102 برس کی عمر میں دنیا چھوڑنے والے ڈیوڈ ڈگلس ڈنکن کی زندگی تصاویر میں


معروف امریکی فوٹو جرنلسٹ ڈیوڈ ڈگلس ڈنکن 102 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا کریئر 60 سال پر محیط تھا۔

وہ تقریباً 20 کتابوں کے مصنف تھے اور انھوں نے لاتعداد آریٹکلز لکھے اور سینکڑوں ہزاروں تصاویر کھینچیں۔

ڈنکن کا شمار دنیا کے بہترین فوٹوگرافروں میں ہوتا ہے۔

سنہ 1916 میں پیدا ہونے والے ڈنکن نے فوٹو جرنلزم میں اس وقت قدم رکھا جب وہ یونیورسٹی آف ایریزونا میں آرکیالوجی کے طالبعلم تھے۔

یہ سنہ 1934 کی بات ہے جب انھیں ان کی بہن نے سالگرہ کے موقع پر کیمرہ دیا جس کی مدد سے ڈیکن نے ٹسکن کے کانگرس ہوٹل میں لگی آگ کی تصاویر لیں۔

اس کوشش کے بعد ڈنکن نے سنہ 1938 میں خود کو فوٹو جرنلزم کے لیے وقف کر دیا۔

بعد میں ایک موقع پر اسی بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سنہ 1938 میں تصاویر ہر جگہ ہوتی تھیں۔ تصویری کہانیاں عملی طور پر نامعلوم تھیں۔ تصویروں کا کام ایک مذاق لگتا تھا۔

آنے والے عرصے میں ڈنکن پروفیشنل فوٹوگرافر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ یہ وہ موقع تھا جب ان کا نام سنہ 1943 میں امریکی بحریہ کے میامی جانے والے گروہ کے ساتھ آیا اور یوں انھیں جنگ کے دوران فوٹوگرافر کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔

انھیں مغربی بحرالکاہل اور سولومن جزائر میں بھی کام سونپا گیا۔

سنہ 1946 میں انھیں لائف میگزین کے فوٹوگرافر کے لیے منتخب کیا گیا۔

آنے والے عرصے میں ہی برطانوی راج کا انڈیا میں خاتمہ ہوا اور کوریا سمیت دنیا کے مختلف ممالک جنگ کی لپیٹ میں آئے۔ اوپر دی گئی تصویر سنہ 1950 کی ہے۔

ڈنکن نے سنہ 1967 میں ویتنام کی جنگ کے دوران بھی کام کیا اور پھر اپنی دو کتابیں بھی منظر عام پر لائے۔

جنگ کے دوران فوٹوگرافر کی حیثیت سے کام کرنے کے علاوہ ڈنکن اپنے دوست پیبلو پیکاسو کی پوٹریٹ کے حوالے سے بھی معروف ہیں۔

معروف شخصیات کے حوالے سے ڈنکن کی دو تصاویر بہت اہم ہیں ایک جب صدارتی امیداور رچرڈ نکس سن 1968 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کا جواب دیتے ہوئے مکا لہرا رہے ہیں اور دوسری جب وہ ایک ہوٹل کے کمرے میں تنہا موجود ہیں اور اپنی تقریر لکھ رہے ہیں۔

سنہ 1996 میں ڈنکن نے اپنے 400 بکسوں میں محفوظ اپنے کام کو ہیری رینسم سینٹر کے لیے وقف کر دیا تھا۔

حال ہی میں انھیں پیش کیے جانے والے خراج تحسین میں ہیری رینسم سینٹر میں فوٹوگرافی کے شعبے کی منتظم جیسیکا ایس میکڈونلڈ نے کہا ’ کئی دہائیوں تک امریکیوں نے اپنے گھر میں رہتے ہوئے باہر کی دنیا کے واقعات کے بارے میں جانا جو کہ ڈنکن کا کیمرہ سامنے لاتا تھا۔۔۔ ڈنکن کی بنائی گئی تصاویر نے لوگوں کو معلومات فراہم کرنے اور تاریخ کو شکل دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔‘

جب سنہ 2016 میں ڈنکن کی 100ویں سالگرہ منائی گئی تھی تو فوٹوگرافر لوئی پولو نے کہا تھا کہ ’ڈنکن کی تصاویر ہمیں اس دہشت ناک وقت کے عکس بھی دکھاتی ہیں جس سے سب سیکھ سکتے ہیں اور امید ہے کہ ہم اس سب سے دوبارہ نہیں گزریں گے۔‘

’وہ ہمیں یادہانی کرواتی ہیں، اور انھیں ہمیں یاد دلانا چاہیے کہ دیکھنے والوں نے کیا کچھ برداشت کیا۔‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4557 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp