خطرات سے پر انتخابات


مختلف قدغنوں اور فتویٰ بازی کے کلچر کی وجہ سے منصفانہ صحافت یوں بھی پاکستان میں مشکل تو کیا ناممکن ہوتی جارہی ہے لیکن ان قدغنوں سے صرف نظر کرکے بھی سوچنے اور لکھنے کی کوشش کی جائے تو بھی بعض ایشوز سے متعلق خود فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ مثلاً ہر جمہوریت پسند کی طرح میری بھی یہ خواہش اور کوشش ہے کہ اگلے انتخابات کے لئے بھرپور مہم چلے اور عوام بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیں ۔

میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ انتخابات کا کسی بھی وجہ سے التوا ملک اور جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے ۔ اس تناظر میں دل خوش کن تصویر دکھا کر پالیسی سازوں اور عوام کا حوصلہ بڑھا دینا چاہئے اور کافی عرصہ سے سوچ رہا ہوں کہ اگر ان انتخابات سے جڑے خطرات کا ذکر کروں گا توکہیں التوا کے لئے عذر ڈھونڈنے والوں میں، میں بھی شامل نہ ہوجائوں لیکن دوسری طرف یہ سوچ دامن گیر رہی کہ اگر اپنے احساسات اور خدشات سامنے نہ لائوں تو کہیں دوسری طرف سے کوتاہی کا مرتکب نہ ہوجائوں ۔

تاہم اب جبکہ انتخابات کا انعقاد یقینی ہوچکا ہے اور فوج، عدلیہ اور الیکشن کمیشن تینوں انتخابات کے بروقت انتخابات کا وعدہ کرچکے تو ان خدشات اور خطرات کو سامنے لانے کا حوصلہ مل گیا ۔ اس توقع کے ساتھ ان کو رقم کررہا ہوں کہ اگر کسی کو توفیق ملے تو ان کے تدارک کا سوچیں۔

پہلا خدشہ یا خطرہ یہ ہے کہ اگلے انتخابات خاکم بدہن بڑے خونی ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اس خدشے کی بنیاد یہ ہے کہ میرااندازہ ہے کہ افغانستان میں ڈیرے ڈالے عسکریت پسندوں اور ملک کے اندر موجود ان کے کارندوں نے اگلے انتخابات کے تناظر میں کافی عرصے سے سوچی سمجھی خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ صرف خیبرپختونخوا (اب قبائلی علاقے بھی اس کا حصہ ہیں) نہیں بلکہ دیگر صوبوں میں بھی پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہوں گے ۔ اسی طرح پاکستان دشمن غیرملکی قوتوں نے بھی لامحالہ ان انتخابات کے لئے بھرپور تیاری کی ہوگی ۔

بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان اور داعش نے وہاں پر اگلے پارلیمانی انتخابات کو بری طرح نشانہ بنا رکھا ہے ۔ عوام کو اس سے دور رکھنے کا کہا گیا ہے اور انتخابی عملے اور امیدواروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یوں اس عمل کا بھی پاکستان میں اسی انداز سے ردعمل کا خطرہ ہے ۔ صرف ہم نہیں بلکہ دہشت گرد بھی جانتے ہیں کہ انتخابات کے دوران نہ صرف سیاسی قیادت کا نکلنا مجبوری بن جاتا ہے بلکہ عدالتی احکامات کی وجہ سے سیاستدانوں کے ساتھ پولیس کی سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑیوں کی سہولت بھی بہت کم ہو گئی ہے ۔

یقیناً بہت سارے سیاستدان وہ ہیں جو اپنے لئے ذاتی خرچ پر سیکورٹی اور بلٹ پروف گاڑیوں کا انتظام کرسکتے ہیں اور سرکار سے یہ سہولتیں لے کر وہ ظلم کررہے تھے لیکن ان میں بعض میاں افتخار حسین جیسے لوگ بھی ہیں جو دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں لیکن وہ ذاتی وسائل سے سیکورٹی کا کماحقہ انتظام نہیں کرسکتے۔ اسی طرح گزشتہ دو انتخابات میں پنجاب نسبتاً پرامن ہوا کرتا تھا لیکن اب کی بار وہاں ایک نئے طرح کے خطرے نے جنم لیا ہے ۔

پی ٹی آئی اور بعض دیگر عناصر نے انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ(ن) کے خلاف ختم نبوت کے ایشو کو پوری قوت کے ساتھ استعمال کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ بعض لوگوں کو اس کام کے لئے خصوصی طور پر یہ سوچ کر پی ٹی آئی میں شامل کروایا گیا ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں یہ حساس ترین ایشو ہے اور اگر انتخابات میں واقعی اسے استعمال کیا گیا تو احسن اقبال پر حملے جیسے مزید واقعات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس لئے عدلیہ ،الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کا فرض ہے کہ وہ اس کے تدارک کے لئے اقدامات اٹھائیں۔نواز شریف کی نفرت میں اندھے ہونے والے مخالفین یہ بھی سوچیں کہ اگر خاکم بدہن اس عمل میں کسی بڑی شخصیت کی جان چلی گئی تو ان کی تمام آرزوؤں پر پانی پھر جائے گا۔

دوسرا خدشہ یہ ہے کہ آنے والے انتخابات کی مہم میں بدتمیزی، الزام تراشی ، فتویٰ بازی اور اخلاق باختگی کے تمام ریکارڈ ٹوٹیں گے۔ ماضی کے انتخابات میں اخبارات اور ٹی وی چینلزپر ہی زیادہ انحصار ہوا کرتا تھا جو کسی حد تک حدود وقیود کا پابند میڈیم ہے لیکن اب کی بار سوشل میڈیا سب سے موثر ذریعہ بن گیا ہے ۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ کافی عرصہ قبل پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے یورپ، برطانیہ، امریکہ اور مشرق بعید میں تنخواہ پر بندے رکھ کر سینکڑوں کی تعداد میں فیس بک اور ٹویٹر کے جعلی اکائونٹس بنا دئیے ہیں۔

ملک کے اندر ہزاروں ان کے علاوہ ہیں ۔ ان کا بنیادی مقصد اپنے حق میں اور مخالفین کے خلاف ہر طرح کی قید سے آزاد غلیظ پروپیگنڈہ کرنا ہے ۔ اس کے جواب میں ظاہر ہے کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے بھی خاطر خواہ بندوبست کرلیا ہوگا ۔ مذہبی جماعتوں تک سب جماعتوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا سیل بنادئیے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر امیدوار اور چھوٹے بڑے رہنما نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لئے ذاتی انتظامات بھی کرلئے ہیں ۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جو گند اچھلے گا ، اس کا ابھی شاید ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ اس لئے اگر سوشل میڈیا کے مسئلے کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو فتویٰ بازی ، جھوٹے الزامات ، کردار کشی اور گالم گلوچ کا وہ طوفان برپا ہوگا کہ جو کسی بڑی تباہی یا حادثے کا بھی موجب بن سکتا ہے ۔ اب کی بار صرف سوشل میڈیا نہیں بلکہ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں بھی حالت ناگفتہ بہ ہوگی کیونکہ متحارب بڑی پارٹیوں کی ترجمانی اب کی بار پرویز رشید اور قمر زمان کائرہ جیسے سلجھے ہوئے سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ فواد چوہدری اور عابد شیرعلی جیسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے ۔

تیسرا خدشہ یہ ہے کہ آنے والے انتخابات شاید پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین انتخابات ثابت ہوں۔ ایک پارٹی کے خلاف اور دوسری کے حق میں پولیٹکل مینجمنٹ تو عرصے سے جاری ہے لیکن اب کی بار صحافتی مینجمنٹ بھی پوری قوت کے ساتھ کی جارہی ہے ۔ الیکشن کمیشن یا تو مجبور ہے یا پھر واقعی غیرجانبدار نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی شکایات کا ازالہ نہیں کرسکتا ۔

