جمائما اور ریحام۔۔باظرف کون؟


مشرق اور مغرب دونوں ہی خود کو تہذیب تمدن ثقافت کا چیمپئن قراردیتے نہیں تھکتے۔ ایک کا دعویٰ اوائل زمانے میں تہذیب کی بنیاد ڈالنے کاہے تودوسرا جدید دنیا کا بانی ہے، ایک نے بابل کی سرزمین پر پرورش پائی تو دوسرا یونان کی گلیوں میں کھیل کود کر بڑی ہوئی اور پھر غرناطہ کے کوچوں سے ہوتا لندن کا تاج بنا۔ دونوں معاشروں میں لاکھ اختلاف سہی لیکن بنیادی اخلاقی قدریں ضرور مشترک ہیں۔ دونوں نے انسان کی پرورش احسن طریقوں سے کرنے کی کوشش کی لیکن پھر کیا ہوا کہ مشرق کے لئے بدتہذیب معاشرے نے جمائما اور مشرق کے سر کے تاج نے ریحام کو جنم دیا۔

میری ذاتی رائے ہیں عورت چاہے جیسی بھی ہو ں اس کی زندگی معاشرے کے سامنے ڈسکس نہیں ہونی چاہیے کیو ں کے عورت میری ماں بھی ہے اور بہن بھی جمائمہ اور ریحام میں ایک قدر جو مشترک ہے وہ ہے عمران خان کی ذات۔ ایک نے عمران خان کے ساتھ آٹھ سال اور دوسری نے دس ماہ گزارے۔ انگلستان میں پرورش پانے والی جمائمہ کی عمران کے ساتھ شادی کے آٹھ سال بعد طلاق ہوئی لیکن دونوں کا رشتہ آج بھی عزت اور احترام کا نظر آتا ہے۔ دوسری جانب ریحام خان ہیں، جنہوں نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ زندگی کے چودہ سال گزارے اور اللہ نے انہیں تین بچوں سے نوازا۔ ریحام کے پہلے شوہر ان کے کزن بھی تھے۔ ریحام نے طلاق کے کافی عرصے بعد بھی اپنے پہلے شوہر سے متعلق لب کشائی نہیں کی۔ پہلی طلاق کے سالوں بعد ریحام کی زندگی میں عمران خان کی انٹری ہو ئی یہ اننگز صرف دس ماہ تک چلی۔

عمران خان کی سابقہ بیوی ریحام خان نے اس شخص کے خلاف کتاب لکھی ہے جس کے گھر میں انہوں نے صرف دس ماہ کا عرصہ گزارا اور جس کو بی بی بچپن سے جانتی تھیں اور زندگی کے چودہ سال گزارے ان کے خلاف صرف زبانی کلامی گفتگو پر اکتفا کیا، آخر ایسا کیوں؟ مشرق میں ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ عورت چاہے جیسی بھی ہو اس کی نجی زندگی معاشرے میں موضوع بحث نہیں ہونی چاہیے لیکن ایسا کیا ہوا کہ مشرقی دوشیزہ ریحام کی زندگی آج نجی محافل میں زیر بحث ہے؟

عمران نے اپنی جوانی بہت ہی رنگین گزاری ظاہر ہے دنیا کا ایک سپر اسٹار رہا ہے غلطیاں بھی بہت کی ہوں گی۔ جمائمہ کے ساتھ عمران کی محبت کی شادی تھی شاید یہ محبت ہی ہے جو دونوں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باواجود احترام کے رشتے میں بنے ہوئے ہیں۔ جمائمہ جو ایک امیر گھر میں پیداہوئی جن کی تعلیم اور تربیت ایک آزاد معاشرہ میں ہوئی لیکن ان میں وہ سب خوبیاں نظر آتی ہے جو اسلام سکھاتا ہے اور جبکہ جمائمہ کی پرورش مسلم گھرانے میں بھی نہیں ہوئی۔

دوسری طرف ریحام ہے جو ایک مسلمان گھر میں پیداہوئی ان کے والد نے انہیں  تعلیم اچھی دلوائی اور ان کی شادی ایک بہتر انسان سے کر وائی۔ ریحام نے اپنے خواب پورے کرنے کے لئے شادی کے بعد تعلیم حاصل کی اور اپنی منزل حاصل کر نے کے لئے جدو جہد شروع کی شوہر سے علیحدگی کے بعداپنے سفر کو جاری رکھا۔ منزل کے حصول کی جستجو ہی انہیں لندن سے پاکستان لے کر آئی پھر چشم فلک نے دیکھا کہ دو ہزار چودہ کے تاریخ ساز دھرنے کے دوران ریحام خان عمران خان کیساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

ایک عورت مغرب کی ہے جو اپنے سابقہ شوہر کی عزت کی خاطر ہر محاذ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے تو دوسری جانب مشرقی ریحام خان ہے جو اپنے دونوں شوہروں کی عزت سربازار اچھالنے پراتری ہوئی ہے۔ مسئلہ مشرق یا مغرب کا نہیں، تہذیب اخلاق اور تمدن کا بھی نہیں، مسئلہ صرف ظرف کا ہے۔ ایک کا ظرف اتنا گہرا کہ اس میں سارا جہاں گھر کرگیا تو دوسری کا پیمانہ اتنا چھوٹا کہ سب کچھ بہہ کر ستیاناس کرگیا۔

ریحام سے پہلے بھی کچھ خواتین عمران کی ذات پر حملے کر چکی ہیں لیکن بات وہی ہے جس کو اللہ عزت بخشے۔ الزام لگانے والی ان خواتین کامعاشرے میں مقام سب کے سامنے ہے۔ میر ی نظر میں ہر عورت کی عزت ہے لیکن جو خواتین سستی شہرت کے لئے کسی کا نام استعمال کرتی ہے ان کا کیا مقام ہونا چاہیے اس کا فیصلہ آپ خود کیجیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں