے، جسے اتاترک سے متاثرہ محمد علی جناح نے بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی علامت کے طور پر استعمال کیا تھا۔

 زیرک سیاستدان ذوالفقارعلی بھٹو نے روایتی اور انقلابی سیاست کے لیے جناح اور ماؤ کیپ دونوں کا استعمال کیا۔ کچھ عرصہ قبل ہی ’شہر قائد‘ میں اپنی سرگرمیوں کو بڑھاتے ہوئےعمران خان بھی جناح کیپ پہنے نظر آئے۔

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی بائیں بازو کی اہم قوم پرست سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے کامریڈ ہمیشہ سرخ رنگ کی کیپ پہنتے آئے ہیں مگر کچھ عرصہ سے اے این پی رہنماؤں کے انقلابی رنگ اورعوامی مقبولیت میں کمی آنے کی وجہ سے سرخ کمیونسٹ کیپ کی جگہ رائٹ ونگ تحریک انصاف کے اسکارفوں نے لے لی تھی۔ پی ٹی ایم کی کامیابی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سرخ ٹوپی ایک بار پھر سے انقلاب کی علامت بن گئی ہے۔ منظور پشتین کی شخصیت اور پشون تحفظ موومنٹ سے لوگ اس قدر متاثر ہوئے ہیں کہ یہ سرخ مزاری ٹوپی، پشتینی ٹوپی کہلائی جانے لگی ہے۔ پی ٹی ایم کے جلسوں کے دوران اکثر پشتون سپورٹر یہ ٹوپی پہنتے ہیں۔ پشتین کی کیپ کو سوشل میڈیا کے بے شمار پروفائلز پکچرز بنانے کا ٹرینڈ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ مگر حال ہی میں رونما ہونے والے کچھ واقعات سے لگتا ہے کہ پشتینی ٹوپی کی مقبولیت شاید ہر جگہ یکساں نہیں ہے۔

کچھ دن پہلے بنوں میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی انتظامیہ نے پشتینی ٹوپی کو نسلی اور قومی تقسیم کی علامت قرار دے کر اس تعلیمی مرکز میں طلبا کے اس مخصوص ٹوپی کے پہننے پر پابندی عائد کر دی۔ بعد ازاں اس یونیورسٹی میں منظور پشتین کا داخلہ بھی ممنوع قرار دے دیا گیا۔ 4 جون کو وانا میں طالبان نے پی ٹی ایم کارکنان پر حملہ کرتے ہوئے ان سے پشتینی ٹوپیاں چھین کر نذر آتش کر دیں اور دوبارہ نہ پہننے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

پیر ہی کے روز آئی ایس پی آر کے نمائندے نے اپنی ایک اہم ترین پریس کانفرنس میں پی ٹی ایم کی کامیابی میں افغانستان کی سہولت کاری کا شک ظاہر کیا اور صحافیوں کی توجہ اس معمہ پر دلائی کہ کیسے ایک ٹوپی باہر سے تیار ہو کر ایک ہی دن پاکستان بھر میں امپورٹ کی گئی۔ اس نمائندے کی اس پریس کانفرنس میں جہاں منظور پشتین کی تحریک کو روکنے کا عندیہ دیا گیا، وہی یہ بھی باور کرایا گیا کہ ملک کے تحفظ کی خاطر ہر شخص خصوصا صحافیوں کو اپنی آراء ٹوئٹ یا ری ٹویٹ کرنے سے پہلے سوچنا ہو گا۔

فوج اور پی ٹی ایم کے درمیان رابطے ابتدائی طور پر کافی مثبت رہے مگر اب تعلقات کشیدگی کی طرف جا رہے ہیں۔ یہی بات ہے کہ آئی ایس پی آر کے نمائندے نے منظور پشتین کی سرگرمیوں کو پہلی بار سرکاری طور پر ’مشکوک‘ اور ملک کے خلاف قرار دے دیا۔ اس کشیدگی کی وجوہات جنوبی وزیرستان میں امن کمیٹی اور پی ٹی ایم کے درمیان ہونے والا تصادم اور علاقے میں فوج کے کنٹرول پر اختلاف ہے، جس کی خبر اخباروں اور ویب سائٹوں کے کسی کونے میں ’چھُپی‘ مشکل سے ملتی ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پی ٹی ایم یا پشتین کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں تو کیا ان احتجاجی جلسوں میں شریک ہزاروں افراد پر بھی اس بنیاد پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ آئی ایس پی آر کے ترجمان کو پشتینی ٹوپیوں کی تعداد پہ تشویش بجا لیکن کیا انہیں پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں نظر آنے والی سبز ٹوپیوں یا ان کے پہننے والوں کے بارے میں تشویش نہیں، جو جب چاہیں مذہب کے نام پر اسلام آباد یا لاہور کو یرغمال بنا لیتے ہیں؟ شاید ان پہ شک نہ کرنے کی وجہ ان کے ناموں کے ساتھ ’سپاہ‘ کا لفظ ہے۔

فوج کے نمائندے کی طرف سے پی ٹی ایم کو کوریج نہ دینے پر صحافیوں کے ’تعاون‘ پر شاباش کیا اس بات کی تصدیق نہیں کرتی کہ ملکی ادارہ ’سینسرشپ‘ کو دفاعی حکمت عملی کے لیے اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔ لیکن کیا فوجی اور پارلیمانی اداروں کو گالیاں دینے والے خادم حسین کو میڈیا کوریج نہیں دی گئی؟ جنرل آصف غفور کا اعتراض کہ سوشل میڈیا کو فیک نیوز کے ذریعے خفیہ جنگ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے بالکل بجا ہے لیکن اگر ملکی میڈیا پر کسی علاقے میں جانے یا وہاں کی صورتحال پہ تبصرہ کرنے کی اجازت و آزادی ہی نہیں تو فیک نیوز کو فروغ اورعوامی حمایت تو ملے گی۔

اگرچہ یہ بات اب ایک کلیشے بن گئی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ’عرب سپرنگ‘ نے ثابت کیا ہے کہ طویل ’سٹیٹس کو‘ کے ردعمل میں پیدا ہونے والی احتجاجی تحریکیوں کی کامیابی یقینی ہو یا نہ ہو، سینسرشپ سے ان کو دبانا محض تصادم اور تباہی کو یقینی بناتا ہے۔ نسلی تناؤ سے بھرپور معاشروں میں اختلاف رائے یا عوامی حمایت پانے والی کسی تحریک کو محض ٹوپیوں پہ پابندیاں لگا کر یا ان کے پہننے والوں کی پگڑیاں اچھال کر کوئی بھی ادارہ زیادہ دیر تک اپنی حمایت برقرار نہیں رکھ سکتا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دریہ ہاشمی

دریہ ہاشمی نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم پائی۔ بعد ازاں بون یونیورسٹی جرمنی سے انٹرنیشنل میڈیا سٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔

duriya-hashmi has 3 posts and counting.See all posts by duriya-hashmi