بعض جماعتیں عدلیہ سے بھی بدگمان ہیں ۔ دوسری طرف بھرپور کوششوں کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ گیلپ سروے دیکھیں یا پھر غیرملکی نشریاتی اداروں کے، ہر پیمانے پر مسلم لیگ(ن) آج بھی پنجاب میں آگے نظر آرہی ہے ۔ صرف مسلم لیگ(ن) نہیں بلکہ سندھ، بلوچستان اورپختونخوا کے قوم پرستوں اور مذہبی جماعتوں کو بھی شکایت ہے کہ پی ٹی آئی کے غبارے میں غیر فطری طریقے سے ہوا بھری جارہی ہے۔ یوں اگر مسلم لیگ(ن) ہارتی ہے یا اسے ہروایا جاتا ہے تو وہ نتائج تسلیم نہیں کرے گی۔

اگر پی ٹی آئی کو اکثریت دلوائی جاتی ہے یا وہ حاصل کرلیتی ہے تو صرف مسلم لیگ (ن) نہیں بلکہ ایم کیو ایم، بلوچستان کے پختون اور بلوچ قوم پرست جماعتیں اور ایم ایم اے بھی نتائج تسلیم نہیں کریں گی۔ دوسری طرف اگر مسلم لیگ(ن) جیتتی ہے تو پی ٹی آئی کی قیادت کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہو گا کیونکہ خوشامدی ساتھیوں نے عمران خان کے ذہن میں غلط طور پر یہ بٹھا دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم بنیں گے۔

یوں اگر انتخابات سے قبل تمام فریقوں کو زبانی نہیں بلکہ اگر عملی لحاظ سے مطمئن نہیں کیا گیا کہ انتخابات غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہوں گے تو خاکم بدہن یہ انتخابات ملک میں ایک بڑے سیاسی بحران کا موجب بن سکتے ہیں ۔

ایک تجویز: ان کے نظریات اور تجزیے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری سلیقہ مند اور صاحب علم انسان ہیں۔ انہیں الیکشن کمیشن نے پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے لیکن مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اس نامزدگی کو سختی سے مسترد کردیا ہے جس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ مسلم لیگ(ن) سے ان کا شدید اختلاف اور پی ٹی آئی کی طرف ان کا غیرمعمولی جھکائو ہے۔ میری ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اسی طرح خود معذرت کرلیں جس طرح کہ ناصر کھوسہ صاحب نے کی تھی۔ یہ فیصلہ عسکری صاحب اور ملک دونوں کے لئے بہتر ہوگا۔

اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عملاً وزیراعلیٰ اور پھر خصوصاً حسن عسکری جیسے وزیراعلیٰ کچھ بھی نہیں کرسکیں گے لیکن ان کے نگران وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے اگر انتخابات ہوتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) ان کو باآسانی متنازع بناسکے گی۔ جہاں تک قانون کا معاملہ ہے تو قانونی لحاظ سے ناصر کھوسہ صاحب بھی نگران وزیراعلیٰ بن گئے تھے لیکن انہوں نے بڑے پن اور وقار کا مظاہرہ کرکے پی ٹی آئی کے اعتراض کے بعد خود کو الگ کیا حالانکہ ان کا نام بھی پی ٹی آئی کی طرف سے سامنے آیا تھا۔

میرے دل میں حسن عسکری صاحب کی بڑی قدر ہے لیکن متنازع بن جانے کے بعد بھی ان کا منصب سے چمٹے رہنا بذات خود اس بات کا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے عزت اور وقار کو ایک منصب پر قربان کیا اور ظاہر ہے کہ ایسے انسان سے پھر پوری غیرجانبداری کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ عسکری صاحب کو یاد رکھنا چاہئے کہ نجم سیٹھی صاحب کی تقرری پر تینوں بڑی جماعتیں متفق تھیں اور پی ٹی آئی نے بھی ان کی تقرری کو سراہا تھا لیکن بعد میں ان کو کس طرح بے عزت کرنے کی کوشش کی گئی، وہ ہم سب جانتے ہیں۔

اب عسکری صاحب کی تقرری کو تو صرف ایک جماعت نے ویلکم کیا ہے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا کیا حشر ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عسکری صاحب کو عزت پیاری ہے یا پھر نگران وزیراعلیٰ کا منصب۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں