علی میر کی تکنیک کیا ہے؟


علی میر کی کامیڈی آرٹ نہیں، سائنس ہے۔ آرٹ انسانی جذبات، خیالات اور احساسات کا آئینہ دار ہے ۔ مشق سخن سے کسی غیر معمولی ٹیلنٹ کی آ بیاری کی جاتی ہے اور شعر و ادب، رقص، مجسمہ سازی، مصوری جیسے میدانوں میں کمال دکھائے جاتے ہیں لیکن علی میر کو جو ٹیلنٹ قدرت نے ودیعت کیا ہے اس نے کبھی اس ٹیلنٹ کی آ بیاری نہیں کی۔ ٹیلنٹ کی معراج کیا ہے، اس کے لیے ایک واقعہ سنیے ۔

پچھلے سات برس میں شاید ہی کوئی ایسا دن ہے جب میں نے علی میر سے آ واز کے اتار چڑھاؤ پر بات نہ کی ہو۔ چند ماہ پہلے ریکارڈنگ کے لیے گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ معاً خیال آ یا سیل فون کا چارجر تو دفتر میں ہی رہ گیا تھا ( ہمارا سٹوڈیو دفتر سے ذرا فاصلے پر ہے)۔ حیدر ہمارا ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہے اور عمر میں بھی بہت چھوٹا ہے۔ اردو کا یہ سافٹ ویئر اسی کی مہربانی ہے۔ جھٹ سے فون ملایا اور اس کی آ واز سنتے ہی گزارش کی کہ دفتر سے سٹوڈیو آتے ہوئے چارجر بھی اٹھا لائے لیکن موصوف شاید اس دن تہیہ طوفاں کیے بیٹھے تھے۔ بولے، “میں آپ کے باپ کا نوکر نہیں ہوں کہ ذاتی استعمال کی چیزیں بھی اٹھاتا پھروں۔ آ پ کی ابرو کے اشارے پر بھاگتا پھروں میں۔ اپنی شکل دیکھی ہے”۔ مجھے لگا کسی نے جسم سے خون نچوڑ لیا ہے۔ ایسی بدتہذیبی کا ارتکاب وہ کرتا رہتا ہے لیکن میرے سمیت چند دوستوں کا لحاظ بہرحال ملحوظ خاطر رکھتا ہے۔ جی چاھا ریکارڈنگ پر ہی نہ جاؤں لیکن اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو۔ سارا راستہ وہ نوائے حزیں کان میں گونجتی رہی۔ دل مان نہیں رہا تھا کہ وہ ایسی بے مروتی بھی دکھا سکتا یے۔ جیسے ہی گیٹ پر پہنچا حیدر میرا منتظر تھا۔ دیکھتے ہی بولا، ” ذیشان بھائی! فون میرا ہی تھا لیکن میری آ واز میں بات علی بھائی کر رہے تھے”۔

علی میر اپنے کام کو بہت وقت دیتا ہے لیکن اپنے خداداد فن کو نکھارنے کے لیے محنت کرتے کم از کم میں نے نہیں دیکھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے میں نےکرکٹر محمد یوسف کو کبھی جوگنگ یا ورزش کرتے نہیں دیکھا ( پاکستانی ٹیم میں کھیلتے ہوئے ورزش کرتا ہو تو دوسری بات ہے)۔ علی میر کی کامیڈی ایک سائنس ہے جہاں غیر متوقع لیکن خوشگوار بات سے یا صورتحال پیدا کر دینے سے کامیڈی کی جاتی ہے۔ اب غیر متوقع بات بے معنی یا محض اٹھکیلیاں کر کے پیدا نہیں کی جاتی بل کہ اس میں سوچی سمجھی چوٹ مضمر ہوتی ہے۔ جس شخص کا وہ کردار ادا کر رہا ہوتا ہے اس کی نفسیاتی الجھنیں، سیاسی قلابازیاں، جل دینے کی کاوش، ان کہی مگر دل کے نہاں خانوں میں کہیں پنپنے والی حقیقتیں، ارمان، حسرتیں کثیر الجہات فقروں میں آ شکار ہو جاتی ہیں۔ مثلاً عمران خان (ڈمی) سے جب پوجھا گیا کہ عام آ دمی کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا تو اس نے کہا ، “الیکشن اب عام زادوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ نو کروڑ کا تو ایک جلسہ ہوتا ہے۔ الیکشن کمپین ارب کی گیم بن گئی ہے۔ بے چارے تیلی، تمولی، چمار، منہیار، لوہار، نان پوری بیچنے والے خاک الیکشن لڑیں گے۔ انہیں چاہیے اپنی غربت سے لڑیں”. اسی طرح جب بلاول ( ڈمی) سے پوچھا گیا کہ کراچی میں اتنا کوڑا کیوں ہے تو بلاول ( ڈمی) بولا ، “شکر کریں کراچی میں کوڑا ہے اور کوڑا معاشی سرگرمیوں کی علامت ہے ۔ کبھی آ پ نے سنا ہے کہ روانڈا، صومالیہ اور ایتھوپیا میں کوڑے کے ڈھیروں پر سیاست ہو رہی ہو؟”۔

علی میر نے مختلف شخصیتوں کے ایسے امتیازی پہلو پکڑے ہیں کہ خود وہ بھی حیران ہو جاتے ہیں جن کی نقالی کی جاتی ہے مثلاً خواجہ آ صف کا ” جو اے ، جو اے ، جو اے”، انضمام الحق کا ،” جونسا نا کونسا نا کونسا نا جونسا نا”، شاہ محمود قریشی کا تھوک پھینکنا، زید حامد کا ” قسطنطنیہ سے لیکر غرناطہ، غرناطہ سے لے کر دمشق، دمشق سے لیکر اندلس، اندلس سے لے کر بغداد، بغداد سے لے کر ۔۔۔۔” ، زرداری صاحب کا ہر بار جمہوریت کا نام لے کر دانتوں کی نمائش یوں کرنا جیسے کسی کو منہ چڑا رہے ہوتے ہیں، علی میر سے پہلے کسی نے اتنی باریکی سے ان پہلوؤں پر غور نہیں کیا ۔ مجھے یاد ہے کیپٹن صفدر کا کردار ادا کیا تو وہ خود ملنے آ گیے تاکہ علی میر مزید کمزوریاں پکڑ سکیں۔ قمر زمان کائرہ ششدر رہ گیے کہ علی میر کی وساطت سے انہیں پتہ چلا کہ موصوف باتیں کرتے ہوئے زبان اور تالو کے امتزاج سے پچاکے لگاتے ہیں۔ انور مقصود صاحب کا توقف تو گویا علی میر کے ہاتھوں میں آکر امر ہو گیا۔ علی میر خود مانتے ہیں کہ وہ کامیڈی کے لیے عملاً مبالغہ آ رائی کرتے ہیں بالکل یوں جیسے ایک کارٹونسٹ کبھی کرداروں کی ناک کھینچ کر بڑی کر دیتا ہے تو کبھی توند۔

علی میر کا فن ایک سائنس ہے اور واضح خطوط پر استوار کامیڈی ہے جس کا خاصہ غیر متوقع مگر معنی خیز جملے، بے پایاں طنز اور اوٹ پٹانگ حرکتیں ہیں لیکن ان اوٹ پٹانگ حرکتوں میں بھی معنویت ہوتی ہے، نظم وضبط ہوتا ہے، کنٹرولڈ مبالغہ ہوتا ہے، مخصوص ڈھنگ ہوتا ہے جو اصل کردار سے بیک وقت مناسبت رکھتا بھی ہے اور ناظر یہ بھی سمجھ لیتا ہے کہ اصل کردار جس قماش کا انسان ہے، وہ کیا کیا بے ہودگیاں کر سکتا ہے۔ علی میر کا ایک منفرد انداز فقرے کو توڑ مروڑ کر مزاحیہ بنانا بھی ہے۔ ایک پروگرام میں ماؤ زے تنگ کو “موزے تنگ” کہا ، پینٹاگون کو ہمیشہ ” پینٹ او گون” کہا۔ علی میر کرداروں کی بے ضرر قسم کی قابل استعمال چیزوں سے بھی کامیڈی کرتا ہے مثلاً شیخ رشید کا سگار اور اس سگار کے اتنے مختلف انداز، اتنی مختلف کہانیاں کہ آپ لوٹ پوٹ ہو جائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علی میر خود گا کر، کسی کو مارپیٹ کر، فلرٹ کر کے بہت خوشی سے کامیڈی کرتے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں قہقہے کے لیے اگر ایک دو جانیں چلی بھی جائیں تو مضائقہ نہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں